نور الہدیٰ سیّد :اب کے دھوئیں میں خون کی سُرخی کا رنگ ہے – ڈاکٹر غلام شبیررانا

کراچی میںمقیم سر زمین بہار سے تعلق رکھنے والے اُردو زبان کے ممتاز افسانہ نگار ،سوانح نگار اورمحقق نو رالہدیٰ سیّد پانچ اگست ۲۰۲۱ء کو دائمی مفارقت دے گئے ۔صرصر ِ اجل سے جدید اُردو افسانے کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی زمیں بوس ہو گئی ۔ فن افسانہ نگاری شخصیات نگاری اور سفرنامہ نگاری کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی میں مستقل قیام کر کے پرورش لوح وقلم میں مصروف رہنے والے اس منکسر المزاج ادیب نے ستائش اورصلے کی تمنا سے بے نیازرہتے ہوئے اردو زبان و ادب کی ثروت میں جواضافہ کیا وہ تاریخ ادب کااہم واقعہ ہے ۔ سترہ افسانوں پر مشتمل اُن کا افسانوی مجموعہ ’’ موسم موسم ‘‘ جب اپریل ۱۹۹۰ء میں فضلی سنز ،کراچی کے زیر اہتمام شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں اُن کے منفرد اسلوب کی دُھوم مچ گئی ۔ اپنے متنوع خیالات اورنادر موضوعات سے قارئین کو مسحورکر دینے والا افسانہ نگارہماری بزم وفا سے اُٹھ گیا یہ سانحہ دیکھ کر قارئین ادب کا دِل بیٹھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردو زبان و ادب کا یہ سانحہ رونما ہو گیا اور ادبی دنیا تقدیر کے اس ستم کو دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی ۔ اپنے افسانوں میںحُسن ورومان ،معاشرتی زندگی کے تضادات ، ترقی پسند تحریک ،حلقۂ ارباب ِ ذوق ،جدیدیت ،پس نو آبادیاتی دور میں معاشرتی زندگی کے ارتعاشات اور معاصر ادبی تحریکات کا عمیق مطالعہ کرنے والا جری تخلیق کار اپنے جذبات ،احساسات ،تجربات اور مشاہدات کو زیب ِقرطاس کرنے کے بعد خود افسانہ بن گیا۔ اپنے منفرد اور پُرلطف اسلوب سے قارئین کو شخصیات نگاری اور سفر نامہ نگاری کے موضوع پر قابل مطالعہ مواد فراہم کرنے والی اُن کی معرکہ آرا تصنیف ’’ تذکارِ نظامی ‘‘ جو محمد نظام الدین کی شخصیت اور سفرنامے کا احاطہ کرتی ہے جنوری ۲۰۱۰ء میں کولکاتہ ( بھارت )سے شائع ہوئی۔ نور الہدیٰ سیّد نے معاشرتی زندگی کے تلخ حقائق کوافسانوی انداز میں پیش کرنے کا جو منفرد انداز اپنا یا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ نو ر الہدیٰ سید کے افسانوی مجموعہ ’’ موسم موسم ‘‘کا پیش لفظ محمود واجد نے لکھاہے اور کتاب کے آخر میں احمد ہمیش کا وقیع تجزیاتی مضمون شامل ہے ۔ زندگی میں چاند گرہن کی کییفات اور بدلتے موسموں کے انداز سب پر نور الہدیٰ سیّدکی گہری نظر تھی ۔
نور الہدیٰ سیّد نے گزشتہ صدی کے چھٹے عشرے میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا ۔ معاشرتی زندگی میں عمرانی مسائل کی تیزی سے بدلتی ہوئی جہات اور حیات و کائنات کے مختلف رُوپ نو ر الہدی ٰ سیّدکے افسانوں کا اہم ترین موضوع رہا ہے ۔ نور الہدیٰ سیّد نے اپنے افسانوں میں خوابوں کی خیاباں سازیوں کے بجائے زندگی کے تلخ حقائق کو پیشِ نظررکھاہے ۔معاشرتی اور سماجی مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میںپیش کرنا نور الہدیٰ سیّد کا مطمح نظررہاہے ۔ پس نو آبادیاتی دور میں حُسن و رومان کے مظہرتخیل کی شادابی کے بجائے غم ِ جہاں اور دُکھی انسانیت کو درپیش مسائل پر کُھل کر لکھنے والے اس جری تخلیق کار کا اسلوب پتھروں کو بھی موم کر دیتاہے ۔ زندگی بلا شبہ جوئے شیر وتیشہ و سنگِ گراں ہے۔انسان کی زندگی کا سفر تو اُفتا ںو خیزاں کٹ ہی جاتا ہے مگر اس دشت پُر خار میں کڑی دُھوپ کے اِس سفر کے آبلہ پا مسافروں کاپُورا وجود کِرچیوں میں بٹ جاتاہے ۔ مرنے کے بعد بھی طبقاتی کش مکش انسان کا تعاقب کرتی ہے ۔شہر خموشاں میں اس کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں :
’’ قبرستانوں کا بھی عجیب حال ہوگیاہے ۔قبریں بنی بنائی تیار ملتی ہیں ،فلیٹوں کی طرح ،کوئی کارنر کی ہے تو کوئی بِیچ کی ۔چھوٹوں کے لیے چھوٹی بڑوں کے لیے بڑی ۔ گورکن تعمیرات کے ٹھیکے دارہیںاور ٹھیکہ کا کام جَیسا تَیسا ہوتاہے ۔‘‘ ( موسم موسم :افسانہ پرواز،صفحہ ۲۵)
خوف کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ عمل کی راہ میں سد سکندری بن کر حائل ہو جاتاہے ۔راہِ عمل کے مسافروں کے لیے یہ امر نا گزیر ہے کہ وہ موہوم اندیشوں کو بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکیں۔ہمتِ مردانہ انسان کو ستاروں پر کمند ڈالنے کا ولولہ عطا کرتی ہے ۔زندگی کی حقیقی معنویت سے آشنا ہونے کے بعداندیشہ ہائے دور دراز سے گلوخلاصی کے امکانات پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔تھکنے کے باوجود رُکنا مناسب نہیں بل کہ ہر قسم کے خوف کو دِل سے جھٹک کر سر کے بَل چَل کر منزل کی جانب سفر جاری رکھنا چاہیے ۔ پُر عزم انسان جب خوف سے نجات حاصل کرلیتے ہیں تو کامیابی اُن کے قدم چُومتی ہے ۔ نور الہدیٰ سیّدنے خوف کے پس پردہ کار فرما نفسیاتی عوامل اور اُن کے مسموم اثرات کے بارے میںلکھا ہے :
’’ میں سوچتا ہوں اورزیادہ تھکن محسوس کرنے لگتاہوں ۔تھکن جو ہر لمحہ خوف کی طرف مائل کرتی ہے اورخوف تو موت کا آئینہ ہوتاہے ،جو جسم و جان کی ہر شاخ کو جھنجھوڑ کر ر کھ دیتاہے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ پرواز،صفحہ۱۹)
تاریخ کے ہر دور میںعقرب کے مانند اپنے اقربا اور محسنوں پر نیش زنی کرنا ہر بروٹس کا وتیرہ رہا ہے ۔ طوائفوں،ٹکہائیوں اور کسبیوں کے بھڑوے زمین کابوجھ بن جاتے ہیں ۔لذتِ ایذا حاصل کرنے والے ہربے حِس اُٹھائی گیرے کا بحرِ جور و ستم ہمہ وقت اوج و موج و تلاطم کا منظر پیش کرتاتھا۔ نو آبادیاتی دور میں برطانوی شہرشور ڈِچ (Shoreditch) سے متاثر ہو کر عریانی اور فحاشی کی راہ پر چلنے والی فیشن زدہ رذیل رنڈیاں اوراُن کی اولاد ہر سادیت پسند کی زندگی کا محور تھی۔شہر کوراں کے مظلوم لوگ اس قماش کے موذی و مکار درندوں کی سادیت پسندی کا شکار تھے اور یہ چکنے گھڑے اپنے مظالم کے خمیازہ کش تھے اور مظلوم انسانوں کی نفرتوں اور حقارتوں نے سدا اُن کا تعاقب کیا ۔اجلاف و ارذال کے پروردہ ان سفہا کے بارے میں اکثر لوگ یہ کہتے تھے کہ گُرگ آشتی کو اپنا وتیرہ بنانے والے یہ خضاب آلودہ بھیڑیے ہر وقت اسی تاک میں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی فربہ میمنے پر کوئی فرضی اور من گھڑت الزام لگا کر اُس کی شہ رگ کا خون ڈکار لیں اور اس کے چربیلے گوشت سے اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لیں ۔گلزار ِ ہست و بُود میںنباتات کی نشوو نمااورگُل و خار کے حوالے سے نو ر الہدیٰ سیّدنے جدت اور تنوع کو اپنایا ہے ۔ فرانسیسی ادیب مار کیوس ڈی سیڈ ( 1740-1814 : Marquis de Sade )نے جنسی موضوع پر غیظ و غضب سے بھرے،اہانت آمیز اور ناقابل فہم لذتِ ایذاکا جو تصور پیش کیا اُسے سائنسی اندازِفکر سے ہم آ ہنگ کرکے افسانوی رنگ عطا کرنا منفرد اسلوب کی دلیل ہے۔کھیتوں میں اُگنے والے خاردار پودے اور جھاڑیاں اپنی جگہ اہم ہیں ۔کریروں ،پوہلی،جوانہہ ،لیدھا ،پُٹھ کنڈا،دھتورا ،خار مغیلاں اور کھجوروں کو دیکھ کر حساس تخلیق کار پکار اُٹھتاہے کہ سرِ ہر خار کو تیز رکھنا ضروری ہے ممکن ہے مستقبل قریب میں کسی درماندہآبلہ پا کا اس جانب سے گزر ہو۔ ویران صحرا میں خاردارکریروں کی جواںسال شاخوں پر جب ڈیہلوں کے بُندے سجتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ حسینۂ صحرا نے ہر طرف اپنے حُسن کے جلوے بکھیر دئیے ہیں۔نور الہدیٰ سیّد نے میمی لیریا کے پودے کا گملے میں پا بہ گِل ہونے کا ذکر استعاراتی اندا زمیں کیاہے اور اسے انسانی زندگی سے مر بوط کر کے اپنے اسلوب کا جادو جگایا ہے ۔ایک ذہین افسانہ نگارکی حیثیت سے متعددعلامات کو ایک نفسیاتی کُل کے رُوپ میں ڈھال کر لاشعور کی تاب و تواں کو متشکل کرتے ہوئے آب و گِل کے کھیل میں گملے ،مٹی ،نو خیز پودے ،خورشید جہاں تاب کی شعاعیں ،کلوروفِل ،جعلی تعلقات اورلذتِ ایذاکے نفسیاتی محرکات کی جانب متوجہ کرتے ہوئے نو ر الہدیٰ سیّد نے لکھاہے :
’’ گملے کی ذرا سی مٹی ہٹا دوتو کلوروفِل کا سارا نظام درہم بر ہم ۔پھر بھی سورج کی روشنی رُک کر کسی سے کچھ نہ کہے گی ہاں جو با اختیار ہو گاضرور پوچھے گا!
کلوروفِل کا کیا کروگے اپنے سر اورپیروں پر اُگے ہوئے بے شمار کانٹوں کو تیز اورزہریلے بناؤ گے ؟لذتِ آزار کی اپنی عادتوں سے لوگوں میں اپنے لیے ہم دردیاں جگاؤ گے ؟‘‘
( موسم موسم :افسانہ چُبھن،صفحہ۳۰ )
پس نو آبادیاتی دور میں اُردوزبان میں جو افسانہ لکھا جا رہاہے اُس میں عالمی ادب کے نئے رجحانات مثلاً طلسمی حقیقت نگاری ،آپ بیتی اور نفسیاتی روّیوں پر توجہ مرکوز رہی ہے ۔حال ہی میں شبیر رانا نے اپنے نئے افسانے ’’ رمجانی ٹھگ کی کہانی‘‘میں ان سب عوامل کو پیشِ نظر ر کھاہے ۔اس افسانے کا ایک ظالم و سفاک کردار جسم فروش رذیل طوائف محافظۂ رومان مصبہا بنو ہے ۔ مصبہا بنو کا باپ رمجانی ٹھگکینسر کے مہلک مرض میں مبتلا ہے ۔اپنے قریب المرگ ضعیف باپ کو مصیبت کی اس گھڑی میں وہ محسن کُش طوائف اذیت میں مبتلا کر کے خوشی محسوس کرتی ہے اور محسن کُشی میں بروٹس کو بھی مات دیتی ہے ۔ سادیت پسندی کے عارضے میں مبتلااس مغرور اور سفلہ طوائف کے الفاظ لذتِ ایذا حاصل کرنے کی لائق نفرت مثال ہیں :
’’ رمجانی ٹھگ کے ساتھ اس کے گھر والے مخلص نہ تھے سب اسی فکر میںتھے کہ یہ ٹھنڈا ہو اور اسے نوچ کر کھالیا جائے ۔ماہر معالجین نے رمجانی ٹھگ کے علاج کے لیے جو مجرب ادویات تجویزکیںاُس کی اہلیہ نائکہ تفسہہ، نا خلف بیٹے گنوار انتھک اور جنسی جنونی بیٹی محافظہ ٔرومان مصبہا بنونے وہ مجرب ادویات دواخانے سے خرید کر فراہم کرنے سے معذرت کر لی ۔جس وقت رمجانی ٹھگ سانس گِن گِن کر زندگی کے دِن پورے کر رہا تھاایک شام سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا اس ظالم محافظہ ٔرومان مصبہا بنونے اپنے باپ رمجانی ٹھگ سے مخاطب ہو کر غراتے ہوئے کہا:
’’ کان کھو ل کر سُن لو !تمھاری معمولی پنشن سے اس قدر مہنگا علاج نہیں کرایا جا سکتا۔ اب تو ہمارے پڑوسی بزاز بھی مزید رقم دینے سے گریزاں ہیں۔ میری پانچ بہنوں کی شادی ہو چکی ہے اور کو ئی نئی کارکن ادھر کا رُخ نہیں کرتی۔میں تنہا کب تک یہ بوجھ اُٹھا سکتی ہوں ؟ ہم کب تک دلال کے کمال پر انحصار کر سکتے ہیں اور اب تو خرچی کا سلسلہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے ۔‘‘
( شبیر رانا : افسانہ ’’ رمجانی ٹھگ کی کہانی ‘‘ مطبوعہ ماہ نامہ نیرنگ ِخیال راول پنڈی ،جون ۲۰۲۱،صفحہ ۳۶)
معاشرتی زندگی پر جب بے حسی کا عفریت منڈلا نے لگتاہے تو زاغ و زغن ،بُوم و شِپر اور گدھ کثرت سے دکھائی دیتے ہیں ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ محبت کے دیوتا کاما دیوا (Kamadeva)کی طرح نفرت کی بھی دیوی ہوتی ہے جسے مناسا (Manasa) کہتے ہیں ۔نفرت کی دیوی ہو یا چاہت کا دیوتا دونوں ہی بصارت سے محروم ہیں ۔معاشرتی زندگی میں کسی بھی خون آشام بد طینت درندے سے نفرت کی نہیںجاتی بل کہ اس کی بد اعمالیاں،سفاکی اور نا انصافیاں اس قدر ناقابل برداشت اور اذیت ناک ہوتی ہیں کہ اس سے خود بہ خود نفرت ہو جاتی ہے ۔اُس کی بے راہ روی ، بد سلوکی اور بد زبانی کو دیکھ کر انسان اس سے متنفر ہو جاتاہے ۔جس معاشرے میں بہرام ٹھگ ،رمجانی ٹھگ ،تفسہہ اور مصبہا بنو جیسے آدم خور موجود ہوں وہاں تیامت کی کوئی احتیاج ہی نہیں ۔گنوار انتھک جیسے ابلہ بھی جب اپنے تئیں اوج بن عنق بن بیٹھیں تو قلعہ ٔ فراموشی کے اسیر کیا کریں ؟ان مسموم حالات میںبے حِس لوگوں کے چہرے پر مُردنی سی چھا جاتی ہے ان حالات کو دیکھ کر گِدھ بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ انھیں مُردار کھانے کے فراواں مواقع مِل جاتے ہیں۔اپنے ارمانوں کی لاش اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے یہاں کے اکثر مظلوم قتل نہ ہونے کے باجود عملی طور پر مقتول ہی ہیں۔یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ اپنی انا کو بارہ پتھر کرنے کے بعد اکثر لوگ کاسۂ گدائی تھامے شہر کوراںمیں ہمدردیوں کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ نور الہدیٰ سیّدنے بھیک مانگنے والے کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں لکھاہے :
’’لیکن نہیں ۔۔۔مانگنے کی جرأت تو حقارت کے احساس پر حاوی ہونے کے بعد ہی بار آور ہوتی ہے اور ہم لوگ جو کچھ سوچتے ہیں سب کا سب درست نہیں ہوتا۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ اَن کہی ،صفحہ ۳۸)
افسا نہ ’’ کھیل نیم دائرے میں ‘‘ گہری معنویت کا حامل ہے اس میں جذبات و احساسات اور دائمی مفارقت دینے والوں کے صدمات کو نہایت موثر انداز میں پیرایۂ اظہار عطاکیا گیاہے ۔دِل کی زنبیل میں جذبات کا ہاتھ ڈال کر افسانہ نگار نے زندگی کے تلخ حقائق کی گرہ کشائی کرنے کی سعی کی ہے ۔ سمندر ،پانی اور تشنگی کے احساس کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے نور الہدیٰ سیّد نے موجوں کی روانی اور تلاطم کو ایک ایسے پاگل پن سے تعبیر کیا ہے جو اپنے انجام سے بے خبر ہے ۔ دائمی مفارقت دینے والوں کا ملنا بعید از قیاس ہے۔ جان لیوا حسرت و یاس کے باوجود پس ماندگان اپنی زندگی اسی انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ شاید اس چاک کو رفو کرنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے ۔اسی امید پر وہ اپنی روح اور قلب کے در وا رکھتے ہیں ۔ رخشِ حیات پیہم رو میں ہے جب کہ ضیا اور ظلمت کی حرکت بھی ایک ساتھ جاری رہتی ہے ۔ ہر حرکت اپنی نوعیت کے اعتبار سے جمود کی اسیر ہے ۔افسانہ نگار نے موسموں کے تغیر و تبدل اور دِل کی کلی کے کِھلنے اور مُرجھانے کی کیفیات کی لفظی مرقع نگاری کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’ کھڑکیاں کُھلی ہوں تو ہوا کے جھونکے اسی طرح داخل ہوتے ہیں جیسے کہ یہ دِلوں کا معاملہ ہو۔۔۔۔داخل ہوتے ہی ہوا کے جھونکے تمام چیزوںکو گُد گُداتے ہیںاورساری چیزیں کِھل کِھلا اُٹھتی ہیں ۔روشن بلب بھی ہوا کے جھونکوں سے ہی ڈول رہے تھے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ کھیل نیم دائرے میں ،صفحہ۴۳ )
بیتے لمحات کی چاپ سُن کر آہیں بھرنے والوں کو افسانہ نگارنے یہ باورکرانے کی کوشش کی ہے کہ ہر لمحہ گھڑیا ل یہی منادی کرر ہاہے کہ جو لمحہ بِیت گیا وہ اب ہماری دسترس میں نہیں ۔ماضی کے جھروکوں سے آنے والے دور کی ایک دُھندلی سی تصویر دیکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا وقت کااہم ترین تقاضا ہے ۔ اردو زبان کے ممتازنقاد اور ادیب شمیم حنفی ( ۱۹۳۸۔۲۰۲۱)نے کہا تھا:
بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ
ڈُوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ
تُونے جو پرچھائیاں چھوڑیںوہ صحرا بن گئیں
اے نِگارِ وقت اَب پیچھے کبھی مُڑکر نہ دیکھ
قدرت کے کارخانے میں جمود اور سکون کا تصور ہی موجود نہیں یہاں ہر لحظہ نیا طُور نئی برقِ تجلی کی کیفیت زندگی میں تغیر و تبدل کی مظہر ہے ۔روشن مستقبل پر نظر رکھنے والوں کو آئینہ ایام میں اپنی ہر ادا دیکھنے کے بعداپنے حال کو سنوارنے کی خاطراور نئے زمانے نئی صبح وشام پیدا کرنے میں جس انہماک کامظاہرہ کرنا چاہیے نور الہدیٰ سیّد نے اُسی جانب متوجہ کیا ہے ۔ نور الہدیٰ سیّدکا افسانہ ’’ ماضی اور ماضی ‘‘ایام ِگزشتہ کی کتاب کی ور ق گردانی کرتے ہوئے ہر حال میں تقدیر کے لکھے پر راضی رہنے کی ایک صورت سامنے لاتاہے ۔ ماضی تو تاریخ کے طوماروں میں دب جاتاہے جب کہ آنے والادور وہم و گمان اور اسرار و رموز کے پردے میں پنہاں ہے ۔یہ موجودہ زمانہ ہی ہے جسے غنیمت سمجھنا چاہیے اس لیے زمانہ حال کو بہتربنانے میںکوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنی چاہیے ۔ماضی کے کٹھن حالات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے نئے زمانے میں درپیش حالات کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہی دانش مندی کی علامت ہے ۔ گزرا ہوا زمانہ دراصل عبرت کا تازیانہ ہے جو مستقبل کے عزائم کو مہمیز کرنے کا وسیلہ ثابت ہوتاہے ۔ ماضی کے واقعات اور حالات نشانِ راہ تو ثابت ہو سکتے ہیں مگر انھیں سنگِ میل سمجھنا ایک مہلک غلطی کے مترادف ہے ۔
اپنے افسانے ’’ پیکار ‘‘میں نور الہدیٰ سیّدنے شہروں اور مقامات کے ناموں سے وابستہ حقائق کوسامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ افسانہ نگار کا خیال ہے کہ پرانی بستیوں کا نیا نام رکھنے سے وہاں کی تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایات متاثر نہیں ہو سکتیں ۔کسی بھی جگہ بستی کا آباد ہونا صدیوں کی تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کا امین ہوتاہے ۔مقامات کے نام بدل دینے سے وہاں کے مکینوں کے کام کیسے بدل سکتے ہیں ؟مکان کا نام بدلنے سے مکینوں کے مستقبل کے امکان تو وہی رہتے ہیں ۔ افسانہ نگار نے کرداروں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے یک طرفہ تعلقات کی نوعیت کے باوجود متعلقہ مسائل کی تفصیل بھی پیش کردی ہے ۔ افسانہ نگار نے بستیوں ،مقامات اور آثار کے ناموں کے حوالے سے لکھاہے :
’’ نام کی اہمیت ہی کیا ہے ؟نام تو محض پہچان کے لیے ہوتے ہیں ۔ایک صدی کی وسعت میں پھیلے ہوئے بے نام لمحوں کی الگ الگ اہمیت سے کِس کو انکار ہو سکتاہے ؟‘‘
( موسم موسم :افسانہ پیکار، ،صفحہ۵۷)
اپنے افسانے ’’ قیدی لوگ ‘‘ میں نور الہدیٰ سیّد نے اس کائنات میں مظلوم انسانوں کی بے بسی کا نقشہ پیش کیا ہے ۔ساری دنیا کے حالات بدل رہے ہیں مگر الم نصیب جگر فگار انسانوں کے حالات جوں کے توں ہیں ۔اس معاشرے میں بے ضمیروں کے وارے نیارے ہیں مگر گردشِ ایام کے زندان میں محبوس فقیروں کا کوئی پُرسانِ حال ہی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ جان لیوا صدمات اور اعصاب شکن حالات سے دوچار قیدی لوگوںکو قلعۂ فراموشی میں محبوس کر دیا گیاہے جہاں انھیں اپنی اذیت و عقوبت کے لمحات بھی بُھول چُکے ہیں ۔ ان قیدی لوگوں کی شورش زندان میں بھی ختم نہیں ہوتی اس کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ معاشرے کی نظروںسے تو اوجھل ہو جاتے ہیں مگر جن شقاوت آمیز ناانصافیوں کے باعث انھیں پا بہ جولاں رکھا گیا اُن کا مداوا نہ ہو سکا۔ تیسری دنیا کے پس ماندہ ممالک میں مقیم مجبورو ںپر مختاری کی جو تہمت لگی ہے اس کے حوالے سے ’’ قید ی لوگ ‘‘ ہمارے عہد کاایک المیہ سامنے لاتی ہے۔ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میںلا ل کنور،ادھم بائی ، زہرہ کنجڑن اور نعمت خان کلانونت کے خاندانوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیںدیا۔پس نو آبادیاتی دور میں تیسری دنیا کے ممالک کی آزادی کو اس قدربے وقعت بنا دیا گیاہے کہ اِن اقوام کے سرپرتو خود مختاری کا تاج سجا دیا گیا ہے مگر ان کے پاؤں بیڑیوں سے فگار ہیں ۔
’’ آدمی قید ہوتاہے یا ساری زندگی خود کو روپوش رکھنے کی کوششوں میں لگا رہتاہے۔دونوں ایک ہی بات ہے ۔ سو یہ جانے بغیر کہ وہ کون تھامجھے اُسے کوئی نفرت نہ ہوئی البتہ میں اس چادر کی سیاہی پر غور کرنے لگاجس میں وہ چُھپا تھا۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ قیدی لوگ ،صفحہ۶۴)
ندی کے پانی کے بہاؤ کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھاگیاافسانہ ’’ نکاس ‘‘ ایک انوکھے تجربے اور مشاہدے کی عکاسی کرتاہے ۔ اس افسانے میں ارسطو کا نظریہ تزکیہ نفس قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے ۔ارسطو کا خیال تھاکہ حساس اورذہین تخلیق کار کی تخلیقی فعالیت سے ادبی تخلیقات سے نمو پانے والے جذباتی تاثرات ان خوابیدہ جذبات کو ایسی تمازت سے متمتع کرتے ہیں جواظہار کی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اپنی روانی کے لیے راہ نہ پانے کی صورت میں ندی نالے جب چڑھنے لگتے ہیںتو سب رکاوٹوں کو خس و خاشاک کے مانند بہا لے جاتے ہیں ۔اسی طرح بڑھتے ہوئے جذبات بھی اپنے اخراج کے لیے موزوں صورت تلاش کر لیتے ہیں۔جذبات کے اس انداز میں اخراج کے عمل کو ارسطو نے تزکیہ ٔ نفس( Katharsis) سے تعبیر کیا ہے ۔عام مشاہدہ ہے کہ حبس اور جبرکے ماحول میںانسان شدید گھٹن اور اعصابی تناؤ کا شکارہو جاتاہے ۔جب متاعِ لو ح و قلم چھین لی جائے اور لبِ اظہار پر تالے لگا دئیے جائیں تو قیامت کے اس دُکھ میں ایسی نفسیاتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر جذبات کا اظہار نہ ہو سکے تو ہرطرف مرگِ ناگہانی کا آسیب منڈلانے لگتاہے ۔تزکیہ ٔ نفس کا تعلق اخلاقیات سے زیادہ نفسیات سے ہے ۔ادیب تخلیق فن کے لمحوں میں تزکیہ ٔ نفس کرتاہے جب کہ قارئین بھی اس کی ادبی تخلیقات کے مطالعہ سے اپنے جذبات کی تسکین اور تزکیہ ٔنفس کی ممکنہ صورت تلاش کر لیتے ہیں ۔پانی کے نکاس پر گہری نظر رکھنے والے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آبِ رواں کو سدا اپنے بہاؤ ہی سے غرض ہوتی ہے ۔ آب ِرواں کو اپنے ہاتھ سے چُھو نے والوں کوبہتا ہوا پانی اپنے نکاس کے مقا م پر اس حقیقت سے متنبہ کرتاہے کہ اِس سے قبل کئی لہریں گزر چکی ہیں اور اس کے بعدکئی اور موجیں اسی نکاس سے گزرنے والی ہیں ۔یہ اس جانب اشارہ ہے کہ سیکڑوں دورِ فلک ابھی راہ میں ہیں۔بہتے ہوئے پانی کی تازگی اور شگفتگی کا سدا بہار احساس اس افسانے کو نیاآہنگ عطاکرتاہے ۔نکاس کے مقام پر بہتے ہوئے پانی کی روانی اور لہروں کی طغیانی سے متاثر ہونے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے اپنی زندگی کا گزر جانے والا ہر لمحہ نکاسی ٔ آب کے مانند ہے ۔اسے ایام گزشتہ کی کہانی کا ایسا باب سمجھنا چاہیے جوپھر کبھی لوٹ کر نہیں آ سکتا۔نخلِ حیات سے ٹونے والی ہر شاخ کے مقام سے ہمیشہ نئی شاخ پُھوٹتی ہے ۔جذبوں کی جوانی اور ندی کی روانی کی حقیقی کیفیت جاننے کی غرض سے اپنے من کی غواصی نا گزیر ہے ۔ نور الہدیٰ سیّد نے اپنے افسانے ’’ نکاس ‘‘ میں لکھاہے :
’’ پانی کی سطح پر بنتی اور بگڑتی لہریں ندی کی اصل روانی نہیں ہوتیں ۔۔۔روانی تو ندی کے اندر ہوتی ہے اِتنی زور دارکہ ۔۔۔۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ نکاس ،صفحہ۸۲)
کسی کی جستجو کے لیے اس کے ساتھ کوئی تعلق ہونا ضروری ہے ۔افسانہ ’’ نایافت ‘‘ میںنور الہدیٰ سیّد نے کھوئے ہوؤںکی جستجوکے حوالے سے معنی خیزباتیں لکھی ہیں ۔افسانہ نگار نے نا یافت کے حوالے سے سوچ کر اپنے وجود کااثبات کیا ہے ۔منتشر خیالات ہوں یہ شہر کے کوچہ و بازار میں ناشاد وناکارہ پھرنے والوں کی بھی کسی نہ کسی کو جستجو ضرور ہوتی ہے ۔گردشِ ایام ہر لحظہ اور ہر گام ہمارے ساتھ رہتی ہے اور وہ لوگ جنھیں ہم دیکھ کر جیتے ہیں وہ جب اچانک آ نکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں تواُن کی یاد میں کلیجہ منھ کو آتاہے اور ہم ان کی تلاش میں جی کا زیان کرنے پر تُل جاتے ہیں ۔ پر ِ زمانہ دراصل پروازِ نُور سے کہیں بڑھ کر تیز ہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ راہیں،پناہ گاہیں اور سیر گاہیں جہاں ہم کسی عزیز ہستی کے ساتھ مِل کر گھومتے تھے وہ ہماری دسترس میں نہیں رہتیں ۔اُن کی باز یافت کے لیے ہمیں کئی جتن کرنے پڑتے ہیں ۔کسی کو پا لینے کی خواہش میں کیا جانے ولا یہ سفر در اصل اپنی روح اورقلب میں غوطہ زن ہونے کی ایک سعی سے تعبیر کیا جا سکتاہے ۔اس افسانے میں کئی ادھوری ملاقاتوں اور نا گفتہ باتوں کے حوالے سے دریافت کے نا یافت میں بدلنے کے دُکھ کا ذکر کیا گیاہے ۔ اس افسانے کاایک کردار بندو کوچوان ہے جو اپنے گھوڑے کا کوئی نام نہیں رکھتا اور رعونت کا مظاہرہ کرنے والوں پر طنز کرتے ہوئے کہتاہے :
’’ اِس کا تو نام ہی نہ رکھا میں نے ۔ویسے نام ہو تو بندہ اکڑنے لگاہے اور پھردوسروںکوبے نام کر دینا چاہتاہے اور سب کچھ بُھول جاتاہے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ نایافت ،صفحہ۸۹)
ہر پیشے سے وابستہ لوگ آج بھی اپنے پیشے کے تقاضوں کے مطابق کام میں مصروف ہیں مگر منشیات کی لت نے گاہکوں کاذوق غارت کر دیا ہے ۔ زندگی کی کہانی ہر دور میں سفر کرتی چلی آ رہی ہے ۔اس دنیا میں تارے انساں ،شجر حجر ،بحر و بر ،کوہ و دریا اورابر وبادسب کے سب سفر میں ہے ۔رخشِ حیات کی طرح اس سے وابستہ کہانیوں نے بھی اپنا سفر سد اجاری رکھا ہے ۔ان کہانیوں کے سب کردار اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دوا ںہیں ۔اس سفر کے اختتام پر دائمی مفارقت کی گھڑی سر پر آ کھڑی ہوتی ہے ۔ مفارقت کو ایک پریشان کُن تجربے کے رُوپ میں پیش کرکے افسانہ نگار نے اپنی فنی مہارت اوراسلوبیاتی تنوع کا لوہا منوایا ہے :
’’ تلاش تعلق پر مبنی ہے اور کہانی ۔جسے اس نے دیکھا نہ سُنا ۔اُس کی تلاش سے اس کا کیا تعلق ۔مگر پھر بھی ۔۔۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ نایافت ،صفحہ۸۵)
’’ بُھوک سے آسودگی تک کے سفر میں حرص وہوس کے عفریت سے بچاؤ کے لیے کسی قطعی تبدیلی کی ضرورت ہے ورنہ بُھوک اور گولی کے پیکار میں سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ موسم موسم ،صفحہ۹۳)
زندگی میں حادثات کاعجیب انداز ہے جو انسان کے معمولات پر اثراندازہوتاہے ۔افسانے ’’ بریک اَپ ‘‘ کا کردار ’’ گُل ‘‘ ایک حادثے کے بعد کے واقعات کا عینی شاہدہے۔وہ بڑے شہر کی شاہراہوں پر ٹریفک کے بے ہنگم اور بھونڈے نظام پر مضطرب ہے مگر اس بے ڈھنگی چال کی اصلاح کاکوئی امکان نہیں ۔ڈرائیور ،مسافر اور سڑک پر چلنے والی ٹریفک کے بارے میں تمام جزئیات کو افسانے میں شامل کیاگیاہے ۔ٹریفک کے ازدحام میں مسافروں پر جو صدمے گزرتے ہیں ان کی تصویر کشی کرتے ہوئے نور الہدیٰ سیّد نے لکھاہے :
’’ بہر حال یہ ایک حقیقت ضرور ہے کہ اگر کوئی بات سوچوں میں داخل ہو جائے تو وہ کسی نہ کسی طرح اپنی اہمیت کا پتادیتی ہے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ بریک اَپ ،صفحہ۱۰۱)
ایک رقاصہ کی زندگی اور اس کے فن کے بارے میں افسانہ ’’ دوسرا سُورج ‘‘ نہایت موثر انداز میں لکھا گیا ہے ۔ افسانہ نگار کو اس بات کا قلق ہے کہ رقص و سرود کی محفل سجانے والے کس بے درد ی سے رقاصہ کو اپنا جسم و جاں مشقت میں ڈالنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ افسانے کے آغاز میں نور الہدیٰ سیّد نے ایک رقاصہ کو جس انداز میں پیش کیا ہے وہ انداز قاری کو چونکا دیتاہے:
’’ میں اس وقت بھی تمھیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جو رقص میں ہو کیسی دل کش ہو۔میری ساکت نگاہ تمھارے متحرک جسم کو دِھیرے دِھیرے سرکتا دیکھ رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہر لمحہ تمھاری خوب صورتی از سرِ نومجھ پر ظاہر ہوتی رہتی ہے اور مجھے بے تاب کرتی ر ہتی ہے ۔میرا جی چاہتاہے کہ کاش تم ذرا دیر ساکت ہو جاؤ اور میں جی بھر کر تمھیں دیکھ سکوں ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ دوسرا سورج ،صفحہ۱۰۹)
اپنے افسانے ’’ شہرِ آرزو ‘‘ میں نور الہدیٰ سیّد نے جنگ کی تباہ کاریو ںاور بمباری کے نتیجے میں عمارتو ں کے منہدم ہونے اور ملبے میں دب کر ہلاک ہونے والے مظلوم انسانوں کے لواحقین کی چیخ پکارکی لرزہ خیزمنظر کشی کی ہے ۔ صرف عمارات ہی جنگ کی تباہ کاریوںکی زد میں نہیں آتیں بل کہ جنگ کی لپیٹ میں آنے والے خطے تہذیب وثقافت پر بھی جنگوںکے مسموم اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔جنگوں میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے اور حرص و ہوس اور بے حسی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ خون سفید ہو جاتاہے ۔گرگ آشتی کو وتیرہ بنا کر سفہا اپنے ابنائے جنس کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں ۔اُداس بام اور کُھلے در کی جستجو کرنے والے جب جنگ کے بعد ملبے کے ڈھیر کو دیکھتے ہیں اور وہاں سے اپنے عزیزوں کی بے کفن لاشوں کونکالتے ہیں تو اُن کی روح زخم زخم اور دِل کرچی کرچی ہو جاتاہے ۔جنگ ختم ہوگئی مگر انسانیت پر جو کوہِ ستم ٹوٹااس سے مصائب و آلام کا ایک غری مختتم سلسلہ شروع ہو گیا۔افسانہ نگار نے جنگ کی تباہیوں اور تہذیبی و ثقافتی انہدام پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے :
’’ اُس نے سرد آہیں بھریں پھر جلدی جلدی ملبہ کو ہٹانے لگااور ملبے کے اندر سے اُس نے وہ تصویر نکالی ،مٹی میں اَٹی ہوئی ۔وہ اُسے اپنے دامن سے صاف کرنا چاہتاتھالیکن تصویر کا شیشہ چُور چُور ہو چُکا تھااور چو کھٹا نصف اُدھڑ چُکا تھا۔یہ مٹی بھی کیسی عجیب شے ہے رنگ و روغن بِگاڑ دیتی ہے اور نِکھار بھی تو دیتی ہے !پھر سوچنے لگامٹی قوت ہے ،زندگی کا سہارااور ماضی میں کھو گیا ۔لیکن اُس کی یادیں تصویر کے حوالے سے جانے کتنے موڑمُڑتی چلی گئیں اوربالآخروہاں پہنچ کر رُک گئیں جہاں بے شمارسوالات اُس کے سامنے انگاروں پر کھڑے تھے۔خون اور خون ۔۔۔۔ربع صدی کی وسعت میں بہتے ہوئے خون کا دریا ۔۔۔کاش وہ خون جو بہا تھایوں سُوکھ نہ جاتا۔یہ کیسی بد نصیبی ہے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ شہرِ آرزو ،صفحہ۱۱۸)
افسانہ ’’ چاند اور گرہن ‘‘ میں حُسن و رومان کی دل کشی کا احوال ہے۔
افسانہ ’’ زندہ لوگ‘‘میں ہر قسم کی عصبیت کے خلاف آواز اُٹھائی گئی ہے :
’’ علاقائیت ۔۔۔وہ اژدہا ہے جو قومیت کو نِگل جاتاہے ۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ زندہ لوگ ،صفحہ۱۳۴)
’’ اپنے سپنے ‘‘میں روشن مستقبل کے خوابوں کی مسحور کن کیفیات مذکور ہیں ۔اس افسانے میں ایک ملازم کی زندگی کی یکساں اور بے کیف زندگی کوموضوع بنایا گیاہے ۔انتہائی کم تنخواہ میں گزراوقات کرنے و الے ملازمین کی زندگی کے نشیب وفراز کا احوال بیان کرتے ہوئے افسانہ نگار نے لکھاہے :
’’ انسان کی اُمنگیں ،اُس کی تمنائیں مقدر کی تابع ہوتی ہیں کرنے کو سو جتن کرو،پر ہوتا وہی ہے جو مقدر میںہوتاہے ۔۔۔‘‘
( موسم موسم :افسانہ اپنے اپنے سپنے ،صفحہ۱۵۲)
افسانہ ’’ پہلی لڑکی ‘‘میں عورت کی نفسیات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا ہے کہ عورتیں سبھی ایک سی ہوتی ہیں ۔ایک نوجوان لڑکی چندریکا اور اُس کے آشنا کے بارے میں افسانہ نگار نے حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے ۔باہمی روّیوں کی یکساں کیفیت نے اس افسانے کو پر لطف بنادیاہے ۔
نور الہدیٰ سیّد نے پامال راہوں سے بچ کر اپنے لیے جذبات اور احسات کی ترجمان ایک ایسی نئی راہ کا انتخاب کیا جو نئے دور کے تقاضوںسے ہم آ ہنگ ہے ۔تیشۂ حرف سے کلیشے کے سرابوں کی فصیل کو منہدم کرنے والے اس جری تخلیق کار کا نام جریدۂ عالم پر ثبت رہے گا۔اپنے عہد کے معاشرتی اور سماجی نظام کو بدلتے ہوئے دیکھ کر نیا انداز اپنانے والے خوابوں کے اس صورت گر کی وفات سے جوخلا پیدا ہواہے طویل عرصے تک اُس کی کمی عرصے تک محسوس ہوتی رہے گی۔شمس الرحمٰن فاروقی کا یہ شعر حقائق کاترجمان ہے ۔
اب کے دھوئیں میں خون کی سُرخی کا رنگ ہے
یوں اِن گھروں میں پہلے بھی لگتی رہی ہے آگ