نو مسٹر جسٹس نو ـ ودود ساجد

یہ خبر تو آپ نے پڑھ ہی لی ہوگی کہ فروری 2020 میں رونما ہونے والے مشرقی دہلی کے فسادات سے وابستہ مختلف مقدمات کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو کا کڑ کڑ ڈوما کورٹ سے’تبادلہ‘ کردیا گیا۔

ان فسادات کے بہت سے معاملات کی سماعت اسی عدالت میں ہورہی ہے۔اب ونود یادو کو راوز اونیو کورٹ میں سی بی آئی عدالت کا جج بنادیا گیا ہے۔اگر یہ تبادلہ پولیس کے خلاف ونود یادو کے ان سخت تبصروں کی وجہ سے ہوا ہے جو انہوں نے فسادات کے معاملات کی سماعت کرتے ہوئے کم سے کم 12 مواقع پر تحریری اور زبانی طور پر کیے تھے تو ابھی ہمیں کم سے کم ایک اور جج کے تبادلہ کا انتظارکرنا چاہیے ۔اور ٹرایل کورٹ کے ہی کیوں دہلی ہائی کورٹ کے بھی کچھ ججوں کا تبادلہ ہونا چاہیے جوسی اے اے مخالف تحریک کے دوران ماخوذ افراد کے معاملات کی سماعت کر رہے ہیں۔

مسٹر چیف جسٹس!
آج آپ کو ایک واقعہ یاد دلانا ضروری ہے۔گجرات کے اکشر دھام مندر پر 24 ستمبر 2002 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملہ میں 32 لوگ مارے گئے تھے۔ان میں 28 شردھالو بھی شامل تھے۔پورے دن چلنے والی جھڑپ میں نیشنل سیکیورٹی گروپ کے کمانڈوز نے موقع پر ہی لشکر طیبہ سے وابستہ دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔ ان کے علاوہ کوئی اور دہشت گرد حملہ کے وقت مندر میں موجود نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق ان حملہ آوروں کے پاس جدید ترین آتشی ہتھیار تھے۔اس کے بعد گجرات پولیس نے ان ہلاک شدہ دہشت گردوں کے مبینہ ساتھیوں اور حملہ کی ’سازش‘ تیار کرنے والوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔پولیس نے کسی کو اس کے گھر سے اٹھایا اور کسی کو مسجد سے۔لوگوں کو تعجب تھا کہ آخر یہ شریف اور مذہبی لوگ کس طرح اکشر دھام مندر پر ہونے والے حملہ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کے ہندو پڑوسیوں تک نے ان کی شرافت نفسی کی گواہی دی تھی۔جن دہشت گردوں کو موقع پر کمانڈوز نے ہلاک کیا تھا ان میں سے کسی کو بھی دم توڑنے سے پہلے یہ موقع نہیں ملا کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے کسی مددگار یا سازش کار کا نام پتہ بتاتا۔

پولیس نے بدنام زمانہ قانون پوٹا کے تحت چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ان میں سے تین ملزمین مفتی عبدالقیوم انصاری‘ آدم اجمیری اور بریلی کے شان میاں عرف چاند خان کو ٹرایل کورٹ نے محض چار سال کے اندر جولائی 2006میں سزائے موت سنادی تھی۔ پھر مزید چار سال کے اندر یعنی 2010میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی ان تینوں کو سزائے موت کے فیصلہ کی توثیق کردی۔

اب یہاں سے معاملہ کا رخ بدلتا ہے۔ ان مظلوموں کےلیے جمعیت علماء نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے بھی چار سال کا وقفہ لیا لیکن آخر کار ان تینوں کی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے انتہائی واضح‘ سخت اور تلخ تبصروں کے ساتھ کالعدم قرار دے کر انہیں باعزت بری کردیا۔ یہی نہیں جن دیگر تین افراد کو عمر قید اور اس سے کم مدت کی سزا دیدی گئی تھی اور جو عرصہ سے جیلوں میں ہی بند تھے‘ ان کو بھی سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا۔ اگربہیمانہ ظلم و زیادتی اور تعصبات سے بھر پور ذلت کے ان 11 سالوں کی روداد پڑھنی ہو تو مفتی عبدالقیوم انصاری کی کتاب ’11 سال سلاخوں کے پیچھے‘ پڑھ لیجیے ۔اس کتاب کو پڑھ کر بس شیطانوں کا سردار ہی مسکرا سکتا ہے۔

جسٹس اے کے پٹنایک اور جسٹس گوپالا گوڈا کی بنچ نے انتہائی ناقص تفتیش کےلیے تفتیشی ایجنسیوں کی گوشمالی کی تھی اور گجرات حکومت کو ملزمین کے خلاف پوٹا نافذ کرنے سے پہلے دماغ کا استعمال نہ کرنے پر سخت سست سنائی تھیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ ملزمین کو سزا دینے اور ان کی سزا کی توثیق کےلیے مسکت ثبوت موجود نہیں تھے۔عدالت نے کہا تھا کہ ملزمین پر پوٹا لگاتے وقت دماغ کا درست استعمال نہیں کیا گیا اورملزمین کے اقبالیہ بیان لیتے وقت خود پوٹا کے وضع کردہ ضابطوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ وعدہ معاف گواہوں کے بیانات کا آزادانہ شواہد کے ساتھ ملان نہیں کیا گیا۔ایسا کیا جاتا تو ٹرایل جج کو ملزمین کے گرد شکنجہ کسنے میں بہت تردد ہوتا۔

مسٹر چیف جسٹس!
16 مئی 2014 کو آپ کی جگہ مسٹر جسٹس ایچ ایل داتو تھے۔۔ یہ تاریخ بڑی اہم ہے۔۔ اسی تاریخ کو گجرات کے سابق وزیر اعلی نریندر مودی نے ایک تاریخی فتح حاصل کی تھی۔ان کی قیادت میں بی جے پی نے لوک سبھا کا جو الیکشن لڑا تھا وہ انہوں نے جیت لیا تھا۔16مئی 2014 کو ہی الیکشن کمیشن نے اس جیت کا اعلان کیا تھا۔ اور اسی تاریخ کو سپریم کورٹ نے چھ بے گناہوں کی بچی کھچی زندگیاں ’بخش‘ دی تھیں۔بس اس تاریخ کے بعد سے آج تک ایسا فیصلہ سننے اور دیکھنے کےلیے مظلوموں اورانصاف پسندوں کی آنکھ اور کان ترس رہے ہیں۔ انصاف سے عاری درجنوں فیصلے ایسے آئے کہ جن کی روشنی میں یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہ وہی ملک ہے جس کے چیف جسٹس ایم این وینکٹ چلیا‘ جے ایس ورما‘ جی بی پٹنایک‘ وی این کھرے‘ کے جی بالا کرشنن‘ ایس ایچ کپاڈیا‘ التمش کبیر‘ آر ایم لودھا‘ ٹی ایس ٹھاکر اور جے ایس کیہر جیسے ممتاز جج رہے۔ رہی سہی کسر جسٹس گوگوئی نے پوری کردی جب انہوں نے نومبر 2018 میں ’مکمل انصاف‘ کے نام پر آرٹیکل 142 کی آڑ لیتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کےلیے ’بخش‘دی۔

مسٹر چیف جسٹس!
آپ کے آنے کے بعد امید کے کچھ دئے ٹمٹمائے تھے۔آپ نے کچھ فیصلے ایسے کئے بھی۔ دہلی فسادات کے سلسلہ میں تفتیش کے طریقہ کار پر 12 مواقع پر پولیس کی سخت سرزنش کرنے والے ایڈیشنل جج ونود یادو کا تبادلہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔۔ اس سے پہلے27فروری 2020 کو دہلی ہائی کورٹ کے جج‘ جسٹس ایس مرلی دھر کا تبادلہ پنجاب کردیا گیا تھا۔ انہوں نے27فروری کی شب 12 بجے دہلی فسادات کے تعلق سے ایک مظلوم کی فریاد سن کر پولیس کمشنر کی سرزنش کی تھی اور ہدایت دی تھی کہ بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا وغیرہ کی ویڈیو دیکھ کر اگلی صبح کو عدالت میں حاضر ہوکر بتائیں کہ بی جے پی کے ان لیڈروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہونی چاہیے ۔۔ لیکن اس کا موقع ہی نہیں آیا اور دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بنچ نے پولیس کو ایک دن کی بجائے ایک مہینہ کا وقت دیدیا۔

جج ونود یادو کی عدالت میں دہلی فسادات کے بہت سے مقدمات زیر سماعت تھے۔ایسے مقدمے بھی تھے کہ جس کا مکان جلا اور جس کی دوکان لٹی اور جس کا کوئی پیارا مارا گیا اسی کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر کرلی۔ایسے دوہرے مظلوموں کو ونود یادو کی عدالت سے کچھ راحت کی امید پیدا ہوگئی تھی۔بالکل اسی طرح جس طرح انصاف پسندوں کو جسٹس مرلی دھر سے امید پیدا ہوگئی تھی۔لیکن جب ان کا راتوں رات تبادلہ ہوگیا تو اس امید کا بھی خون ہوگیا۔اب ونود یادو کے تبادلہ کے بعد بھی مظلوموں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ان مقدمات کی سماعت کے دوران جج ونود یادو کے خصوصی تبصرے پڑھنے کے لایق ہیں۔اس کی کچھ تفصیل انقلاب کی 8 اکتوبر کی اشاعت میں شائع ہوچکی ہے۔یہ تفصیل مشرقی دہلی کی پولیس کی مبینہ تساہلی‘ شرمناک غفلت اورجابرانہ تعصب پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔

مسٹر چیف جسٹس!
پچھلے دنوں آپ نے لکھیم پور کھیری کے معاملہ میں از خود نوٹس لیتے ہوئے دو دنوں تک سماعت کی۔آپ نے کہا کہ ہم یوپی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔آپ نے پولیس کی ناقص کارکردگی اور’مجرمانہ‘ تساہلی پر بھی گرفت کی۔ ہمیں اچھا لگا۔ہمیں اس لئے بھی اچھا لگا کہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔یہ وہی کسان ہیں جن کی وجہ سے یوگی اقتدا رمیں آئے تھے۔اندازہ لگائیے کہ اگر ان کے معاملہ میں پولیس کا یہ سلوک ہے تودہلی فسادات میں ان مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا جو سی اے اے کے خلاف تحریک چلا رہے تھے؟ دہلی فسادات بھی لکھیم پور کھیری کے واقعہ سے کم نہیں تھے۔ 53 افراد مارے گئے تھے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ فسادات سی اے اے کے خلاف تحریک کا انتقام تھے۔ ’دی پرنٹ‘ کے صحافی شیام وج نے 26 فروری 2020 کی شام 4 بج کر51 منٹ پر جو اسٹوری فائل کی تھی اس کی ہمت ہر کس وناکس نہیں کرسکتا۔ ہم یہاں اس تفصیلی رپورٹ کی صرف تین سطریں پیش کرنا چاہتے ہیں۔شیام وج نے لکھا: ’’2020 کا دہلی قتل عام ’اسٹیٹ اسپانسرڈ‘ہے۔جسے یہ نظر نہیں آرہا ہے وہ اندھا ہونے کا ڈھونگ کر رہا ہے۔بہت سے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر میں ہم دیکھتے ہیں کہ پولیس مبینہ طور پر یا تو صرف نظر کرکے یا فی الواقع حصہ لے کرفسادیوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔‘‘

مسٹر چیف جسٹس!
شیام وج کی ان تین سطروں کے اقتباس کے بعد اب کچھ اور کہنے کی گنجائش رہ نہیں جاتی۔لیکن آپ سے کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔سیاسی پارٹیاں خاص طبقات کی ہوسکتی ہیں۔حکومتیں ایک خاص فکر رکھنے والوں کی ہوسکتی ہیں۔پولیس ایک خاص ذہنیت کے لوگوں پر مشتمل ہوسکتی ہے۔لیکن عدالت کسی ایک خاص طبقہ‘ کسی خاص فکر اور کسی خاص ذہنیت کی نہیں ہوسکتی۔اگر واقعی ایسا ہے تو پھر وہ عدالت نہیں ہے۔ عدالت ظالموں کیلئے ڈھال نہیں بن سکتی۔عدالت تو مظلوموں کا آخری سہارا ہے۔ عدالت لکھیم پور کے مظلوموں کی بھی ہے۔اور عدالت مشرقی دہلی کے متاثرین کی بھی ہے۔اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔اب جو کچھ کہنا ہے وہ آپ کو کہنا ہے۔مشرقی دہلی کے مظلومین امید اور خوف کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کیا آپ بھی ان کی طرف دیکھیں گے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)