نتیش سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں تیز،کشواہا کی پارٹی کا جے ڈی یو میں انضمام ممکن

پٹنہ:راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے صدر، سابق مرکزی وزیراوراویسی اتحاد کے وزیراعلیٰ امیدوار اوپیندر کشواہا نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کی ہے۔ اس کے بعد قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آنے والے دنوں میں کشواہا اپنی پارٹی کو جنتا دل یونائیٹڈمیں ضم کر سکتے ہیں اور وہ ایک بار پھر گھر واپسی کرسکتے ہیں۔اویسی نے کشواہاکے امیدواروں کے لیے گھوم گھوم کرخوب ووٹ مانگے تھے۔جس سے کچھ جگہوں پرمسلم ووٹوں کی تقسیم بھی ہوئی۔اگرکشواہادوچارسیٹیں لے آتے تووہ این ڈی اے میں جاسکتے تھے۔دراصل 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ، اوپیندر کشواہا این ڈی اے سے الگ ہوکر عظیم اتحاد میں شامل ہوگئے تھے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کشواہا کی پارٹی کو بری طرح ہاربھگتنی پڑی۔ اس کے بعد اوپیندر کشواہا نے 2020 کے اسمبلی انتخابات سے قبل گرینڈ الائنس سے علیحدگی اختیار کی اور اسدالدین اویسی کی پارٹی سے اتحاد کیا اور وزیراعلیٰ کے امیدوار بن گئے۔تاہم اوپیندر کشواہا کو اسمبلی انتخابات میں بھی شکست ہوئی تھی اور اب ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھ کھڑے ہونے لگے ہیں۔ ایسی صورتحال میں 2 دسمبر کو نتیش کمار سے ان کی ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اوپیندر کشواہا اپنی پارٹی کو جنتا دل یونائیٹڈ میں ضم کرکے گھر واپسی کرسکتے ہیں۔اوپیندر کشواہا نے نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پہلے اسمبلی اجلاس کے دوران آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادوپر حملہ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق ، جنتا دل یونائیٹڈ کے دوسرے لیڈڑان بھی یہ مانتے ہیں کہ نتیش کمار اور کشواہا ایک ہی دھارے سے آئے ہیں اور اگر دونوں اکٹھے ہو جائیں اور پارٹیوں کا انضمام ہو تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔