نتیش کمارکے وزیرکامتنازعہ بیان،عوام کومہنگائی کی عادت ہوجائے گی

 

پٹنہ:مہنگائی کی مارہرطرف جاری ہے،لیکن بی جے پی لیڈروں کواس پرمذاق نظرآرہاہے۔ان کی طرف سے نئے نئے متنازعہ بیانات آرہے ہیں جس سے سمجھاجاسکتاہے کہ عوام کے مسائل سے انہیں کتناتعلق ہے۔یہی بی جے پی منموہن سرکارمیں قیمتیں بڑھنے پرسڑکوں پرہوتی تھی،اب کہاجارہاہے کہ لوگوں کومہنگائی جھیلنے کی عادت ہوجائے گی،کوئی کہتاہے کہ ہم پٹرول ڈیزل کی گاڑی نہیں چلاتے،کوئی لہسن ،پیازنہیں کھاتیں ،اس لیے ان چیزوں کے دام بڑھنے سے انھیںفرق نہیں پڑتا،اسی طرح کبھی کہاجارہاہے کہ یہ بڑھی قیمتیں عوامی مفادمیں استعمال ہوں گی۔ بی جے پی لیڈر اوربہار حکومت کے وزیر سیاحت نارائن پرساد نے پٹرول – ڈیزل اور مہنگائی کے بارے میں عجیب وغریب بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ عام لوگ کار سے نہیں بس میں چلتے ہیں۔ مہنگائی سے پریشان عوام نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ اس کا جزوی اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ عوام کواس کی عادت ہوجاتی ہے۔بی جے پی کے ایک اور ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے کہاہے کہ اس ملک میں لوگوں کو15 اور 30ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہاہے کہ یہ سب ذہنی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہم ایک وبا سے گزر رہے ہیں ، لہٰذا ٹیکس اس پر عائد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں سال 2012۔13 کے مقابلہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ آج سات سال بعدتیل نوے روپے ہے۔مدھوبنی کے بسفی کے ایم ایل اے نے بتایاہے کہ ان دنوں گاڑیوں کی اوسط میں اضافہ ہورہاہے۔مرکز میں نریندر مودی حکومت شمسی توانائی پرخصوصی توجہ دے رہی ہے۔ 2030 تک ، پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ختم ہوجائیں گی۔ اپوزیشن کے ذریعہ اسمبلی پہنچنے پر انہوں نے کہاہے کہ آر جے ڈی کے لوگ بھٹکے ہوئے ہیں۔ان کو کچھ کرنانہیں ہے۔ اسی لیے وہ ایسی سیاست کررہے ہیں۔