نئے امیر الہند کا انتخاب اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی ـ امجد صدیقی

آج حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند کو امیر الہند منتخب کیا گیا، اس حسن انتخاب پر ہم سب مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی حضرت کو صحت وعافیت کے ساتھ رکھے اور قومی وملی خدمات کے لئے قبول فرمائےـ آمین
حضرت مولانا ارشد مدنی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے، عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہیں،عرب وعجم میں بے باکی اور مثالی بانکپن کے لیےمتعارف ہیں،علمی گیرائی اور گہرائی میں اپنی نظیر آپ ہیں ،دارالعلوم دیوبند میں آپ کا ترمذی شریف کا درس طلبا میں نہایت ہی مقبول ومعروف ہے، دور رس اور دور بیں ہیں، با بصیرت ہیں ،عزم واستقلال کے پیکر ہیں، قائدانہ خصوصیات کے حامل ہیں،سیکڑوں چھوٹی بڑی تنظیموں، اداروں اور ملی تحریکوں کے سرپرست ونگراں ہیں، جمعیت علماے ہند کے صدر ہیں ـ
لیکن آج مولانا کو امیر الہند منتخب کیے جانے پر کچھ مخالفین نے فیسبک پہ جو ہنگامہ برپا کیا،وہ نہایت ہی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ، مخالفت یا اختلاف کی ہر جگہ گنجائش رہتی ہے اور رہنی بھی چاہیے، چونکہ نظریات کا اختلاف کبھی ختم نہیں ہوسکتا، لیکن اختلاف یا مخالفت میں تذلیل یا توہین قطعی عقلمندی نہیں ہوسکتی ، آپ ادب کے دائرے میں رہ کر ہر شخص سے ،ہر تحریک و تنظیم سے اختلاف کر سکتے ہیں اور بعض دفعہ مخالف آرا کی وجہ سے اجتماعی اصلاح بھی ہوجاتی ہے۔ مگر آج کچھ سنجیدہ قلم کاروں نے مخالفت کی آڑ میں اہانت آمیز تبصرے کر کے اپنی تحریر کی وقعت وحیثیت کم کر لی ۔ایسے تبصرے سے اصلاح تو ہو ہی نہیں سکتی ،البتہ انتشار ہو سکتا ہے،
اگر مولانا ارشد مدنی صاحب اس عہدہ کے لیے موزوں نہیں ہیں تو آپ بلا واسطہ انتخابی ممبران تک بات پہنچا سکتے تھے ،لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا،سر عام آپ نے ایک استاذ حدیث کی تذلیل وتوہین کی، لفظوں کے استعمال میں برہنگی دکھائی، اسلوب و لہجے میں غلاظت انڈیلی، برسوں کی عداوت و دشمنی کو چند شبدوں میں اکٹھا کر دیا !
میں تو دعوے کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں پر خلوص نہیں ہیں ،آپ کی نیت اصلاح کی نہیں بگاڑ کی ہے ۔ آپ نے چند لوگوں کو فیسبک پہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کیا اور کچھ نہیں !
اور ایسا بھی نہیں کہ مولانا کو آپ لوگوں کی متعصبانہ تحریر کی وجہ سے امیر الہند کے عہدے سے معزول کر دیا جائے گا اور آپ کے زہریلے اور کانٹے دار لفظوں کی وجہ سے لوگ بدگمان ہوجائیں گے، بالکل بھی نہیں بلکہ مولانا کی عظمت و اہمیت ہماری نظروں میں زیادہ ہوگی ـ اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ ہم اساتذہ کرام کی ہر بات پہ آمنا صدقنا گردانتے رہیں گے، جہاں اختلاف کی گنجائش رہے گی ہم وہاں مودب اور مہذب انداز میں اختلاف بھی کریں گے اور کرتے ہیں ـ
اب بھی مولانا کی ایک آواز سے کروڑوں لوگ جمع ہوسکتے ہیں اور ہوئے بھی اور آپ چیختے رہیے  ،چلاتے رہیے ، زیادہ سے زیادہ سو لائکس اور سو کمینٹس ملیں گے ـ
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*