نسائی احساسات کی ایک معتبر شاعرہ ڈاکٹر مینا نقوی ـ ضیاؔ فاروقی

اردو شاعری میں خواتین کی شمولیت یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن اس راہِ سخن کا وہ موڑ جہاں سے خواتین نے اپنے نسائی جذبات و خیالات کو پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ ادا کرنا شروع کیا بہت اہم ہے۔ داراب بانو وفا، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، پروین شاکر، زہرا نگاہ، کشور ناہید اور رفیعہ شبنم عابدی وغیرہ اسی موڑ کے بعد اپنے پورے نسائی وجود کے ساتھ میدانِ عمل میں آئیں اور گلشن سخن کو ایک نئی خوشبو سے مانوس کرگئیں۔ ان کے تتبع میں جو نئی صف شاعرات سامنے آئی وہ بھی اپنے رنگ و آہنگ کے سبب ادبی رسائل سے مشاعرے کے اسٹیج تک اپنی ایک مخصوص شناخت بنانے میں کسی حد تک کامیاب نظر آتی ہیں۔ یہاں میں ان خواتین کی بات نہیں کررہا ہوں جو شاعرہ کا لبادہ اوڑھ کر عوامی مشاعروں کے اسٹیج پر آئے دن نمودار ہوتی ہیں اور عوام کو دید وشنید سے سرشار کرکے گم ہوجاتی ہیں بلکہ یہاں ان معتبر خواتین کا ذکر ہے جو نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ فکروسخن کا اپنا ایک قرینہ بھی رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر مینا نقوی کا شمار بھی ایسی ہی تعلیم یافتہ شاعرات میں ہوتا ہے جنھوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں اپنی طبع کے جوہر دکھائے ہیں اور زندگی کے اپنے تجربات اور مشاہدات کو شاعری کے حوالے سے پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر مینا نقوی مغربی یوپی کے ایک معزز علمی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے بزرگوں میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی شعرگوئی کے میدان میں ہمیشہ سرگرم رہیں۔ یوں تو پیشے کے اعتبار سے وہ ایک معالجہ ہیں لیکن ادبیات میں بھی انھیں خاصا دخل ہے۔ اردو تو خیر گھر کی ہی زبان ہے اس کے علاوہ انھوں نے انگریزی، ہندی اور سنسکرت زبانوں میں بھی ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کے اب تک سات شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ ’سائبان‘، ’بادبان‘، ’جاگتی آنکھیں‘ کے علاوہ ’کرچیاں درد کی‘ جو اردو کے علاوہ ہندی رسم الخط میں بھی شائع ہوا ہے۔ ہندی میں ’درد پت جھڑکا‘ اور ’دھوپ چھاؤں‘ وغیرہ اُن کی فکری پرواز کے شاہد ہیں۔ مینا نقوی نے شاعری کے علاوہ نثر میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ افسانے، انشائیے اور تنقیدی و تحقیقی مضامین اور تبصرے بھی ان کے قلم کی گرفت میں آکر صاحبان ذوق سے داد و تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ ان کا کلام معیاری ادبی رسائل میں بھی شائع ہوتا رہا ہے اور مشاعروں میں بھی شریک ہوکر اپنے ترنم اور اپنے خوبصورت اشعار سے سامعین کو محظوظ کرتی رہی ہیں۔ ان کی غزلوں کا ایک مختصر سا انتخاب اس وقت میرے پیشِ نظر ہے۔ اس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جہاں پورے فنی رکھ رکھاؤ کے ساتھ شعر کہے ہیں وہیں عصری حسیت کے ان رنگوں کو بھی برتا ہے جو آج کے شعری منظرنامے کی گویا شناخت بن چکے ہیں۔ اپنی غزلوں کے تعلق سے خود ان کا کہنا ہے کہ:
تخیل کی، تصور کی، تغزل کی، تاثر کی
غزل کے نرم لہجے میں سخن کی بات کی جائے
دیکھا جائے تو آج جب ہماری اردو شاعری ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے یا یوں کہیں کہ مختلف تجربات سے گزر کر جدیدیت نے اپنا ایک نصب العین حاصل کرلیا ہے جہاں غزل اپنے نرم اور شیریں لہجے میں حیات و کائنات کے تمام موضوعات کو سمیٹے ہوئے ہے، جس میں تخیل کی بلندی بھی ہے اور تغزل کی چاشنی بھی۔ ڈاکٹر مینا نقوی کے اشعار میں یہ اہتمام موجود ہے کہ انھوں نے غزل کے بنیادی تاثر اور لہجے کی نزاکت کو ملحوظ رکھا۔
اور جیسا ابھی میں نے عرض کیا ہے کہ یہ ایک کلیہ ہے کہ انسان نہ صرف اپنے ہم عصروں سے متاثر ہوتا ہے بلکہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان راستوں پر چلتا بھی ہے جن سے اس کے آگے جانے والے گزرے ہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں باشعور شاعرات نے جس نسائی لہجے کی بازیافت کی اس کا اثر بعد کی شاعرات نے بھی قبول کیا چنانچہ مینا نقوی کے یہاں بھی یہ لہجہ نمایاں ہے:
ذہن و دل، روح و بدن، نام و نشاں تک لے گیا
میں حقیقت تھی مگر وہ داستاں تک لے گیا

وہ کہاں ٹھہرے گا جائے گا کدھر جانتا ہے
شام ہوتے ہی پلٹ آئے گا گھر جانتا ہے

سب کی نظروں کا میں ہی مرکز ہوں
سر سے چادر سرک گئی ہے کیا

بے حسی لے گئی جذبات کی ساری خوشبو
اب یہ غنچے کبھی شاداب نہیں ہونے کے

باپ، بیٹا اور شوہر کے مکاں کو گھر کیا
پھر بھی میں لکھی گئی ہوں بے گھری کے نام پر

لمحہ لمحہ قطرہ قطرہ دل کا خوں بہتا رہا
زندگی لکھی گئی ہے خود کشی کے نام پر
آج دنیا کی جو تصویر ہمارے سامنے ہے وہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اتنی روشن اور تابناک ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئی ہیں دوسری طرف حرص و ہوس اور مادّیت نے حسّی بصیرتوں کو اتنا غبارآلود کر رکھا ہے کہ بجز انتشار اور کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ ہمارا معاشرہ بھی اس سے متاثر نظر آتا ہے۔ مینا نقوی کے اشعار میں جو کرب اور جو انتشار ہے اس کے پیچھے بدلتی قدروں کا نوحہ بھی ہے اور لہولہان معاشرے کی تلخ سچائیاں بھی۔
بے یقینی کی فضا کو معتبر کرنے کے بعد
جستجو در بدر پھری صحرا کو گھر کرنے کے بعد
قربتوں کے سبز منظر زرد کیسے ہوگئے
میرے ہاتھوں کی دعا کو بے اثر کرنے کے بعد

وہ ہے اپنا یہ بتانا بھی نہیں چاہتے ہم
دل کو اب اور دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم
تہمتیں ہم پہ زمانے نے لگائیں لیکن
ہم ہیں پاکیزہ بتانا بھی نہیں چاہتے ہم

جسم زخمی، اشک آنکھیں آبلہ پا دل لہو
در بدر پھرتا ہے کوئی چین پانے کے لیے

منتظر نگاہوں کی حسرتیں رُلاتی ہیں
غم نہیں رُلاتے ہیں خواہشیں رُلاتی ہیں
غزل اپنے حصار میں ہر طرح کی خوشبو اور ہر طرح کے مناظر سمیٹے ہوئے ہے اور اس حصار میں قدم رکھنے والا بقدر ظرف اپنا حصّہ حاصل کرلیتا ہے۔ ڈاکٹر مینا نقوی نے بھی اپنی ہمت اور حوصلہ بھر غزل کی جمالیات میں اپنے فکر کے رنگ بھرے ہیں۔ انھیں نہ صرف یہ کہ لفظوں کے انتخاب میں ملکہ حاصل ہے بلکہ ان لفظوں کو پورے فنی رکھ رکھاؤ کے ساتھ غزل میں پرونے کا ہنر بھی وہ جانتی ہیں۔ انھوں نے روایت سے انحراف کیے بغیر اپنے اشعار کو جدید فکر سے جس طرح ہمکنار کیا ہے وہی تو آج کی شاعری کی بوطیقا ہے۔
ٹکڑے ٹکڑے دل ہوا آنکھوں سے خوں بہنے لگا
تیر لفظوں کے وہ جب لب کی کماں تک لے گیا

آسیب تیرگی کے نگل جائیں گے مجھے
بجھتے ہوئے چراغ کی لو کا دھواں ہوں میں

تمہارے دیدار کی طلب میں دعا میں میری اثر نہ آئے
کسی نے کیسی یہ بد دعا دی کہ شاخِ گل پر ثمر نہ آئے

تری خوشبو مری روح میں دَر آئی ہے
پھول کی پتی پہ شبنم سی اُتر آئی ہے
شب کی تنہائی میں یادوں کی ہے سرگوشی سی
گھپ اندھیرے میں دبے پاؤں سحر آئی ہے

نیند شب میں بھٹک گئی ہے کیا
کوئی خوشبو مہک گئی ہے کیا
خون دل قطرہ قطرہ گرتا ہے
چشم پُرنم چھلک گئی ہے کیا
یہ چند اشعار اگرچہ کسی شاعر کی فکری پرواز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر سمت سفر کا پتہ ضرور دیتے ہیں۔ مینا نقوی اپنے شعری سفر میں جس سبک خرامی اور میانہ روی کو ملحوظ رکھے ہوئے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے یہاں نئے جہانوں کو سر کرنے کا حوصلہ بھی ہے اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کا عزم بھی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*