نظریاتی اختلاف اور ہماری بے اعتدالی-لقمان عثمانی

دنیا میں بسنے والے انسانوں میں جہاں رنگ و نسل کا امتیاز، ذات پات کی تقسیم اور زبان و کلچر کی تفریق پائی جاتی ہے وہیں ان کا زاویۂ نظر و طرزِ فکر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس اختلافِ فکر و نظر پر ہی معاشرتی زندگی کی خوبصورتی کا مدار ہے، کہ:

گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
نیز اختلافِ فکر کی بنیاد قوتِ فکر ہے جو ہر ترقی پسند معاشرے کےلیے انتہائی ناگزیر ہے کہ اسی قوت کے ذریعے ماضی و حال کا جائزہ لے کر مستقبل کے ممکنہ خدشات کے سیلابِ بلا خیز کے آگے حکمت و تدبر کی باندھ باندھی اور سیاسی، سماجی و معاشی نظام و ترقی کیلیے سود مند لائحۂ عمل تیار کیا اور نت نئے مسائل کا نتیجہ خیز حل پیش جاسکتا ہے اور یہی عقل و دانش کا صحیح استعمال بھی ہے؛ ورنہ فکری قوت سے عاری قوم اپنی آزادانہ زندگی سے محروم اور ذہنی غلامی کا شکار ہو جایا کرتی ہے جس کی حیثیت اس گھوڑے سے زیادہ نہیں ہوتی جس کا لگام گُھڑ سوار کے ہاتھوں میں ہو اور وہ اپنی نقل و حرکت کیلیے بھی اس کے اشاروں کا محتاج ہو؛ چناں چہ یہی فکری قوت ہے جو ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتی اور احساسِ ذمے داری پیدا کرتی ہے ـ اس حقیقت سے بھی کس صاحبِ نظر کو انکار ہوسکتا ہے کہ جس زندہ قوم میں فکری قوت جیسی عطائے بیش بہا سے لیس افراد کی فراوانی ہو اور جس معاشرے میں آسمانِ علم و فن کے درخشاں ستاروں کی جلوہ سامانی ہو وہاں اختلافِ فکر و نظر کا پایا جانا بھی یقینی ہے؛ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہم میں نہ اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رہا اور نا ہی اختلاف کرنے کا سلیقہ، یہی وجہ ہے کہ ہم ہر شخص کو اپنے معیار پر پورا اترتے دیکھنا چاہتے ہیں، کوئی شخص ہمارے لیے اسی وقت تک لائقِ احترام و قابلِ تعظیم ہے جب تک کہ وہ ہمارے مزاج و مذاق کے موافق ہو؛ غرضیکہ ہم ”میرے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے“ کے احمقانہ زعم میں آکر ہر شخص سے یہ امید کرتے ہیں کہ ”انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زباں میری ہے بات ان کی“ کا نمونہ بن جائے؛ چناں چہ اگر کسی کے موقف میں ذرہ برابر بھی فرق و تفاوت نظر آتا ہے تو ہم کردار کشی پر اتر آتے ہیں اور کل تک جسے ہم نے اوجِ ثریا پہ بٹھا رکھا ہوتا ہے، چشمِ زدن میں اسے زمیں پر دے مارتے ہیں اور بسا اوقات تو کفر و زندقہ کا فتوی تھوپنے سے بھی باز نہیں رہتے اور جنت و جہنم کا فیصلہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے؛ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اسلام کے شیدائی بھی ہماری کفر ساز فیکٹری کے تیر و تفنگ کے نشانے پر آنے سے نہیں بچ پاتے اور ہماری یہی بے مروتی ہے جس کی وجہ سے ہم نے بہت سے اپنوں کو گنوایا بھی ہےـ یہ چپقلش کوئی آج کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے ـ مولانا عبیداللہ سندھی جو خود بھی زمینی خداؤں کے عتاب کا شکار رہ چکے ہیں، فرماتے ہیں کہ ”یہ جو تاریخِ اسلام میں تم اکثر پڑھتے ہو کہ فلاں ملحد تھا، فلاں زندیق تھا، فلاں نے اسلام کو یوں نقصان پہنچایا، فلاں سے مسلمانوں کو یوں گزند پہنچا وغیرہ وغیرہ تو یاد رکھو ان میں اکثر ایسے تھے جو اپنے اپنے زمانے میں مروجہ مفاسد کی اصلاح کرنا چاہتے تھے؛ لیکن برسرِ اقتدار طبقے کے مفادات پر اس سے زد پڑتی تھی؛ چناں چہ اس کی طرف سے ان کے خلاف مذہبی حربہ استعمال کیا گیا اور اس کے جواب میں بھی مذہب ہی میدان میں آیا اور اس طرح معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اصلاح کی کش مکش مذہبی کش مکش بن گئی اور ایک دوسرے کو کافر و زندیق ٹھہرایا گیا ـ اسلام میں مذہبی فرقوں کی ابتدا اسی طرح ہوئی اور کفر و زندقہ کا چکر یوں چلا“ (افادات و ملفوظات، ص: 107)
میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کے شریعت کے منافی نظریات و تفردات کو بھی تسلیم کر لیا جائے اور اس کی سرزنش نہ کی جائے؛ لیکن آج جبکہ جدیدیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اس کی سیاسی، عمرانی، مادی و اقتصادی ترقی کے سامنے عوام تو کجا خواص بھی مرعوب، بلکہ مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں، اگر ان کے ذہن میں مروجہ نظام یا کسی اسلامی نظریے کے تئیں کسی طرح کی خلش پیدا ہوتی ہے تو ہم مدلل جواب دے کر انہیں مطمئن کرنے کی بجائے جو اس کی نیت پر حملہ کرتے ہوئے اس کے خلاف محاذ قائم کردیتے ہیں اور اس کو اسلام کا دشمن، اسلاف و اکابر کی راہ سے بھٹکا ہوا سمجھ کر اس کے لیے جنت و جہنم کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوجاتے ہیں، یہ ذہنی اپاہج پن نہیں تو اور کیا ہے؟
کچھ فکری جمود کے ماروں نے تو اسلاف و اکابر پر اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کردیا کہ اب ان کے افکار و خیالات کے علاوہ رائے قائم کرنے یا کسی نظریے میں ان کے خلاف جانے کو معیوب سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے اسلاف ہم سے کہیں زیادہ وسیع النظر تھے اور اکابرینِ وقت بھی زمانہ شناس ہیں تو ان کی دور بیں نگاہوں نے اس کا ادراک بھی ضرور کیا ہوگا تو پھر ہم اپنی فکری بصیرت کے جلوے بکھیرنے کی کوشش نہ کرکے انہیں کے موقف پر ایمان لے آئیں؛ جبکہ اصولی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ جواب کسی طرح بھی معقول نہیں ہے ـ شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی شخص عقلِ کل نہیں ہوتا ورنہ امام اعظم ابو حنیفہ کے بعد کوئی امام شافعی نہ پیدا ہوتا جن کو بجا طور پر یہ اعتراف تھا کہ ”لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ کے محتاج ہیں“ یا پھر ممکن ہےکہ اسلاف و اکابر کی دور بیں نگاہوں نے اس کا ادراک بھی کیا ہو لیکن ان کے سامنے مقتضائے وقت کچھ اور رہا ہو؛ لیکن یہ زمینی خدا کسی مفاہمت کی زحمت کرنے کی بجائے محاذ قائم کرنے کو ہی آسان حل سمجھتے ہیں ـ
جو شخص اسلام کے اصولی عقائد پر کامل ایمان رکھتا ہو لیکن بعض فروعی مسائل میں متذبذب ہو تو ایسے شخص کو مطمئن کرنے کی بجائے اگر آپ اس کو مطعون کرنے یا اس پر کفر کے فتوے داغنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں تو پھر آپ اپنے ایمان کی خیر منائیں اور یاد رکھیں کہ نہ آپ خود کسی کےلیے معیارِ حق ہیں اور نا ہی اسلام پر آپ کا اجارہ ہے ـ
معتدل اختلاف ہمیشہ محمود رہا ہے اس لیے اس کی گنجائش رہنی چاہیے اور تشدد ہمیشہ مذموم رہا ہے اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے؛ ورنہ آپ تشدد برت کر کسی کو اپنے غلط نظریے پر مزید مُصر اور ہٹ دھرم تو بنا سکتے ہیں، اس سے کسی بھلائی کی امید نہیں کر سکتے؛ کیوں کہ یہ افراط و تفریط در اصل فکری پسماندگی و ذہنی درماندگی کی واضح دلیل ہے جس سے کسی بھی سودمند نتیجہ کی توقع نہیں کی جاسکتی؛ کیوں کہ جب تک رائے میں توازن، فکر میں اعتدال اور گفتگو میں متانت نہ ہو تب تک کوئی بھی تنقید بار آور نہیں ہوسکتی اور کوئی بھی اختلاف نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*