نوبل انعام میں سیاست:آخر کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں انڈین ؟ـ پُشپیش پنت

سینئر کالم نگار و ریٹائرڈ پروفیسر جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی، انڈیا
ترجمہ:مسعود بیگ تشنہ،اندور ،انڈیا

ہر سال اکتوبر کے مہینے میں جب نوبل انعامات کا اعلان ہوتا ہے، تب انڈیا میں یہ سوال کروڑوں لوگوں کو پریشان کرنے لگتا ہے کہ سوا ارب سے بھی زیادہ کی آبادی والے ہمارے دیس کے کھاتے میں 120 سال بعد بھی درجن بھر بھی نوبل انعامات کیوں نہیں؟ انگلیوں پر گنے جا سکنے والے اس اعزاز سے نوازی گئی شخصیات میں بھی کئی نام وہ ہیں جو یا تو انڈیا چھوڑ بدیس میں جا بسے، پردیس کی شہریت اختیار کرلی یا وہی ان کا میدان عمل رہاـ اس فہرست میں ہرگوبند کُھرانا، ایس چندر شیکھر، وینکی رام چندرن سب سے پہلے یاد آتے ہیں ـ انڈیا کے جن شہریوں کو نوبل انعام ملا ہے،ان میں دلائی لاما اور مدر ٹیریسا بھی اصلاََ انڈین نہیں ہیں،پھر باری آتی ہے امرتیہ سین اور ابھیجیت بنرجی کی جنہیں نوبل پرائز ان اکانومک سائنس کے اعزاز سے نوازا گیاـ دونوں کا دائرۂ عمل بھی بدیس کی سر زمین رہی ہےـ ماحولیات پر مرکوز غیر سرکاری تنظیم ‘ٹیری’ کو دیا گیا نوبل (الگور کے ساتھ ساجھے میں) ایک الگ درجے میں آتا ہےـ بچتے ہیں آزادی کے پہلے کے انعامات جو گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور اور سر سی وی رمن کو ملے،آزادی کے بعد کیلاش ستیارتھی، ‘بچپن ‘ غیر سرکاری فلاحی ادارے کے بانی اور سر براہ (پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کے ساتھ اشتراک میں)یہ فہرست حقیقت میں بہت چھوٹی ہےـ
مغربی فکر و نظریات کے حامیوں کو اولیت:
یہ بات بار بار ظاہر ہو چکی ہے کہ نوبل انعامات کس قدر سیاست سے متاثر اور آلودہ ہوتے رہے ہیں ـ اس میں سیاسی نظریہ ہی نسل بھید اور سائنسی برادری کا بھائی بھتیجہ پن بھی کم اثر دار دکھلائی نہیں دیتاـ یہ بات سائنس اور ادب کے انعامات کے بارے میں زیر بحث رہی ـ سرد جنگ کے دوران سوشلسٹ دیسوں کے انہی ادیبوں کو نوازا جاتا تھا جو اشتراکیت کے نظام کے مخالف تھے، جیسے پاسترناک، سولزے نِتسن وغیرہ ـ دلائی لاما یا لیچ والیسا سے ہنری کیسنجر تک انہی کو اولیت دی جاتی رہی جو امریکی مغربی خیمے کے دفاعی مفادات کے موافق مخالفین کو نقصان پہنچانے میں کام آسکتے تھےـ اسی لئے گاندھی اور نہرو کی ان دیکھی کی گئی کہ وہ امریکی مغربی مفادات کی بھرپائی نہیں کرتے تھےـ
سفید فاموں کی ان دیکھی، جنس بھید بھی حاوی :
سائنس کے انعامات دوسری طرح کی سیاست سے متاثر رہے ہیں ـ ان انعامات کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایک مد میں تین سائنس داں ہی انعام پا سکتے ہیں ـ اس کا خمیازہ بھی انڈین اور اور دوسرے ترقی پذیر ملکوں کے سائنسدانوں کو بھگتنا پڑا ہےـ ای سی جی سُدرشن اور سندیپ بسوان تحقیقاتی ٹیموں کے ممبران تھے جن کے تین ممبران کو تو انعام سے نوازا گیا لیکن ان کالوں کو چھوڑ دیا گیاـ ایسی ہی ناانصافی (جنس بھید) خواتین کے ساتھ دیکھنے کو ملی ـ واٹسن اور کریک نے جب ڈی این اے کی گتھی سلجھائی تب ان کے ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں والی ‘میری’ نام کی کرسٹلوگرافر کام کر رہی تھیں ـ ان کی بھی ان دیکھی کی گئی ـ سائنس میں کئی نوبل انعام تو ان کو بھی مل گئے جنہیں کہیں فیلوشپ تک نہیں مل سکی ـ
انتخابی کمیٹیوں کی منمانی :
نوبل انعام کوئی ایک کمیٹی نہیں دیتی ـ اس کے لئے الگ الگ کمیٹیاں بنی ہیں ـ ان کمیٹیوں میں بھی بھاری بدعنوانی ہے اور سب یورپ کی سیاست سے چلتی ہیں ـ سویڈن کی شاہی اکادمی جو ان انعامات کا فیصلہ کرتی ہے، منمانے ڈھنگ سے یہ بھی طے کرتی ہے کہ اس سال کس جغرافیائی علاقے کا دعویٰ مضبوط ہے ـ سائنسی تحقیق میں بھی بڑے صنعتی گھرانوں کا گٹھ جوڑ اس میں معنی رکھتا ہےـ دفاعی اہمیت کی نازک تحقیقات کو عام نہیں کیا جا سکتا ہےـ اسی لئے وہ کام خفیہ ہونے کی آڑ میں نظر انداز ہو جاتی ہیں ـ
انڈیا میں کیا کئے جانے کی ضرورت ہے؟
کیلٹیک، ایم آئی ٹی، آکسفورڈ کیمبرج جیسی جگہ کا مقابلہ انڈیا کی کسی تجربہ گاہ سے نہیں کیا جا سکتاـ ہماری یونیورسٹیوں میں نوجوان سائنسدانوں کے اصلی تحقیقی کام کو اپنے نام درج کرانے کا دستور پرانا ہےـ سرکاری طبقوں میں اثر دار منتظم اصلی سائنسی جینئس کی حوصلہ شکنی کرتے اور انہیں تنگ کرتے ہیں ـ ہماری اصلی فکر نوبل انعام جیتنے کی نہیں، بلکہ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ان مواقع کو تلاشنے اور جینئس کو تراشنے کی ہونی چاہئے جو ایسے کار ہائے نمایاں کے لئے زرخیز زمین تیار کر سکتے ہیں ـ
اس ذہنیت کو سمجھیں:
( 1) گاندھی جی کو قابل نہیں سمجھا گیا : پوری دنیا کو اہِنسا (عدم تشدّد) کا پاٹھ پڑھانے والے مہاتما گاندھی کو 1937 سے 1948 کے بیچ پانچ بار نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا لیکن نوبل کمیٹی نے انہیں کبھی لائق نہیں سمجھاـ سالوں بعد نوبل کمیٹی نے اس غلطی کے لئے اظہار افسوس بھی کیاـ سال 2006 میں ناروے جِیَن نوبل کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری گیر لیون ڈے اسٹیڈ نے کہا تھا ‘نوبل انعامات کی تاریخ کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کو کبھی نوبل انعام برائے امن نہیں دے پائےـ گاندھی تو نوبل انعام برائے امن کے بغیر بھی بہت کچھ کر گئے، لیکن کیا نوبل کمیٹی گاندھی کے بغیر کچھ کر سکتی ہے؟یہ بہت بڑا سوال ہےـ
( 2 ) 900 میں سے صرف 57 خواتین : نوبل انعامات پر مردوں اور سفید فاموں کا دبدبہ رہا ہےـ اب تک کُل ملا کر 900 سے زیادہ نوبل انعامات دیے جا چکے ہیں ـ ان میں سے غیر سفید فاموں کے حصے میں صرف 16 انعامات آئے ہیں ـ اس میں بھی سائنس میں کسی غیر سفید فام کو انعام کا مستحق نہیں سمجھا گیاـ خواتین میں صرف 57 کو نوبل انعامات ملےـ ان میں سے ‘میری کیوری’ کو دو بار (ایک فزکس اور دوسرا کیمسٹری میں) انعام ملاـ
کچھ دلچسپ اعداد و شمار :
( 1 ) 10 ملین سویڈش کُرونر (تقریباً 8.28 کڑوڑ روپیے) کی رقم ہر ایک نوبل انعام میں دی جاتی ہےـ
( 2) 17 سال کی عمر میں پاکستان کی ملالہ کو نوبل انعام ملا(امن انعام، 2014، کیلاش ستیارتھی، انڈیا کے ساتھ)،ملالہ اب تک کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ہیں ـ
( 3) 97 کی عمر میں گُڈے نو کو نوبل انعام ملا (2019، کیمسٹری) یہ اب تک کے سب سے زیادہ عمر کے انعام یافتہ ہیں ـ
( 4) 10 نوبل انعامات ہی ہندوستانیوں یا ہندوستانی نژاد کو ملےـ ان میں بھی چار کو امریکی شہری کے طور پر دیے گئے ـ

(مضمون نگار پُشپیش پنت نوبل انعامات کی سیاست پر یو جی سی – اے وی آر سی کے لئے بنائی گئی پانچ فلموں کی سیریز کے پروجیکٹ سے جُڑے رہے ہیں ـ اصل مضمون ہندی روزنامہ دینک بھاسکر میں 18اکتوبر کو شائع ہوا تھا)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*