این آر سی:رنجن گوگوئی کی جانب سے حکومتِ ہند کو ایک بیش بہا تحفہ-ارشو جون

ترجمہ: راشد خورشید

(چوتھی و آخری قسط)
گوگوئی نے اپنے حکم نامے میں لکھا، ”وہ شہری جو اصلاً آسام کے باشندے یا رہائشی ہیں اور جو نہیں ہیں، وہ دونوں این این آر سی میں شامل ہونے میں یکساں نہیں“. مزید لکھتے ہیں، ”مذکورہ بالا رائے کے مطابق، ہمیں’اصلی و نسلی آسامی باشندوں’ اصطلاح کی وضاحت کرنے یا اس کے متعلق ہدایات جاری کرنے کا کوئی خاص سبب نظر نہیں آٖتا“ خاندیکر کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کو این آر سی پراسیس کے ذریعہ بحیثیت اصلی و نسلی باشندوں کے اس میں شامل کیا گیا. انہوں نے کہا، ”آسام میں آہوم خاندان کی تاریخ 1228ء سے شروع ہوتی ہے جبکہ مسلمانوں کی 1206ء سے. اس کے باوجود کسی بھی مسلمان کو اوریجنل باشندہ تسلیم نہیں کیا گیا“.
خاندیکر نے مجھے بتایا کہ ایک اور آرڈر میں گوگوئی سٹیزن شپ ایکٹ کے پروویژنز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جس میں ہر اس فرد کو ہندوستانی شہری تسلیم کیا گیا ہے جو یکم جولائی 1987 سے قبل اس سرزمین پر پیدا ہوا ہو. مگر سپریم کورٹ کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ آیا اس شخص کو بھی ہندوستانی شہری تسلیم کیا جاۓ گا جو 1987 سے قبل پیدا تو ہوا ہو مگر اس کے آباء و اجداد غیرملکی قرار دئے گیے ہوں؟ چنانچہ عدالت سے منظور شدہ کارروائی میں ذکر تھا کہ ہر وہ شخص جس نے این آر سی میں بغرض شمولیت اپلائی کیا ہے مگر اس کے آباء و اجداد کا تعلق مشکوک ووٹر یا غیر ملکی قرار دیے گئے ہوں یا پھر ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہو جن کا معاملہ ابتک ٹریبونلز میں معلق ہو تو ایسے شخص کو غیر قانونی مہاجر تسلیم کیا جائے گا.
23 جولائی کو عدالت نے ایسے مختلف اعتراضات کو نوٹس میں لیا جن کا تعلق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (Standard Operating Procedure) اور سٹیزن شپ ایکٹ کے سیکشن 3 کے مابین تنازعے سے تھا. گوگوئی کی ماتحت بینچ نے پرتیک ہَجیلا کو حکم دیا کہ وہ ”ایک پبلک نوٹس جاری کرکے“ تمام اسٹاک ہولڈرز کو عدالت میں حاضر ہوکر انہیں اپنی بات رکھنے کو کہیں. مگر جب 8 اگست کو اگلی شنوائی کے موقع پر جب Citizens for Justice and Peace نامی ایک این جی او کی نمائندگی کر رہے سینیئر ایڈوکیٹ چندر اُدے سنگھ عدالت میں اپنی بات رکھنے کیلئے کھڑے ہوئے تو گوگوئی نے جلدی سے انہیں ڈسمس کردیا اور بولے، ”آپ نے (مقدمے کا) ایک فریق بننے کی غرض سے عرضی دائر کی ہے. آپ کو ہدایات سے کوئی مطلب نہیں، آپ کا مقصد محض ایک فریق بننا ہے. اس لئے ہم آپ کی بات کیوں سنیں؟“ تو ادے سنگھ نے جواب دیا، ”مگر گذشتہ آرڈر کے ذریعہ عالی جناب نے ہی تو اسٹاک ہولڈرز کو مدعو کیا تھا“.
مگر گوگوئی اس سے مطمئن نہیں تھے. ان کا رویہ بالکل ویسا تھا جیسا کہ ہرش مندر کو چیلنج کرتے وقت تھا جب انہوں نے ڈٹینشن سینٹرز والے معاملے سے گوگوئی کو علاحدہ کرنے کی درخواست کی تھی. چنانچہ گوگوئی نے پوچھا، ”آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو بلائیں اور ایک ایسے حکم کا فائدہ آپ کو پہنچائیں جس کیلئے آپ نے درخواست ہی نہیں کی؟ آپ کی ایک درخواست پر آپ کے تمام بشری مسائل حل ہوجائیں گے. خود کو بری رکھیں تو ہم کیسے مداخلت کرسکتے ہیں؟“
ادے سنگھ کے مطابق 8 اگست کی شنوائی کے دوران عدالت نے اس بات کو تسلیم کرلیا تھا کہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے ذریعہ سیکشن 3 میں دخل اندازی نہیں کی جاسکتی. انہوں نے کہا، ”جسٹس نریمن نے قطعیت کے ساتھ ہَجیلا سے بول دیا تھا کہ آپ 1987 سے قبل کی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کرسکتے، کیونکہ آئین کے سیکشن میں یہ سب طے کردی گئی ہیں. اس پر گوگوئی نے بھی ہامی بھری، مگر پھر وہ مکر گئے اور حکم نامے سے اس کو بالکل غائب ہی کردیا“. حکم نامے میں سٹیزن شپ ایکٹ کے پروویژنز سے انحراف کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی،جو یہ تھا: ”این آر سی کے پورے عمل کو مذکورہ بالا اصول و ضوابط کی بنیاد پر انجام دیا گیا، اور اب چند نئے پیمانوں کی بنیاد پر نئے اصول وضع کرکے اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم نہیں دیا جاسکتا“.
غالباً جولائی کے اخیر میں، جیسے ہی آسام کے اکثریتی قبائل کو چند غیر آفیشیل چینلز کے ذریعہ خبر موصول ہوئی کہ این آر سی سے باہر ہونے والوں میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں کی بنسبت کم ہے تو این آر سی کی خاطر ان کی حمایت ماند پڑ نے لگی. یکم اگست کو آسام کی بی جے پی حکومت نے اسٹیٹ اسمبلی میں این آر سی کی لسٹ سے باہر ہونے والوں کے ضمن میں ضلعی پیمانے پر معتبر اعداد و شمار جاری کیا، جسے دیکھ کر معلوم ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی بنسبت جن علاقوں میں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے، وہاں پر این آر سی سے باہر ہونے والوں کی تعداد زیادہ تھی. اسی بنا پر حکومت نے ریاستی اہلکاروں پر کمپرومائز کا الزام عائد کرتے ہوئے فائنل این آر سی کو دوبارہ ویری فائی کرنے کا حکم دیا. اچانک وہی ہجیلا جن کی ایک سال قبل اس وجہ سے حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ وہ اس وقت کسی دباؤ میں آکر جھکے نہیں تھے جب این آر سی درافٹ سے چالیس لاکھ لوگوں کو خارج کردیا گیا تھا. مگر آج ان پر مینیو پلیٹنگ (Manipulating) کا الزام تھا. 31 اگست کو فائنل این آر سی جاری کی گئی، اور ایک کروڑ نوے لاکھ لوگوں کو خارج کردیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف چار لاکھ کے آس پاس تھی.
اس کے بعد بی جے پی اور آسو تنظیم نے واویلا مچانا شروع کیا کہ این آر سی میں گڑبڑی ہوئی ہے. بی جے پی نے تو نئے اپڈیٹ کا ہی مطالبہ کردیا. اس دوران میں نے آمسو تنظیم کے جتنے بھی لیڈران سے بات کی، انہوں نے مسلمانوں کی شرح خروج میں کمی کے مختلف اسباب بتاۓ. مثلاً، ریاست میں غیرملکی مسلمانوں کی تعداد بتانے میں مبالغہ آمیزی کی جاتی ہے، گذشتہ زمانے میں مسلمان اس راہ میں اتنا کچھ جھیل چکے تھے جس کی بنا پر ان کے یہاں تمام کاغذات مکمل تھے، نیز زمینی سطی پر سول سوسائٹی گروپ کے ذریعہ دستاویزات میں درستگی و اصلاح بھی ایک اہم سبب تھا.
آمسو تنظیم کے چیف ایڈوائزر عبد الرحمن اور قانونی مشیر حسین صاحب نے کہا کہ آمسو اور دیگر تنظیموں نے مل کر 2010 سے ہی، جب این آر سی کیلئے تجرباتی پراجیکٹ کئے جارہے تھے، اس کیلئے ضروری دستاویزات کے بارے میں لوگوں کو باخبر کرنا شروع کردیا تھا. اسی طرح عبد المنان نے بھی بتایا کہ آسام میں اپنی گذشتہ تاریخ کے پیش نظر سبھی لوگ بالکل تیار تھے. انہوں نے کہا، ”لوگوں کا یہ دعوی کہ مسلمانوں نے غلط طریقے سے دستاویزات تیار کئے ہیں، یہ سراسر باطل اور بے بنیاد ہے. آسام میں مسلمانوں کو آزادی کے بعد سے ہی نشانہ بنایا گیا ہے“. اس کے بعد عبد المنان نے آسام میں مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے بھید بھاؤ اور ان کو جلاوطن کئے جانے پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان سب کے بعد مسلمانوں نے تو آسام کی طرف ہجرت کرنا ہی بند کردیا تھا. ”جہاں اتنے سخت قانون نافذ ہوں وہاں کوئی بسنے کی کیسے جرآت کرسکتا ہے؟ اور این آر سی نے یہ ثابت بھی کردیا“.
این آر سی جاری ہونے کے بعد پراجیکٹ میں کافی سستی آگئی. لیگل رجیم (Legal Regime) کے مطابق اگر کسی شخص کو لگتا ہے کہ کسی کو غلط طریقے سے شامل یا خارج کیا گیا ہے تو وہ 120 دنوں کے اندر فارینر ٹریبونلز میں اپیل کرسکتا ہے. رجسٹر جنرل آف انڈیا کے یہاں سے این آر سی کے رسمی طور پر جاری ہوتے ہی یہ 120 دن کی مدت شروع ہوجائے گی. مگر فائنل لسٹ جاری ہونے کے بعد بھی اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کے یہاں سے ابتک وہ نوٹس جاری نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر خارج شدگان اپیل دائر کرسکیں. اسی دوران میں، فائنل لسٹ جاری ہونے کے بعد گوگوئی کے ماتحت این آر سی مانیٹرنگ کیس پر پہلی شنوائی میں ہی گوگوئی نے حکم دیا کہ ہجیلا کا تبادلہ دوبارہ بحیثیت کیڈر (Cadre) مدھیہ پردیش بی کردیا جائے.
8 نومبر کو آسام سول سروسز 1986 بیچ کے آفیسر ہِتیش دیو سرما کو اسٹیٹ کوآرڈینیٹر بنا دیا گیا. مگر ابتک اس کی کوئی مصدقہ خبر نہیں کہ وہ نوٹس (Rejection Notice) کب جاری کی جائے گی تاکہ این آر سی سے باہر کئے گئے افراد اپیل دائر کرسکیں. آسو نے دیو سرما کی تقرری کو یہ کہہ کر چیلنج کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے ذریعہ کی گئی پوسٹوں سے آسام کے اقلیتی طبقہ کے خلاف ان کے متعصب رجحان کی جھلک صاف نظر آتی ہے. عبد الرحمن نے مجھے بتایا کہ امید ہے کہ عدالت آسو کی عرضی کو فروری کے پہلے ہفتے میں شنوائی کیلئے درج کرے گی. سپریم کورٹ کو این آر سی مانیٹر کرتے ہوئے چھ سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے مگر ابھی تک یہ پراسیس کسی کونے میں اٹکا دکھائی دیتا ہے.
گرچہ اب گوگوئی ان کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں مگر اس پراجیکٹ پر اپنی آخری اور حتمی رائے دینے کا موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. 3 نومبر کو دہلی میں ایک کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر گوگوئی نے این آر سی کا دفاع کیا اور تقریباً وہی سب باتیں دہرائیں جنہیں میں بارہا آسام میں سن چکا تھا. کہ ”آسامی باشندوں نے این آر سی کی تیاری کیلئے مختلف کٹ آف ڈیٹ کو قبول کرکے کشادہ دلی اور حوصلہ مندی کا ثبوت پیش کیا ہے. لیکن ابھی بھی وہ اس وقت سے کافی دور ہیں جب پہلی بار انہیں یا ان کے آباء و اجداد کو ہجرت کا تکلیفوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا تھا“.
اس کے علاوہ گوگوئی نے ان کی خوب سرزنش کی جو ان کی تنقید کرتے رہتے تھے. انہوں نے کہا، ”ہمیں یہ بات بخوبی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہماری قومی گفتگو سے چند ایسے آرام پسند تنقید نگاروں کا پتہ چلتا ہے جو نہ صرف زمینی حقائق سے کافی دور ہیں بلکہ وہ ایک مسخ شدہ تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں. وہ جمہوری عناصر اور اداروں کے خلاف متعصب اور بے سر و پا کی بیان بازی کرکے انہیں تکلیف پہنچا کر ان کو ضروری کارروائیوں سے روکنا چاہتے ہیں. ان تنقید نگاروں کو اپنی تنقید کے ذریعہ لوگوں کو حقائق سے دور رکھ کر اور افواہوں کا بازار گرم کرکے ہی سکون حاصل ہوتا ہے. اس کے بعد سابق چیف جسٹس اف انڈیا آزاد صحافیوں کی کلاس لے رہے تھے.

(حصہ چہارم)

”آپ کرونولوجی سمجھ لیجئے“. امت شاہ نے یہ مشہور جملہ مغربی بنگال میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا، جس کی ویڈیو کلپ بی جے پی کے یوٹیوب چینل پر اپریل 2019 کو اپلوڈ کی گئی تھی. پورا بیان یوں تھا، ”سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل آئیگا، تمام پناہ گزینوں کو شہریت دی جائے گی، اس کے بعد این آر سی (National Register of Citizens) تیار کی جائے گی. اس لئے پناہ گزینوں کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. آپ کرونولوجی سمجھ لیجئے… این آر سی صرف بنگال کیلئے نہیں (آئیگا) بلکہ پورے ملک کیلئے آئیگا. یہ گھس پیٹھی (Infiltrators) پورے ملک کا مسئلہ ہیں“.
دسمبر 2019 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں – لوک سبھا اور راجیہ سبھا- نے سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کو منظور کرکے اسے ایکٹ کی (قانونی) شکل دیدی. اب اس ایکٹ نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے حصول کو متعارف کرانا شروع کیا. ایکٹ کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کا ہر وہ شہری جو چھ مذاہب (ہندو ازم، بدھ مت، جین مت، سکھ ازم، عیسائیت اور مجوسیت) میں سے کسی کا بھی پیروکار ہے اور ہندوستان میں 31 دسمبر 2014 سے قبل آچکا ہے، اسے غیر قانونی شہری نہیں مانا جاۓ گا. نیز اس ایکٹ نے فطری شہری (Natural Citizen) ہونے کیلئے مقرر کردہ گیارہ سال کی مدت میں بھی تخفیف کرکے صرف پانچ برس کردیا. اس ترمیم کے مطابق مذکورہ بالا ممالک سے آۓ ہوئے مسلمانوں کو صرف غیر قانونی شہری تسلیم کیا جاۓ گا اور ان کیلئے کسی طرح کی تخفیف بھی نہیں کی جائے گی.
اس بل کے قانونی صورت اختیار کرتے ہی اس کے اور سی اے اے (Citizenship Amendment Act) کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سیلاب امنڈ پڑا، انہیں روکنے کیلئے ریاستوں نے مظاہرین پر ظم و تشدد کرنا شروع کیا. مظاہرین نے اس کی قانونی حیثیت کو یہ کہہ کر چیلنج کیا کہ مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں برتا جاسکتا. نیز سی اے اے اور این آر سی کے باعث مستقبل میں پیدا ہونے والے خطرناک نتائج سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا. مظاہرین کے جوش اور ولولے کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے سی اے اے کو این آر سی سے الگ ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش کی، اور دعویٰ کیا کہ سی اے اے صرف پریشان حال پناہ گزینوں کو شہریت دینے کیلئے لایا گیا ہے. اور ملکی سطح کی این آر سی پر گفتگو کرنے سے ہچکچاتے ہوئے یہ کہا کہ ابھی رسمی طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے. جبکہ اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں منظور شدہ ”سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ 2003“ کے تحت ملکی سطح پر این آر سی نافذ کرنے کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے.
1999 میں کارگل جنگ کے بعد واجپئی کی بی جے پی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جسے عام طور پر”کارگل ریویو کمیٹی“ (Kargil Review Committee) کے نام سے جانا جاتا ہے، تاکہ تنازعہ کا سبب بننے والے واقعات اور حالات کی مکمل تحقیق کی جاسکے. دسمبر 1999 میں کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد حکومت نے وزراء کا ایک گروپ (Group of Ministers) تشکیل دیا، تاکہ رپورٹ کی تشریح و توضیح کے ساتھ ساتھ اس کو نافذ کرنے کیلئے پروپوزل بھی تیار کئے جاسکیں. اس گروپ نے اپنی رپورٹ بعنوان”Reforming the National Security System “ پیش کی. رپورٹ میں جہاں کئی باتوں کا ذکر تھا وہیں یہ بھی کہا گیا تھا، ”غیر قانونی ہجرت کافی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے. اس لئے ملک میں رہائش پذیر شہریوں و غیر شہریوں کا رجسٹریشن ضرور ہونا چاہئے. اس سے این آر سی تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی. تمام شہریوں کو ایک (MNIC) یعنی Multi-purpose National Identity Card اور غیر شہریوں کو مختلف رنگ و شکل کے شناختی کارڈ دیے جانے چاہئے“.
ڈی این اے حکومت نے 2003 میں سٹیزن شپ ایکٹ میں ترمیم کی تھی تاکہ جو لوگ بنا کسی قانونی سفری دستاویز (Valid Travel Document) کے ملک میں داخل ہوگئے ہیں یا جو متعینہ مدت گزر جانے کے بعد بھی اب تک اس ملک میں رہائش پذیر ہیں ان کو ‘غیر قانونی شہری’ کی حیثیت سے شناخت کی جا سکے. چنانچہ اس طرح حکومت نے غیر قانونی کو ہندوستانی شہریت کو چلانے والے قانون میں مرکزی مقام عطا کردیا. مثلاً، اوریجنل ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ 1986 کے بعد پیدا ہونے والے ہر شخص کو ہندوستانی شہری تسلیم کیا جاۓ گا بشرطیکہ پیدائش کے وقت اس کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستان کا شہری رہا ہو. مگر 2003 کی ترمیم کے بعد، اب 2004 کے بعد سے پیدا ہونے والوں میں صرف وہی ہندوستان کے شہری مانے جائیں گے جن کی پیدائش کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستانی شہری رہے ہوں مگر دوسرا غیر قانونی شہری نہ رہا ہو. اس ترمیم میں نیچرلائزیشن (Naturalisation) کے ذریعہ کسی بھی غیر قانونی شہری کو شہریت حاصل کرنے کا موقع بھی ختم کردیا گیا۔
رپورٹ کی سفارشات کے بموجب حکومت نے سٹیزن شپ ایکٹ میں سیکشن 14A کا اضافہ بھی کر ڈالا، جس میں مرکزی حکومت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ، ”وہ لازمی طور پر ہندوستان کے ہر شہری کا اندراج کرکے اس کیلئے ایک قومی شناختی کارڈ (National Identity Card) جاری کرے“. چنانچہ حکومت نے اسی وقت 2003 کے شہری قوانین (Citizenship Rules) کا اعلان کردیا، جس نے این پی آر (National Population Register) اور ملکی سطح کی این آر سی – جو این آر آئی سی (National Register of Indian Citizens) کے نام سے معروف ہے – کیلئے قانونی طور پر راہ ہموار کردی. ان قوانین میں این آر آئی سی کی یوں تعریف کی گئی ہے، ”ایک ایسا رجسٹر جو اندرون و بیرون ملک رہائش پذیر ہندوستانیوں کی تفصیلات پر مشتمل ہو“. اور این پی آر کہتے ہیں، ”وہ رجسٹر جس میں عموماً (صرف) ہندوستان میں رہائش پذیر افراد کی تفصیلات درج ہوں“. ان قوانین میں ایک بیوروکریٹک مشینری بھی تشکیل دینے کی بات کی گئی ہے، جس میں مقامی و ضلعی رجسٹرار بھی شامل ہوں گے۔
قوانین کے تحت تیار شدہ فریم ورک کے مطابق مقامی حکومتی اہلکار گھر گھر جاکر این پی آر تیار کریں گے. یہ پہلی بار 2010 میں تیار کیا گیا تھا، پھر اب 2020 میں بی جے پی حکومت نے اسے اپڈیٹ کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں آدھار کارڈ، موبائل نمبر، پاسپورٹ نمبر، ڈرائیونگ لائسنس نمبر نیز والدین کی جائے پیدائش جیسی مزید تفصیلات بھی طلب کی جائیں گی. یہ تمام تفصیلات خصوصاً والدین کی جائے پیدائش کی تفصیل طلب کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسے این آر آئی سی میں لوگوں کو شامل کرنے کی خاطر کیا جائے گا. 2003 کے قوانین میں مذکور ہے کہ شہریوں کا ویریفکیشن کرنے والے مقامی رجسٹرار این پی آر کی تحقیق کا کام کریں گے تاکہ این آر آئی سی میں شامل کرنے کیلئے لوگوں کو ویریفائی کیا جا سکے. اس ویریفکیشن پراسیس کے دوران مقامی رجسٹرار کو ان لوگوں کو ”مشکوک شہریوں“ کی لسٹ میں ڈالنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
2020 این پی آر کے سرکاری دستور العمل میں مذکور ہے کہ ہر شخص کی شہریت کا اعلان بذات خود وہی کریگا اور کوئی بھی شمار کنندہ (Enumerator) کسی کی شہریت کے دعوے کو چیلنج نہیں کرسکتا. لیکن 2003 کے قوانین میں مقامی رجسٹرار کو کہیں بھی اس قسم کی ہدایات نہیں دی گئی ہیں جن کے ذریعہ وہ کسی کی بھی شہریت کو مشکوک نگاہوں سے دیکھے. مشکوک زدہ ہر شخص و خاندان کو اپنی بات رکھنے کا موقع ضرور دیا جانا چاہئے قبل اس کے کہ ”اس کا نام این آر آئی سی میں شامل یا اس سے خارج کرنے کا حتمی فیصلہ کردیا جائے“. خلاصۂ کلام یہ کہ این پی آر ہی این آر آئی سی کیلئے بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگراین پی آر 2020 کا 2010 سے موازنہ کریں تو دو بنیادی فرق نظر آتے ہیں. پہلا یہ کہ این پی آر 2020 میں والدین کی جائے پیدائش کی تفصیل طلب کرنا، جبکہ اس کا تعلق 2003 میں سی اے اے کیلئے وضع کردہ شہریت کے معیار سے ہے. دوسرا بنیادی فرق یہ کہ اب شمار کنندگان کو ریسپونڈینٹس (Respondents) کو کوئی اکنالجمنٹ سلپ (Acknowledgement slip) دینے کی ضرورت نہیں رہی. جبکہ 2010 این پی آر کے دستور العمل میں شمار کنندگان کو خصوصی ہدایت دی گئی تھی کہ شمار کے بعد وہ اہل خانہ کو اکنالجمنٹ سلپ ضرور دیں. اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ لوگوں کو اپنی اسی سلپ کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کی آفس میں حاضری دینا ہوگی تاکہ ان کی تصاویر اور فنگر پرنٹس لئے جا سکیں. لیکن مودی حکومت کے قیام کے چند روز بعد ہی 2015 میں آدھار کارڈ کی تفصیلات کو این پی آر میں شامل کرلیا گیا. ممکن ہے اکنالجمنٹ سلپ کو 2020 این پی آر کے دستور العمل سے اس وجہ سے خارج کردیا گیا ہو کہ 2015 اپڈیٹ کے دوران بائیو میٹرک انفارمیشنز (Biometric Informations) لی جا چکی ہیں۔
بہرحال، یہ اکنالجمنٹ سلپ غیر معمولی اہمیت کی حامل تھیں کیونکہ اس سے شہریوں کو رجسٹر میں اپنے اندراج کی ایک رسید مل جاتی تھی تاکہ اگر کبھی ان کا نام رجسٹر سے خارج بھی کردیا جائے تو اسے دکھا کر وہ چیلنج کر سکیں. اس بات کی ابھی تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ اگر کسی شخص کا نام این پی آر میں شامل نہ کیا گیا ہو تو شامل کرانے کیلئے کیا طریقۂ کار اپنانا ہوگا، کیونکہ 2003 کے قوانین میں تو صرف این آر آئی سی سے خارج شدہ لوگوں کے ذریعہ چیلنج کئے جانے کے طریقۂ کار کی ہی وضاحت کی گئی ہے۔
واجپئی حکومت نے 2003 میں وضع کردہ قوانین اور ترمیم کے ذریعہ مودی حکومت کو سی اے اے کا استعمال کرکے اپنی پارٹی کے ہندتوا ایجنڈا کو آگے لے جانے کیلئے گراؤنڈ ورک تیار کردیا. بی جے پی حکومت کے 2014 کے منشور میں مذکور ہے، ”ہندوستان ہمیشہ ظلم و ستم کے مارے ہندوؤں کیلئے فطری گھر کی حیثیت رکھے گا کہ وہ جب بھی اس کی پناہ میں آنا چاہیں، ان کا استقبال ہے“. اقتدار سنبھالتے ہی پارٹی نے متعدد اقدامات کئے جن میں سی اے اے سب سے تازہ اقدام ہے۔
2014 میں مودی حکومت نے افغانستان، بنگلہ دیش و پاکستان میں رہنے والے چھ مذاہب کے پیروکاروں کیلئے ایک آنلائن اپلیکیشن فارم کا سلسلہ شروع کیا، جس کے ذریعہ وہ لوگ طویل مدت کا ویزا (Long-term Visa) حاصل کرسکتے ہیں. اس فارم میں صرف ایک حلف نامہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ آپ ان تینوں ممالک میں بسنے والے چھ مذاہب میں سے کسی ایک کے پیروکار ہیں. نیز یہ کہ آپ جب ہندوستان آۓ تو کیا آپ کے پاس قانونی سفری دستاویز (Valid Travel Document) تھی؟
”پریس ٹرسٹ آف انڈیا“ نے جون 2015 میں ایک رپورٹ شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ مودی حکومت قائم ہونے کے بعد سے مدھیہ پردیش میں انیس ہزار، راجستھان میں گیارہ ہزار اور گجرات میں چار ہزار کے قریب پناہ گزینوں کو ایل ٹی وی (Long-term Visa) فراہم کیا گیا. رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک سال کے اندر مودی حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے چار ہزار پناہ گزینوں کو شہریت عطا کی. چنانچہ 31 دسمبر 2018 تک 41331 پاکستانی اور 4193 افغانستانی ہندوستان میں ایل ٹی وی حاصل کرکے زندگی گزار رہے تھے۔
ستمبر 2015 کو حکومت نے سٹیزن شپ ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے طرز پر”پاسپورٹ رولز، 1950“ اور ”فارینرز آرڈر، 1948“ میں بھی ترمیم کی. اس ترمیم کے ذریعہ یہ رخصت دی گئی تھی کہ ”اگر کوئی شخص پاکستان یا بنگلہ دیش کے اقلیتی طبقہ یعنی ہندو، جین، پارسی (مجوسی)، عیسائی، سکھ اور بدھ سے تعلق رکھتا ہے اور مذہبی ظلم و ستم کے سبب وہاں سے فرار ہوکر 31 دسمبر 2014 یا اس سے پہلے ہندوستان میں پناہ لینے کی غرض سے آگیا ہے“ اور اس کے پاس قانونی سفری دستاویز نہیں ہے تو متعلقہ قوانین کے ضمن میں وضع کردہ اصول اس پر نافذ نہیں کئے جائیں گے اور نہ ہی سزا دی جائے گی۔
سی اے اے 2019 اور ان ترمیمات کے مابین امتیازی فرق یہ ہے کہ سی اے اے میں اب یہ خاص نہیں کہ یہ چھ مذاہب کے پیروکار نامزد ممالک میں ستاۓ جارہے ہیں یا انہیں ستاۓ جانے کا خوف لاحق ہے. جیسا کہ کئی لوگوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پاکستان میں اس قسم کے بھی مسلمان ہیں جن پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے، مثلاً احمدیہ فرقہ کے لوگ، جنہیں پاکستانی حکومت نے 1974 میں ہوئی آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دیا تھا. اسی طرح اگر مذہبی ظلم و ستم کو ہی شہریت دینے کا معیار مانا جاتا ہے تو پھر روہنگیا کے مسلمانوں کو سی اے اے کے فائدے سے محروم کردینے کی کیا توجیہ ہوگی؟ جبکہ میانمار میں ان کے ساتھ جس طرح کا وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے وہ اظہر من الشمس ہے؟؟
چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ گوگوئی کے سامنے روہنگیا کے پناہ گزین مسلمانوں کے متعلق ہندوستان کے نقطۂ نظر کا سوال آ کھڑا ہوا. وزارت داخلہ کے اگست 2017 کے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت، ہندوستان سے تقریباً روہنگیا کے چالیس ہزار پناہ گزینوں کو جلاوطن کرے گی. اگلے مہینے میانمار کے روہنگیائی مسلمانوں نے سپریم کورٹ میں حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی اور کہا کہ ایسا کرنا دستوری طور پر شہریوں کو حاصل قانونی تحفظ کی خلاف ورزی ہوگی، نیز ایسا کرنا عالمی قانون Non-refoulement کے بھی خلاف ہوگا، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک کسی پناہ کے متلاشی کو اس کے ملک واپس نہیں بھیج سکتا جہاں اس پر ظلم و تشدد کیا جاتا ہو. مارچ 2018 کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے عدالت میں ایک حلف نامہ دائر کرکے کہا گیا کہ، چونکہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق اصولوں پر دستخط نہیں کی ہے، اس لئے وہ Non-refoulement قانون پر عمل کرنے کا پابند بھی نہیں ہے. مزید کہا گیا کہ جلاوطنی کے فیصلے کو واپس لینا ”قومی سلامتی کے حق میں بہتر نہیں ہے“۔
بحیثیت چیف جسٹس کام کے دوسرے ہی دن 4 اکتوبر 2018 کو گوگوئی نے سات روہنگیائی پناہ گزینوں کو واپس میانمار بھیجنے کی اجازت دیدی، جبکہ ان لوگوں کے ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا تھا انہیں ان کی مرضی کے بغیر ان کے ملک واپس بھیجا جا رہا ہے. اصل عرضی تو اب بھی عدالت کے خانۂ التوا میں پڑی ہوئی ہے. بحیثیت چیف جسٹس اپنی مدت کارکردگی کے تیرہ مہینے سے زائد عرصے کے دوران گوگوئی نے اس کے بعد اس عرضی کو چار بار درج کیا اور صرف ایک بار اس پر شنوائی ہوئی۔
سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل سب سے پہلے لوک سبھا میں جولائی 2016 کو متعارف کرایا گیا. اور اگلے مہینے اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (Joint Parliamentary Committee) کو سونپ دیا گیا، جس نے جنوری 2019 میں اس کے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی. رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک ”ماہر قانون“ نے کمیٹی کو بتایا کہ لفظ ”اقلیت“ (Minority) کی پورے دستور میں کہیں بھی کوئی تعریف (definition) نہیں کی گئی ہے، اور سی اے اے میں اس کا استعمال صرف ”مذہبی اقلیت“ کے پس منظر میں نہ کرکے وسیع پیمانے پر کیا جانا چاہئے. اس ماہر قانون نے ترمیم میں مستعمل اصطلاح کو بدلنے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کے پروویژن کو ”پڑوسی ممالک کے تمام مظلوم و مقہور لوگوں“ کیلئے استعمال کیا جاسکے. کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جب وزارتِ قانون کو اس تجویز سے باخبر کیا گیا تو اس کے شعبۂ قانون ساز سے یہ جواب آیا، ”موجودہ شکل کے بجائے ‘پڑوسی ممالک کے مظلوم و ستم رسیدہ’ (persecuted minorities from neighbouring countries) جیسے جملے کا استعمال بل (Bill) کے مقاصد کو منفی صورت میں پیش کرسکتا ہے. چونکہ اس کی مزید تشریحات کی جاسکتی ہیں، اس لئے دیگر برادریوں (مذہبی وغیرہ) کو بھی اس میں شامل کرنے کا مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے“۔
جولائی کو وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ این پی آر کو اپڈیٹ اور تیار کرنے، نیز گھر گھر جاکر اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل یکم اپریل اور 30 ستمبر کے درمیان شروع کردیا جائے گا. پارلیمنٹ نے دسمبر میں سی اے اے کو منظوری دے دی.
سی اے اے کے قانونی شکل اختیار کرتے ہی اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرات نہیں شروع ہوۓ، بلکہ جب بی جے پی کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے پولیس فورس کو سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مارنے پیٹنے کا حکم دیا تب یہ مظاہرین مشتعل ہو اٹھے اور پھر پورے ملک میں مظاہرات و احتجاجات کا سیلاب امنڈ پڑا. ریاستوں نے ان کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا، انٹرنیٹ بند کردیا، کرفیو نافذ کردیا. بالکل شورش زدہ علاقوں (insurgency-prone areas) جیسی حالت کردی. پچیس سے زائد لوگ مارے گئے اور لاتعداد زخمی ہوئے۔
مگر ان سب کے باوجود مظاہرین کے جوش و خروش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی. ‘سی اے اے واپس لو’ اور آزادی کے فلک شگاف نعروں سے پورا ملک گونج اٹھا. بارہ ریاستوں نے اپنے یہاں این پی آر کرنے سے انکار کردیا، اور چار ریاستوں نے تو سی اے اے کے خلاف قراردادیں (Resolution) بھی منظور کرلیں. کانگریس پارٹی کے صدر نے مرکزی حکومت کو این پی آر کی کارروائی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا. اور کہا، ””این پی آر 2020 اپنی شکل و مواد دونوں حساب سے این آر سی کا دوسرا روپ ہے“۔
ویسے تو مودی اور شاہ دونوں کا دعویٰ ہے کہ این آرسی، این پی آر اور سی اے اے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں. مگر گذشتہ سرکاری بیانات سے اس کی مکمل نفی ہوجاتی ہے. خبروں نے بارہا اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ماضی میں حکومت نے عمومی طور پر این آر سی اور این پی آر کے مابین تعلق کو واضح کیا ہے. چنانچہ ”انڈین ایکسپریس“ کے ایک مضمون کے مطابق وزارتِ داخلہ نے دس بار اس قسم کا بیان دیا ہے. ابھی اس میں امت شاہ کا وہ بیان شامل نہیں جس میں انہوں نے کرونولوجی سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے سی اے بی آئیگا پھر این آر سی آئیگا۔
امت شاہ خون اور زمین کے جذبات کو، جسے آسام تحریک کے دوران محسوس کیا گیا تھا، پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں. اپنی تقریروں میں بار بار ‘گھس پیٹھی’ لفظ کے استعمال سے امت شاہ کی اسٹریٹجی صاف پتہ چلتی ہے کہ وہ عوام کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایک غیر معروف، انجان اور خطرناک دشمن کا خوف پیدا کرنا اور پھر بڑی ہوشیاری سے وہ خوف لوگوں کے دلوں میں پیوست کردینا. اس دوران میں امت شاہ نے غیرملکیوں کو بارہا ‘دیمک’ سے تعبیر کرکے جس طرح ان کی انسانیت کا مذاق اڑایا ہے، انہیں dehumanize کیا ہے، اس سے روانڈا ملک (Rwanda) میں توتسی (Tutsi) لوگوں کے قتل عام سے قبل ان کیلئے استعمال کئے گئے لفظ ‘کاکروچ’ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے. اس میں تقریباً آٹھ لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا گیا تھا.
وزیر داخلہ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ ملک میں غیر قانونی شہریوں کی تعداد کتنی ہے. اور جب گذشتہ سال پارلیمنٹ میں وزارتِ داخلہ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تھا تو اس کا سیدھا جواب تھا کہ غیر قانونی ‘چوری چھپے’ بنا کسی قانونی سفری دستاویز کے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے باعث ان کی اصل تعداد کا علم نہیں. اس کے باوجود وزارتِ داخلہ نے بارہا پارلیمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ غیر قانونی شہریوں کی ”شناخت، گرفتاری اور جلاوطنی کا سلسلہ جاری ہے“۔
ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ابھی تک کرناٹک کا شماریاتی کوائف (Statistical Data) ہی پیش کیا گیا ہے. جسے دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ ملک میں گھس آنا (Infiltration) اس قدر عام ہے جتنا امت شاہ بتاتے ہیں. جولائی 2019 کو لوک سبھا میں دیے گئے ایک بیان کے مطابق، ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر 143 بنگلہ دیشیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جا چکے ہیں، جنمیں سے 114 کو جلاوطن بھی کیا جا چکا ہے. راجیہ سبھا میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 2018 میں کل 1731 غیرملکیوں کو ہندوستان سے مختلف ممالک کی طرف ملک بدر کیا جاچکا ہے.
عوامی احتجاجات اور پالیسیوں کے خلاف سول سوسائٹی بغاوت (Civil Society Uprising) کے باوجود بی جے پی حکومت نے این آر سی، سی اے اے اور این پی آر سے (ایک انچ بھی) پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کردیا. 24 دسمبر کو یونین کیبنٹ نے این آر سی کیلئے 3941 کروڑ روپئے کا بجٹ پاس کیا. اور اس کے دو ہفتوں بعد ہی ایک اعلان جاری کیا گیا کہ 10 جنوری سے سی اے اے نافذ کردیا جائے گا۔
جیسے ہی اس بل نے قانونی شکل اختیار کی، اس کے چند دنوں بعد سپریم کورٹ میں اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کردیا گیا. مگر جس طرح گوگوئی نے کشمیر معاملے پر سماعت کرنے میں ٹال مٹول کی تھی، بالکل اسی طرح نئے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے (SA Bobde) بھی کافی تاخیر کر رہے ہیں. اسی دوران میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے درخواست کی جاتی ہے کہ ملک کے مختلف ہائی کورٹس میں سی اے اے کو چیلنج کرنے والی پینڈنگ میں پڑی عرضیوں کو وہ اپنے یہاں لاکر خود ان پر سماعت کرے. چنانچہ 22 جنوری کو اس طرح کی کل 144 عرضیوں کو سپریم کورٹ میں درج (List) کردیا گیا. بوبڑے کی سہ رکنی بینچ نے تمام معاملات کے متعلق مرکزی حکومت کو ایک نوٹس جاری کی اور چار ہفتوں میں جواب طلب کیا۔
شہری آزادی کے تئیں تھوڑی سی توجہ کے ساتھ آسام این آر سی پر گوگوئی کا کام، اس وقت ایک غیر معمولی عدالتی نظیر کے طور پر سامنے آئے گا جب یہ حکومت این آر آئی سی کی تیاری شروع کرے گی. گوگوئی جیسے چیف جسٹس کی وجہ سے سپریم کورٹ میں جس قدر ابتری پھیلی ہے، اسے دیکھ کر نہیں لگتا کہ عدلیہ اب آئین کی حفاظت کرنے کے لائق ہے۔
تیسرے رام ناتھ گوینکا (Ramnath Goenka) خطاب کے موقع پر گوگوئی نے امریکہ کے سب سے پہلے وزیر خزانہ اور امریکی آئین سازوں میں سے ایک الیگزینڈر ہیملٹن (Alexander Hamilton) کا ایک قول نقل کیا کہ اس نے کہا تھا کہ حکومت کے عناصر ثلاثہ میں عدلیہ سب سے کم خطرناک ہوتی ہے. مگر میرے (گوگوئی) مطابق ”اگر آج وہ با حیات ہوتے اور یہ سب دیکھنے کے باوجود ایسا سوچتے تو مجھے ان کی عقل پر حیرت ہوتی“. گوگوئی کا بیان اس وقت آیا جب پہلی بار کسی چیف جسٹس کے خلاف امپیچمنٹ (Impeachment) چلاۓ جانے کا خطرہ چیف جسٹس دیپک مشرا کے سر منڈلا رہا تھا. لیکن گوگوئی کو تو یہ سب بتانے سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا کہ آخر نظم و نسق میں کمپرومائز کیسے کیا گیا اور گڑبڑی کہاں واقع ہوئی. انہیں تو بس اپنی رائے پیش کرنے سے مطلب تھا کہ سپریم کورٹ کا کردار کیا ہونا چاہئے۔
انہوں نے بتایا کہ 1970 کی دہائی میں سپریم کورٹ نے دستور ہند کی بنیادی ساخت کی وضاحت کی اور 1980 کی دہائی میں اس نے دفعہ 21 کے دائرے کو مزید وسیع کردیا، جس میں جان اور شخصی آزادی کا ذکر ہے. انہوں نے کہا، ”1990 کی دہائی میں اس نے انتظامیہ اور مقننہ کی کاہلی کے نتیجے میں پیدا شدہ کوتاہیوں کو بتانے کیلئے آیئنی پروویژنس کی بالکل نئے طرز پر تشریح کی اور کسی حد تک ایک اچھی عدالت بھی ثابت ہوگئی تھی“. نیز، ”اگر فیصلوں کی تاثیر ثابت ہی کرنی ہے تو اس کیلئے نظام انصاف کو مزید نتیجہ خیز بنانا ہوگا، یا یہ کہیں کہ اسے نافذ کرنے میں خصوصی توجہ درکار ہوگی“۔
گوگوئی نے کہا کہ عدلیہ کو مزید فعال ہونے اور سامنے آکر آکر کام کرنے کی ضرورت ہے. ”بلاشبہ“، انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری قانونی مورال یعنی تقسیم اختیارات ہونا چاہئے. اس وقت انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تقسیم اختیارات کا ذکر کرنا تھوڑا بے تکا سا لگتا ہے جب گوگوئی کے چیف جسٹس کی مدت کارکردگی کے پس منظر میں دیکھا جاتا ہے، جنہوں نے عدلیہ کی کاہلی کے نتیجے میں پیدا شدہ خامیوں کو بیان کرنے کیلئے عدلیہ کے کردار کو از سرِ نو متعارف کرایا۔
ان کی تقریر کے اختتام پر ایسا محسوس ہوا گویا گوگوئی نے پیش آمدہ دنوں کے متعلق کوئی دھمکی دی ہو. ہیملٹن کے قول کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ویسے تو شہری آزادی کو تنہا عدلیہ سے کبھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر عدلیہ کے ساتھ دیگر دونوں عناصر (انتظامیہ اور مقننہ) بھی ہوں، پھر خوف لاحق ہونا لازمی ہوگا“۔

نوٹ: اوریجنل مضمون فروری 2020 میں دی کارواں میگزین کی کور اسٹوری تھا،جس کا لنک پیش ہے:https://caravanmagazine.in/reportage/ranjan-gogoi-gifts-government

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*