نئی نسل اور جمہوری سیاسی تربیت

ڈاکٹرحسن رضا

ایک آزاد جمہوری ملک میں جمہور ی قدروں کا فروغ ،ڈیموکریٹک اداروں اور روایتوں کا استحکام، سول سوسائٹی کا ایمپاورمنٹ اور سماج کے ہر طبقے و گروہ کی متناسب حصہ داری سب کا انحصار نئی نسل کی سیاسی تعلیم وتربیت اور عملی جدوجہد کے تسلسل سے قائم رہتا ہےـ جس کا یہ صحیح موقع ہے بشرطیکہ ہم اس پورے سیاسی منظر نامے کو اس پہلو سے دیکھیں اور اس پر اسی نقطہ نظر سے اپنا لائحہ عمل تیار کریں، یہ ون ڈے میچ نہیں ہے اور نہ یہ فقط محرم کے سپاہی اور جمعہ کے نمازیوں کے مظاہرے سے حل ہوسکتا ہے اب رسمی، وقتی اور عارضی سیاسی کھیلوں کا وقت ختم ہوچکاـ

اس وقت ہم تاریخ کے فیصلہ کن مرحلے پر کھڑے ہیں ،موجودہ واقعات کو صرف ملی مسئلے کے تناظر میں دیکھنا بڑی غلطی ہوگی اور یہ حقیقت واقعہ کے بھی خلاف ہے شہریت ترمیمی قانون ہندوستان کے مشترکہ قومی ریاستی ودستوری کردار کا معاملہ ہے یہ ہزار سالہ تاریخ کے اثبات اور نفی کا معاملہ ہے، یہ پورے برصغیر کے سیاسی مستقبل بلکہ ساؤتھ ایشیا میں ہندوستان کے کردار کا بھی سوال ہے لہذا صرف جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرے یا مسلم محلے کی روڈ جام کرکے اس کو حل نہیں کرسکتے ہیں اور نہ اس سے نئی نسل کی عملی سیاسی تربیت ہوگی بلکہ غلط تربیت ہوجائے گی، یاد رکھیے ملت کے سیاق میں سچ یہ ہے کہ مجلس مشاورت کے بعد کو ئی آل انڈیا عوامی سیاسی تجربہ ہم نے نہیں کیا اور ملکی تناظر میں سوچیں تو جے پی آندولن کے بعد نئی نسل کی عملی سیاسی تربیت کا کام عوامی پیمانے پر شاید رک سا گیاـ بس اقتدار کی الٹ پھیر اور اس کے جوڑ توڑ کی ایک محدود سی الکشنی جد وجہد جاری رہی جس کے سبب دھیرے دھیرے جمہوری ادارے، قدریں روایتیں سب کمزور ہوگئیں،

بس الکشن میں نن ایشوز کی لڑائی سے فائدہ اٹھا کر کمیونل پالیٹکس نے اپنے بال وپر خوب پھیلانا شروع کردیا،سوشل جسٹس اور مذہبی رواداری کی قوتیں بھی کنارے لگنے لگیں اور اب بالآخر کمیونل انتہا پسندی اور جارح اقتدار پرستی ملک میں سب سے زیادہ مضبوط سیاسی قوت بن گئی اور جمہوریت، آزادی، انسانی مساوات، عدل،مذہبی رواداری سب کا گلا گھونٹنے لگی چنانچہ اس کی ایک نمایاں مثال حالیہ شہریت کے قانون میں اپنے ووٹ بینک کی خاطر ترمیم ہے، جس میں انسانی مساوات، ملک کی صحت مند روایات مختلف سماجی اور تہذیبی اکایئوں کے درمیان شہریت کے سلسلے میں دستور کی اسپرٹ اور وی دی پیپول آف انڈیا میں پنہاں ایک مقدس خاموش معاہدہ اجتماعی سب کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہےـ راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں میں ان باتوں کی نشاندہی بہت لوگوں نے کی لیکن دلائل کی قوت کے بجائے تعداد کے کھیل پر ایک ایسے بل کو پاس کردیا گیا جس سے ملک کا بنیادی تصور ہی خاک میں مل جائے گا اور اس کی جگہ پر ہندوتوا کا انتہا پسند متعصبانہ کردار سامنے آجائے گاـ ہندوستان کے نہ ہندو اتنے احمق ہیں اور نہ مسلمان اتنے نادان ہیں کہ وہ موجودہ شہریت ترمیمی بل جو اب قانون بن گیا ہے ،اس کے دور رس منفی نتائج کو نہیں سمجھتے ہیں اور وہ ٹھنڈے پیٹوں اس کو برداشت کرلیں گے؛ چنانچہ وہی ہوا جس کی امید کی جاتی تھی اور پورے ملک میں نوجوانوں نے اس پر احتجاج شروع کردیا ہےـ اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے ان یو،دہلی یونیورسٹی اور اس کے بعد ملک کی دوسری یونیورسٹیز کے طلبہ کا کردار قابل ستائش ہے کہ انہوں نے پر امن طور پر اپنے جمہوری حق اور ایماندار شہری کا فرض ادا کیاـ البتہ جامعہ میں ہوسٹل، لائبریری اور مسجد میں داخل ہو کر طلبہ وطالبات کے ساتھ پولیس نے جو کچھ کیا وہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے،جن غیر سماجی عناصر نے پرامن مظاہرے کو بگاڑا وہ کس کے شہ پر یہ کام کرگئے یہ بھی قابل مذمت اور تحقیق طلب ہے ـ

بہرحال سب پر یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ یہ جمہوری لڑائی ون ڈے میچ نہیں ہے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا؛ بلکہ ایک طویل جمہوری پر امن جدوجہد کا آغاز ہے،ملک وملت کے تعمیری جمہوری اور انصاف پسند ہندو مسلم لیڈروں کو آگے بڑھ کر نوجوانوں کی دل سوزی،محبت کے ساتھ چارہ سازی اور غمگسار ی کے ساتھ شریک حال ہونا ہوگاـ شاید روایتی قیادت بہت زیادہ کار آمد اب نہ ہو ،یہ وقت ہی بتائے گا؛لیکن تحریک کو فطری رفتار سے چلانا ہندو مسلمان سکھ عیسائی تمام شہریوں کی ذمہ داری ہے؛تاکہ ملک میں ایک مثبت تعمیری اور اعلی اخلاقی فضا پروان چڑھے اور اس میں ملک کے تمام لوگ منصفانہ طورپر اپنا حصہ پاتے ہوئے برابری کے ساتھ آگے بڑھیں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*