نئی تعلیمی پالیسی پر جاوڑیکرنے کہا،آر ایس ایس کے نظریہ میں غلط کیا ہے؟

نئی دہلی:مودی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیربرائے فروغ انسانی وسائل اورموجودہ وزیر ماحولیات پرکاش جاوڈیکر نے کہاہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریہ میں غلط کیا ہے ، کیا اچھا شخص بنانا غلط ہے؟گویاکہ انھوں نے اعتراف کرلیاہے کہ یہ پالیسی سنگھ کے نظریے کے تحت بنی ہے۔مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہاہے کہ نئی تعلیمی پالیسی سے مستقبل میں اسکول کے بستے کابوجھ کم ہوگا۔ اس سے مہارت میں اضافہ ہوگا اورروزگارکے مواقع میسرآئیں گے۔ مقامی زبان بھی ایک آپشن کے طورپردستیاب ہوگی۔ اس کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نجی اسکولوں کاکوئی وزن نہیں ہوگا۔نئی تعلیمی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکرنے کہاہے کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے اس بل پر دو بار بحث ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی بل کے مسودے پر تمام اراکین پارلیمنٹ اور بلاک پنچایت کی سطح پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سب سے مشورے لینے کے بعد مودی حکومت نے اس بل کو منظور کرلیا ہے۔مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج کہاہے کہ آر ایس ایس کانظریہ کیاہے؟ کیا قومی مفادکے بارے میں بات کرنا غلط ہے؟ وہ کیا چاہتا ہے کہ ملک دشمن تعلیم دی جائے۔