نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے اہلیہ کو مخاطب کرکے کہا : ” بیگم ! جلدی سے کسی مولوی کو بلائیےـ ہمارا نکاح ٹوٹ گیا ہےـ دوبارہ نکاح پڑھوانا ہےـ”
اہلیہ حیرت سے میرا منھ تکنے لگیں _ انھوں نے کہا : ” ابھی تو آپ 60 برس کے نہیں ہوئے ہیں، پھر کیوں سٹھیا گئے ہیں ـ”
میں نے کہا : دیوبند کے ایک مولانا صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ جن لوگوں نے مولانا کلب صادق کے لیے دعائے مغفرت کی ہے وہ اسلام سے خارج ہوگئے ہیں اور ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے _ وہ توبہ کریں اور تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی کریں _ میں نے بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کی ہے ، اس لیے ان کے فتویٰ کی رو سے میں بھی اسلام سے خارج ہوگیا اور ہمارا نکاح ٹوٹ گیاـ میں نے کلمہ تو دوبارہ پڑھ لیا ہے ، اب نکاح دوبارہ پڑھوانا باقی ہےـ
اہلیہ بولیں : ان مولانا صاحب کو کفر کے سرٹیفکٹ بانٹنے کے بجائے اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے _
میں نے کہا : انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کے تمام شیعہ کافر ، مرتد اور منافق ہیں _ کلب صادق صاحب بھی شیعہ تھے ، اس لیے وہ بھی کافر ، مرتد اور منافق ہوئے _ کسی مسلمان کے لیے ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے نہ ان کے لیے دعائے مغفرت کرناـ
اہلیہ نے بے چینی سے پہلو بدلا اور کہا : کوئی اسلام کے بنیادی عقائد : توحید ، رسالت اور آخرت کو نہ مانے تو اسے کافر کہا جائے گا _ کوئی ان عقائد کو مان کر ان سے پھر جائے تو اسے مرتد کہا جاسکتا ہے _ منافق اسے کہتے ہیں جو زبان سے اسلام کا اظہار کرے ، لیکن دل میں کفر چھپائے رہے _ تمام شیعوں کو کافر ، مشرک اور مرتد کیوں کر کہا جاسکتا ہے؟ اور کلب صادق صاحب تو بڑے مولانا ہیں _ میں نے ان کے بہت سے ویڈیوز سنے ہیں _ وہ اپنی تقریروں میں اللہ رسول کی بات کرتے ہیں ، پھر وہ کافر ، مرتد کیسے ہوسکتے ہیں؟
میں نے کہا : مولانا صاحب نے کہا ہے کہ شیعہ قرآن کو تحریف شدہ مانتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتے ہیں ، 12 اماموں کی اطاعت فرض جانتے ہیں ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالیاں دیتے ہیں وغیرہ ، اس لیے ان کے کافر و مرتد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہےـ
اہلیہ نے فوراً کہا : جو ایسی باتیں کہے اس کے ایمان میں شبہ کیا جائے ، لیکن محض شیعہ ہونے کی وجہ سے کسی کو ایسے عقائد والا کیوں کر کہا جاسکتا ہے؟ اور نفاق تو دل میں ہوتا ہے ، پھر کسی کو دوسرے کے دل میں جھانکنے کا حق کس نے دے دیا؟ میں تو سمجھتی ہوں کہ کسی مسلمان کے جائز نہیں ہے کہ کسی دوسرے مسلمان کو منافق کہے _ یہ کیسے مولانا ہیں جنھیں اتنی موٹی بات نہیں معلوم؟
میں نے کہا : مولانا صاحب نے تو کلب صادق صاحب کے لیے دعائے مغفرت ناجائز ہونے کو قرآن مجید سے ثابت کیا ہےـ
اہلیہ بولیں : وہ کیسے؟
میں نے کہا : انھوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ ، آیت 84 میں منافقین کے سیاق میں اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ” ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو ـ”
اہلیہ نے کہا : یہی تو میں کہہ رہی ہوں ـ کون منافق ہے ، کون نہیں؟ اس کا علم صرف اللہ کے رسول کو تھا _ اب کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ کسی دوسرے کو منافق کہے _ اور یہ تو قرآن کریم کا مذاق اڑانا ہوا کہ آیت پڑھ کر اس سے غلط استدلال کیا جائےـ
میں نے کہا : انھوں نے ایک اور آیت پڑھی ہےـ
وہ کیا؟ اہلیہ نے سوال کیا ـ
انھوں نے سورۂ توبہ کی آیت 113 پڑھی ہے ، جس میں ہے کہ ” نبیؐ کو اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں _”
اہلیہ نے کہا : اس آیت میں مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع کیا گیا ہےـ اور متعین طور پر کسی مسلمان کو مشرک قرار دینے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہےـ یہ کیسے مولانا ہیں جو پورے بے باکی سے کفر ، شرک ، ارتداد اور نفاق کی ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں؟ ان کا بس چلے تو اپنے علاوہ سب کو دائرۂ اسلام سے نکال دیں ـ
میں نے کہا : مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ دیوبند کا فتویٰ موجود ہے کہ شیعہ کافر اور مرتد ہیں ، ان کی نماز جنازہ جائز نہیں اور نہ ان کے لیے دعائے مغفرت جائز ہےـ
اہلیہ بولیں : دیوبند والوں کا تو یہ بھی فتویٰ موجود ہے کہ جماعت اسلامی والے گم راہ ہیں ، ان کے پیچھے نماز جائز نہیں ـ دیوبند والوں کے تو ایسے ایسے فتوے موجود ہیں کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے اور ان کی عقل پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہےـ
اہلیہ کچھ دیر خاموش رہیں ، پھر بولیں : کلب صادق صاحب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھےـ کیا بورڈ والوں نے ایک کافر ، مشرک ، مرتد ، منافق کو طویل عرصہ تک اپنا نائب صدر بنائے رکھا؟
میں نے کہا : مولانا صاحب نے کہا ہے کہ سیاسی ضرورت سے ایسا کیا گیا تھاـ
اہلیہ نے کہا : شیعہ حج کرنے جاتے ہیں _ کیا کوئی کافر حرم میں داخل ہوسکتا ہے؟
میں نے کہا : ہاں ، یہ بات تو ہےـ اگر سعودی عرب والوں نے ان کو حج کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا جاتا ہے ، کافر و مشرک نہیں _
میں نے مزید کہا : مولانا صاحب نے کہا ہے کہ صرف جماعت اسلامی والوں نے کلب صادق صاحب کے لیے دعائے مغفرت کی ہے ، ورنہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی اور سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، سب نے صرف تعزیت کی ہے ، کسی نے ان کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی ہےـ
اہلیہ بولیں : یہ مولانا لوگ کتنا جھوٹ بولتے ہیں؟ کیا انہیں اللہ تعالیٰ کا اور مرنے کے بعد حساب کتاب کا ذرا بھی ڈر نہیں؟ مولانا رابع صاحب نے کلب صادق صاحب کو ‘مولانا’ لکھا ہےـ کیا کسی کافر و مشرک کو مولانا کہا جاتا ہے؟ مولانا ولی رحمانی نے انہیں کئی بار ‘مولانا’ ، ‘ممتاز عالمِ دین’، ‘ملت اسلامیہ ہندیہ کا محسن’ اور ‘ملّی رہ نما’ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے _ کیا یہ الفاظ کسی کافر اور مرتد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؟ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے تو انہیں دو مرتبہ ‘حضرت مولانا’ لکھا ہے ، انہیں ‘قدر آور مسلم شخصیت ‘ قرار دیا ہے _ کیا یہ الفاظ انھوں نے ایک منافق ، مرتد ، کافر ، مشرک کے لیے لکھے ہیں _ آخر میں انھوں نے لکھا ہے :”اللہ تعالیٰ ان کو جنّت الفردوس میں ٹھکانہ عطا فرمائےـ” یہ تو دعائے مغفرت سے بھی بڑھ کر ہےـ کیا یہ سطر مولانا صاحب کو نظر نہیں آئی ؟
میں تو اپنی اہلیہ کو بہت سیدھا سادہ سمجھتا تھاـ نکاح ٹوٹنے کا سن کر وہ تو بالکل شیرنی بن گئیں ـ میں نے خاموش ہوجانے میں عافیت سمجھی _ میں نے سوال کیا : اس کا مطلب کہ ہمارا نکاح نہیں ٹوٹاـ
وہ بولیں : اور کیا؟
ہم نے اطمینان کی سانس لی اور بستر پر دراز ہوگئے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*