NEET ریزرویشن کیس:سپریم کورٹ کااہم تبصرہ،ریزرویشن بنیادی حق نہیں

نئی دہلی:جمعرات کے روزسپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریزرویشن کے بارے میں اہم تبصرہ کیاہے۔ تمل ناڈو میں NEET پوسٹ گریجویشن ریزرویشن کیس میں عدالت نے کہاہے کہ ریزرویشن بنیادی حق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمل ناڈو میں متعدد سیاسی جماعتوں کے ذریعہ دائر درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔اس تبصرے سے اپوزیشن یہ نتیجہ نکال سکتاہے کہ دھیرے دھیرے ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جیساکہ موہن بھاگوت نے بھی پانچ برس قبل ریزرویشن ختم کرنے کی وکالت کی تھی۔اگرایساہوتاہے تویہ دلتوں کی طرف سے احتجاج ہوسکتاہے۔تمل ناڈومیں بہت ساری جماعتوں ، بشمول ڈی ایم کے ، سی پی آئی،اے آئی اے ڈی ایم کے نے تمل ناڈو میں 50 فیصد اوبی سی ریزرویشن کے معاملے پر NEET کے تحت میڈیکل کالجوں میں نشستوں کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہاہے کہ اس معاملے میں کس کا بنیادی حق چھیناگیاہے؟ آپ کی درخواستوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ صرف تمل ناڈو کے کچھ لوگوں کے حق کی بات کررہے ہیں۔ ڈی ایم کے کی جانب سے عدالت میں کہاگیاہے کہ ہم عدالت سے مزید ریزرویشن میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں ، بلکہ وہاں جوہے اس پرعمل درآمد کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔اسی درمیان جسٹس راؤنے کہاہے کہ ریزرویشن بنیادی حق نہیں ہے ، آپ سپریم کورٹ سے پٹیشن واپس لے لیں اور اسے ہائی کورٹ میں دائرکریں۔تاہم ، اس دوران تبصرہ کرتے ہوئے ، سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک معاملے پر اکٹھاہوچکی ہیں،لیکن ہم اس پٹیشن کو نہیں سنیں گے۔ تاہم ، ہم اسے مسترد نہیں کررہے ہیں اور آپ کو ہائی کورٹ کے سامنے سماعت کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔