Home قومی خبریں قومی اردو کونسل کے زیراہتمام ‘اردو زبان کا فروغ اور امکانات’ کے عنوان سے بہار میں دانشوروں اور افسران کے ساتھ میٹنگ

قومی اردو کونسل کے زیراہتمام ‘اردو زبان کا فروغ اور امکانات’ کے عنوان سے بہار میں دانشوروں اور افسران کے ساتھ میٹنگ

by قندیل

قومی اردو کونسل اور بہار کے سرکاری اداروں کے مابین ادارہ جاتی اشتراک وقت کی اہم ضرورت: عامر سبحانی

پٹنہ؍نئی دہلی: قومی اردو کونسل، نئی دہلی کے زیراہتمام غلام سرور ہال، حج بھون، پٹنہ میں ‘اردو زبان کا فروغ اور امکانات’ کے عنوان سے حکومتِ بہار کے افسران اور اربابِ علم و دانش کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت بہار سرکار کے سابق چیف سکریٹری اور بہار الیکٹری سیٹی ریگولیٹری کمیشن (Bihar Electricity Regulatory Commission)کے چیئرمین جناب عامر سبحانی نے کی۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے میٹنگ کی غرض و غایت کے حوالے سے بتایا کہ قومی اردو کونسل ہندوستان کا سب سے بڑا اردو کا ادارہ ہے اور ہندوستان کے طول وعرض میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے پابند عہد بھی ہے۔ کونسل اپنے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کرنے کے لیے نئے امکانات اور مقامات کی تلاش کررہی ہے۔ حکومت بہار کے زیراہتمام چلنے والے مائنارٹی ہاسٹل میں لائبریری کا قیام، اردو کے مراکز کو مضبوط کرنا، بہار مدرسہ بورڈ کے مدارس میں معاون اور درسی کتابوں کو بہتر بنانا اور مختلف اضلاع میں قومی اردو کونسل کی اسکیموں کے دائرہ کووسیع کرنا اس میٹنگ کے مقاصد میں شامل ہے۔
صدرِ مجلس جناب عامر سبحانی نے اپنے صدارتی کلمات میں کونسل کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل اور بہار کے سرکاری اداروں کے مابین MOUسائن کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کتاب کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جناب محمد سہیل (سکریٹری، مائنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ) نے کہا کہ اردو طلبا کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کورس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس پر خاص توجہ دی جائے تو طلبا کے کیرئر اور مستقبل سازی میں بہت مدد ملے گی۔ ڈاکٹر امیر آفاق فیضی (ایڈیشنل سکریٹری کم ڈائرکٹر، مائنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ) نے مدارس کے حوالے سے کہا کہ ہم ہر چالیس مدرسے پر ایک تعلیم بالغان سینٹر چلا رہے ہیں۔ اگر کونسل کا اشتراک ہوجائے تو اس دائرے کو ہم مزید وسیع کرسکتے ہیں۔ جناب ارشد فیروز (چیئرمین گورنمنٹ اردو لائبریری) نے کتابوں کی فروخت کے تعلق سے بتایا کہ ہم نےکثیر تعداد میں گورنمنٹ اردو لائبریری کے لیے کتابوں کا آرڈر کیا ہے۔ مزید لائبریریاں بھی ہم سے رابطے میں ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اردو کتابو ں کا زیادہ سے زیادہ فروغ ہو ۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد (سابق وائس چانسلر، مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی ، پٹنہ) نے کہا کہ قومی اردو کونسل جن اداروں کو مالی امداد دیتی ہے ان کے پروگراموں میں نئی نسل کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر محمد نوراسلام(سی او ای، مدرسہ بورڈ) نے درسی کتابوں کی فراہمی میں دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل اس سلسلے میں تعاون کرے تو ہم ان دقتوں کو دور کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر انعام ظفر (ڈیولپمنٹ آفیسر ایم ایم ایچ اے اینڈ پی یو) نےنئی نسل کو مواقع فراہم کیے جانے پر زور دیا۔ جناب افضل عباس (چیئرمین شیعہ وقف بورڈ)، جناب عظیم اللہ انصاری (او ایس ڈی، مائنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ)، جناب ابرار احمد خان (سکریٹری، بہار اردو اکیڈمی) وغیرہ نے بھی اس موقعے پراظہارِ خیال کیا۔
تمام شرکا نے قومی اردو کونسل کی کارکردگی اور عزائم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بہار کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اخیر میں قومی اردو کونسل کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

You may also like