Home خاص کالم نئے سال کی قرارداد- محمد ریحان

نئے سال کی قرارداد- محمد ریحان

by قندیل

رواں سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کے درمیانی مرحلے میں لوگ اپنی اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مختلف نفسیاتی کیفیتوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ عام طور پر رخصت ہونے والے سال سے لوگ خوش نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن آنے والے سال کی طرف وہ ضرور امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ رواں سال ان کے لیے بیکار تھا، اس میں انہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا اور نیا سال ان کے لیے ضرور کار آمد ثابت ہوگا، اس میں ان کی ساری خواہشوں کی تکمیل ہو جائے گی۔ اس طرح کے لوگ بہت پرتپاک انداز سے نئے سال کا استقبال کرتے ہیں اور فرط جذبات میں نئے سال کی ایک لمبی چوڑی قرارداد تیار کر لیتے ہیں۔ وہ آنے والے سال میں ہر وہ کام کر لینا چاہتے ہیں جو اب تک نہیں کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی قرارداد میں ساری انسانی کمیاں دور کرکے اپنے آپ کو بالکل فرشتہ صفت بنا دینا چاہتے ہیں۔ گزرنے والے سال میں انہوں نے ایک کتاب بھی نہیں پڑھی ہوتی ہے اور آنے والے سال میں ہر مہینے سو کتاب پڑھنے کا منصوبہ بنا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ نئے سال کی دہلیز پر کھڑے ہوکر یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اب سگریٹ یا کسی نشہ آور چیز کو منہ نہیں لگائیں گے۔ حالانکہ اب تک وہ ایک دن میں سگریٹ کے دو دو پیکٹ پھونک رہے ہوتے تھے۔ کچھ لوگ موبائل اور سوشل میڈیا کی لت سے بچنا چاہتے ہیں۔ وہ نئے سال کی آمد کے جوش میں سوشل میڈیا اور موبائل کی اہمیت سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ہر سوشل میڈیا سے اپنا رشتہ منقطع کر لیں گے۔ اس طرح کے لوگ حقیقت پسند نہیں ہوتے ہیں اور ان کی قرارداد بھی حقیقت سے پرے ہوتی ہے۔ نئے سال کے آغاز پر نیا جوش اور جذبہ ہوتا ہے اس لیے اپنی ریزولوشن بناتے ہیں اور چند ایام پورے جوش و خروش کے ساتھ اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ان کا جوش بھی کافور ہوتا جاتا ہے۔ ایک یا دو مہینے کے بعد وہ اپنی ریزولوشن بھول جاتے ہیں اور اصلی حالت پر لوٹ آتے ہیں۔ باقی کے مہینوں میں وہ صرف یہی گنگناتے ہیں:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

کچھ لوگ گزرنے والے سال سے نہ تو خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی آنے والے سال میں اپنے لیے کسی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ گزرنے والے سال میں زندگی جس حال میں بسر ہوئی ہے اسی ڈگر پر اگلے سال کی زندگی بھی گزرے گی۔ ان کے لیے ہر سال ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی طرف سے کسی خاص ایموشن کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔ وہ نئے سال کے سارے امکانات اور اس کی چمک دمک کو "اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے” کہہ کر ختم کر دیتے ہیں۔ شاید اسی طرح کے لوگوں کی کیفیت کو بتانے کے لیے استاد محترم پروفیسر کوثر مظہری صاحب نے یہ شعر کہا ہوگا:

رواں سال جانے دو، کیا ہے؟
نیا سال آنے دو، کیا ہے؟

اس طرح کے لوگ در اصل یہ سمجھتے ہیں کہ نئے سال میں بھی وہی گذشتہ سالوں والی باتیں ہوں گی۔ اس میں بھی وہی شب و روز کی جھنجھٹیں ہوں گی۔ وہی زمین ہوگی جس پر انسان اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے بھٹک رہا ہوگا۔ وہی آسماں ہوگا جو ان پر مسلسل غموں کی بارش کرتا رہے گا۔ ان کو رواں سال اور نئے سال میں صرف ایک ہندسے کا فرق نظر آتا ہے۔ ان کو نئے سال پر خوش ہونے اور اس کا استقبال کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ پلٹ کر فیض جالندھری کی نظم "اے نئے سال بتا تُجھ میں نیا پن کیا ہے” سنا دیتے ہیں۔

ایسے لوگ بنا کسی قرارداد کے نئے سال میں داخل ہو جاتے ہیں اور نیا سال بھی ان کے کسی پرانے سال کی طرح دن اور مہینے میں گزر کر اسی پرانے سال کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہاں نصرت مہدی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے، آپ بھی ملاحظہ کریں:

ہر نئے سال کو بس ان میں ہی مل جانا ہے
یہ جو ٹھہرے ہیں کئی سال پرانے مجھ میں

ان دو کے علاوہ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو گزرنے والے سال کو خوشی خوشی الوداع کہتے ہیں اور نئے سال کا گرم جوشی کے ساتھ ویلکم کرتے ہیں۔ گزرے ہوئے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا، یہ اس کا حساب لگاتے ہیں، یہ کھوئی ہوئی چیز پر افسوس نہیں کرتے ہیں۔ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اور انہیں نہیں دہرانے کا عزم مصمم کرتے ہیں۔ جو کچھ پایا ہوتا ہے اس کے لیے خدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خود کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھتے ہیں۔ یہ نئے سال کے آغاز پر بہت واضح اور قابل حصول ریزولوشن بناتے ہیں اور جو بھی ریزولوشن تیار کرتے ہیں اس کے لیے منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔ یہ اپنے اوپر ایک ساتھ دس پندرہ ٹاسک کا بوجھ نہیں ڈالتے ہیں۔ ان کی ایک یا دو ریزولوشنز ہوتی ہیں اور واضح ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے لوگ یہ ریزولوشن نہیں بناتے کہ وہ ہر مہینے پچاس کتابیں پڑھیں گے۔ یہ امر ناممکن تو نہیں ہے لیکن ہر مہینے ممکن بھی معلوم نہیں ہوتا ہے۔ کسی مہینے طبیعت خراب ہو سکتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ پورا مہینہ بیماری کی نذر ہو جائے۔ مطالعہ کے ضمن میں ان کی قرارداد یہ ہوتی ہے کہ وہ نئے سال میں کسی خاص موضوع یا صنف مثلاً شاعری، ناول یا افسانہ کا مطالعہ زیادہ کریں گے۔ اب اس ریزولوشن میں یہ گنجائش ہے کہ وہ ایک مہینہ بھی مطالعہ نہ کریں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک موضوع پر آج نہیں تو کل مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کی تعداد متعین کرنے میں ایک دن پھسل جائے تو دوسرے دن ایک کی بجائے دو کتابیں پڑھنا ہوں گی اور اگر دوسرا دن بھی بنا مطالعہ کے نکل جائے تو پھر ریزولوشن کی پابندی ہو ہی نہیں سکتی ہے۔

پرانے اور نئے سال میں صرف ہندسے کا فرق نہیں ہوتا ہے۔ جو سال آپ کے درمیان سے گزر گیا، اس میں آپ کے لیے سبق ہوتا ہے اور جو سال آنے والا ہے، اس میں آپ کے لیے کچھ کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ نیا سال نیا اس لیے ہوتا ہے کہ اس میں نئے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ مواقع کو استعمال کرتے ہیں یا گنوا دیتے ہیں۔ آپ ملے ہوئے مواقع کو استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے مہ و سال میں ہندسے کے فرق کے سوا کچھ نہیں دکھے گا۔ آپ نئے سال کو نئے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں تو آپ نئے عزم اور نئی امید کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ آپ اپنی ریزولوشن تیار کرتے ہیں اور اس سال کو اپنے لیے مفید بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نئے سال پر اپنی ریزولوشن تیار کرتے ہوئے آپ کو تین باتوں کا خیال رکھنا ہے؛ آپ کی ریزولوشن واضح، قابل حصول اور آپ کی اپنی پسند و ناپسند پر مبنی ہو۔ آپ اپنی شخصیت اور زندگی پر نظر ڈالیں، جو چیز آپ کے لیے سب سے اہم اور ضروری معلوم ہوتی ہے اسے کرنے کا ارادہ کریں۔ جو چیز آپ کے لیے ضروری اور اہم ہوگی اسے کرنے میں آپ دلچسپی بھی لیں گے اور اس کا فائدہ بھی براہ راست آپ کو ملے گا۔ آپ نئے سال کا استقبال کریں اور اپنی قرارداد تیار کریں۔ سال کے آخر میں آپ دیکھیں گے کہ پرانے اور نئے سال میں صرف ہندسے کا فرق نہیں ہوتا ہے۔

رواں سال یعنی 2023 میں اگر آپ کے اوپر غم کے سایے منڈلاتے رہے ہیں، پھر بھی اسے خوشی خوشی الوداع کریں۔ یہ سال اب اپنے بال و پر سمیٹے ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔ نئے سال کی آمد آمد ہے، اس پر اپنی توجہ مرکوز کر لیں۔ آپ نئے سال میں زندہ ہیں تو اس میں ضرور کچھ نا کچھ آپ کے لیے رکھا ہے :

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

You may also like