این آر سی:رنجن گوگوئی کی جانب سے حکومت ہند کو ایک بیش بہا تحفہ

ارشو جون
(اسسٹنٹ ویب ایڈیٹر، دی کارواں میگزین، نئی دہلی)
ترجمہ: راشد خورشید
(تیسری قسط)
آسام کی تاریخ باہر سے آکر بسنے والوں سے بھری پڑی ہے، 19ویں صدی میں جب انگریزوں کو لگا کہ آسام کی زمین تو بہت زرخیز ہے، خصوصاً چاۓ کی کاشتکاری کرنے کیلئے، تو انہوں نے زمین کے ایک بڑے حصے کو چاۓ کے باغات میں تبدیل کر دیا. اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، بہار اور تمل ناڈو جیسے ملک کے مختلف علاقوں سے مزدور بلاۓ گئے. جن میں سے اکثر نے تو یہیں پر دائمی سکونت اختیار کرلی. باغات کے انتظار و انصرام کی ذمہ داری کلکتہ کے بنگالی ہندوؤں کو سونپی گئی . سبب یہ تھا کہ ایک تو یہ استعماری تعلیم یافتہ تھے، اور دوسرا یہ کہ انہیں انگریزی بولنا آتا تھا. دیکھتے ہی دیکھتے دیگر قبائل کے افراد بھی آسام آکر بسنے لگے. بنگالی زبان انتظامیہ کی رسمی زبان قرار پائی، جس کی وجہ سے آسامی بولنے والے قبائل کے اندر بنگالی مخالف احساس (Anti-Bengali Sentiment) نے جنم لینا شروع کردیا.
بیسویں صدی کے اوائل میں آسام کو ریلوے لائن کے ذریعہ مشرقی بنگال سے جوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے بہت سارے بنگالی مسلمان بھی یہاں چلے آئے. مگر، چونکہ یہ لوگ بے گھر تھے اور کاشتکاری کیلئے انہیں زمین کی تلاش تھی تو انہوں نے آسام کے دلدلی علاقوں اور چار (Chars) – دریائے برہم پوتر کا ریتیلا علاقہ- کا رخ کیا اور وہیں رہائش پذیر ہوگئے. یہاں انہوں نے اناج اگانا شروع کیا، جس میں انگریزوں نے ان کی کافی مدد کی تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا سکے. چند سالوں بعد جب بنگالی مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی تو مقامی باشندوں کی مخالفت کے پیشِ نظر انگریزی حکومت نے 1916ء میں لائن سسٹم کا آغاز کیا. اس کے ذریعہ مقامی و غیر مقامی باشندوں کے علاقوں کی حد بندی کردی جاتی تھی، جس کی بنا پر بیشتر افراد کو مجبوراً چار والے علاقوں میں رہنا پڑتا تھا، جہاں کی زمین دریا کی طوفانی لہروں کے باعث رفتہ رفتہ کھسکتی رہتی تھی اور ایک دن یہ لوگ اپنی زمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے.
بعد کی دہائیوں میں بھی جب بنگالی مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو شعبۂ مردم شماری کے ایک انگریز سپرنٹنڈنٹ سی ایس مُلّان (CS Mullan) نے ایک گھٹیا اور جھوٹا دعوی کیا جسے اب تک تقریباً سارے مہاجر مخالف سیاستدان اور سماجی کارکنان سینکڑوں دفعہ دہرا چکے ہیں. مُلّان نے دعوی کیا تھا کہ ”زمین کے بھوکے ان بنگالیوں، خصوصاً مشرقی بنگال کے مختلف گوشوں سے مسلمانوں کی آمد وہ سب سے بڑا حادثہ ہے جو آسام کی گزشتہ 25 برس کی تاریخ میں رونما ہوا اور جس نے آسامی تہذیب و ثقافت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا“. جبکہ حقیقت تو یہ ہے ان مسلمانوں نے نہ صرف آسامی تہذیب و ثقافت کو اپنایا بلکہ آسامی زبان کو اپنی مادری زبان کی صورت میں قبول بھی کیا. مگر ان سب کے باوجود ”بنگالی مخالف احساس“ مسلسل پروان چڑھتا رہا، حتی کہ وہ دن بھی آیا جب بنگالیوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نسلی تشدد کے واقعات رونما ہونے لگے. اکثریتی طبقہ والے علاقوں میں تو ان کے ساتھ کچھ زیادہ ہی گھناؤنا اور ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔
تقسیم ہند کے سبب جب ہندو اور مسلمان کافی تعداد میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آسام میں آکر بسنے لگے تو اس بنگالی مخالف احساس نے ”مہاجر مخالف احساس“ کی صورت اختیار کر لی. بنگالیوں کو مشرقی پاکستان سے آیا ہوا تصور کر مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگا. رفتہ رفتہ بنگال مخالف تحریک زور پکڑتی گئی یہاں تک کہ کانگریسی لیڈر گوپی ناتھ بوردولوی کی آسام حکومت کو ”امیگرنٹس ایکٹ 1950“ پاس کرنا پڑا. اس قانون کے تحت حکومت ہند کو یہ اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ ہر ایسے فرد یا گروہ کو بنا کسی عدالتی کارروائی کے شہر بدر کرنے کا حکم جاری کرسکتی ہے جس کی موجودگی ہندوستانی شہریوں کی سالمیت کے حق میں خطرے کا باعث ہو. چنانچہ اس قانون کی آڑ میں ہزاروں مسلمانوں کو واپس مشرقی پاکستان بھیج دیا گیا.
بنگالی مسلمانوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ جاری رہا. 1960 میں کانگریسی لیڈر بِمَل پرساد چالیہا کی حکومت آئی اور اس نے بھی غیر ملکی تصور کئے جانے والے لاکھوں افراد کو شہر بدر کردیا۔
1970 کی دہائی میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے مابین چھڑی جنگ کے سبب ایک بار پھر بڑے پیمانے پر آسام میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا. یہی وہ واقعہ تھا جس نے چھ سالہ ”مہاجر مخالف تحریک“ کو اخیر دہائی میں پھر سے ہوا دینے کا کام کیا. 1979 میں آسام کے مَنگلدوئی (Mangaldai) حلقۂ انتخاب کے رکن پارلیمنٹ ہَری لال پٹواری کی بے وقت موت کے سبب وہاں بائی-الیکشن کا اعلان کیا گیا. الیکشن سے قبل یہ خبر پھیل گئی کہ مَنگلدوئی کی ووٹر لسٹ میں غیر ملکیوں کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جارہا ہے۔
عبد المنان کی Infiltration: Genesis of Assam Movement نامی کتاب کے مطابق ڈی آئی جی ہِرنَے کمار بھٹاچاریہ اور ایس پی پریم کانتا مہنتا ”دونوں نے ملکر آسامیوں کے ذہن و دماغ میں یہ بات ڈالنی شروع کی کہ لاکھوں بنگلہ دیشیوں کی آمد کے سبب ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے“. عبد المنان کے بقول ”بھٹاچاریہ نے یہ جواز پیش کیا کہ چونکہ کافی وقت دیا جاچکا ہے، لہذا اب 1978 کی لسٹ سے بھی غیرملکیوں کے نام خارج کئے جاسکتے ہیں“. انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ بارڈر پولیس کو 47658 ووٹروں کے خلاف شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 36780 کو غیر ملکی قرار دے دیا گیا. مہنتا نے اپنی سرگذشت میں لکھا ہے، ”میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم آپس میں متحد نہ ہوۓ ہوتے تو یہ چھہ سالہ طویل آسامی تحریک وجود ہی میں نہ آتی“۔
جیسے ہی یہ تعداد منظر عام پر آئی، آسو(All Assam Students’ Union) نے 12 گھنٹے ریاست بندی کا اعلان کردیا، ان کا مطالبہ تھا -جسے تین ڈی (Detection, Detention, Deportation) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- کہ اول تو غیر قانونی شہریوں کی شناخت کی جائے، دوم آسام کی ووٹر لسٹ سے ان کے نام خارج کئے جائیں. اور سوم، پھر ان کو ملک بدر کردیا جائے. اس کے بعد نومبر 1979 کو ایک احتجاجی مظاہرے میں گوہاٹی سے سات لاکھ اور پورے آسام سے تقریباً بیس لاکھ لوگوں نے شرکت کی اور متعدد گرفتار کئے گئے. اگلے مہینے مظاہرین نے معاشی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے آسام کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی خام تیل کی سپلائی بھی بند کردی. ریاست میں صدارتی حکم نافذ کردیا گیا. اس سال آسام کے 14 پارلیمانی انتخابات میں سے 12 رد کردیے گئے۔
جیسے ہی یہ تحریک مشہور ہونا شروع ہوئی، آسام کے اصلی بنگالی مسلمانوں اور ہندوؤں پر از سرِ نو مظالم ڈھاۓ جانے لگے، انہیں چاۓ کی کاشت کرنے سے روکا جانے لگا، حکم عدولی کی صورت میں مارا پیٹا جاتا. اقلیتوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا کہ مارچ 1980 میں متعدد اقلیتی حقوق کی تنظیموں نے ملکر آمسو (All Assam Minority Students’ Union) کی تشکیل کی. آمسو نے مطالبہ کیا کہ 1971 سے قبل آسام آۓ سبھی مہاجرین کو شہریت عطا کی جائے. اسی دوران نومبر 1980 میں خام تیل کی سپلائی پر سے پابندی ہٹانے کیلئے ریاست میں فوج بھی تعینات کردی گئی۔
اگلے مہینے، صدارتی حکم نافذ ہونے کے تقریباً ایک سال بعد، کانگریس نے اَنوَرا تیمور کو آسام کا وزیراعلیٰ مقرر کیا. ابھی تیمور کی حکومت پر چھ مہینے کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ دوبارہ صدارتی حکم نافذ کردیا گیا. اس کے بعد 1982 میں کیشب چندر گوگوئی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوۓ، مگر اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باعث دو مہینے بعد ہی ان کی بھی دور ختم ہوگیا، اور صدارتی حکم پھر سے نافذ کردیا گیا۔
جب کانگریس کی مرکزی حکومت نے ریاست میں جاری احتجاجات کو روکنے کی کوشش کی تو وہ اور زیادہ بھڑک اٹھے. چنانچہ اس نے نیا طریقہ اپنایا اور ہر اس شخص کو جس پر احتجاج کے حامی ہونے کا ادنیٰ سا بھی شک ہوتا، اسے پارٹی سے نکالا جانے لگا. آئندہ سال وزیر اعظم اندرا گاندھی نے آسامی احتجاجات کے محرک الیکٹورل رول میں ترمیم کئے بغیر ہی ریاستی انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی کرلیا۔
اندرا گاندھی کا انتخابات کرانے کے فیصلے کا انجام اس قدر بھیانک ہوگا، یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا. چنانچہ فروری 1983 کو آسام کے ضلع نوگونگ (Nowgong) کے نیلی(Nellie) گاؤں اور اس کے گردونواح میں مسلح غنڈوں نے قتل و خونریزی کا وہ بازار گرم کیا جسے تاریخ نے ”نیلی قتل عام“ (Nellie Massacre) کا نام دیا. تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے، اکثریت بنگالی مسلمانوں کی تھی. بہر حال انتخابات ہوئے جس میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی اور ریاست کی باگ ڈور آہوم خاندان کے ایک فرد ہِتیسوَر سائیکیا کو سونپ دی گئی.
تقریباً ایک سال کی گفت و شنید کے بعد 15 اگست 1985 کو حکومت ہند اور آسام تحریک کے لیڈران کے مابین ایک معاہدہ ہوا، جسے آسام معاہدہ (Assam Accord) کے نام سے جانا جاتا ہے. معاہدہ میں طے ہوا تھا کہ آسام میں رہنے والے غیر ملکی باشندوں کی شناخت کی جاۓ گی، ووٹر لسٹ سے ان کا نام خارج کیا جاۓ گا اور پھر انہیں ملک بدر کردیا جائے گا. اس کے تحت آسامی باشندوں کو تین گروپ میں تقسیم کر دیا گیا: اول، وہ لوگ جو 1966 سے قبل ہی آسام آگئے تھے. دوم، وہ جو یکم جنوری 1966 سے 24 مارچ 1971 کے درمیان آۓ تھے. اور سوم، وہ جو 1971 کی مقرر کردہ آخری تاریخ کے بعد آسام میں داخل ہوئے تھے. فیصلہ یہ ہوا کہ جتنے بھی لوگ پہلی قسم میں آئیں گے انہیں فوری طور پر بنا کسی عدالتی کارروائی کے آسام کا قانونی شہری تسلیم کرلیا جائے گا، دوسری قسم والوں کے ناموں کو دس سال کیلئے ووٹر لسٹ سے خارج کردیا جاۓ گا اور جو تیسری قسم کے تحت آئیں گے ان کی تحقیق کی جائے گی اور غیر قانونی ثابت ہونے کی صورت میں انہیں شہر بدر کردیا جائے گا۔
اسی سال مرکزی حکومت نے سٹیزن شپ ایکٹ 1995 میں بھی ترمیم کی تاکہ دفعہ 6A کو متعارف کرایا جاسکے، اور آسام معاہدہ کا نفاذ عمل میں آسکے. چنانچہ اس ترمیم نے مذکورہ بالا تینوں قسموں کو قانون کی صورت دیکر آسام معاہدے کو آئینی حیثیت عطا کردی، ساتھ ہی آسامی باشندوں کی شناخت کرنے کیلئے ایک اسپیشل فریم ورک بھی تیار کیا گیا. مگر صرف شناخت کرنے سے کام بننے والا نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد انہیں شہر بدر بھی کیا جانا ضروری تھا، اور اس کیلئے آسام 1951ء کی این آر سی کا اپڈیٹ کیا جانا بہت ضروری تھا، جس کے نفاذ میں اب تک سبھی مرکزی و ریاستی حکومتوں کو ناکامیابی ہی ہاتھ لگی تھی۔
جب آسام معاہدہ پر دستخط کردی گئی تو الیکشن کمیشن نے 1971 کے الیکٹورل رول کو سامنے رکھتے ہوئے آسام کے ووٹر رول میں بہت باریکی سے ترمیم کا کام انجام دیا. اور پھر اسی ترمیم شدہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر اس سال آسام میں انتخابات کرائے گئے. جس میں آسو کی ایک سیاسی برانچ Asom Gana Parishad کے صدر، سابق اسٹوڈنٹ لیڈر پرَفُل کمار مہنْت کو کامیابی حاصل ہوئی. حیرت کی بات یہ ہے کہ آسام تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم نے اس معاہدے کو نافذ ہی نہیں کیا بلکہ 1966 کے الیکٹورل رول کو سامنے رکھ کر 1987 میں دوبارہ مزید باریک بینی سے ترمیم کرنے کا مطالبہ کر ڈالا. چنانچہ حسب مطالبہ ایک نیا الیکٹورل رول ترتیب دیا گیا.
اے جی پی (Asom Gana Parishad) واحد تنظیم نہیں تھی جو آسام تحریک سے پیدا ہوئی. بلکہ اسی وقت ایک اور شدت پسند جنگجوؤں کا گروہ معرض وجود میں آیا جسے الفا (United Liberation of the Assam) کے نام سے جانا گیا. الفا نے آسام کو ایک خود مختار اور سماج وادی ریاست بنانے کی بھرپور کوشش کی. 1979 میں وجود پذیر ہونے والی یہ تنظیم گرچہ آسام تحریک کے ساتھ پروان چڑھی مگر اس نے ہمیشہ خود کو امیگریشن ایشو سے علیحدہ ہی رکھا، جیسا کہ سَنجیب باروَہ اپنی کتاب India Against Itself: Assam and the Politics of Nationality میں رقمطراز ہیں، ”الفا نے آسام میں بسنے والے سبھی لوگوں (Axombaxi) سے ایک اپیل کی… اس وقت آسام کے مین اسٹریم میں جاری علاقائیت پر بحث اور الفا کے قول میں کافی تضاد تھا“. مزید لکھتے ہیں، ”چونکہ اے جی پی امیگریشن ایشو کو حل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کرسکی، نیز اس کے چند نوجوان عہدیداران کرپشن کے الزامات میں بھی ملوث پائے گئے تھے، جس بنا پر یہ تنظیم رفتہ رفتہ زوال پذیر ہونے لگی، اور اس کے ساتھ ہی الفا کی ترقی کا ستارہ بلند ہونا شروع ہوگیا“۔
اے جی پی کھوکھلے دعوؤں کی حکومت ثابت ہوئی. ”انڈیا ٹودے“ کی مئی 1990 کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک وقت تھا جب مہنتا اور اس کے دیگر اے جی پی کولیگز ”آسام کے اصلی ہیرو تصور کئے جاتے تھے“ مگر آج وہی لوگوں کی نظروں میں ”ولین“ بن گئے ہیں. اور ”معمولی باتوں پر گولیاں چلانے والے، الفا کے انڈر گراؤنڈ دہشت پسندوں کو“ آسام کا حقیقی محافظ تسلیم کرلیا گیا ہے۔
نومبر 1990 کو ریاست میں صدارتی حکم نافذ کرکے مرکزی حکومت نے الفا کے خلاف ایک فوجی آپریشن بنام ”آپریشن بجرنگ“ انجام دیا، جو اگلے سال اپریل تک جاری رہا. یہ آپریشن الفا کے بیشتر ٹریننگ کیمپوں کو تباہ کرنے اور اس کے کئی ممبران کو گرفتار کرنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر معاشرے میں حاصل اس کی سوشل لیجٹیمیسی کو نہیں ختم کرسکا. ان آپریشنز کو ختم کرنے کیلئے مرکز، ریاست اور الفا کے مابین گفت و شنید کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس میں مزید بیس سال لگنے کی توقع ہے۔
جون 1991 میں ایک بار پھر آسام کی زمام حکومت کانگریسی لیڈر ہِتیشوَر سائیکیا کے ہاتھوں میں آگئی ،اس کے دو سال بعد الیکٹورل رول میں از سرِ نو ترمیم کا عمل انجام دیا گیا.1996 میں جب مہنتا کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا تو اسی سال الیکشن کمیشن نے پھر سے الیکٹورل رول میں دقت نظری سے ترمیم کرنے کا حکم جاری کیا. مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ الیکٹورل رول میں کی جانے والی پے درپے ترمیم سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے، جو متعدد وکلاء اور سماجی کارکنان سے مجھے پتہ چلی، کہ کوئی بھی پارٹی آسام معاہدے کو نافذ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
آسام بیوروکریسی میں 1980 کی دہائی سے اپنی خدمات انجام رہے سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری ایم جی وی کے بھانو (MGVK Bhanu) کہتے ہیں کہ، ”سیاستدانوں کے یہاں امیگریشن ایشو انتخابات کو مؤثر کرنے کا ایک کارگر ہتھیار بن چکا ہے… 1985سے اب تک آسام کے سبھی انتخابات میں ایسا ہی ہوتا آرہا ہے“۔
بھانو کا ماننا ہے کہ انتظامی کوششوں کو اس جانب مبذول کرکے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا تھا ”مگر حکومت نے ایسا نہیں کیا، نتیجتاً وہ اس مسئلے کے حل میں ناکام رہی، یا بالفاظ دیگر اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا….سبھی نے صرف فائدہ اٹھایا“۔
خیر، سیاست میں تو یہ عام سی بات ہے. آسو کے مشیر خاص سموجّل بھٹاچاریہ نے مجھ سے کہا کہ، ”صرف اور صرف ووٹ بینک کی خاطر این آر سی کو کبھی اپڈیٹ نہیں کیا گیا“. یہی بات آمسو کے مشیر خاص عزیز الرحمن نے بھی کہی، ”سیاسی جماعتوں نے کبھی اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچا ہی نہیں“… مزید کہا کہ…”کانگریس، اے جی پی اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں. یہ لوگ جب مسلم علاقوں میں جاتے ہیں تو انہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم بنا کسی پر ظلم و جبر کئے اس مسئلے کو حل کر دیں گے، اور یہی لوگ جب غیر مسلم علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو ان سے یہ کہتے ہیں کہ، ‘آپ ہمیں ووٹ دو، ہم ان گھس پیٹھیوں کو نکال باہر کریں گے’ “.
آمسو کے قانونی مشیر مصطفی خادم حسین کہتے ہیں، ”آسام ملک کی سب سے تیز ترقی پذیر ریاست بن سکتی تھی“. مگر ایسا نہ ہوسکا، کیونکہ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ امیگریشن ایشو کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بناۓ رکھا. ”اب دیکھئے، چاول پیدا کرنے میں آسام کا نمبر پنجاب کے بعد آتا ہے جبکہ آسام کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ وہ پنجاب کی پیداوار کا دو گنا پیدا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے. مگر مسئلہ یہ ہے کہ چاول کی کھیتی کرتا کون ہے؟… یہ مشرقی بنگال سے آۓ مسلمان… اگر انہیں بھی مشینری، واٹر سپلائی اور بجلی جیسے زراعتی وسائل و ذرائع فراہم کردیے جائیں جو پنجاب کے کسانوں کے پاس ہیں تو یہ بھی ان کا مقابلہ بآسانی کر سکتے ہیں“. حسین کا ماننا تھا کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں آسام کی ترقی کو داؤ پر لگا کر امیگریشن ایشو کو باقی رکھنا چاہتی ہیں تاکہ اس کا سیاسی فائدہ انہیں برابر پہنچتا رہے۔
بہرحال 1997 میں الیکٹورل رول میں ہوئی ترمیم کے باعث ایک نیا پراسیس شروع ہوا جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے. الیکشن کمیشن نے دوران ترمیم ان ناموں کے سامنے ”D“ یعنی مشکوک (Doubtful) لکھنا شروع کر دیا جن کی شہریت ابھی شک کے دائرے میں آتی تھی، اور پھر انہیں مقامی ایس پی کے حوالے کردیا جاتا تاکہ وہ ان کی تحقیق کرے اور ضرورت محسوس ہونے پر فارینر ٹریبونلز (Foreigner Tribunals) کو سونپ دے. پھر جب تک ٹریبونلز ان کی شہریت کی تصدیق نہیں کردیتا، تب تک ان سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا جاتا، نیز عوامی تقسیمی نظام سے حاصل ہونے والے فوائد سے بھی انہیں محروم رکھا جاتا۔
ریاست کی نسل پرستانہ ذہنیت کے پیش نظر ڈی-ووٹرز شناختی عمل میں چند ایسی من مانی تبدیلیاں کی گئیں جس سے مشکوک افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکے. اس پراسیس سے حکومت کے سطحی کارکنان کو یہ موقعہ ہاتھ آگیا کہ بنا کسی تحقیق اور شہریت ثابت کرنے کا موقعہ دیے وہ جسے چاہیں ڈی-ووٹر کی لسٹ میں ڈال دیں. چنانچہ ایسی بہت سی مثالیں سامنے آئیں جب فارینر ٹریبونلز نے ایسے کئی افراد کو جنہیں ڈی-ووٹر لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا، کلئیرینس دے دی. بہتوں کو تو اس کیلئے بیس سال تک انتظار بھی کرنا پڑا. چند ایسے بھی تھے جنہیں پتہ ہی نہیں چل سکا کہ کب ان کا نام ڈی-ووٹر لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے جبکہ ابھی گذشتہ الیکشن میں تو انہوں نے ووٹ دیا تھا. ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ گھر کے سبھی لوگوں کو قانونی شہری تسلیم کر صرف ایک کی شہریت کو مشکوک ٹھہرا دیا گیا۔
1997 میں جب الیکشن کمیشن نے ترمیم شدہ الیکٹورل رول کو شائع کیا تو 37 لاکھ سے بھی زائد افراد حرف”D“ سے نشان زدہ پاۓ گئے. وزارت داخلہ کے ذریعہ لوک سبھا میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 تک آسام میں ڈی-ووٹرز کی مجموعی تعداد 113738 تھی، جس میں 70723 عورتیں تھیں. وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں یہ بھی بیان دیا کہ اکتوبر 2019 تک کل 468905 کیس فارینر ٹریبونلز کے حوالے کئے گئے، جن میں سے صرف 114225 افراد ملکی ثابت ہوسکے، باقی 129009 لوگوں کو غیرملکی قرار دے دیا گیا۔
2001 میں آسام میں دوبارہ کانگریس کی حکومت قائم ہوئی اور ترون گوگوئی وزیر اعلی بناۓ گئے جو آئندہ 2016 تک مسلسل منتخب کئے جاتے رہے. 2005 میں کانگریس کی مرکزی و ریاستی حکومت نے آسام معاہدہ کے نفاذ کو لیکر آسو سے بات چیت کرنی شروع کی. 5 مئی کو تینوں فریق نے متفقہ طور پر 1951 کی این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا. اور 2009 میں اس سے متعلق قوانین کا اعلان کیا گیا۔
اگلے سال، حکومت نے این آر سی کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے سے قبل، آسام کے ضلع کامروپ (Kamrup) کی تحصیل چھائی گاؤں (Chhaygaon) اور بَرپیٹا (Barpeta) علاقے میں اس کا ایک تجربہ (Pilot Project) کرنے کا فیصلہ کیا. سب کچھ اتنی جلد بازی میں شروع کیا گیا کہ اس کو آپریٹ کرنے کا نہ تو کوئی معیاری طریقۂ کار اپنایا گیا، نہ ہی معلومات حاصل کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کیلئے کوئی حل تلاش کیا گیا. آسام تحریک کی مسلم مخالف ذہنیت اور این آر سی کے ممکنہ نتائج کے پیش نظر آمسو نے بَرپیٹا ضلع میں اس تجربہ کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرنا شروع کیا. چنانچہ 21 جولائی 2010 کو ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین بَرپیٹا ڈی ایم آفس کے گرد و پیش جمع ہوگئے۔
عزیز الرحمان، جو اس وقت مظاہرے میں شریک تھے، کہتے ہیں کہ ”ہم نے کہا کہ آپ بس ڈی ایم کو بلا دیجئے، ہم انہیں یہ میمورنڈم سونپ کر واپس چلے جائیں گے… ڈی ایم تو باہر نہیں آیا پر ایس پی نجانے کدھر سے آدھمکا“. کچھ ہی دیر بعد احتجاج تشدد کی صورت اختیار کرگیا، جس کے مختلف اسباب لوگوں نے بتائے. عزیز الرحمن کے مطابق پولیس آمسو کے چار اراکین کو اندر لے گئی اور پھر بنا کسی پرووکیشن کے مظاہرین پر گولی باری کرنے لگی. چار لوگ مارے گئے اور سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے، جس کی وجہ سے عوام مشتعل ہوگئی اور احتجاج تشدد کی صورت اختیار کرگیا. جبکہ دوسری طرف آسو کے سَموجّل بھٹاچاریہ کا دعوی ہے، ”یہ تشدد بنگلادیشی لابی (Lobby)- آمسو- کی طرف سے شروع کیا گیا تھا“۔
میں ترون گوگوئی کے ساتھ ان کی آفس میں بیٹھا گفتگو کر رہا تھا تو انہوں نے مجھ سے کہا، ”بات دراصل یہ ہے حکومت اور ہم، دونوں ہی اس معاملے میں ناتجربہ کار تھے، کسی کو پراسیس- این آر سی- شروع کرنے کا طریقہ ہی نہیں معلوم تھا. یہ تو مرکزی حکومت اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی ذمہ داری تھی، مگر ان کو بھی پتہ ہو تب نا…. بہر کیف یہ تجرباتی عمل شروع تو ہوا، مگر ساتھ ہی آمسو کا اس کے خلاف پرزور احتجاج بھی سامنے آیا، جسے روکنے کیلئے پولیس نے گولیاں چلائیں، کئی لوگ مارے گئے. چاروناچار یہ تجربہ درمیان میں ہی روکنا پڑا“.
یہ آئیڈیا تو حکومت کے ذہن میں گھر کر چکا تھا. چنانچہ 2011 میں ریاستی حکومت نے مشاورتی عمل شروع کیا، جس میں آسو اور آمسو سمیت تمام اسٹاک ہولڈرز کو مدعو کیا گیا، تاکہ این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کا کوئی معیاری طریقہ اختیار کرکے اس کیلئے اصول و ضوابط وضع کیے جاسکیں. باہمی رضامندی سے طے شدہ قوانین کو رجسٹرار جنرل آف انڈیا کو سونپ دیا گیا. اور پھر 5 دسمبر 2013 کو آفس سے ایک نوٹس شائع ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ تین سال کے اندر پورے آسام میں این آر سی کو اپڈیٹ کردیا جائے۔
گوہاٹی کے آسامی باشندوں میں اب باہر سے آئے لوگوں، خصوصاً دہلی والوں کے تئیں صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے قریب تھا اور وہ این آر سی کو لیکر سنجیدہ نظر آنے لگے تھے. وسیع پیمانے پر دیکھیں تو لوگ دو گروہوں میں منقسم ہوگئے تھے اور دونوں ہی این آر سی کو اپڈیٹ کئے جانے کی حمایت کر رہے تھے، مگر مختلف وجوہات کی بناء پر. بعض تو اس وجہ سے سپورٹ کر رہے تھے کہ اس کے ذریعہ ریاست میں غیر قانونی شہریوں کی شناخت ممکن ہوسکے گی، اور بعض اس گمان میں پڑ کر کہ اسی بہانے انہیں آۓ دن کے ظلم و ستم سے نجات تو مل جائے گی. شاید ہی کوئی ایسا تھا جو عمومی طور پر اس کا مخالف رہا ہو. اول الذکر تو اپنی قانونی شہریت کو لیکر خود اعتمادی کے زعم میں مبتلا تھے، اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد غیر قانونی باشندوں کی شناخت کرکے انہیں شہر بدر کیا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ لوگ ریاست کے سر پر بوجھ کی مانند تھے. اور ثانی الذکر اس سنگین صورتحال کو اس امید پر قبول کرنے کو تیار تھے کہ کم از کم اس کے بعد ان کی شہریت پر کوئی سوال تو نہیں اٹھایا جائے گا۔
یہی وہ وقت تھا جب رنجن گوگوئی کے سامنے دو عرضیاں پیش کی گئیں. ایک میں این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کی بات کی گئی تھی، اور دوسری میں سٹیزن شپ ایکٹ کے سیکشن 6A کو چیلنج کیا گیا تھا. گوگوئی نے رائے عامہ کو اپنا طرفدار سمجھ کر این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کی مہم کا آغاز کردیا. ایسا کرنے میں انہوں نے نہ صرف انصاف کے اہم اصولوں کی خلاف ورزی کی بلکہ ایک ایسی نیشنل پالیسی کی بنیاد ڈالی جس سے ہندوستانی مسلمانوں کی شہریت پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے۔
این آر سی کا اپڈیٹ وہ بیش قیمت تحفہ ہے جو گوگوئی نے موجودہ بی جے پی حکومت کی خدمت میں پیش کیا، اور بلاشبہ بطور چیف جسٹس ان کا سب سے عظیم کارنامہ بھی. بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گوگوئی نے یہ فیصلہ حکومت کے دباؤ میں آکر دیا ہے مگر جیسا کہ اکثر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ این آر سی پر شنوائی کے دوران گوگوئی پر حکومت کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ رہا ہو. سینئر ایڈوکیٹ اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن کا کہنا ہے، ”وہ آزادانہ طور پر بنا کسی دباؤ میں آۓ اپنا کام انجام دے رہے تھے… ان کا تعلق آسام کے آہوم خاندان سے ہے جن کا موقف غیر ملکیوں کے تئیں کافی سخت ہے کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے آسام کے اصلی باشندوں کی اصلیت کو داغدار کیا ہے“.
”آسام پبلک ورکس“ نامی ایک این جی او نے غیر ملکیوں کی شناخت کرنے اور انہیں شہر بدر کرنے کے تعلق سے ایک عرضی دائر کی تھی. اسے چھ بار درج (List) کیا گیا مگر کبھی کوئی تفصیلی شنوائی نہیں ہوسکی، یہاں تک کہ چار سال بعد گوگوئی نے اس بینچ کی ذمہ داری لی.
2 اپریل 2013 کو جسٹس ایچ ایل گوکھلے (HL Gokhale) کی زیرصدارت دو رکنی بینچ نے این آر سی پر پہلی شنوائی کی. دوسری تاریخ اگلے دن کی مقرر کی گئی. بعد ازاں بینچ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کے ایڈوکیٹس کے نام ایک حکم نامہ جاری کرکے ایک ہفتہ بعد انہیں این آر سی کے اپڈیٹ کیلئے درکار وقت کی تفصیل پیش کرنے کو کہا۔
گوگوئی نے ایک سال تک بطور جونیئر جج اس کیس کی سماعت کی، یہاں تک کہ مارچ 2014 میں گوکھلے ریٹائر ہوگئے اور بینچ کی صدارت آر ایف نَریمن کو سونپ دی گئی. اس دوران میں پراجیکٹ کیلئے نت نئے طریقوں کی تلاش میں مسلسل سماعت ہوتی رہی. عدالت نے ہر موقعہ پر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا، اسے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں کافی وقت لگا رہی ہیں. چنانچہ 20 اگست 2014 کو دوسری سماعت کے موقعہ پر گوگوئی نے آسام میں این آر سی کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پَرتیک ہَجیلا کو حکم دیا کہ وہ ایک حلف نامہ دائر کریں کہ آیا دسمبر 2016 تک آسام میں این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کا عمل مکمل ہوسکے گا یا نہیں.
اگلی سماعت سے قبل ہَجیلا نے اس کیلئے درکار وقت سے متعلق عدالت میں ایک حلف نامہ دائر کردیا. 23 ستمبر کو گوگوئی اور نَریمن نے حکم جاری کیا کہ ”سردست عدالت اس پر غور و خوض کرے گی کہ اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے اپنے حلف نامے میں جو درکار وقت کا تعین کیا ہے اس میں تخفیف کیسے ممکن ہوسکتی ہے… درحقیقت عدالت کے نقطۂ نظر سے، جیسا کہ بتایا گیا، اس عمل کے مختلف مراحل کو مناسب طریقے سے یکجا کرکے انہیں ایک ساتھ انجام دیا جاسکتا ہے“. بعد ازاں عدالت نے ہَجیلا کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ وقت کا تعین کریں اور اگلے 18 مہینوں کے اندر ہی اس پراجیکٹ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں. بینچ نے کہا، ”این آر سی کو اپڈیٹ کرنے میں جس قسم کی کارروائی درکار ہے اس کے پیش نظر ہم اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کو یہ حکم جاری کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں مستقبل میں کئے جانے والے سبھی اقدامات اور حکمت عملیوں سے متعلق ایک رپورٹ مہر بند لفافے میں پیش کریں“. مزید کہا، ”اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کے ذریعہ فراہم کی جانے والی مطلوبہ تفصیلات کسی اتھارٹی سے مشورہ نیز ریاستی یا مرکزی حکومت کو خبر کئے بنا ہی سیدھے عدالت میں پیش کی جائیں گی“۔
پوری شنوائی کے دوران عدالت نے حکومتی اہلکاروں پر زبردست دباؤ بنائے رکھا، اور ہر کام کی باریکی سے نگرانی ہوتی رہی. یہ ایک خفیہ عمل تھا جسے مرکزی و ریاستی حکومتوں تک سے پوشیدہ رکھا گیا. جیسا کہ بعد میں گوتم بھاٹیا نے روزنامہ”دی ہندو“ میں لکھا، ”اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت محض نگرانی سے مطمئن نہیں تھی بلکہ وہ درپردہ، طور طریقوں اور نفاذ کے تعلق سے بھی ہدایت دینے کا کام سرانجام دے رہی تھی“۔
دسمبر 2014 کو عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا، جس میں امیگریشن ایشو کے مختلف پہلوؤں کے متعلق تفصیلی ہدایات دی گئی تھیں نیز این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کیلئے 11 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔
گوگوئی نے اس پراجیکٹ میں کچھ اس انداز سے دخل اندازی کی کہ ان کے نزدیک جمہوری ملک کے عناصر ثلاثہ (1- مقننہ؛ قوانین وضع کرنے والی، 2- انتظامیہ؛ قوانین کا نفاذ کرنے والی، اور 3- عدلیہ؛ دستور کی روشنی میں قوانین کا معائنہ کرنے والی) کے مابین اختیارات کی تقسیم کا ذرا بھی پاس و لحاظ نہیں رہا. سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی انہیں عدالتی روسٹر اور کیس کو درج کرنے پر کنٹرول حاصل ہوگیا تھا، جس نے انہیں عدالت میں این آر سی سے متعلق پیش ہونے والے سبھی معاملوں کا رخ متعین کرنے میں مزید بااختیار بنا دیا.
2014 میں مرکز اور 2016 میں آسام میں بی جے پی حکومت کا قیام عمل میں آیا. جس سے اس کے آڈیالوجیکل فاؤنڈیشن اور غیر ملکیوں کے تئیں آسام کی متنازع تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو قوم پرستوں کو این آر سی کی شکل میں اپنے مسلم مخالف منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقعہ میسر آگیا تھا. آسام کے نئے وزیر اعلیٰ سَربانند سونووال نے ایس پی، ضلع کلکٹر اور ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرکے انہیں غیر ملکیوں کی شناخت کرنے اور این آر سی کو جلد از جلد تیار کرنے کا حکم دیا. اسی درمیان وزیر داخلہ کا بھی ایک بیان سامنے آیا جو انہوں نے کسی ریلی میں دوران تقریر کہا تھا، کہ وہ پورے ملک میں این آر سی نافذ کریں گے اور سبھی گھس پیٹھیوں (Infiltrators) اور دیمکوں – غیر ملکیوں- کو ملک سے نکال باہر کریں گے۔
بی جے پی حکومت نے اس پراجیکٹ کیلئے ضروری وسائل بھی فراہم کئے جن کی لاگت تقریباً 1600کروڑ روپئے تھی، اور جس میں پچاس ہزار سے زائد افراد کا عملہ بھی شامل تھا. سپریم کورٹ نے دسمبر 2014 کے فیصلے میں آسام حکومت کو یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ اگلے 60 دنوں کے اندر وہ دیگر فارینر ٹریبونلز کے سرگرم عمل ہوجانے کو یقینی بناۓ. چنانچہ سپریم کورٹ کے ایک دوسرے حکم نامے پر عمل کرتے ہوئے آسام حکومت نے مئی 2019 میں، فائنل این آر سی کی اشاعت سے قبل دو سو فارینر ٹریبونلز کی تعمیر کا کام شروع کردیا، تاکہ 300 کی تعداد پوری ہوجائے، نیز 200 مزید بناۓ جانے کی منظوری دیدی. غیر ملکی ثابت ہونے والوں کیلئے ملک کا سب سے پہلا ڈٹینشن سینٹر آسام کے ضلع گوالپارا (Goalpara) میں زیرِ تعمیر ہے، نیز ایسے مزید 10 ڈٹینشن سینٹرز قائم کرنے کی تجویز پیش کی جاچکی ہے۔
گوگوئی کے فیصلے کے باعث عدالت کی کارکردگیوں میں ایک قسم کی عدم شفافیت کی صورت پیدا ہوگئی. این آر سی پر شنوائی کے دوران ہی گوگوئی نے سیاسی اہمیت کے حامل متعدد معاملات پر سماعت کی جن میں مہر بند لفافوں کا یہ سلسلہ جاری رہا. گوگوئی نے بارہا ہَجیلا اور دیگر اسٹاک ہولڈرز کو اپنی رپورٹس مہر بند لفافے میں پیش کرنے کو کہا تاکہ وہ صرف عدالت تک محدود رہیں، اور مقدمے کے دیگر فریق، حتیٰ کہ اس پراجیکٹ کو نافذ کرنے والی حکومتوں کو بھی اس سے علیحدہ رکھا جا سکے. گوتم بھاٹیا نے اپنے مضمون میں گوگوئی کی وراثت کے ضمن میں لکھا ہے، ”عدالتی نظام کا ایک بنیادی اصول ‘اوپن جسٹس’ بھی ہے، اور مہر بند لفافے اس اصول کے بالکل برعکس ہیں… اب اگر انہی شواہد کو صیغۂ راز میں رکھا جائے گا جن کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا ہے تو اس کی کسی بھی طرح کی تحقیق صدا بصحرا ثابت ہوگی“.
گوگوئی کے مہر بند لفافوں کے استعمال کے ضمن میں لوکُر کہتے ہیں، ”یہ سراسر غلط ہے، میں تو اسکی حمایت نہیں کرسکتا“. انہوں نے کہا کہ ”انڈین اویڈینس ایکٹ“ کے تحت یہ رخصت صرف ریاست کو حاصل ہے کہ وہ چند مخصوص دستاویزات کو مہر بند لفافوں میں پیش کرنے کی عدالت سے اجازت طلب کرے، مگر ”عدالت بذات خود اس کا استعمال ہرگز نہیں کرسکتی“۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*