این آر سی:رنجن گوگوئی کی جانب سے حکومت ہند کو ایک بیش بہا تحفہ-ارشو جون

(اسسٹنٹ ویب ایڈیٹر، دی کارواں میگزین، نئی دہلی)
ترجمہ: راشد خورشید
(چوتھی قسط)

فروری 2017 کو گوگوئی نے پردے کی آڑ لیکر ایک اور غیر معمولی فیصلہ سنایا. ہوا یہ کہ ہَجیلا نے بند کمرے میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ گوگوئی کو ایک نئے پراسیس ”شجرۂ نسب کی تحقیق“ (Family-tree Verification) سے متعارف کرایا. ”دی کارواں“ کی جولائی 2018 کی رپورٹ کے مطابق صرف چار لوگوں کو یہ پریزینٹیشن دیکھنے کی اجازت دی گئی، دیکھنے کے بعد گوگوئی نے بنا کسی عدالتی کارروائی کے اس پراسیس کو منظوری دیدی. ترمیم شدہ پراسیس میں عرضی گزاروں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے آباء و اجداد کا نسب نامہ مع دستاویزات کی توثیق پیش کریں تاکہ اُنہیں کمپیوٹرائزڈ پلیٹ فارم پر اپلوڈ کرکے ایک ڈیجیٹل شجرۂ نسب تیار کیا جسکے، تاکہ جب خاندان کے دیگر افراد اپنی معلومات پیش کریں تو تحقیق کرنے میں آسانی ہو. سماجی کارکن عبد الباطن خاندیکر نے بتایا کہ اس پراسیس کا مقصد صرف جلاوطنی کو مزید تقویت فراہم کرنا تھا نہ کہ آباء و اجداد سے نسب نامہ ثابت کرنا.
گوگوئی اور ہَجیلا کے مابین ہونے والی گفتگو سے متعدد عدالتی خامیوں اور غیر معقولیت کا پتہ چلتا ہے. آرڈرز سے اتنا تو واضح ہوگیا تھا کہ ہَجیلا متعینہ مدت میں ہی پراجیکٹ مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے. عدالت نے دسمبر 2014 میں ہَجیلا کو حکم دیا کہ یکم اکتوبر 2015 تک اپڈیٹیڈ این آر سی کا ایک ڈرافٹ اور یکم جنوری 2016 تک اس کا فائنل ورژن شائع ہوجانا چاہئے. جولائی 2017 کو عدالت نے اپڈیٹیڈ این آر سی کا ڈرافٹ پیش کرنے کی متعینہ مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسی سال دسمبر کے اخیر تک پیش کرنے کو کہا. مگر 30 نومبر کو ہَجیلا نے عدالت میں یہ بیان دیا کہ سال کے اخیر تک صرف دو کروڑ درخواستوں کے پراسیس کئے جانے کی امید ہے، اس لئے ڈرافٹ کی اشاعت کیلئے مزید مہلت دی جائے، مگر عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسی نامکمل ڈرافٹ کو 31 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا.
بعد ازاں 20 فروری 2018 کو عدالت کی طرف سے حکم نامہ جاری کیا جاتا ہے، ”موجودہ تفصیلات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک ایڈیشنل اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کی تقرری عمل میں لائی جائے. چنانچہ عدالت رجسٹرار جنرل آف انڈیا کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں سے باز رہیں. نیز یہ بھی واضح رہے کہ این آر سی کا ڈرافٹ تیار کرنے میں مصروف موجودہ اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پرتیک ہَجیلا اپنی کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ جاتے“. گوگوئی نے ایڈیشنل اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کی تقرری کی درخواست کو رد کردینے کی کوئی وضاحت نہیں کی.
آخر کار 30 جولائی کو ہَجیلا نے این آر سی کا ڈرافٹ پیش کیا، جس میں سے آسام میں رہائش پذیر چالیس لاکھ لوگوں کے نام خارج کردیئے گئے. چند دنوں بعد اسٹیٹ کوآرڈینیٹر اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا نے این آر سی پراسیس کے متعلق پریس کو بیان جاری کیے، نیز بقیہ دعوؤں اور اعتراضات پر شنوائی کیسے ممکن ہوسکتی ہے، اس کی بھی وضاحت کی. مگر یہ بات عدالت کو کچھ جچی نہیں. چنانچہ 7 اگست کو گوگوئی اور نَریمن نے کیس کو سماعت کیلئے درج کیا اور بر سرِ عدالت دونوں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا، ”تم دونوں کو تو توہین عدالت کے جرم میں گرفتار کرا دینا چاہئے…تمہیں یہ سب بکواس کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ اس کے بعد بینچ نے دونوں کو سب کے سامنے معافی مانگنے کو کہا. نیز این آر سی کے متعلق کوئی بھی بیان دینے سے قبل عدالت سے اجازت لینے کو ضروری قرار دیا.
بیشتر وکلاء اور ایکٹوسٹس کا کہنا ہے کہ ہَجیلا ایک راست باز اور ایماندار بیوروکریٹ کی حیثیت سے معروف تھے. گوتم بھاٹیا نے تو یہاں تک کہہ دیا، ”عدالتی ہدایات پر ان کی عملداری کو دیکھ کر بسا اوقات ایسا لگتا تھا کہ ہَجیلا عدالت کے ایجنٹ ہو کر ہی رہ گئے ہیں…مگر…فی الحال ان کے رویے میں جو تبدیلی رونما ہوئی ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے…اب تو ایسا لگتا ہے کہ وہ کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہوں، اپنے دماغ سے تو کچھ کر ہی نہیں رہے“.
خاندیکر کے مطابق پراجیکٹ کے ابتدائی چند ایام میں تو ہَجیلا مسلسل ان سے ملاقات کرنے آتے اور یہ یقین دلاتے تھے کہ این آر سی اتنے عمدہ طریقے سے انجام دی جائے گی کہ کوئی بھی شہری خارج نہیں ہونے پائے گا. مگر اگست کی شنوائی میں تو اس کے بالکل برعکس ہوا…اور اس کے بعد سے ہَجیلا نے لوگوں سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا“.
گوگوئی کے سر پر این آر سی کا بھوت اس قدر سوار ہوچکا تھا کہ انہوں نے اسٹیٹ مشینری کو ہی اپنے قبضے میں کر لیا، جس سے آسام کے تقریباً سبھی علاقے بری طرح متاثر ہوئے.
یکم دسمبر کو گوگوئی نے حکم جاری کیا کہ این آر سی اپڈیٹ کرنے میں مشغول ریاست کا تمام عملہ اس وقت تک کسی اور پراجیکٹ کو ہاتھ نہیں لگا سکتا جب تک یہ کام پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتا. مگر اگلے ہی مہینے سابقہ حکم نامے میں رد و بدل کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر کام کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس پراجیکٹ کی ”اولیت و ارجحیت“ میں کوئی فرق نہ آنے پائے. جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے ایک بیان جاری کیا کہ آنے والے عام انتخابات اور این آر سی دونوں کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے. چنانچہ ریاستی حکومت نے ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور اگلے ہی مہینے گوگوئی نے 3457 افراد کو این آر سی کیلئے مخصوص کرکے بقیہ کو انتخابات کی تیاری کیلئے فارغ کردیا. نیز الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دی کہ الیکشن کی خاطر کسی بھی ڈی ایم یا اڈیشنل ڈی ایم کا تبادلہ نہ کیا جائے.
بیوروکریسی پر گوگوئی کا کنٹرول ہوجانے سے حکومت کی ان تمام اسکیموں پر سیدھا منفی اثر پڑا جنہیں این آر سی کے اپڈیٹ تک معلق رکھا گیا تھا. وزیر اعلی کے میڈیا ایڈوائزر ہِرشی کیش گوسوامی نے مجھ سے کہا، ”گزشتہ ساڑھے تین برس سے 55 ہزار افراد این آر سی کو اپڈیٹ کرنے میں مسلسل مصروف ہیں…لہذا ظاہر سی بات ہے کہ ترقی پر اس کا اثر تو پڑے گا ہی“. آسام سیکریٹریٹ کے بیشتر افراد نے اپنی شناخت مجہول رکھنے کی شرط پر بتایا کہ این آر سی کے باعث کس طرح ترقیاتی پروگرام اور دیگر حکومتی منصوبے بری طرح متاثر ہوۓ ہیں.
آسام حکومت کے ایک سیکریٹری کا بیان ہے کہ ریاست میں تقریباً چار لاکھ حکومتی اہلکار ہیں. اس نے اندازہ کرکے بتایا کہ ہفت جہت افسران والے شعبوں میں سے چار افسران کو این آر سی پراجیکٹ پر مامور کردیا گیا ہے. بقول اس کے، ”افسران کی تعداد میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے – کم و بیش 70 فیصد زمینی سطح کے افسران اس پراجیکٹ میں مشغول ہیں…آپ اگر گاؤں اور دیہاتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہاں کئی اسکول ایسے بھی ہیں جن میں گذشتہ تین برس سے ریاضی اور سائنس کیلئے صرف ایک ایک ٹیچر ہیں، کیونکہ سبھی کو تو اس کام میں مشغول کردیا گیا ہے “.
ایک اور سیکریٹری کا بیان ہے کہ این آر سی کے باعث ”انتظامی امور میں کافی سستی واقع ہوئی ہے“. مثلاً آسام کے بے گھر افراد کو زمین فراہم کرنے کیلئے ایک سروے کیا جاتا ہے، اس کیلئے ”گاؤں در گاؤں جاکر سرکاری اراضی کا پتہ کرکے بے گھروں کی ایک فہرست تیار کرنی ہوتی ہے، پھر انہیں زمین فراہم کی جاتی ہے“. مگر، اس کے مطابق، اب تک جس قدر یہ سروے ہوجانا چاہیے تھا اس کا صرف آٹھواں حصہ ہی ہوپایا ہے. کیونکہ”یہ ایک لمبا پراسیس ہے جس کے لئے پانچ سے چھ مہینے کا وقت درکار ہوتا ہے. مگر لوگوں کے این آر سی میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے…امسال ہمارا منصوبہ ایک لاکھ بے گھروں کو زمین فراہم کرنے کا تھا. لیکن اکتوبر تک صرف 35 ہزار افراد کو ہی دے سکے. جبکہ چھ مہینوں میں کم از کم پچاس ہزار لوگوں کو زمینیں فراہم کردی جانی چاہیے تھیں“.
داخلی و سیاسی شعبے کے ڈپٹی سیکرٹری سی پی فوکن (CP Phookan) این آر سی سے متاثر زدہ دیگر کاموں کے بارے میں کہتے ہیں، ”شمالی آسام میں نیشنل ہائی وے کیلئے زمینداروں کی زمینیں تو لی جا رہی ہیں مگر معاوضہ دینے میں قدرے تاخیر سے کام لیا جارہا ہے…وزیر اعلی مداخلت کرسکتے تھے مگر انہوں نے نہیں کیا“. ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں. ”گذشتہ تین برسوں تک تو ترقیاتی مشینری کو مکمل ہائی جیک کرلیا گیا تھا. اگر کبھی ہم پوچھتے بھی کہ ‘آفیسر کہاں ہیں؟’ تو جواب ملتا کہ ‘این آر سی میں مشغول ہیں“.
گوگوئی نے ہرش مندر کی عرضی کے ساتھ جیسا برتاؤ کیا اس سے واضح ہوگیا تھا کہ این آر سی کا معاملہ ان کیلئے کس حد تک ذاتی اہمیت کا حامل ہے. جنوری 2018 میں، جب ہرش مندر ”نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن“ میں اقلیتوں کیلئے بطور اسپیشل مانیٹر خدمات انجام دے رہے تھے، تو انہیں ان چھ ڈٹینشن سینٹرز کا معائنہ کرنے کیلئے روانہ کیا گیا جنہیں آسام میں جیلوں کا ایک حصہ خاص کرکے غیر ملکی قرار شدہ لوگوں کو نظر بند کرنے کی غرض سے بنایا گیا تھا. مندر نے گوالپارا اور کوکراجھر میں واقع صرف دو ڈٹینشن سینٹرز کا جائزہ لیا. وہاں انہوں نے دیکھا کہ غیر متعینہ مدت تک کیلئے نظر بند ان قیدیوں کو بہت بری حالت میں رکھا گیا تھا، تمام اہل خانہ کو، حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ٹھہرایا گیا تھا، سینٹر میں کسی قسم کا کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا. اس کے بعد انہیں دیگر سینٹرز میں جانے سے منع کردیا گیا، نیز این ایچ آر سی نے بھی مزید اس کام کو جاری رکھنے یا ان کی رپورٹ کو آگے بھیجنے سے انکار کردیا. بالآخر ماہ جون میں مندر نے اسپیشل مانیٹر عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور جو کچھ وہاں انہوں نے دیکھا تھا وہ سب مفصل طور پر بلا کم و کاست لکھ کر ذاتی طور پر شائع کیا. اس کے چند دنوں بعد اگست میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی برائے مفاد عامہ (public-interest litigation) بھی دائر کرکے مطالبہ کیا کہ ان قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جائے، انہیں مفت قانونی امداد فراہم کی جائیں نیز انہیں اسی صورت میں ڈٹینشن سینٹرز میں ڈالا جائے جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو.
مارچ 2019 کو مندر نے اپنی عرضی کے ضمن میں ایک حلف نامہ بھی دائر کیا جس میں نشاندہی کی کہ کس طرح ڈی-ووٹرز اور غیر قانونی شہریوں کی شناخت میں بے ضابطگی اور بے ڈھنگے پن کا اظیار کیا گیا، اور ناقص فیصلے کئے گئے. انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن اور آسام پولیس بارڈر آرگنائزیشن نے بارہا ”بغیر کسی تحقیق“ کے حقیقی اور قانونی شہریوں کے معاملات کو بھی فارینر ٹریبونلز کے سپرد کیا ہے. مندر کے مطابق، ان ٹریبونلز کو چند کیسز تو ایسے تصدیق ناموں (Verification Forms) کے ساتھ بھی بھیجے گئے جنہیں پُر ہی نہیں کیا گیا تھا. حلف نامے میں ٹریبونلز کی عملی کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی. مثلاً وہ نیم عدالتی ادارے جو قانونی شہریوں کو محض کاغذات میں اسپیلنگ مسٹیک، عمر اور پتے جیسے معمولی فرق پاۓ جانے کی بنا پر بھی غیر ملکی قرار دے رہے ہیں.
13 مارچ کو سپریم کورٹ نے حکومت آسام کے چیف سیکریٹری آلوک کمار کو حکم جاری کیا کہ وہ ایک حلف نامہ دائر کرکے بتائیں کہ اب تک کتنے افراد غیر ملکی قرار دئے جا چکے ہیں، کتنے ڈٹینشن سینٹرز میں قید ہیں اور کتنوں کو ان کے اصلی وطن روانہ کیا جاچکا ہے؟ چنانچہ مارچ کی اگلی 25 تاریخ کو حکومت آسام کی جانب سے ان تمام تفصیلات پر مشتمل ایک حلف نامہ دائر کردیا گیا. حلف نامے میں مذکور تعداد کو دیکھ کر میں تو حواس باختہ ہوگیا تھا. حلف نامے کے مطابق 1985 سے 2018 تک غیر ملکی قرار دیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 112395 تھی. جنمیں 46899 افراد یعنی 41 فیصد تو وہ لوگ تھے جنہیں 2015 سے 2018 کے درمیان غیر ملکی قرار دیا گیا تھا. اس حلف نامے کا مصدر اور سورس آسام پولیس کے بارڈر ونگ (Border Wing) کو بتایا گیا تھا. اس میں لکھا تھا کہ 2015 میں 4072، 2016 می‌ 5096، 2017 میں 15541 اور 2018 میں 22189 افراد کو غیر ملکی قرار دیا گیا. ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام سے پہلے اور بعد کے اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے پر صاف پتہ چلتا ہے کہ اسٹیٹ مشینری اس معاملے میں کس جوش و جذبے کے تئیں کام سرانجام دے رہی تھی.
آلوک کمار کے حلف نامے میں یہ بھی ذکر تھا کہ غیرملکی قرار شدہ 2703 افراد کو ڈٹینشن سینٹرز کے قیام کے بعد سے مختلف مواقع پر قید کیا گیا. 17 مارچ 2019 تک آسام کے چھ ڈٹینشن سینٹرز میں ان قیدیوں کی مجموعی تعداد صرف 915 تھی. (لوک سبھا میں بذریعہ وزارت داخلہ پیش کردہ رپورٹ کے مطابق 25 جون تک یہ تعداد بڑھ کر 1133 ہوگئی). ان 915 قیدیوں میں 799 تو وہ تھے جنہیں غیر ملکی قرار دے دیا گیا تھا، بقیہ 116 کی تعداد ان لوگوں کی تھی جنہیں ”فارینرز ایکٹ 1946“ اور ”پاسپورٹ ایکٹ 1920“ جیسے مختلف قوانین کے تحت نظر بند کیا گیا تھا.
حلف نامے کے مطابق آسام پولیس 1985 سے 2018 تک کل 467094 کیسز فارینر ٹریبونلز کے سپرد کرچکی تھی، 202024 ابھی پینڈنگ میں تھے، 262070 کو نبٹا دیا گیا تھا، جس میں سے 105102 کیسز کو 2015 کے بعد نبٹانے کا عمل انجام دیا گیا. اس حلف نامے میں یہ بھی مذکور تھا کہ مارچ 2013 سے کل 166 افراد کو ملک بدر کیا گیا، جنمیں سے چار توغیر ملکی تھے جبکہ بقیہ افراد کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا.
مابعد کی ایک شنوائی کے دوران، 9 اپریل کو گوگوئی نے چیف سیکریٹری کے مذکورہ بالا اعداد و شمار کو چیلنج کیا. انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ 2015 کے بعد سے غیرملکی قرار دیے جارہے لوگوں کے اضافے ٹریبونلز کی کس قسم کی کارکردگی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، بلکہ لائیو لا (Live Law) ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگوئی نے چیف سیکریٹری آلوک کمار سے دریافت کیا :
”کیا آپ اس لمبی چھلانگ پر فخر محسوس کرتے ہیں؟ کیسز کو بحسن و خوبی نبٹا کر کیا آپ اپنے منہ میاں مٹھو بننا چاہتے ہیں؟… 2015 سے آپ نے کل چھیالیس ہزار غیر ملکیوں کی شناخت کی ہے مگر ڈٹینشن سینٹرز میں تو صرف دو ہزار ہی قیدی ہیں. بقیہ چوّالیس ہزار کہاں گئے؟“
رپورٹ کے مطابق گوگوئی نے جلاوطنی کے مسئلے میں بھی چیف سکریٹری پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا، ”حسب دستور یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان لوگوں کو جلاوطن کردیں جنہیں عدالت یا نیم عدالتی اداروں کی جانب سے غیرملکی قرار دیا جا چکا ہے…کیا آپ کی حکومت دستور ہند پر عمل کر بھی رہی ہے؟“
ان سارے سوالات کے بعد جب چیف سیکریٹری نے یہ تسلیم کیا کہ واقعی ان کی حکومت باقی ماندہ غیرملکیوں کی شناخت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے. تو گوگوئی نے کہا، ”ہم بوقت ضرورت جو کرنا ہوگا کریں گے، آپ بس یہ باتیں حلف نامے میں ذکر کردیں“.
ابھی چیف سیکریٹری جواب دینے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ہرش مندر کیس کی پیروی کر رہے پرشانت بھوشن بول پڑے کہ غیرملکی قرار دیے جانے والوں میں سے بیشتر افراد نے خود کی شہریت ثابت کردی ہے، اور اسی وجہ سے جلاوطنی کے عمل میں دقت پیش آرہی ہے. فارینرز ایکٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ملک ہندوستان میں غیر ملکیوں کا داخلہ، ان کی موجودگی اور ان کو جلاوطن کرنے کی ساری ذمہ داری صرف مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے. کوئی بھی ملک غیر ملکی ثابت شدہ لوگوں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے. بنگلہ دیش نے تو ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس کے یہاں سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کرکے ہندوستان گئے ہیں. نتیجتاً غیر ملکی قرار دیے گئے لوگ ایک طرح سے بنا وطن کے ہوکر رہ گئے ہیں.
گوگوئی نے سینیئر ایڈوکیٹ گورَب بنرجی کو اس معاملے میں Amicus Curiae بنا دیا تاکہ ”وہ غیرملکیوں کی شناخت کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے میں عدالت کی مدد کریں“.
گوگوئی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آلوک کمار نے ایک حلف نامہ دائر کردیا، جس میں گزارش کی کہ وہ قیدی جنہوں نے ڈٹینشن سینٹرز میں پانچ سال کی مدت پوری کرلی ہے انہیں چند شرائط کے ساتھ رہا کردیا جائے. جیسے:
● وہ ایک ایک لاکھ کی دو زر ضمانت کی ادائیگی کریں.
● رہائی کے بعد کسی ویری فائیڈ مقام پر ہی سکونت اختیار کریں.
● اپنی مکمل بائیو میٹرک انفارمیشن جمع کریں.
● ہر ہفتے لوکل پولیس اسٹیشن میں حاضری دیں.
● اگر کبھی جائے رہائش تبدیل کرنے کی نوبت آجائے تو اس سے بھی پولیس کو مطلع کریں.
یہ سب سن کر گوگوئی بھڑک اٹھے. اور 25 اپریل کو اگلی شنوائی میں جب آلوک کمار کی جگہ سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے حلف نامے کو پڑھ کر سنایا تو گوگوئی پلٹ کر بولے، ”اچھا!!! تو تم چاہتے ہو کہ کسی ایسے شخص کو جو غیر ملکی قرار دیا جاچکا ہے، اسے زر ضمانت کی ادائیگی کے بعد اس ملک میں رہنے دیا جائے؟ اور ایک غیر قانونی حکم کے ساتھ سپریم کورٹ بھی اٹھ کھڑا ہو؟“
عدالت میں گوگوئی کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے گَوتم بھاٹیا نے کہا کہ غیر متعینہ مدت تک کسی کو نظربند کرنا دستور ہند کی دفعہ 21 کی سراسر خلاف ورزی ہے. اس دفعہ میں کہا گیا ہے، ”کسی بھی شخص کی جان یا شخصی آزادی سے قانون کے ذریعہ قائم کردہ ضابطے کے سوا کسی اور طریقے سے محروم نہ کیا جائے گا“. دیگر بنیادی حقوق کے برعکس دفعہ 21 فقط شہریوں کیلئے نہیں بلکہ ملک میں بسنے والے تمام افراد کیلئے یکساں ہے. گَوتم بھاٹیا نے کہا، ”قیدیوں کی رہائی سے انکار کرکے عدالت مسلسل دفعہ 21 کی سنگین خلاف ورزیوں کو منظوری دے رہی ہے… کوئی شخص بمشکل ہی اس کے پیچھے چھپی ستم ظریفی کو نظر انداز کرسکتا ہے: ایک طرف حکومت ہے جو ڈٹینشن سینٹرز کے قیدیوں کو رہا کرنا چاہتی ہے تو دوسری جانب عدالت، جو اس رہائی پر پابندی عائد کرنے میں کوشاں ہے. کون سیاسی کارگزار ہے اور کون چوکس محافظ؟ کسے حقوق کا پاسبان تسلیم کیا جائے اور کسے اس کی دھجیاں اڑانے والا؟…. یہ فرق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے“.
گوگوئی نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق حکم جاری کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کی وضاحت تو نہیں کہ، البتہ کمار کو ڈیپارٹمنٹ انکوائری کی دھمکی ضرور دے دی. گوگوئی نے کہا، ”تمہیں اس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں. چیف سیکریٹری ! تم بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو. ہم تمہارے خلاف نوٹس جاری کر رہے ہیں کہ تم نے قانون کے حق میں ایک گستاخانہ بیان دیا ہے“. انہوں نے ریاستی حکومت کے رخ کو لیکر کمار کو سرزنش کرتے ہوئے کہا، ”غیرملکی قیدیوں کے متعلق مرکزی و آسام کی ریاستی حکومت کا یہ موقف ہونا چاہئے کہ انہیں جلد از جلد ملک بدر کر دیا جائے، مگر، چیف سیکریٹری! ہمیں ایسا کہیں نظر نہیں آتا“. حتی کہ بنرجی نے بینچ کو بارہا یہ بتایا کہ جس ملک کی طرف انہیں جلاوطن کیا جانا ہے پہلے اس ملک کا متفق ہونا ضروری ہے، اس کے باوجود گوگوئی اس بات پر مصر رہے کہ حکومت اپنے فرض میں ناکام ہوچکی ہے. انہوں نے تشار مہتا سے کہا، ”آپ تو آسام کے نمائندہ ہیں. کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس عہدے پر مزید برقرار رہنے کے اہل ہیں؟“
کمار نے بینچ سے معافی مانگی اور چند دیگر تجاویز کے ساتھ دوبارہ حاضر ہونے کی یقین دہانی کرائی، تب کہیں جاکر سماعت اختتام پذیر ہوئی. اس کے بعد ہی، آسام کے ڈٹینشن سینٹرز میں قیدیوں کی حالت سے متعلق ایک معاملے میں گوگوئی نے ریاست کے چیف سیکریٹری کو پھٹکار لگائی کہ انہوں نے ان قیدیوں کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی. نیز حکومت کو بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قید کرنے اور انہیں ملک بدر نہ کرنے پر کافی برا بھلا کہا. تحریریں شکل میں صرف عدالت کے اس آبزرویشن کو درج کیا گیا کہ آسام کی طرف سے ”ایک حلف نامہ مزید دائر کرنے کی اجازت ہے“.
یکم مئی کو آلوک کمار نے ایک نیا حلف نامہ دائر کیا جس میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق ان کا نظریہ تو بالکل تبدیل ہوگیا تھا. رہائی والے سوال پر حلف نامے میں کہا گیا تھا، ”اس بارے میں ریاستی حکومت کا جو موقف پہلے تھا، اب بھی وہی ہے. یعنی اگر کسی قیدی کو رہا کیا جاتا ہے تو اس کے روپوش ہوجانے کا قوی امکان ہے، جس سے اس کو غیرملکی قرار دیے جانے کے پورے عمل پر پانی پھر جاۓ گا“. اس حلف نامے نے ملک بدر کرنے کی ذمہ داری سے ریاستی حکومت کو یہ کہہ کر نجات دلادی کہ اس نے تمام قسم کی ضروری معلومات مرکزی حکومت کو بہم پہنچا دی ہیں. آلوک نے بتایا کہ مرکزی حکومت کو سونپے گئے 253 مسودوں میں سے چار کو ملک بدر کئے جانے کا کام پورا ہوچکا ہے.
جب ہرش مندر کو احساس ہوا کہ ان کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے، تو انہوں نے سپریم کورٹ رجسٹری سے درخواست کی کہ گوگوئی کو اس کیس کی شنوائی سے علیحدہ کردیا جائے. مگر رجسٹری نے ان کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ وہ بذات خود یہ درخواست چیف جسٹس کو پیش کریں. چنانچہ 2 مئی کو لنچ بعد ہرش مندر کی عرضی پر سماعت کیلئے ایک سہ رکنی بینچ گوگوئی کی عدالت میں لگائی گئی اور مندر نے بذات خود اس مقدمے کی پیروی کی.
گوگوئی نے اعلی ظرفی و بلند ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، ”عموماً ہم عدالت میں کوئی درخواست قبول نہیں کرتے. مگر، چونکہ آپ ایک عام شخص ہیں اس لئے قبول کرلیتے ہیں…اب آپ کو جو بھی کہنا ہے بلا جھجھک بول سکتے ہیں“. چنانچہ ہرش نے ایک تحریری بیان پڑھنا شروع ہی کیا تھا، ”میں عدلیہ میں مکمل یقین رکھتا ہوں…“ کہ گوگوئی نے درمیان میں ہی ٹوک دیا اور بولے، ”ہرش مندر صاحب ! آپ یہ تحریری بیان نہ پڑھیں، آپ جیسی عظیم المرتبت شخصیت سے اس کی توقع نہیں کی جاتی. اپنے دل سے بولیں“.
ہرش نے دوبارہ بولنا شروع کیا، ”عالی جناب! میں بہت عزت کرتا ہوں…“ مگر گوگوئی پھر سے درمیان میں ٹپک پڑے اور بولے، ”عزت و احترام کا پتہ اعمال سے چلتا ہے نہ کہ آپ کے الفاظ سے “. اسی طرح جب تک ہرش مندر بولتے رہے، گوگوئی مسلسل ٹوکتے رہے.
جب مندر اپنی بات کہہ چکے تو گوگوئی اپنے دونوں بازوؤں کو عدالت میں پھیلا کر پرجوش لہجے میں گویا ہوئے، ”عدالت میں جب کوئی بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو ماحول کا جائزہ لینے کیلئے جج بہت کچھ بول جاتا ہے. کسی ہیلتھی ڈبیٹ (Healthy Debate) میں کہی گئی ساری باتوں کو آپ نے اظہارِ خیال سمجھ لیا، جبکہ اظہار خیال تو حکم کا درجہ رکھتا ہے“. اس کے بعد گوگوئی نے مندر سے 25 اپریل کی شنوائی کا وہ حکم پڑھنے کو کہا جس میں چیف سیکریٹری کو مزید ایک حلف نامہ دائر کرنے کی اجازت دی گئی تھی. مندر نے کہا کہ ان کی تشویش کا باعث زبانی بیانات ہیں اور وہ اپنی زبانی بیانات کے ساتھ ہیں.
اس کے بعد گوگوئی نے یوں ظاہر کیا گویا انہیں بھی تشویش ہے. مگر ان کی اس تشویش میں ایک اعتبار سے مندر کے ارادوں پر الزام بھی تھا. آخر کار وہ پوچھ ہی بیٹھے، ”اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سب کرنے کیلئے آسام حکومت نے آپ کو آمادہ کیا ہے، نیز باضابطہ کارروائی سے بچنے کی خاطر اس چیف سیکریٹری نے آپ کا استعمال کیا ہے، تو آپ کیا جواب دیں گے؟“ مندر نے جواب دیا، ”میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ سچ نہیں ہے“. تو گوگوئی بولے، ”دیکھئے آپ نے اس ادارے کو کتنا نقصان پہنچایا ہے“. مزید کہا، ”کسی معاملے کو ہاتھ میں لینے کی صلاحیت و عدم صلاحیت معلوم کرنے کی ذمہ داری جج کی ہوتی ہے نہ کہ فریق مقدمہ کی. اس لئے آپ حد سے تجاوز نہ کریں“. ایک موقع پر گوگوئی نے ہرش سے پوچھا، ”آپ یہ رائے کیسے قائم کرسکتے ہیں کہ چیف جسٹس نے قبل از سماعت ہی فیصلہ کرلیا ہے؟ کیا آپ کی یہ بات ملک کے حق میں درست ہے؟“ گوگوئی نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ چیف جسٹس کے جانبدار اور متعصب ہونے کی تشویش ملک کے حق میں کیوں غیر درست ہے.
تھوڑی دیر گزری تھی کہ سولیسیٹر جنرل تشار مہتا بھی اس میں شامل ہوگئے. انہوں نے اس عرضی پر حیرانی ظاہر کی جس میں چیف جسٹس کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی. تشار نے کہا، ”یی بہت بیہودہ اور حقارت آمیز بات ہے“. اور درخواست کو تھوڑا پڑھنے کے بعد کہتے ہیں، ”یہ کون ہوتے ہیں بتانے والے کہ ایک جج کو کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟ آپ عوام کے خیر خواہ بن کر کیا کسی کے بھی خلاف زہرافشانی کرنے لگیں گے؟“
تشار نے جیسے ہی یہ بکواس شروع کی. گوگوئی کرسی پر ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ گئے. اور جب تشار نے کہا کہ وہ اس درخواست کی مخالفت کرتے ہیں تو گوگوئی بول پڑے، ”آپ کس بات کی مخالفت کر رہے ہیں؟ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ ہم (عرضی پر شنوائی) سے برطرف ہوجائیں گے؟ غلطی سے بھی ایسا نہ سوچئے گا. اس سے علیحدہ ہونا ادارے کو تباہی کے دلدل میں ڈھکیلنے کے مترادف ہوگا“. تشار مہتا نے زور سے سر ہلا کر اس کی تائید کی، ”جی بالکل !“
گوگوئی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”ہم صرف اس پر غور کر رہے ہیں کہ اس کے علاوہ ہم اور کیا کریں گے، ہم کسی کو بھی اس ادارے پر اپنی دھاک جمانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے“. تشار نے کہا، ”عالی جناب ! اس پر مزید کچھ کیا جانا چاہیے“.
دیگر ججوں کے ساتھ مختصر گفتگو کے بعد، گوگوئی نے یہ بات دہراتے ہوئے کہ کسی بھی معاملے کی شنوائی میں مشکل، عدم قابلیت، اور ناسمجھی کو معلوم کرنے کی ذمہ داری جج کی ہوتی ہے نہ کہ فریق مقدمہ کی، علیحدگی والی درخواست نامنظور کردی. اس کے بعد گوگوئی نے ہرش مندر کو برطرف کرکے ”سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی“ کو فریق مقدمہ کی حیثیت سے مقرر کردیا. نیز پرشانت بھوشن کو اس مقدمہ میں Amicus Curiae منتخب کرلیا. جب بھوشن نے بتایا کہ بنرجی پہلے سے ہی بحیثیت Amicus Curiae اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تو گوگوئی نے جواب دیا، ”وہ ڈپورٹیشن یعنی جلاوطنی جیسے اہم کام پر مامور ہیں، اور آپ کو ڈٹینشن سینٹرز کے ایک محدود حصے پر مقرر کیا گیا ہے“.
شنوائی کے بعد میں نے ہرش مندر سے گوگوئی کورٹ روم کے باہر ملاقات کی. وہ بالکل مطمئن اور بے خوف نظر آرہے تھے. میں ان سے پوچھا کہ کیا انہیں اس قسم کے فیصلے کی پہلے سے توقع تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا، ”مجھے نہیں پتہ تھا کہ عدالت اس پر کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرے گی، یہ تو اور بھی منفی ہوسکتا تھا. میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ تو اس کا ایک جزو ہے جو ان لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے جن کی میں نمائندگی کر رہا ہوں“.
ہرش مندر کے بعد مقدمے کو ”سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی“ بنام”یونین آف انڈیا“ کردیا گیا. یہ بھی کیا طنز ہے کہ گوگوئی نے 10 مئی کو ایک حکم نامہ جاری کرکے قیدیوں کی رہائی سے متعلق چیف سیکریٹری کے ذریعہ پیش کردہ بیشتر تجاویز کو منظور کرلیا. اس وقت اس پر جس قسم کا بظاہر غیر مصالحانہ اور متشددانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آلوک کمار سپریم کورٹ سے ایک ”غیر قانونی حکم نامہ“ جاری کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، لگتا ہے اب باعث تشویش نہیں رہ گیا تھا. جب میں نے کمار سے این آر سی مسئلے پر گفتگو کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف منع کردیا.
اس 10 مئی کے حکم نامے میں ریاستی حکومت کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے مشورہ کرنے کو بھی کہا گیا تھا تاکہ ”اراکین و اسٹاف کی تقرری سمیت فارینر ٹریبونلز کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مفصّل اسکیم تیار کی جا سکے“. لہذا گوگوئی نے ان قیدیوں کی رہائی کے متعلق سخت شرائط مقرر کرنے کے علاوہ اسی حکم نامے میں مستقل میں قیدیوں کیلئے ایک انسٹیٹیوشنل فریم ورک تیار کرنے کی بھی کوشش کی.
تشار مہتا نے مزید 200 فارینر ٹریبونلز کی خاطر ممبران منتخب کرنے کی تجویز سپریم کورٹ میں پیش کی. چنانچہ 30 مئی کو گوگوئی کی زیر صدارت وکیشن بینچ (Vacation Bench) نے یہ حکم جاری کیا کہ یکم ستمبر تک مزید 200 ٹریبونلز کی تشکیل عمل میں لاکر ان کے کام کو یقینی بنایا جائے.
اسی دن امت شاہ کی وزارت داخلہ نے فارینرز (ٹریبونلز) آرڈر 1964 میں ترمیم کرکے جو ابتک صرف آسام تک محدود تھا، اسے دیگر ریاستوں، یونین ٹریٹوریز اور ضلع مجسٹریٹ کو اپنے یہاں تشکیل دینے کی اجازت دیکر عام کردیا. اس سے ہرش مندر کو ایک اور موقعہ مل گیا اور ”انڈین ایکسپریس“ کے ایک اداریہ میں انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ فارینر ٹریبونلز کے اختیارات میں توسیع سے ایسا ”انقلاب آئے گا جو تقسیم کی یاد تازہ کردے گا“.
این آر سی پر شنوائی سے گوگوئی کو آسام کے مختلف قبائل میں کافی شہرت حاصل ہوگئی، سواۓ ان متشدد آسامی وطن پرستوں (Chauvinists) کے جن کا ماننا تھا کہ شناختی عمل کے بعد بھی آسام میں لاکھوں غیر ملکی موجود ہیں، اور ہندو نیشنلسٹس کے، جو امید لگائے بیٹھے تھے کہ اس سے مسلمان بڑی تعداد میں جلاوطنی کا شکار ہوں گے. آمسو تنظیم کے قانونی مشیر مصطفی خادم حسین کے مطابق گوگوئی نے کافی جوش و خروش کے ساتھ اس عمل کو انجام دیا، کیونکہ وہ آسام کی ترقی کے خواہاں تھے اور انہیں معلوم تھا کہ این آر سی کو صرف سپریم کورٹ کی زیر نگرانی ہی اپڈیٹ کیا جاسکتا ہے. حسین نے مزید کہا، ”لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، انہیں متعدد سماعتوں میں جانا پڑا. ہم یہ سب اس وجہ سے برداشت کر رہے تھے کیونکہ ہمیں انجام کار دیکھنا تھا“.
اکثر افراد نے اسی قسم کا اظہار خیال کیا. Infiltration نامی کتاب کے مصنف عبدالمنان صاحب نے مجھ سے کہا، ”میرے خیال میں این آر سی ایک بہت عمدہ عمل تھا. کیونکہ یہاں اقلیتی طبقہ کو امیگریشن کے نام پر جسمانی، ذہنی اور معاشی طور کافی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا. لیکن اب حکومت کے پاس کم از کم ایک دستاویز تو موجود ہے. چنانچہ اب اگر کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں اس کا نام غلط طریقے سے درج کیا گیا ہے تو اسے ثابت کرنا پڑے گا“. انہوں نے مزید کہا، ”گرچہ یہ ایک بہت بڑا عمل تھا اور اس میں کافی خامیاں بھی تھیں، مگر اسے بہت منصفانہ طریقے سے انجام دیا گیا، جوکہ صرف سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہوسکا“. عبد المنان کا ماننا تھا کہ گوگوئی نے اس پر جو دباؤ ڈالا وہ بالکل ضروری تھا. انہوں نے کہا، ”اگر سپریم کورٹ اس پر دباؤ نہیں ڈالتی تو یہ کبھی پایۂ تکمیل تک پہنچ ہی نہیں پاتا. اس پر اتنا زیادہ سیاسی دباؤ رہا ہوگا کہ بنا عدالت کے این آر سی کو آزادانہ طور پر انجام دینا ناممکن ہی ہوجاتا“. عبد المنان نے دلیل دی کہ گوگوئی کیلئے این آر سی کو اپڈیٹ کرنا بہت ضروری تھا، اور ”خوش قسمتی سے وہ عدالت میں موجود تھے، اور ان کا سوچنا بجا تھا کہ اگر ایک بار این آر سی کو تیار کرلیا گیا تو یہ سوال ہمیشہ کیلئے حل ہوجائے گا“.
عبد الباطن خاندیکر ان چند افراد میں سے ایک تھے جو اس پر تنقید کر رہے تھے. خاندیکر کا کہنا تھا کہ گوگوئی آسام کی متشدد وطن پرستی، جس کی جھلک اکثر آسامی ہندوؤں میں دکھتی ہے، سے متاثر تھے اور ان کے فیصلے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں. مثلاً، سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 کو ایک قانون بنایا کہ گاؤں پنچایت سے شائع شدہ سرٹیفکیٹس کا استعمال کسی فرد کا اس کے آباء و اجداد جو 1971 کی مقررہ تاریخ سے قبل آسام میں موجود تھے، سے تعلق ثابت کرنے میں بطور معاون دستاویز شمار ہوگا. ان سرٹیفکیٹس کا مقصد ان شادی شدہ عورتوں کی رہائشی حیثیت کو قائم کرنے میں مدد کرنا بھی تھا جو عموماً شادی کے بعد دوسرے گھروں میں منتقل ہوجاتی ہیں. مگر ایک مختلف مطالبہ کرنے کے باعث گوگوئی کے حکم میں تھوڑی سی گڑبڑی یہ ہورہی ہے کہ سرٹیفکیٹس جاری کرنے والے افسران کو بھی حاضر ہوکر ان کی تصدیق کرنی ہوگی.
خاندیکر کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ سے زائد شادی شدہ عورتوں کو سرٹیفکیٹس جاری کرنے والوں کے ساتھ فارینر ٹریبونلز جانا پڑا تاکہ آباء و اجداد سے اپنا تعلق ثابت کرنے میں متبادل شواہد پیش کرسکیں. خاندیکر کا سوال تھا، ”اگر اس شخص کو گواہی دینے کیلئے بذات خود آنا پڑ رہا ہے تو پھر ان سرٹیفکیٹس کا مطلب کیا رہ گیا؟ اگر لوگوں کے پاس دیگر کاغذات ہیں تو وہ صرف پنچایت کے تصدیق ناموں پر کیوں تکیہ کر رہے ہیں؟“
2003 کے قوانین میں طے شدہ این آر سی ایپلیکیشن پراسیس کے مطابق، ”اصلاً آسامی باشندوں اور ان کے بیٹوں اور پوتوں“ کو اپنا نام شامل کرانے کیلئے اس پوری کارروائی سے گزرنے کی کوئی ضرورت نہیں،”بشرطیکہ ان کی شہریت رجسٹری اتھارٹی کے یہاں شکوک و شبہات سے پاک اور اطمینان بخش ہو“. لہذا اصلی باشندوں کو 1971 سے قبل اپنے نسب نامے کا تعلق ثابت کرنے کیلئے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے نام صرف علاقائی افسران کی صوابدید پر بھی شامل کئے جا سکتے ہیں. ان قوانین میں نہ ہی اصلی باشندوں کی کوئی تعریف کی گئی ہے، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ایک این آر سی آفیشیل کیسے ان کی شناخت کو ممکن بنا سکے گا.
اوریجنل شہریوں کی شناخت کے متعلق چند ہدایات کا مطالبہ کرتی متعدد عرضیوں پر گفتگو کرنے کے بعد گوگوئی نے جو فیصلہ صادر کیا وہ بھی پروویژن جتنا غیر واضح اور مبہم تھا. پروویژن نقل کرنے کے بعد سب سے پہلے تو انہوں نے کہا، ”جہاں تک اوریجنل آسامی باشندوں کو این آر سی میں شامل کرنے اور ان کے دعوؤں کو حل کرنے کی بات ہے، تو دستور کی شق 3 (3) اس مسئلے میں ذرا کم سخت اور قوی پراسیس میں یقین رکھتی ہے“. مزید کہا، ”جو اصلاً آسام کے باشندے نہیں ہیں ان کے برعکس اوریجنل آسامیوں کی شناخت کرکے انہیں این آر سی میں شامل کرنے کیلئے کسی انٹائٹلمنٹ (Entitlement) کا تعین نہیں کیا گیا ہے. انہیں فقط اپنی شہریت کا ثبوت پیش کرنا ہوگا“. یہی بات مکمل این آر سی پراسیس کے بارے میں بھی کہی جا سکتی تھی کہ اس میں شمولیت کیلئے صرف شہریت کی ضرورت ہے، مگر گوگوئی نے بڑی آسانی سے اس پر گفتگو کرنے سے کنارہ کشی اختیار کرلی کہ اوریجنل باشندوں کی شناخت کیلئے ایسا کون سا طریقہ اپنایا جائے جو ”کم سخت اور قوی پراسیس کا حامل ہو“۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*