نیرو کے خلاف دھوکہ دہی اورمنی لانڈرنگ کے الزامات کے پختہ ثبوت نہیں

لندن:ہندوستان کے بھگوڑے ہیرا کاروباری نیرو مودی کی حوالگی کے لیے یہاں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں چل رہی سماعت میں منگل کو اس وکلاء نے دلیل دی کہ ان کے موکل کے خلاف دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے پختہ ثبوت نہیں ہے۔نیرہ مودی کے وکلاء نے ہندوستانی حکام کی جانب سے پیش کراؤن پروسیکیوشن سروس بیرسٹر ہیلن میلکم کی دلیلوں کے بعد یہ دعوی کیا۔ہندوستانی حکام کی جانب سے بیرسٹر ہیلن میلکم نے عدالت سے کہا تھا کہ نیرو مودی نے پنجاب نیشنل بینک سے دھوکے سے بھاری رقم حاصل کی تھی ۔ہندوستان میں 49 سالہ نیرو مودی کی پنجاب نیشنل بینک کو فریب سے حاصل یقین دہانی کاغذات یا بینک گارنٹی کے ساتھ ٹھگنے اور پھر فرضی کمپنیوں کے نام پر لین دین کے ذریعے اس رقم کی ادائیگی کرنے کا الزام ہے۔لندن میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں مودی کی گرفتاری کیلئے پانچ دن کی سماعت پیر کو شروع ہوئی جب کراؤن پروسیکیوشن سروس نے ہندوستانی حکام کی جانب سے اس معاملے میں دو بلین امریکی ڈالر کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تفصیل سے معلومات دی۔بیرسٹر میلکم نے عدالت سے کہا کہ 2011 سے 2018 کے دوران نیرو مودی ہندوستان میں موتیوں کی درآمد کے نام پر یہ رقم حاصل کی۔نیرو مودی کی جانب سے بیرسٹر کلیئر مانٹگومری نے منگل کو بحث شروع کرتے ہوئے دلیل دی کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے،اس میں بہت ساری تفصیل ہے لیکن حکومت ہند کا معاملہ طویل دعووں پر ہے لیکن ثبوت پر بہت کم ہے۔