نتیش کابینہ کی توسیع جلد،سلمان راغب،غلام غوث اور خالدانورمیں سے کسی ایک کی شمولیت ممکن

میوہ لال چودھری کے مستعفی ہونے کے بعد گرمائی بہار کی سیاست
پٹنہ:نتیش کابینہ کے ریاستی وزیر تعلیم میوہ لال چودھری نے آج وزارت سے استعفیٰ دے دیاہے۔ آج ہی انہوں نے سکریٹریٹ واقع دفتر میں وزارت کی کرسی سنبھالی تھی اور ڈھائی گھنٹے کے بعد انہوں نے وزات سے استعفیٰ دے دیا۔ سکریٹریٹ واقع دفتر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران متازعہ وزیر میوا لال چودھری نے کہا تھا کہ میرے خلاف جو لوگ سازش رچ رہے ہیں ان کے خلاف50لاکھ کا ہتک عزت کا کیس کروںگا۔اس کے بعد نقشہ ہی بدل گیا۔ میوا لال چودھری عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعلی سے ملنے گئے اس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ وزیراعلی نے ان کا استعفی قبول کرتے ہوئے اسے ریاستی گورنر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا ساتھ ہی وزارت تعلیم کی ذمہ داری اشوک چودھری کو دیئے جانے کی گذارش کی جس پر گورنر نے اپنی مہر لگادی۔ اس طرح بہار کی سیاست میں بھونچال آگیا ہے کرپشن کے خلاف زیر و ٹالرینس کی پالیسی اپنانے والے نتیش کمار کو آخر کار یہ قدم اٹھانا پڑا۔سیاسی حلقوں میں یہ خبر گشت کررہی ہے کہ عنقریب ایک دو ہفتے کے اندر وزارت کی توسیع ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ بہار میں این ڈی اے کے اکثریت میں آنے کے بعد 17نومبر کوحلف برداری کا کام بھی ہوگیا ہے جس میں نتیش کمار ساتویں بار بحیثیت وزیر اعلی سمیت 14 افراد نے حلف لیا ہے -لیکن ابھی متعدد محکموں کی وزارت دیگراراکین اسمبلی و کونسل کو سونپی جانی ہے۔وزیر بننے کے دعویداروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ایک پرانی کہاوت ہے کہ ایک انار سو بیمار ، لیکن یہاں اب ایسا نہیں ہے بلکہ بیمار 126 اور انارمحض 36 ہیں -یعنی 36ممبران اسمبلی ہی وزارت میں جگہ پا سکتے ہیں جبکہ لائن میں 126 کھڑے ہیں -جے ڈی یو کے پاس اب صرف 8 سیٹیں ہیں یعنی 8 ممبران اسمبلی ہی کو وزیر بنا سکتے ہیں جب کہ بی جے پی 14 ممبران کو وزارت میں جگہ دے سکتی ہے -تمام اراکین کو تووزیر بنایا ہی نہیں جا سکتا ، کیوں کہ اس میں کچھ سیاسی بندشیں ہیں تو کچھ قانونی پابندیاںہیں ، جنتا دل یوکا کہنا ہے کہ وزارت کی تقسیم نصف نصف ہو لیکن چوں کہ بی جےپی کی زیادہ سیٹیں آئی ہوئی ہیں اس وجہ سے وہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ دونوں میں نصف نصف کا معاملہ ہو۔ اگرمعاملہ نصف کا ہو تو جنتا دل یوکی جانب سے 11 اور بھاجپا کی جانب سے 10 ممبران اسمبلی وزیربن سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ حالت اس طرح نہیں ہے۔یہ پہلا مرحلہ تھا جس میں14افرادنے وزارت کا حلف لے لیا ہے اب آئندہ 23 نومبر کو بہار قانون ساز اسمبلی کاسرمائی اجلاس ہونا ہے جو 27نومبر تک چلے گااس سلسلے میں پروٹیم اسپیکر جیتن رام مانجھی بنائے گئے ہیں جنہیں آج گورنر پھاگو چوہان نے حلف دلایا۔پروٹیم اسپیکر نومنتخب ارکان اسمبلی کو حلف دلائیں گے اور 25نومبر کو باضابطہ اسپیکر کا انتخاب ہوگا۔26نومبر کو ریاستی گورنر پھاگو چوہان اسمبلی اجلاس سے خطاب کریںگے۔سیاسی حلقوں میں یہ خبر گشت کررہی ہے کہ اسمبلی اجلاس کے بعد نتیش کمار وزارت کی تقسیم کر سکتے ہیں لیکن نتیش جلد بازی میںکوئی کام نہیں کرتے البتہ بی جے پی کا دبائو ہو تو اس میں کچھ ہو سکتا ہے۔ایسے بھی 15 دسمبر کے بعد اس میں مزید کچھ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ کھرماس شروع ہوجائے گا اور یہ کھرماس 14جنوری تک رہے گا اس درمیان کوئی شبھ کام نہیں کیا جاتا۔ جنتا دل وکے پاس کئی ایسے چہرے ہیں جنہیں وزارت کی کرسی سونپی جاسکتی ہے۔ جے ڈی یو کوٹہ سے شرون کمار ،دامودار راوت، سنیل سنگھ، سنجے جھا اور مسلم کوٹہ سے جے ڈی یو ایوان بالا کے سینئر رکن سلمان راغب ، ڈاکٹر خالد انور ، پروفیسر غلام غوث یا تنویر اختر کو وزارت کی کرسی سونپ سکتی ہے۔چونکہ آزادی کے بعد بہار کی تاریخ میں پہلی ایسی وزارت تشکیل ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہے۔ اس موضوع پر روزانہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر مسلسل خبریں شائع ہورہی ہیں اور نتیش کمار کے نیائے کے ساتھ وکاس کو دھوکہ قرار دیا جارہا ہے۔واضح ہو کہ جے ڈی یو نے اس بار11مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن سبھی الیکشن ہارگئے اب ایوان بالا بہار قانون ساز کونسل میں 6ارکان قانون ساز کونسل حکمراں جے ڈی یو کے ہیں امید کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ کسی مسلم ایم ایل سی کو وزارت میں جگہ دیںگے۔ کیوں کہ بھاجپا کی جانب سے کسی مسلم کو جگہ ملنا مشکل ہے۔ تو نتیش ہی کو یہ کام کرنا ہے کہ وہ کسی طرح ایک مسلم کو جگہ دیں اور اس کے ساتھ ہی جو چھ سیٹیں بچ جاتی ہیں تو اسی میں سارے کو ایڈجیسٹ کرے اگر وزارت 36 کو دیا جانا ہے تو اس میں 32 یا 33 ہی بن سکتے ہیں۔کچھ خالی رکھنا پڑے گا کیوں کہ دوسری پارٹیوں سے آنے والے ممبران کو بھی وزارت دینے ہیں ۔وسری جانب بھاجپا پربھی دبائوہے کہ سرکار بنا تو لی گئی ہے لیکن اس کو چلانا کیسے ہے کیوں کہ معاملہ اب آہستہ آہستہ پھنستاجارہا ہے۔ہوشیاری سے کام کرنا پڑے گا ۔کسی قسم کا جھگڑا بھی نہیں کرنا ہے ورنہ اس کا سیدھا اثر بنگال چنائومیں پڑے گا اور الیکشن متاثر ہو جائے گا – الغرض بہت سارے مسائل پیدا ہو گئے ہیں جنہیں بھاجپا اور جنتا دل کو چالاکی کے ساتھ حل کرنا ہے ۔دونوں پارٹیوں میں دگجوں کی ایک تجربہ کار ٹیم ہے ان مسائل کو کیسے حل کرنا ہے وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اورحل کریں ۔دوسری جانب بھاجپا کے پاس بہت سے امیدوار ہیں جن کی ایک لمبی فہرست ہے – جیسے پریم کمار ، نیتن نوین ارون کمار، نتیش مشرا ، پرمود کمار ، سمراٹ چودھری سمیت دیگر بھاری بھرکم شخصیات ہیں جنہیں وزارت میں جگہ دینی ہیجولوگ کابینہ میں جگہ چاہ رہے ہیں ان کا ماننا ہے کہ بہت جلد دوسرا سیشن مکمل ہو اور وزارت کی تقسیم ہو ، لیکن اس میں بہت ساری مجبوریاں ہیں ، کچھ بندشیں ہیں ، اس میں اپنی پارٹی کے معیار کو بچانا ہے اور اپنی شناخت برقرار بھی رکھنی ہے۔ اب معاملہ آسان نہیں رہ گیاہے بلکہ اس میں سارا دبائو نتیش پر ہے کہ وہ کیسے مسلم کو جگہ دیں اوراپنوں کو بھی راضی کریں۔