بہار سرکار:نتیش کے 18 وزراء کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں

پٹنہ:بہار میں کابینہ کی دوسری توسیع کے بعد 31 وزراء میں سے 28 کے پاس اوسطا 4.46 کروڑ روپے ہیں۔ ان میں سے 18 نے واضح کیا ہے کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات چل رہے ہیں۔ تنظیم برائے جمہوری اصلاحات (اے ڈی آر) نے یہ معلومات دی۔ اے ڈی آر نے نتیش حکومت میں شامل 28 وزراء کے اثاثوں کا تجزیہ کیا۔ یہ تجزیہ الیکشن کمیشن کو دئے گئے حلف ناموں پر مبنی تھا۔ابھی 31 وزراء میں سے اشوک چوہدری اور جنک رام کے اثاثوں کا تجزیہ نہیں کیا جاسکا، کیوں کہ وہ قانون ساز کونسل یا قانون ساز کونسل کے ممبر نہیں ہیں۔ رام سورت رائے کا حلف نامہ واضح نہیں ہے ،اس لئے اس کا تجزیہ بھی نہیں کیا گیا ۔فروغ آبی وسائل کے وزیر سنجے کمار جھا 22.37 کروڑ روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کے ساتھ سب سے امیر وزیر ہیں۔ بی ایس پی کے سابق ایم ایل اے اور اب جنتا دل یونائیٹڈ میں شامل ہوئے اقلیتی امور کے وزیر جمان خان 30.04 لاکھ روپے کی جائیدادکے ساتھ سب سے نچلی سطح پرہیں۔وکاس شیل انسان پارٹی کے سربراہ مکیش ساہنی نے صاف کیا ہے کہ وہ 1.54 کروڑ روپے کے قرض میں ہیں۔ اے ڈی آر نے دعوی کیا کہ 18 وزراء نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے، جن میں 14پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔ بی جے پی کے 57 فیصد وزرا، جے ڈی یو کے 27 فیصد وزراء اور وی آئی پی، ہندوستان عوام مورچہ اور آزاد وزراء بھی اس میں شامل ہیں۔