نقوشِ شبلی:ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا ایک اور کارنامہ تعارف و تبصرہ:شکیل رشید

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی نئی کتاب ’’ نقوشِ شبلی ‘‘ دیکھ کر یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر ڈاکٹر صاحب پہلے ہی درجن بھر سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں، اس نئی کتاب کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ مزید یہ سوال بھی اُٹھ سکتے ہیں کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر کتابیں پڑھی ہی کیوں جائیں؟ اور یہ کہ بھلا آج کے ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے بھی ان کتابوں کا کوئی لینا دینا ہے ؟ اس نئی کتاب کے دیباچہ میں مذکورہ تینوں سوالوں کے جواب بڑی حد تک مل جاتے ہیں ۔ علامہ شبلی نعمانی تین ایسی اہم تعلیمی تحریکوں میں شامل رہے، جو مسلمانانِ ہند کو قدیم کے ساتھ جدید علوم سے جوڑنے کا سبب بنیں، ان میں سے ایک علیگڑھ تحریک تھی جس کے نتیجے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ آج اس مسلم یونیورسٹی نے قیام کے سو سال مکمل کر لیے ہیں ۔ اور یقیناً بلا خوفِ تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس یونیورسٹی نے، اور یہاں کے طلبا اور فارغین نے ملک کی بھی، اور ملک کے مسلمانوں کی بھی وقت پڑنے پر رہنمائی کا حق ادا کیا ہے ۔ سی اے اے جیسے سیاہ قانون کے خلاف یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں کی جدوجہد سامنے ہے ۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ’’ علامہ شبلی نعمانی کا خیال تھا کہ علی گڑھ کالج جس طرح طلبہ کو بی اے اور ایم اے بناتا ہے، اسی طرح اساتذہ کو شمس العلما ءکرتا ہے ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ علی گڑھ میں خطاب کرنا ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں سے خطاب کرنے کے برابر ہے ۔ یہی نہیں ان کے دور آخر میں علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کی جو جدوجہد شروع ہوئی تھی، اس میں بھی وہ شریک رہے ۔ ‘‘
علامہ شبلی نعمانی صرف عالم، مصنف، ادیب، نقاد اور سیرت نگار ہی نہیں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے علم بردار، ایک مفکر و دانشور بھی تھے ۔ ندوۃ العلماء اور دارالصنفین کے قیام کی تحریک ان کے دو بڑے کارنامے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول ’’ ندوہ سے وہ روشن خیال علماء اور دارالصنفین سے ہوش مند اہل قلم پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام کی صاف شفاف شبیہ پر بالقصد جو گرد جمائی جا رہی ہے یا تاریخ اسلام کی روشن جبیں کو جو داغدار کیا جا رہا ہے اسے آئینہ کیا جا سکے ۔ ‘‘ آج یہ دونوں ہی ادارے علامہ شبلی نعمانی کے خوابوں کی تعبیر بنے ہوئے ہیں ۔ علامہ نے اعظم گڑھ میں ایک نیشنل اسکول کی بنیاد بھی رکھی تھی، اس کے لیے انہوں نے اپنی اور اپنے اعزہ کی زمینیں وقف کیں، اور اچھے اساتذہ چنے، عمارتیں بنوائیں ۔ یہ آج شبلی نیشنل کالج کی صورت میں مشرقی یوپی میں مسلمانوں کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے ۔ علامہ نے عثمانیہ یونیورسٹی کا نصاب تیار کیا اور ریاست بھوپال کے مدارس کی ترتیب نو کی ۔ تو اوپر کے سوالوں میں سے ایک سوال کا جواب یہ ہے کہ علامہ شبلی نعمانی نے مسلمانوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرانے کے لیے عملی اقدامات کیے ۔ آج کے مسلمانوں کے جو مسائل ہیں ان میں سے ایک، بلکہ سب سے بڑا مسئلہ تعلیم ہے ۔ علامہ نے ایک راہ دکھائی ہے اور بتایا ہے کہ اگر جدوجہد کی جائے تو مسلم یونیورسٹی، ندوۃ العلماء ، شبلی کالج اور دارالمصنفین جیسے ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ علامہ کی، تعلیمی اداروں کے قیام کی جدوجہد سے، ہم سب واقف ہوں اور اس سے تحریک حاصل کریں ۔ اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں کو روشن کرتی ہوئی کتابیں پڑھی جائیں ۔ یہ کتاب اسی غرض سے شائع کی گئی ہے ۔ علامہ شبلی نعمانی کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے جسے اس کتاب کے ایک مضمون ’’ علامہ شبلی کا علمی، ادبی اور فکری سرمایہ‘‘ سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ علامہ سوانح نگار تھے، الفاروق، المامون اور سیرۃالنبی، یہ ایسی کتابیں ہیں جن کی مثال نہیں ملتی ۔ سیرۃالنبی، سیرت پر ایسی کتاب ہے جس کی ہمیشہ سیرت نگاری کے میدان میں تقلید کی جائے گی ۔ علامہ تاریخ نگار تھے، اور وہ بھی اعلیٰ ترین، مثال کے لیے مذکورہ کتابوں کے علاوہ اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر، کتاب قاری دیکھ سکتے ہیں ۔ علامہ شبلی نعمانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے تاریخ نگاری کے جدید ترین اصول وضع کیے، اور ان پر عمل کیا ۔ علامہ زبردست تنقید نگار تھے، شعرالعجم اور موازنہ انیس و دبیر، آج بھی تنقید کی شاہکار کتابوں میں شمار کی جاتی ہیں ۔ فارسی ادب، مکتوباتی ادب میں بھی علامہ کا کام زندہ رہنے والا ہے ۔ علامہ کا ایک بڑا کارنامہ اشاعت اسلام تھا ۔ آریہ سماج کے مبلغین کی ریشہ دوانیوں کے سبب بہت سے مسلمان مرتد ہو رہے تھے، علامہ نے اس کے سدباب کے لیے عملی کوششیں کیں، ندوہ میں سنسکرت کی تعلیم کا بندوبست کرکے آریوں سے مقابلے کے لیے طلبہ کو تیار کیا، صیغہ حفاظت و اشاعت اسلام کا قیام کیا، گاوؤں میں واعظین کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا، اردو زبان اور قرآن مجید کی تعلیم کے لیے مکاتب کے قیام پر زور دیا، انگریزی خواں افراد کے لیے دینیات کا نصاب تیار کرایا، آریوں کے رد میں رسالے تیار کراے، غرضیکہ ہر ممکنہ عملی اقدامات کیے ۔ آج پھر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ لو جہاد کے، اور دوسرے بہانوں سے مسلمانوں کے دین اور ایمان پر ڈاکے ڈالنے کی اب پوری تیاری ہے، بلکہ جگہ جگہ سے ارتداد کی خبریں آنے لگی ہیں ۔ علامہ ملکی اور بین الاقوامی سیاسیات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے ۔ انگریزی راج کے خلاف انہوں نے قلمی جہاد کیا تھا اور یہ رائے بنائی تھی کہ مسلمانوں کو سیاست سے دور نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے ۔ علامہ شبلی سیاست میں مسلمانوں کے حصہ لینے کو ضروری خیال کرتے تھے لیکن ان کے فکری جانشین نے، بدلے ہوئے حالات میں ہی سہی، مسلمانوں کو سیاست میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دے دیا ۔ علامہ شبلی نے مسلمانوں کی پولیٹیکل کروٹ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں سیاست کی صحیح اسکیم، مسلمانوں کی سیاسی خامیاں، ہندو مسلم اتحاد اور مسلم لیگ کی سیاست وغیرہ پر بات کی ہے ۔ ضروری ہے کہ شبلی کے اس مضمون کی روشنی میں مسلمانانِ ہند اپنی نئی حکمت عملی تیار کریں ۔ ڈاکٹر صاحب سے استدعا ہے کہ شبلی اور سیاسیات کے حوالے سے سے آج کے تناظر میں کچھ لکھیں تاکہ کوئی راہ سوجھے ۔
یہ کتاب دیباچہ، کتابیات اور اشاریہ کے علاوہ 18 مقالات پر مشتمل ہے ۔ ایک مقالہ علامہ کے بچپن اور تعلیم پر ہے جسے پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ علامہ کے والد شیخ حبیب اللہ مشہور و ممتاز وکیل اور زمیندار تھے، وہ ایک بزرگ الہی شاہ کے مرید تھے، دیندار تھے، رفاہ عام کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، علامہ پر والد کے اثرات پڑے ۔ والدہ قائمہ بی بی تہجد گذار خاتون تھیں، اٹھتیں تو علامہ کو بھی اٹھا دیتیں لہٰذا انہیں سویرے اٹھنے کی ایسی عادت پڑی کہ کبھی نہ چھوٹی ۔ تعلیم حاصل کرنے کا ایسا شوق کہ جب لاہور کے لیے نکلے تو جیب میں 25 روپے تھے، تین روپیہ میں یکّہ سے جونپور ، وہاں سے سات روپیہ میں سہارنپور اور بذریعہ ٹرین پندرہ روپیہ میں لاہور پہنچے ۔ پندرہ روپے خرچ ہو گیے، باقی بچے دس روپے، اس میں ایک روپیہ میں کرائے کا مکان لیا اور باقی کے جو روپیے بچے اس میں دو مہینے گزارے، صرف تعلیم کے حصول کے لیے ۔ یہ مصیبتیں جھیلنے کے بعد ہی وہ علامہ بن سکے ۔
کتاب میں گیارہ مضامین شخصیات، اداروں اور کلکتہ کے حوالے سے علامہ کے تعلق اور رشتوں پر ہیں، مثلاً ایک مضمون کا عنوان ہے، علامہ شبلی اور غالب، اس میں بتایا گیا ہے کہ غالب ہی کی طرح شبلی بھی فارسی زبان کے قادرالکلام شاعر تھے، مولانا ابوالکلام آزاد کا تو یہ ماننا تھا کہ ہندوستان میں فارسی شاعری کا خاتمہ غالب پر نہیں شبلی پر ہوا ۔ اس مضمون میں کلامِ شبلی کے محاسن کے ساتھ، غالب اور شبلی کی تاریخ نگاری اور مکتوب نگاری کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔ یہ ایک وقیع مضمون ہے ۔ علامہ شبلی ، ڈپٹی نذیر احمد اور اعظم گڑھ، اس عنوان سے ایک مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد جب اعظم گڑھ میں ڈپٹی کلکٹر کے طور پر تعینات تھے، کوئی چار سال، تب علامہ زیرتعلیم تھے، لیکن دونوں کے درمیان اس دور میں تعلقات قائم ہوئے، اور ڈپٹی نذیر احمد، علامہ کی ذہانت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جلسوں میں ان کی تعریف و توصیف کرنے لگے ۔ 1903ء میں پروفیسر آرنلڈ کی صدارت میں انجمن ترقی اردو کا قیام ہوا، ڈپٹی صاحب اس کے نائب صدر اور شبلی سکریٹری تھے ۔ یہ انتہائی معلوماتی مضمون ہے ۔ نواب محسن الملک سے علامہ کے تعلق پر ایک مضمون شامل ہے جو دلچسپ بھی ہے اور اس میں اُس دور کی ادبی اور تہذیبی فضا بھی روشن نظر آتی ہے ۔ ایک مضمون کا عنوان ہے، علامہ اقبال شبلی کی انجمن میں، یہاں انجمن سے مراد انجمن ترقی اردو ہے، شبلی نعمانی جس کے سکریٹری تھے ۔ انجمن نے جو کتابیں ترجمہ کرائیں ان کے معیاری اور غیر معیاری ہونے کی جانچ کے لیے جن اربابِ کمال کا انتخاب کیا گیا تھا ان میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ۔ اایک مضمون عطیہ فیضی پر نصراللہ خان کے خاکے کے حوالے سے بعنوان، علامہ شبلی اور عطیہ فیضی : چند حقائق، دلچسپ بھی ہے اور چشم کشا بھی، اس میں نصر اللہ خان اور عطیہ فیضی کے کئی جھوٹ اجاگر کیے گیے ہیں، اور علامہ شبلی پر اٹھنے والے کئی اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی اس مضمون کے بارے میں دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ’’ اس کتاب میں تاریخی حقائق کی روشنی میں غالباً پہلی بار دونوں کے تعلقات اور خیالات کا محققانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو داستان گھڑی گئی اور جسے بار بار دہرایا گیا اور جسے آج بھی بعض کم نظر دہراتے ہیں، وہ ایک فرضی داستان ہے ۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور اس میں بعض اہل قلم اور خود عطیہ فیضی کی کسی قدر ملمع سازی شامل تھی ۔ ‘‘
ایک مقالہ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری اور علامہ شبلی کے تعلقات پر ہے ۔ اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ شیخ الحدیث کس قدر علامہ سے محبت رکھتے تھے ۔ شبلی نیشنل اسکول اعظم گڑھ کی تاریخ پر ایک مضمون ہے جس میں علامہ کے منجھلے بھائی مولوی محمد اسحاق کی سالانہ اسکول رپورٹ کو شامل کیا گیا ہے، اور قیام اسکول کے تعلق سے بعض غلط باتوں کو درست کر کے پیش کیا گیا ہے ۔ بعد کے تینوں مقالے بہت اہم ہیں، ایک میں انجمن حمایت الاسلام لاہور سے علامہ کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے، دوسرے میں علامہ کے سفرِ کلکتہ اور اس شہر میں بار بار جانے اور اسے پسند کرنے کا تذکرہ دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے، تیسرا مضمون تصانیف شبلی کے دو دہلوی ناشرین سید ظہورالحسن موسوی اور سید قربان علی بسمل کے تذکرہ پر مبنی ہے ۔ ایک مضمون، جو بڑا اہم ہے، جہانِ شبلی کے عنوان سے ہے، اس میں علامہ کی ان کتب، رسائل اور ان کی طباعتوں و اشاعتوں کی تفصیلات ہیں، جو ڈاکٹر صاحب کی ایک اہم کتاب، کتابیات شبلی، کی اشاعت میں شامل نہیں تھیں ۔ شبلی کے نو دریافت خطوط اور غیر مدون تحریروں پر دو اہم مقالے شامل ہیں ۔
ماہرِ شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی یہ کتاب بلاشبہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر ان کی دیگر کتابوں کی طرح ایک اہم اضافہ ہے، لیکن ایک سوال ہے کہ اس کتاب کے ایک مضمون، مطالعہ شبلی کے چند زاوئے، میں انہوں نے مزید جو کام مطالعہ شبلی کے حوالے سے ممکن بتاے ہیں، جنہیں انہوں نے خود 26 زمروں میں بانٹا ہے، کیا ان پر واقعی کوئی کام کرے گا؟ لگتا نہیں ہے ۔ ڈاکٹر صاحب جس خلوص اور انہماک سے علامہ پر کام کرتے ہیں، کوئی اور کرتا نظر نہیں آتا ۔ کام ہونے چاہئیں لیکن…… گاڑی اس لیکن پر آکر ٹہر جاتی ہے ۔ خیر، ڈاکٹر صاحب اپنی اس کتاب کے لیے، جسے میں ایک کارنامہ سمجھتا ہوں، مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ کتاب کا انتساب مرحوم ادیب، ماہر تعلیم ایم نسیم اعظمی کے نام ہے ۔ یہ ادبی دائرہ اعظم گڑھ سے شائع ہوئی ہے، صفحات 320 ہیں اور قیمت 400 روپے ہے ۔ ممبئی میں اسے مکتبہ جامعہ (موبائل-فون9082835669 ) سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*