مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی-ایک صاحبِ اسلوب ادیب، نقاد اور محقق-محمد یونس خاں میو

مولانا راشدصاحب سے راقم الحروف کی واحد(اب تک) ملاقات جناب سجاد الہی صاحب کی رہائش گاہ ، گارڈن ٹاون، لاہور میں ہوئی، جہاں مولانا قیام پذیر تھے، اس ملاقات کے لیے جناب شبیر احمد خان میواتی صاحب کا شکر گزار ہوں،12محرم الحرام، 1432ھ/2010ء ،یہ تاریخ اس لیے محفوظ رہ گئی کہ مولانا موصوف نے محترم شبیر میواتی کی درخواست اور اصرار پر ” قاسم العلوم”پر یہ الفاظ ہد یہ فرمائے” حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعۃ کے ایک دل دادہ اور طالب علم مکرمی محمد یونس خان میو کے لیے(نورالحسن راشد، 12محرم الحرام، 1432ھ) لیکن یہ بہت مختصر اور تعارفی ملاقات تھی، حقیقت یہ ہے کہ مولانا کا اصل تعارف ان کی تالیف” قاسم العلوم۔ احوال وآثار” کے ذریعے ہو چکا تھا، ملاقات تو زیارت کا بہانہ اور عقیدت کا اظہار تھی۔ سو کسی درجہ میں ہو گئی۔

اس کتاب میں غالبا” پہلی دفعہ مولانا نانوتوی کے مطبوعہ و غیر مطبوعہ متون کا تعارف پیش کیا گیا، اس بات کی آج تک تردید نہیں ہو سکی کہ مولانا نانوتوی پر تحقیق کے بنیادی ماخذمیں سے بہت سے چیزیں پہلی دفعہ ظہور پذیر ہوئیں۔

1- مولانا نانوتوی اور پنڈت دیانند سرسوتی کی مراسلت،  مباحثہ رڑکی وغیرہ۔

2- مکتوبات قاسمی بنام حضرت امداداللہ مہاجر مکی۔(متن فارسی مع ترجمہ)

3-اشاریہ مکتوبات۔

4-اشاریہ، تصانیف قاسمی۔

5-روداد چندہ بلقان، مولانا نانوتوی اور خلافت عثمانیہ۔

اس کتاب کا ایک امتیاز مولانا یعقوب کی تصنیف” مولانا نانوتوی-احوال وآ ثار”   کی تاریخ اشاعت، تصحیح متن اور اس کے تحقیقی حواشی ہیں، جن سے مولانا راشد کے ہمہ جہتی مطالعہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی تالیف میں مولف نے نہایت درجہ عرق ریزی سے کام لیا ہے(1) مولانا تقی عثمانی اس پر تبصرہ کرتے ہو ئے لکھا ہے:

جو حضرات فکر قاسمی کا شغف رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آپ مسلمانوں کے سیاسی تنزل، اخلاقی انحطاط اور مذہبی انتشار وافتراق سے بہت پریشان رہتے تھے، آپ کا یہ اضطراب آپ کے مکتوبات سے نمایاں ہوتا ہے۔

اپنےایک مکتوب الیہ کو لکھتے ہیں” آپ کا خط ملا دیکھ کے رنج ہوا، کیا خدا کی قدرت ہے کہ آج کل جس طرف سے صدا آتی ہے، یہی آتی ہے کہ وہاں مسلمانوں میں ختلاف ہے، وہاں نزاع ہے، کہیں سے اتفاق کی خبر نہیں آتی، ہاں کفار کے جتنے افسانے سنے جاتے ہیں، یہی سنے جاتےہیں کہ یوں اتفاق ہے، اس طرح اتحاد ہے، خیر” انا للہ واناالیہ راجعون”۔(2)

مغلیہ حکومت کو برائے نام ہی اسلامی حکومت کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کے دفاع کے لیے بھی آپ  نےاپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا، حافظ ضامن شاملی کے محاذ پر شہید ہوئے(3) پھر جب روس نے بلقانی ریاستوں پر یلغار کی تو آپ ” خلافت عثمانیہ” کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، ترکوں کے لیے چندہ کی تحریک چلائی، جس کے رد عمل میں ترکی سفیر”حسین حسیب” نے آپ اور آپ کے رفقا کا شکریہ ادا کیا۔ 1877ء میں”رودادچندابلقان” مطبع ہاشمی میرٹھ نے شائع کر دی تھی، لیکن ہماری دینی اور ملی تاریخ کا یہ باب گم نامی کے پردوں میں چھپا رہا، اس غفلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا راشد نے لکھا ہے”مگر تعجب اور افسوس ہےکہ دارالعلوم دیوبند، اس کے عالی مرتبت علما اور بانیان کرام اور اس کے فیض یافتگان کی طویل و وسیع تاریخ میں اس کتابچہ کا اب تک غالبا کہیں ذکر نہیں آیا، حالاں کہ یہ ہماری ملی غیرت کا نشان، حمیت کی ایک علامت اور قومی تاریخ کا اہم اور قابل ذکر ورثہ ہے”۔(4)

اس کا مطلب یہ ہےکہ خلافت عثمانیہ کے تحفظ واستحکام کے لیے مولانا نانوتوی اور ان کے رفقاے کار نے جو خدمات سر انجام دیں، ان کے  اولین محقق مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی ہیں، انہوں نے ان تفصیلات کو اپنے تحقیقی مقدمات اور  تعارفی تحریروں کے ساتھ اپنی کتاب "قاسم العلوم” میں بیان کر دیا ہے۔ یہاں فکرقاسمی میں خلافت عثمانیہ کی اہمیت کے بیان میں مولانا سید ارشد مدنی کے ایک مقالہ ” برصغیر ہند میں دینی نظام تعلیم کے مجدد اور خلافت عثمانیہ ترکی” کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے، مولانا محمد نعمان راشدی نے اس مقالہ کو”نگارشات اکابر” میں مرتب کرتے ہو ئے یہ وضاحت کی ہے کہ سید ارشد مدنی نے یہ مقالہ ترکی میں ہونے والے ایک سمینار میں پڑھا۔یہ کتاب دیوبند سے اول مرتبہ 2018ء میں شائع ہوئی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مقالہ "فکر انقلاب” دھلی کی خصوصی اشاعت”بیاد: حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی” 2015 ءمیں بھی شائع ہو چکا تھا۔(5) اس مقالہ میں "روداد چندہ بلقان” کا حوالہ ملتا ہے، "قاسم العلوم” مطبوعہ2000ء کا ذکر نہیں ہوا۔

ممتاز ادیب، ماہر لسانیات،سابق وائس چانسلر، کراچی یونیورسٹی،  پروفسر ڈاکٹر جمیل جالبی نے مولانا راشد اور ان کی اس تالیف کے بارے اظہار خیال کر تے ہو ئے لکھا ہے:

"مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی سے میرا پہلا تعارف ان کی تصنیف”حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی” کے ذریعے ہوا۔کتاب پڑھی تو ان کے علم اور نظر نے متاثر کیا، اپنی اس تصنیف میں راشد صاحب نے نہ صرف مطبوعہ مواد سے استفادہ کیا ہے، بلکہ ان مخطوطات کو بھی استعمال کیا ہے،جن تک عام طور پر دوسروں کی رسائی نہیں ہوتی، مولانا راشد کم و بیش چودہ پندرہ کتابوں کے مولف و مصنف ہیں،اور ان کے متعدد مقالات پاکستان و ہندوستان کے بلند پایہ علمی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں”۔ (3)

مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی کی ایک اور کتاب جس میں آپ ایک نامور محقق کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ ہے، ” استاذ الکل حضرت مولانا مملوک علی نانوتوی” ہے۔

اسی کتاب کی ترحیب میں شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مفتی سعید احمد پالنپوری نے مولانا راشد کے تحقیقی اسلوب کے بارے  لکھا کہ”وہ استباط احوال کا گر جانتے ہیں، واقعات کی مفقود کڑیوں کو ملا دیتے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ پیشیں سوانح نگاروں پر انگلی رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں”(9) اس کتاب میں مصنف کے اس اسلوب کے کئی ایک نمونے ملتے ہیں،مثلا” عام طورپر”مولانا مملوک علی نانوتوی کا شمار سر سید کے استاتذہ میں کیا جاتا ہے” مولانا راشد نے اس روایت کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور اپنی ایک تحریر”سر سید احمد خاں کے مولانامملوک علی نانوتوی سے تلمذ اوردہلی کالج میں تعلیم کی روایت پر ایک نظر۔”(10) میں اس علمی اور تاریخی روایت کی تردید کر دی ہے۔  یہاں اس روایت کو علمی اور تاریخی اس لیے کہا گیا ہے کہ اسے شیخ محمد اکرام جیسے مورخ نے سر سید کےحالات میں لکھا ہے:

’’جب وہ دہلی کی منصفی پر مامور تھے(1846-1855) انہوں نے تحصیل علم میں زیادہ ترقی کی۔اس زمانے میں سر سید نے جن بزرگوں سے فیض حاصل کیا، ان میں امام الہند شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ مخصوص اللہ، شاہ عبدالعزیز کے جانشین شاہ محمد اسحاق اور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے استاد اور محسن، مولانا مملوک علی نانوتوی کے نام لیے جاتے ہیں‘‘۔(11)

ڈاکٹرجمیل جالبی صاحب نے اپنے تبصرے میں شیخ محمد اکرام کے علاوہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی(12) کو بھی اسی نظریے کا حامل قرار دیا ہے۔ وہ لکتھے ہیں:

’’مولانا راشد صحیح معنی میں محقق ہیں، بال کی کھال نکالنے والے، صحیح اور غلط کو الگ الگ کر کے دکھانے والے، علم وادب کے پارکھ، تاریخ کے فاضل، اب جو مولانا مملوک علی نانوتوی پر ان کی نئی تصنیف نظر سے گزری تو میں ان کے علم و فضل اور نظر کا مزید قائل ہو گیا۔ میں خود اب تک مملوک علی نانوتوی کو سر سید کا استاد سمجھتا رہا تھا اور فی الواقع یہ سبق میں نے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور شیخ محمد اکرام سے پڑھا تھا، لیکن جن دلائل  اور حوالوں کے ساتھ مولانا راشد نے زیر نظر کتاب میں”سرسید کے مملوک العلی سے تلمذ اور دہلی کالج میں پڑھنے کی روایت پر ایک نظر” کے عنوان کے   تحت اسے بے بنیاد بتایا ہے، وہ بہمہ وجوہ صحیح معلوم ہوتا ہے‘‘۔(13)

مولانا راشد کی کی تصنیفات  کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کے ان میں” تحقیق اور تنقید” کا عمل ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے، وہ جب کسی موضوع کا انتخاب کرتے ہیں، تو اس پر سابقہ تحقیقات کا ناقدانہ جائزہ مرتب کرتے ہیں، روایات کے علاوہ روات پر بھی نظر رکھتے ہیں، چونکہ وہ حدیث اور اصول حدیث کے فنون سے بھی واقف ہیں، اس لیے” روایت اور درایت” کےتحقیقی اصولوں کا بڑی مہارت سے استمعال کرتے ہیں، دلائل کی درجہ بندی میں اور ماخذ کی چانچ پڑتال میں ذاتیات کو در اندازی کا موقع نہیں دیتے۔ڈاکٹر جمیل جالبی نے ان کی انہی خصوصیات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’وہ ایسے محقق ہیں جو اختلاف کرکےاتراتے نہیں، بلکہ معروضی انداز میں دلائل اور حوالوں کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، مثلا” زیر نظر تصنیف” حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی” میں مولانا مملوک العلی کی مدرسہ دارالبقا سے وابستگی کے سلسلہ میں، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور نزہتہ الخواطر کے مولف ومصنف حکیم عبدالحی سے اختلاف کیا ہے اور اپنی بات کو نئے اور پرانے ماخذ سے اس طرح مدلل پیش کیا ہے کہ مولانا راشد سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔راشد صاحب دلائل اور حوالوں سے، اپنے زاویہ نظر کے لحاف میں ڈورے سے ڈالتےچلے جاتےہیں۔وسیع مطالعہ اور موضوع پر گہری نظر ان کی تحقیق اور تحریر کیا اصل طاقت ہے‘‘۔(14)

آج کل جدید عصری جامعات میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ۔ ڈی کی سطح پر تحقیقی مقالات لکھواے جا رہے ہیں، پبلک سکٹر یونیورسٹیز کے  علاوہ پرایوئٹ سکٹر اس کار خیر میں پیش پیش ہے، ان تحقیقی مقالات کے بارے بہت سے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، یہاں صرف چند تحفظات کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

1۔ ان تحقیقی مقالات کے پس منظر میں تنخواہ میں ایڈیشنل ریسرچ الاونس، ریپڈ پروموشن کے امکانات اور دیگر مراعات معاشی تحریک کے طور پر کار فرما ہوتی ہیں، ہمارے اکثر ریسرچ سکالرز کے پیش نظر صرف ڈگری اور اس سے منسلک معاشی مراعات ہوتی ہیں، ان حالات میں اعلی درجے کی تحقیقات کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ اگر آپ کو ہمارے اس تجزیے سے اختلاف ہے، تو اس کا ٹسٹ کیا جا سکتا ہے کہ نگران تحقیق اور تحقیق کاروں کے جملہ الاؤنس اور مراعات ختم کر دیے جائیں پھر دیکھیے کون ریسرچ کرواتا ہے اور کون کرتا ہے، اب جو تحقیق کے خار زار میں قدم رکھے گا، وہ اصل محقق ہو گا ، اس کا واحد مقصد حقیقت اورسچائی کی تلاش ہو گا، ان حالات میں اعلی درجے کی تحقیق کی امید کی جا سکتی ہے۔ تحقیق ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے،ایک لائف سٹائل ہے، یہ سرمائے کا اعلی مصرف ہے، نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ۔

2۔کسی بھی مقالے کا تحقیقی معیار بہت حد تک نگران مقالہ کے علمی مزاج، تعلیمی رجحانات اور مسلکی وابستگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ آپ کی تحقیق کا وہ حصہ جو نگران صاحب کے دینی، تہذیبی اور سیاسی افکار سے ہم آہنگ نہیں ہوتا،  قلم زد کر دیا جاتاہے یا کم ازکم اس میں نئی روح پھونک دی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج کل سرکاری وغیر سرکاری جامعات میں مرتب کیے جانے والے مقالات ، مقالہ نگار  سے زیادہ نگران مقالہ کی فکر کے عکاس ہوتے ہیں۔اس سلسلہ میں وہ سکالرز خوش قسمت ہوتے ہیں، جن کوان کے علمی مزاج کے نگران مل جاتے ہیں، یا پھر وہ جن کے نگراں عدیم الفرصت ہوں اور وہ مقالہ نگار کی تحقیقی صلاحتیوں پر ہی یقین رکھتے ہوں۔

3۔ بہت سے ادارے تحقیقی مواد سے زیادہ فنی تقاضوں اور اپنے ریسرچ فارمیٹ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اس طرح محقق کا بہت قیمتی وقت ان لوازمات کی تکمیل میں صرف ہو جاتاہے۔اس طرح کے کاموں میں تحقیق برائے نام ہی ہوتی ہے۔

4۔ پرائیویٹ سیکٹر کی جامعات چونکہ کمرشل بنیادوں پر کام کرتی ہیں اس لیے ان کی شعوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں کامیابی کا تناسب زیادہ سے زیادہ ہو، دریں حالات تحقیقی معیارمتاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ معروف دانش ور، مصنف ، محقق اور سابق ڈین شوسل سائنسزعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب نے بھی اپنے ایک مقالہ میں ناقص تحقیق کی ایک وجہ نجی جامعات کو قرار دیا ہے۔

کسی بھی ناقص تحقیق کی یہ وجوہات ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس ماحول میں محقق کو فکری آزادی حاصل نہیں ہو تی۔ اس کے برعکس دینی جامعات اور دارالعلوموں میں ایک قابل ذکر تعداد ایسے محقیقین کی مل جاتی ہے، جو کسی لالچ کے بغیر ” تحقیق برائےتحقیق”کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی کا شمار انہیں مخلص تحقیق کاروں میں ہوتا ہے۔نامور نقاد اور محقق جناب شمس الرحمن فاروقی نے ان کے بارے لکھا ہے:

’’نور الحسن راشد کاندھلوی ایک مدت سے اردو زبان اور ادب کی خاموش اوربے غرض خدمت میں مصروف ہیں، وہ ان نوجوانوں میں سے ہیں جنہیں دیکھ کر امید بندھتی ہےکہ ہماری علمی روایت ابھی برقرار رہے گی۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی یہ کتاب عامی اور عالم دونوں کے لیئے استفادہ اور حوالہ کاذریعہ بنے گی‘‘۔(15)

یہاں علامہ فاروقی ،راشد صاحب کی کتاب”استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی”کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر خلیق انجم اسی کتاب کا موازنہ عصری جامعات کے تحقیقی مقالات سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’پہلی بار نورالحسن راشد صاحب نے مولانا مملوک العلی پر ایک کتاب لکھی ہے جو جامع اور مستند ہے۔ راشد کاندھلوی صاحب نےاپنی کتاب کا انداز بالکل وہی رکھا ہے جو اعلی درجےکے تحقیقی مقالات کا ہوتا ہے۔ آج کل یونیورسٹیوں میں بے شمار تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں، لیکن عام طور پر ان کے موضوعات ایسے سطحی قسم کے ہوتے ہیں کہ ان مقالوں کے لیے زیادہ پڑھنا، تحقیق کرنا، مواد تلاش کرنا اور ان سے نتائج بر آمد کرنے ضروری نہیں ہوتا، مگر راشد صاحب نے مولانا مملوک العلی پر ایسی کتاب لکھی ہے جو ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔ میں پوری ذمے داری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندو پاک کی یونیورسٹیوں میں جتنے تحقیقی مقالوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں ان میں سے 95 فیصد مقالوں سے یہ کتاب بہتر ہے، ۔میں اس اعلی’ علمی کارنامے پرراشد صاحب کومبارک با دیتا ہوں‘‘۔ (16)

یہاں ہم نے مولانا راشد صاحب کی صرف دو کتب کے حوالے سے ان کے نادر اسلوب تحقیق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ مؤخرالذکر کتاب ایک معیاری تحقیق پیش کرتی ہے اور امید ہے کہ آپ دیگر کتب: مولانا عبداللہ انصاری-احوال وخدمات و علمی آثار، مولانا انعام الحسن کاندھلوی، شمارہ خاص احوال وآثار، معرکہ شاملی وتھانہ بھون، سنہ1857،اور شاہ اسماعیل شہید اور تقویۃ الایمان وغیرہ بھی آپ کی عمدہ تحقیق کا نمونہ ہوں گی۔ علاوہ ازیں دینی، علمی، تاریخی ،ادبی اور سوانحی موضوعات پر آپ کے زاید از یک صد مقالات برصغیر پاک وہند کے موقر رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ موصوف کی عمر اور علم میں مزید برکت فرمائے۔

 

حوالہ جات:

(1)یہ دعوی مولف نے خود کیا ہے۔دیکھیے مجلہ سہ ماہی،احوال وآثار، کاندھلہ، جلدنمبر1، شمارہ نمبر1،جولائی تا ستمبر2007ء۔

(2)مولانا سید انور حسین نفیس الحسینی، حرف نفیس، قاسم العلوم احوال و کمالات، مکتبہ سید احمد شہید،لاہور،اشاعت اول دسمبر2000ء۔

(3)مولانا تقی عثمانی،تقدیم۔

(4)ڈاکٹر جمیل احمد جالبی، استقبال(تبصرہ) "استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی”، مفتی الہی بخش اکیڈمی، کاندھلہ، بار اول مارچ 2009ء،ص27۔

(5)مکتوب مولانا محمد قاسم نانوتوی بنام میاں جی گھیسا،مشمولہ،” تصفیتہ العقائد”، دارالاشاعت، کراچی، اشاعت اول1976ء،ص43۔

(6)”قاسم العلوم احوال وکمالات”،حاشیہ درص204۔

(7)ایضا”، ص93۔

(8)ماہنامہ”فکر انقلاب”نئی دہلی کی خصوصی اشاعت،2015، "حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی”، اپریل 2015ء۔

(9)استاذ الکل مولانا مملوک العلی نانوتوی، ص37۔

(10)مولانا سعید احمد پالنپوری، ترحیب، ایضا”ص32۔

(11)استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی،ص531۔

(12)شیخ محمد اکرام، "موج کوثر”، فیروز سنز، لاہور، بار دوم 1958ء،ص65۔

(13)ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم نے دہلی اور کیمرج کی جامعات سے تعلیم حاصل کی تھی۔آپ گیارہ سال تک شیخ الجامعہ،کراچی رہے، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد میں صدر کی حثییت سےبھی خدمات سر انجام دیں، ڈاکٹر قریشی نے تحریک خلافت میں بھر پور حصہ لیا، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 1949 -1954 تک حکومت پاکستان کے نائب وزیر تھے، پھر وزیر مملکت اور بالاخر کابینہ کے وزیر رہے، ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں انہیں پہلے”ستارہ پاکستان” اور پھر” ہلال امتیاز "کا اعزاز عطا کیا گیا تھا۔(جدو جہد پاکستان)

(14)ڈاکٹر جمیل احمد جالبی، "استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی”، ص37۔

(15)شمس الرحمن فاروقی، پیش لفظ، ایضا،ص36۔

(16)ڈاکٹر خلیق انجم، مبارک باد(تبصرہ) بر، "استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی”، ص41۔