نئے سال کی مبارکباد پر اتنا ہنگامہ کیوں ؟ ـ مسعود جاوید

مذہب تہذیب کا جز ہے نہ کہ تہذیب مذہب کا۔ ہم کیا کھاتے ہیں کیا پہنتے ہیں کس روز چھٹی مناتے ہیں خوشی اور غمی کے اظہار کے لئے ہم کس طرح کے الفاظ و اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں شادی بیاہ میں ہمارے رسم و رواج کیا ہیں ان تمام اعمال میں ہم مذہبی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کی تہذیب اور وہاں رائج طور طریقوں اور رسم و رواج کی اتباع کرتے ہیں۔ ہمارے کھانے پینے کی عادات اور پوشاک ہمارے علاقوں کی آب و ہوا سردی گرمی اور نمی و خشکی طے کرتی ہے۔ ساحل سمندر سے قریب کے لوگ لنگی اور ہاف شرٹ تو پہاڑی علاقے کے لوگ پینٹ فل شرٹ قمیص اور پاجاما پہنتے ہیں۔
اگر ان رسومات کا تعلق مذہب سے ہوتا تو پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک جیسا لباس، ایک جیسا کھانا پینا ایک جیسا اظہار خوشی اور غم ہوتا۔‌ اسلام کی آمد کے بعد سواۓ حلال حرام میں تمیز کرنے کے ، باقی کھانا پینا پہننا تجارت زراعت وغیرہ وہی رہے جو وہاں کے معاشرے میں رائج تھے۔ کافروں مشرکوں یہودیوں اور عیسائیوں کے لباس اور کھانے مسلمانوں کے کھانوں اور لباس سے مختلف نہیں تھے اس لیے کہ تہذیب علاقے کی پیداوار ہے نہ کہ مذہب کی۔

اسلام ایک عالمگیر دین ہے اس لئے شریعت نے اصول مقرر کر دیا ہے مثال کے طور پر اللہ نے قرآن مجید میں فرما دیا : {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ‏
تم پر حرام کردیا گیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس کے ذبح کے وقت غیرُاللہ کا نام پکارا گیا ہو اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور وہ جوبغیر دھاری دار چیز (کی چوٹ) سے مارا جائے اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور وہ جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو مگر (درندوں کا شکار کیا ہوا) وہ جانور جنہیں تم نے (زندہ پاکر) ذبح کرلیا ہو اور جو کسی بت کے آستانے پر ذبح کیا گیا ہو اور (حرام ہے ) کہ پانسے ڈال کر قسمت معلوم کرو یہ گناہ کا کا م ہے۔ اسی طرح سود اور شراب حرام ہے اس کے علاوہ کھانے پینے کی جتنی اشیاء ہیں وہ سب حلال ہیں۔

اسی طرح لباس کے بارے میں شرعی حکم فقط اتنا ہے کہ مرد کا ستر گھٹنے سے لے کر ناف تک یعنی یہ حصہ ڈھکا ہوا ہو، پاجاما شلوار پینٹ وغیرہ ٹخنے سے اوپر ہو، عورتوں کے لئے ان کا پورا جسم ستر ہے سواۓ چہرہ، ہتھیلیوں اور قدموں کے۔ اس کے علاوہ یہ کہ ان کا لباس اتنا چست نہ ہو کہ جسم کے نشیب و فراز عیاں ہوں اور نہ اتنا شفاف see through ہو کہ جسم پر پینٹ کا گمان ہو اور جنسی ہیجان پیدا کرے۔

اگر اسلام کی عالمگیریت کو مد نظر نہیں رکھیں گے تو آپ نہاری تندوری، بریانی اور قورمہ روٹی، شامی کباب اور شکم پر، کوفتہ اور پلاؤ گوشت نہیں کھانے والوں کو یا کرتا پائجامہ ٹوپی نہیں پہننے والوں کو اسلام سے خارج کر دیں گے۔

مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ اللہ انہیں اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور شخصیت پرستی سے دور رکھا اسی لئے ہمارا کیلنڈر(تقویم) تاریخ اسلام کی عظیم شخصیت کی یوم پیدائش سے شروع نہیں ہوتا ہے بلکہ تاریخ اسلام کا عظیم واقعہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے ہجری تقویم کہتے ہیں۔

لیکن مسلمانوں میں ایک غلط فہمی نہ جانے کس طرح رائج ہو گئی کہ دنیا بھر میں رائج گریگورین کیلنڈر کو عیسوی تقویم کا نام دیا جانے لگا جبکہ اس تقویم کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یوم پیدائش سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کیلنڈر 46 قبل مسیح سلطنت روم کے حاکم آمر، فوجی جنرل، دانشور اور سیاست دان جولیس سیزر کی تجویز پر علم نجوم اور علم ریاضی کے ماہرین نے مرتب کیا تھا۔ اور یہ جولیس کیلنڈر کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اس کیلنڈر کی رو سے سال 365.2500 روز پر مشتمل تھا لیکن 1582 عیسوی میں پوپ جورج ہشتم نے اس کی مزید تحقیق کے مطابق سال 365.2425 روز پر مشتمل مانا اور اس وقت سے اسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے جو کہ دراصل جولیس کیلنڈر کا معمولی ترمیم شدہ نسخہ ہے جو 45 سال قبل مسیح سے نافذ العمل تھا۔
چونکہ دنیا کے بیشتر ممالک عیسائیوں کے استعمار کے تحت تھے اور ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کا تقاضا تھا کہ مراسلات میں یکسانیت ہو، اس لئے پوری دنیا میں یہ گریگورین کیلنڈر رائج ہو گیا۔
جب اس کیلنڈر کا تعلق مذہب سے نہیں ہے تو اس کیلنڈر کے مطابق نۓ سال کی شروعات پر مبارکباد کا تبادلہ بعض لوگوں کو اتنا گراں کیوں گزرتا ہے ! کیا اتوار کی چھٹی پر وہ نہیں جاتے ! عیسائیوں کی ایجاد کردہ آسائش کے سامان، مشینیں اور عیش و عشرت سے لے کر علاج و معالجہ کے تقریباً ہر سامان اور آلات استعمال نہیں کرتے !
دراصل جو لوگ ملکوں کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے وہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے روز مسلم ممالک میں چھٹی اور سنیچر اور اتوار کو غیر مسلم ممالک میں چھٹی تو ہفتے کے چار دن یوں ہی نکل گۓ تو کام کب ہوگا !

اگر آپ کی اسلامی حمیت و غیرت واقعی بھڑکتی ہے تو نۓ سال پر مبارکباد دینے پر نہیں سود کھانے پر شراب پینے پر دوسروں کے مال ناحق کھانے پر غبن کرنے پر دھوکہ دینے پر جھوٹ بولنے پر بہتان تراشی پر تفرقہ کرانے پر کھل کر بولیں اور لکھیں تحریک چلائیں اور مسلمانوں کے اخلاق کی فکر کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*