نتیش کمارکے حلیف ہی سوال اٹھانے لگے،پاسوان نے پھرنتیش سرکارکوگھیرا

بہار نے غریبوں کی فہرست نہیں دی،ریاستی وزیرکاجواب، اناج دیں ، سیاست نہ کریں
پٹنہ:بہار کے غریبوں کے راشن پر کشیدگی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں آمنے سامنے ہیں۔لاک ڈائون کے ڈیڑھ ماہ کے بعدا ب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہواہے۔اس سے پہلے بھی چراغ پاسوان نے نتیش حکومت پرراشن کارڈپرتغافل کاالزام لگاگیاتھا۔دل چسپ ہے کہ دونوں جگہ این ڈی اے کی ہی حکومت ہے لیکن نتیش سرکارپرخودان کے حلیف الزام لگارہے ہیں۔ مرکزی وزیررام ولاس پاسوان نے کہاہے کہ جبکہ انہیں بہارسے 14 لاکھ مزید ضرورت مندوں کی فہرست نہیں ملی ہے ، بہار کے فوڈ سپلائی وزیرمدن ساہنی کا کہنا ہے کہ رام ولاس پاسوان اناج دینے کی بجائے سیاست کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کہا ہے کہ انہیں بہار کے راشن کے 14 لاکھ ضرورت مند مستحقین کی فہرست نہیں ملی ہے۔ ان کی وزارت کو بہارسے صرف ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ فہرست این آئی سی کوبھیج دی گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے ، لیکن ضرورت مندوں کی فہرست بھی ہمیں بھیجیں۔ یہ وہی محتاج افرادہیں جو پچھلے پانچ سالوں سے محروم ہیں ، کیوں کہ ان کا نام نئی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ہم نے خود ریاستی حکومت کے وزیرسے متعددباربات کی اور ان سے بقیہ 14 لاکھ لوگوں کی فہرست بھیجنے کو کہا ، لیکن فہرست ابھی تک نہیں آئی ہے۔ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس کا درست پراسیس ہے۔ مرکز ہر ضرورت مندوں کو راشن دینے کے لیے تیارہے ، لیکن اس کے لیے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت فی الحال 81 کروڑ لوگوں کو راشن دے رہی ہے ، تو ہمیں بہار کے پسماندہ طبقہ کو راشن دینے میں کیوں دشواری ہوگی۔ تاہم ، اس کے لیے طے شدہ پیرامیٹرز پر عمل کرنا ضروری ہے۔