این آر سی اور ڈٹینشن کیمپ پر وزیر اعظم کابیان گمراہ کن: مولانا بد ر الدین اجمل

 

نئی دہلی: آ ل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر ورکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ دہلی کے رام لیلا میدان میں کی گئی تقریر پر اپنا ر عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی بات اور وزیر داخلہ امت شاہ کی بات میں کھلا تضاد ہے کیوں کہ وزیر داخلہ الیکشن ریلی، پریس کانفرنس اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں این آر سی کو ۴۲۰۲ سے پہلے نافذ کرنے کی بات بار بار کرتے ہیں مگر وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک این آر سی سے متعلق کوئی چرچا ہی نہیں کیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا امت شاہ نے مودی جی سے پوچھے بنا اتنا بڑا اعلان کر دیا؟کیا سرکار میں امت شاہ کا پاور مودی جی سے بھی زیادہ ہو گیا؟انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ناٹک لوگوں کو بے وقوف بنانے کی سازش کا حصہ ہے ورنہ تو مودی جی نے کیوں اعلان نہیں کیا کہ این آر سی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے این آر سی اور شہریت ترمیم قانون کو ایک دوسرے سے جوڑ کر آسام، بنگال اور جھاڑکھنڈ کے الیکشنوں میں ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب سرکار الگ الگ طریقہ سے پر چار کر رہی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہے۔مولانا نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہماری سرکار میں کوئی ڈیٹینشن کیمپ نہیں بنا ہے جو بالکل غلط بیانی ہے کیوں کہ آسام میں میں پہلے سے ۶ ڈیٹینشن کیمپ تھا اور اِس سرکار کے آنے کے بعد ہمارے پارلیمانی حلقہ میں آنے والے گوالپارہ ضلع میں بڑے زور وشور سے ڈیٹینشن کیمپ کی تعمیر جاری ہے، اسی طرح کرناٹک اور مغربی بنگال سے بھی خبر آرہی ہے کہ وہاں بھی ڈیٹینشن کیمپ تیر ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خود سرکار نے جنوری۹۱۰۲ میں تمام ریاستوں کو ہایت جاری کی تھی کہ وہ غیر قانونی طریقے پر رہ رہے غیر ملکیوں کے لئے ڈیٹینشن کیمپ کی تعمیر کرے،تو پھر مودی جی بالکل اس کے خلاف کیوں بھاشن دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں شہریت ترمیم جیسے سیاہ بل کی مخالفت کرنے والے اسٹوڈینٹس بالخصوص جامعہ ملیہ اور اے ایم یو کے اسٹوڈینٹس پر پولس کے ظلم و ستم پر وزیر اعظم نے ایک لفظ بھی بولنا گوارہ نہیں کیا مگر پولس کی خوب پیٹھ تھپ تھپائی اور حد تو یہ کہ جو تعلیم یافتہ اور سول سوسائیٹی کے لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں انہیں ‘ شہری نکسل’ کا ٹیگ دے دیاجو انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک وزیر اعظم اس طرح کی زبان بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں لوگوں کو حق ہے کہ سرکار کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور احتجاج کرے مگر سرکار لوگوں کی آواز کو دبانے کے لئے اپنی طاقت اور پولس کا استعمال کر رہی ہے۔جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے بالخصوص اتر پر دیش سے خبریں آرہی ہیں کہ احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے ذریعہ جو ظلم کے بعد اب بے قصور نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھا رہے ہیں، ان کی پروپرٹی ضبط کر رہے ہیں جو شرمناک ہے۔ اسی طرح دہلی کے سیلم پور اورد ریاگنج میں پولس نے جس طرح ظلم ڈھایا وہ ایک جمہوری ملک کے اقدار کو پامال کرنے والا عمل ہے۔مولانا نے کہا کہ ملک و بیرون ملک اس سیاہ قانون کی مخالفت کے بعد بھی سرکار کو ہوش نہیں ہے جس سے دیش کا نقصان اور بدنامی ہورہی ہے۔