نظام تعلیم کو21 ویں صدی کے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے: نائیڈو

 

نئی دہلی: نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے جمعرات کو کہا کہ اکیسویں صدی کے متعدد چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لئے پورے تعلیمی نظام میں ایک جامع تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 ہندوستان کو اپنی آبادی سے فائدہ اٹھانے اور اکیسویں صدی میں ملک کو علم اور جدت کا مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ نائیڈو نے انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ایکسیلنس کے 21 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ویڈیو خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مینوفکچر کو نظم و ضبط، ارتکاز اور پرعزم کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم اس مشکل مرحلے پر قابلیت بہت اہم ہے اور اوسط سطح زیادہ دن کام نہیں کرے گی۔ نائیڈو نے کہا کہ سوامی ویویکانند نے دنیا کو ویدانت کے قدیم ہندوستانی فلسفے کی اہمیت اور عالمگیریت، رواداری اور مقبولیت کے بارے میں بتایا۔ نائیڈو نے کہاکہ انہوں نے مذہبی تزکیہ، روحانی آزادی اور معاشرے کی نشاة ثانیہ کے ذریعے قوم کی تبدیلی کے لئے انتھک محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی کی تعلیمات آج کے دور میں پوری دنیا کے لئے یکساں مفید ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے ویویکانند کی زندگی اور فلسفہ کو سمجھنے اور ان کے پیغامات پر عمل کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ ویویکانند اور رام کرشنا پرمہنس کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان کے فلسفے کو عوام تک پہنچانے کے لئے مزید تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق نائب صدر نے کہا کہ اگراکیسویں صدی کے چیلنجوں سے موثر انداز میں نپٹنا ہے تو، وہ محسوس کرتے ہیں کہ نظام تعلیم میں مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔