نتیش کو نپٹانے کے چکر میں مودی نے چراغ اور تیجسوی کو لیڈر بنادیا- منیش کمار

(ایگزیکیٹیو ایڈیٹر این ڈی ٹی وی انڈیا)

بہار انتخاب کے نتائج پر ہر شخص ،ہر جگہ اپنے حساب سے غوراور تبصرہ کر رہا ہے؛ لیکن اس انتخاب کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ نتیش کمار اس بار اپنے سیاسی حریف تیجسوی یادو ، چراغ پاسوان ، اوپیندر کشواہا کو شکست دے کر کرسی پر نہیں بیٹھے ہیں؛بلکہ ایک بار پھر اپنے معاونین وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے چکر ویو میں پھنس کر وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔
اس مضمون کو پڑھنے والے بی جے پی کے ہر کٹر حامی کو اعتراض ہوگا کہ آخر مودی اور شاہ کو نتیش مخالف زمرے میں ڈالنا کس حد تک مناسب ہے؛ کیونکہ نریندر مودی نے تو نتیش کمار کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے بارہ انتخابی جلسوں کو بھی خطاب کیا تھا اور شاہ نے تو خود کو انتخابی مہم سے دور رکھا تھا۔ توآپ کو ان سوالات کے جوابات ان سوالوں میں ملیں گے کہ پچھلے سال لوک سبھا الیکشن کے صرف تین ماہ بعد جب بی جے پی کی اعلی قیادت نے یہ مان لیا تھا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں نتیش کا چہرہ ہی آگے ہوگا ، پھر الیکشن کے اعلان کے بعد سیٹ شیئرنگ کے معاہدے کو حتمی شکل کیوں دی گئی؟ جس لوک جن شکتی پارٹی سے تال میل بنانے کی ذمے داری بی جے پی کی تھی، وہ عین موقعے پر صرف نتیش کمار کی مخالفت میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیوں کرتی ہے،جبکہ وہ بی جے پی کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدوار نہیں اتارتی؟ آخر بی جے پی نے اسے این ڈی اے سے نکالنے کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ اسی طرح انتخابات کے دوران انکم ٹیکس محکمہ، جو اب ہر الیکشن کے دوران بی جے پی مخالف جماعتوں سے وابستہ لوگوں کے خلاف چھاپہ مار کراپنی موجودگی درج کرواتا ہے ، اس نے جنتا دل یونائٹیڈ سے وابستہ لوگوں کے خلاف چھاپہ کیوں مارا؟ آخر کیا وجہ تھی کہ بی جے پی کے بیشتر ارکانِ پارلیمنٹ جنتا دل یونائیٹڈ کے امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانے سے گریزاں تھے؟ اس بار بی جے پی کی تمام پرانی سیٹوں پر جو جنتا دل یونائیٹڈ کے کھاتے میں تھیں ، جیسے سہسرام یا پالی گنج،وہاں بی جے پی کے باغی امیدوار میدان میں کیوں اور کیسے تھے؟ پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ کے مابین ہم آہنگی کا مستقل فقدان نظر آرہا تھا۔
اس لیے جہاں اس الیکشن میں نتیش کمار تین حلیفوں: بی جے پی ، ہم اور وی آئی پی کے ساتھ اترے وہیں بی جے پی اتحاد میں غیر اعلانیہ طورپر چراغ پاسوان اور اپیندر کشواہا بھی شامل تھے۔اس لیے بی جے پی کو 74 نشستیں جیتنے کے بعد زیادہ اترانا نہیں چاہیے؛ کیونکہ چراغ پاسوان کا بیسک ووٹ نہ صرف بی جے پی کے 105 امیدواروں کو منتقل ہوا؛بلکہ ان سیٹوں پر اعلی ذات کے ووٹروں میں بھی کوئی کنفیوژن نہیں تھا۔ اس کے مقابلے میں نتیش کمار کے امیدواروں کو ہر نشست پر این ڈی اے کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ جہاں بی جے پی کے امیدوار تھے ، وہیں کشواہا اتحاد کے امیدوار اس ذات کے تھے جو عظیم اتحاد کے امیدوار کے روایتی ووٹ کو کاٹ سکیں؛ تاکہ بی جے پی امیدوار کی جیت آسان ہوسکے۔
اس کے باوجود اگر این ڈی اے کو صرف 125 نشستوں سے مطمئن ہونا پڑا اور اس کے خلاف 118 امیدوار جیتے، تو اس کی وجہ یہی ہے کہ نریندر مودی اور نتیش کمار کی مشترکہ انتخابی ریلیوں اور اپیلوں کے باوجود تیجسوی یادو نے اپنی پرزور انتخابی مہم کے ذریعے انتخابی فضا تبدیل کردی تھی۔ وہ ان ووٹرز کو متحد کرنے میں بہت کامیاب رہے جو این ڈی اے کے خلاف ہیں۔ تیجسوی نے ملازمت کو سب سے اہم مسئلہ بنا کر تمام ذاتوں کے ووٹ لیے۔ یہ الگ بات ہے کہ کانگریس پارٹی کو اپنے امیدواروں کو جتانے کے لیے جتنی محنت درکار تھی ،اس کی کمی رہی اور ان کے اندر ضرورت سے زیادہ یہ احساس و اعتماد تھا کہ صرف تیجسوی کی تشہیر ان کے امیدواروں کو کامیاب کروالے گی۔ ویسے آپ اسے این ڈی اے کی کمزوری یا عظیم اتحاد کی مضبوطی قرار دے سکتے ہیں کہ جب انتخابی مہم شروع ہوئی تو ہر ایک یہ مان رہا تھا کہ این ڈی اے کو 160-170 نشستیں ملیں گی اور اگر عظیم اتحاد ساٹھ سے ستر سیٹیں جیت جاتا ہے،توبھی یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی،پھر بھی مہاگٹھ بندھن کی کارکردگی غیر معمولی طورپر بہتر رہی۔ یقینا اس میں بی جے پی کے آپریشن چراغ کا بھی دخل رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چراغ پاسوان نے جنتا دل یونائیٹڈ کے کئی امیدواروں کو بہت سی نشستوں پر شکست دینے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ وہ بھلے ہی صرف ایک سیٹ حاصل کرسکے ؛ لیکن پورے الیکشن کے دوران انھوں نے نتیش کمار کے خلاف ایسا ماحول پیدا کیا اور خاص طور پر بی جے پی کے ان ووٹروں کو ایک متبادل دیا جو نتیش کے ساتھ تو رہنا چاہتے تھے،مگر حکومت بی جے پی کی سربراہی میں چاہتے تھے ، یعنی وہ چاہتے تھے کہ وزیر اعلی بی جے پی کا بنے؛لیکن انتخابی نتائج کی وجہ سے اس منصوبے کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر بی جے پی رہنما یہ کہنے لگے کہ نتیش کمار ہی چیف منسٹر ہوں گے ، تو یہ ایسا ہی تھا جیسے آپ نے اپنے دوست کی پیٹھ پر وار کیا؛لیکن وہ بچ گیا ، تو اسے اپنا لیڈر ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت سازی کے وقت سے ہی بی جے پی نے اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ بننے والوں کو سبق سکھانا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ نتیش کمار کو وزیر اعلی مان لیا ہے ، لیکن جس طرح حکومت اور پارٹی میں سشیل مودی کو کنارے لگانے کی کوشش شروع ہوگئی ہے ، اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی کی اعلی قیادت اپنا غصہ چھپا نہیں پا رہی ہے۔ بہار میں سشیل مودی این ڈی اے کے سنکٹ موچن ہی نہیں رہے؛بلکہ نتیش کمار شاید کبھی بھی یہ فراموش نہیں کریں گے کہ جب بی جے پی کے درجنوں ممبران پارلیمنٹ اور رہنما انتخابی مہم سے دور گھروں میں بیٹھے تھےاور سشیل مودی کورونا کا شکار تھے،مگر منفی رپورٹ آنے کے اگلے ہی دن وہ ہوم قرنطین میں رہنے کے بجائے انتخابی مہم پر نکل گئے۔ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اگر تیسرے مرحلے میں این ڈی اے کی کارکردگی بہت اچھی رہی، تو اس کی بڑی وجہ این ڈی اے کارکنوں اور رائے دہندگان کے مابین قائم ہونے والی ہم آہنگی تھی ۔
الیکشن میں اگر نتیش صرف 43 نشستوں پر سمٹ گئے ہیں ، تو اس کی ایک وجہ بی جے پی کے تئیں ان کی ضرورت سے زیادہ وفاداری بھی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی سرعام ان کی بے عزتی کردیں ،پھر بھی بہاری خود داری کی بات کرنے والے نتیش نہ معلوم کیوں لاعلمی کا ہی اظہار کرتے ہیں۔ نتیش نے الیکشن سے پہلے بہت سی غلطیاں کیں جن میں سے ایک عوام کو اپنے کاموں سے آگاہ نہ کرنا سرفہرست ہے۔ بھلے وہ اس سے مطمئن ہوں کہ آخرکار جیت تو مل ہی گئی ہے اور کرسیِ اقتدار بھی محفوظ ہے؛لیکن انھوں نے اس کی قیمت چکائی ہے۔ نتیش کمار اب سشاسن بابو کے نام سے نہیں جانے جاتے۔ ان کے پکے حامیوں کا بھی ماننا ہے کہ شراب بندی کی ناکامی ، سرکاری دفاتر میں بدعنوانی اور سرکاری اہلکاروں کی باتوں کو حرفِ آخر مان لینا ان کی بڑی کمزوریاں ہیں اور جب تک کہ وہ ان محاذوں پر بہتری نہیں لائیں گے ، تب تک انھیں ایسے ہر انتخاب میں جدوجہد سے گزرنا ہوگا۔
نتیش کمار کی اتنی کم سیٹیں آنا خود بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہونا چاہیے؛ کیونکہ جب آپ کسی اتحاد میں ہوتے ہیں اور آپ کے پاس زیادہ سیٹیں اور اتحادی کی کم سیٹیں ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ووٹ اسے منتقل کرانے میں ناکام رہے۔ اگر آپ کا اسٹرائک ریٹ بہتر رہا تواس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے ساتھی کے حصے کا ووٹ تو مل گیا ہے؛ لیکن آپ اپنا ووٹ اپنے ساتھی کو ٹرانسفر کروانے میں ناکام رہے ہیں؛ لہذا بی جے پی اب کسی بھی اتحادی کے لیے قابلِ اعتماد پارٹی نہیں رہی اور اس کا پہلا مقصد اپنے حریف کو شکست دینے سے سے زیادہ اپنے اتحادیوں کی زمین چھیننا ہوتا ہے۔ اس تلخ سچائی کو جنتا دل یونائیٹڈ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
بہار انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کیسے ناکام رہے ہیں اس کی مثال آپ کو ان اعداد و شمار میں مل جائے گی:
2010 میں این ڈی اے نریندر مودی اور امت شاہ کے انتخابی نظم و نسق کے بغیر 206 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا ، جبکہ لالو یادو اور رام ولاس پاسوان ایک ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہے تھے؛لیکن اس بار لالو سامنے نہیں تھے ، نہ ہی رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار و نریندر مودی کا مقابلہ نوآموز سیاست داں تیجسوی یادو سے تھا، پھر بھی وہ محض 125 امیدواروں کو ایم ایل اے بنانے میں کامیاب ہوئے اور تیجسوی یادو نے اپنے دم پر 110 ایم ایل اے کو جیت دلوائی ۔ اس لیے اس سال کا بہار الیکشن لوگوں کو اس حوالے سے یاد رہے گا کہ بی جے پی ،خاص کر مودی نے نتیش کو نپٹانے کے چکر میں تیجسوی یادو اور چراغ پاسوان کو بہار کی سیاست میں مستحکم کردیا۔
(بشکریہ این ڈی ٹی وی انڈیا)
ترجمہ:نایاب حسن

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*