شہر میں گاؤں کی خوشبو کا متلاشی ندا فاضلی ـ ضیا فاروقی

ندا فاضلی ہمارے عہد کے ان شعرا میں ہیں جنھیں یقینا٘ منفرد لب و لہجے کا شاعر کہا جا سکتا ہے ۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے ہندی شاعری کے اس آہنگ کو اردو میں کامیابی سے برتا جس کے نمونے ہمیں سنسکرت اور ہندی کے قدیم ادبی سرمایے سے لے کر امیر خسرو اور نظیر اکبرآبادی جیسے شعرا کے یہاں ملتے ہیں ۔ ان کا مطالعہ وسیع بھی تھا اور متنوع بھی ۔ انھوں نے ہندوستان کی مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے شعری رویوں کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ اس حوالے سے اردو شعریات کو ایک نئی جہت بھی عطا کی۔ ان کی شاعری میں دیہاتوں کی سادہ زندگی کا عکس بھی ہے اور شہروں کے ناآسودہ اور مادہ پرست معاشرے کا کرب بھی، اسکول جاتے بچے بھی ہیں اور برہ کی ماری عورتیں بھی ۔ انھوں نے جو طرز نکالی ہے اس کی نقل کرنا آسان نہیں ہے کہ یہ ان کی برسہا برس کی ریاضت اور مطالعہ کا ثمرہ ہے ۔ دیکھا جائے تو،آج برصغیر میں ایسے شاعروں کی تعداد نہیں کے برابر ہے جنھوں نے لوک گیتوں ،کہہ مکرنیوں اورکلاسیکی اردو شاعری کے امتزاج سے ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا کیا ہو ۔ندا فاضلی کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس میدان میں وہ اشعار کہے ہیں جن میں انفرادیت بھی ہے اور زندگی کی کھری سچائیاں بھی :

شیشے سے دھلا چوکا ، موتی سے چنے برتن
کھلتا ہوا،اک چہرا ، ہنستے ہوئے سو درپن

پیا نہیں جب گاؤں میں
آگ لگے سب گاؤں میں

ان کے جانے کی تاریخ
دنگل تھا تب گاؤں میں

ساجن جنگل پار گئے میں چپ چپ راہ تکوں
بچھیا بیٹھی تھان میں اونگھے کس سے بات کروں

جانے ان بن کیا ہوجاتا ہے میرے جی کو
چوکا باسن کر پاؤں نہ چکی پیس سکوں

نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پوراچاند
ماں کی لوری سا ، بچے کے دودھ کٹورے جیسا چاند

پردیسی سونی آنکھوں میں شعلے سے لہراتے ہیں
بھابھی کی چھیڑوں سا بادل آپا کی چٹکی سا چاند

ندا فاضلی نے ان ترقی پسندوں کو بھی قریب سے دیکھا جو آزادی ہند کے بعد بدلے ماحول میں اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہے تھے اور جدیدیت کے ان گل نو شگفتہ کوبھی چھو کر دیکھا جن میں خوشبو تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا مگر ان کے تخلیقی ذہن نے ان سب کے درمیان رہ کر بھی اپنی ایک الگ راہ نکالی ۔ایک ایسی راہ جس پر مانوس مناظر تو ہیں ہی راہ بھی نا ہموار اور پرپیچ نہیں ہے:

اکثر پہاڑ سر پہ گرے اور چپ رہے
یوں بھی ہوا کہ پتہ ہلا دل سے ملاقات ہو گئی

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا

اسی کا نام ہے نغمہ اسی کا نام غزل
وہ اک سکون جو ہے اضطراب میں شامل

میں نے پوچھا تھا سبب پیڑ کےگر جانے کا
اٹھ کے مالی نےکہا اس کی قلم باقی ہے

جو بھی چاہے وہ بنا لے اسے اپنا جیسا
کسی آئینہ کا ہوتا نہیں چہرا اپنا

دعا سلام ضروری ہے شہر والوں سے
مگر اکیلے میں اپنا بھی احترام کرو

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ارادہ باندھنے تک میری اپنی ذمہ داری ہے
پھر اس کے بعد جو ہواس پہ پچھتانا نہیں آتا

ماں کی تصویر باپ کی تحریر
اپنی میراث میں لکھو صاحب

چمکتے چاند سے چہروں کے منظر سے نکل آئے
خدا حافظ کہا بوسہ لیا گھر سے نکل آئے

اگر سب سونے والے مرد عورت پاک طینت تھے
تو اتنے جانور کس طرح بستر سے نکل آئے

آنکھیں کہیں نگاہ کہیں دست و پا کہیں
کس سے کہیں کہ ڈھونڈو بہت کھو رہے ہیں ہم

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی
سنا ہوا کو ، پڑھا ندی کو ،موسم کو استاد کہا

باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں
کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
یاد آتی ہے چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماں

بانس کی کھری کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے
آدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں

بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا آنکھیں جانے کہاں گئی
پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں

غزل کے ان اشعار میں جہاں عام فہم اور سادہ سی زبان استعمال کی گئی ہے وہیں جذبات و احساسات کا ایسا سیل بے پناہ بھی ہے جو پورے وجود کو جل تھل کر دے ۔ غزل کے علاوہ ندا نےجو نظمیں گیت اور دوہے لکھے ہیں وہ بھی انھیں کیفیات سے عبارت ہیں ۔ان کا یہ کلام معروف گلوکاروں کے لبوں کی زینت بھی بنا اور اردو اور ہندی رسم الخط کی صورت میں بھی ہمارے آنکھیں روشن کرتا ہے:

سودا لینے ہاٹ میں کیسے جائے نار
چاقو لے کر ہاتھ میں بیٹھا ہے بازار

سنا ہے اپنے گاؤں میں رہا نہ اب وہ نیم
جس کے آگے ماند تھے سارے وید حکیم

ساتوں دن بھگوان کے کیا منگل کیا پیر
جس دن سوئے دیر تک بھوکا رہے فقیر

دروازہ پابند ہے کھڑکی بھی اسہائے
میرے گھر میں دھوپ بھی پچھواڑے سے آئے

ندا فاضلی کی نجی زندگی یا خاندانی حالات پر یہاں گفتگو کا موقع نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ وہ عمر بھر جس ناآسودگی کا شکار رہے اس کا عکس ان کی غزلوں کے اشعار سے بھی نمایاں ہے اور نظموں سے بھی ۔انھوں نے ماں کو موضوع بنا کر بھی بہت سے اشعار کہے ہیں ۔آج ماں کو موضوع سخن بنا کر خوب خوب شاعری ہو رہی ہے مگر اس شاعری میں جذبات کی شدت سے زیادہ مشاعرے کی ضرورت کا تماشا ہے جبکہ ندا کے یہاں ماں کا استعارہ اپنی پوری شدت کے ساتھ آتا ہے ۔ گاؤں دیہات کی وہ ماں جس کے دامن میں اپنا گھر آنگن بھی ہے اور سماج بھی ندا فاضلی کا مرتب کردہ غالباٗ آخری شعری انتخاب جو ” شہر میں گاؤں ” کے نام سے ۲۰۱۲ میں منظر عام پر آیا اس میں چھ شعری مجموعے شامل ہیں ۔ لفظوں کا پل ،مور چال ۔آنکھ اور خواب ،کھویا ہوا ساکچھ ،میرے ساتھ چل اور زندگی کی طرف ۔ ان مجموعوں میں وہ کلام بھی موجود ہے جو قدیم شعرا کے رنگ سے عبارت ہے ۔بلکہ یہاں وہ غزلیں بھی جو اساتذہ کی زمینوں میں کہی گئی ہیں اور وہ بھی جو ساتوں دہائی کی جدیدیت کی نمائندگی کرتی ہیں انھوں نے صوفی شعرا کی زمینوں میں جو غزلیں کہی ہیں ان میں اپنا مخصوص رنگ اس طرح شامل کرلیا ہے کہ لفظ لفظ ہندوستان کی مٹی کی بو باس اور یہاں کی فضا سے مہک رہا ہے ۔ان کی شاعری میں زمینی سچائیاں بھی ہیں اور بشر دوستی کے احساسات بھی اور جیسا کہ "زندگہ کی طرف” کے مبصر نے لکھا ہے کہ "غیر شعری زبان میں شعریت پیدا کرکے ندا نے اس وراثت کی بازیافت کی ہے جو لسانی ارتقا کی پر پیچ راہوں میں کہیں چھوٹ گئی تھی ۔”
ندا نے متذکرہ مجموعہ جسے اب کلیات کہنا ہی مناسب ہے اس کا مسودہ جب پبلشر نے ندا کو دکھایا تو ندا نے بقول سکندر مرزا اس میں سے اپنے گھر کا پتہ یہ کہہ کر کاٹ دیا کہ میرا پتہ میری شاعری ہی ہے ۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ندا کا اینٹ گارے کا مکاں تو نہ جانے کس کے قبضہ میں ہو، لیکن ان کا کلام اہل ذوق کے ذہنوں اور دلوں میں گھر کئے ہوئے ہے، کہ یہی کسی شاعر کی بقا کا ضامن بھی ہے اور اس کا پتہ بھی:
تم یہ کیسے جدا ہو گئے
ہر طرف ہر جگہ ہو گئے