نظم ۔ عید دبے پاؤں آئی ہے !-ڈاکٹر مشتاق احمد 

اے عید تو دبے پاؤں آئی ہے

مگر جینے کی ادا ساتھ لائی ہے

کہ آج قربت

موت کی علامت ہے

اور تنہائی

جینے کی راحت ہے

کل جب لیکن

درد نہاں کا سلسلہ ٹوٹےگا

غبارہ غم بھی پھوٹے گا

یہ دیوار ہجر ٹوٹے گی

وصل کی کر ن پھو ٹے گی

چراغ بزم یاراں

پھر روشن ہوگا

ہواے تازہ سے ہمکنار

رشک چمن ہوگا

ان جاگتی آنکھوں میں

خوابوں کا سمندر ہوگا

دست امید میں

لعل و گہر ہوگا

تب اے عید تو دبے پاؤں مت آنا

میرے جینے کی ہر ادا ساتھ لانا

کہ آج قربت

موت کی علامت ہے

اور تنہائی

جینے کی راحت ہے

آج کی یہ شب سیاہ گزر جاۓگی

کل صبح نوکی کرن بکھر جاۓ گی

اے عید مجھ کو

تجھ سے کوئی شکایت نہیں

کہ منہ پھیر لینے کی

ہے تجھ کو بھی عادت نہیں

کل تو پھر اے گی شادمانی لے کر

زندگی کی ایک نئی کہانی لے کر

آج اے عید تو دبے پاؤں آئ ہے

مگر جینے کی ادا ساتھ لائی ہے !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*