نئے امیر شریعت کے انتخاب کے بعد- نایاب حسن

خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور امارت شرعیہ کے نئے امیر کے سلسلے میں چھ ماہ سے جاری تعطل آج امارت کے اربابِ حل و عقد کی اکثریت کے ذریعے نئے امیر شریعت کے انتخاب کے ساتھ ختم ہوگیا، اس انتخاب سے آگے پیچھے بہت سے کیا اور کیوں تھے اور ہیں،مگر اب ان کی گردان بے معنی ہے اور سوشل میڈیا پر ہلہ ہنگامہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، البتہ چوں کہ نئے امیر کے انتخاب کے ساتھ امارت شرعیہ کا کارواں نئے سفر کی شروعات کرے گا، نئے امیر کے ذہن میں بہت سے نئے منصوبے،نئی تبدیلیاں اور نئے عزائم ہوں گے، تو بہار سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مَیں امیر شریعت صاحب کی توجہ ایک اہم امر کی طرف دلانا ضروری سمجھتاہوں اور وہ یہ ہے کہ امارتِ شرعیہ اگر پورے بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی نمایندگی کا دعوی کرتی ہے تو اسے اپنے عمل اور سرگرمیوں سے اسے ثابت کرنا چاہیےـ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس کے "بیت المال ” میں پیسے تینوں صوبوں کے تمام تر اضلاع سے آتے ہیں؛ بلکہ ان صوبوں کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے نام پر دیگر صوبہ جات اور بیرونِ ہند تک سے اس کے لیے مالی فراہمی کی جاتی ہے، مگر ناگہانی آفات یا مسلمانوں کو درپیش دیگر حادثات کے موقعوں پر امارت صرف خاص علاقوں تک ہی کارِ ہمدردی کرنے پہنچتی ہےـ مثلاً ہمارا تعلق سیتامڑھی سے ہے اور مظفرپور،شیوہر، دربھنگہ و مدھوبنی ہمارے پڑوسی اضلاع ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی اضلاع ہیں، جہاں بہت سے گاؤوں میں ہر سال سیلاب بھی آتا ہے، وقتا فوقتا فسادات اور دیگر حادثوں سے بھی مسلمان گزرتے ہیں، مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ امارت شرعیہ سمیت کوئی بھی جمعیت یا جماعت ان علاقوں کے مسلمانوں کا درد بانٹنے وہاں پہنچی ہو ـ ہمارے علاقے میں لوگ امارت کو عید کے چاند کی خبر دینے والی کوئی ایجنسی سمجھتے ہیں یا جو کچھ دینی شد بد رکھتے ہیں وہ اس کے دارالقضاؤں کی نسبت سے جانتے ہیں، جو مذکورہ اضلاع میں بھی قائم ہیں اور عائلی و وراثت کے مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہیں ـ ان دارالقضاؤں کے قضات کی معرفت سردیوں کے موسم میں ایک آدھ بار کمبل تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا ہے، مگر سیاہ رنگ کا وہ کمبل ایسا معمولی اور دبلا پتلا ہوتا تھا کہ نہ اسے اوڑھا جا سکتا تھا اور نہ بچھایا جا سکتا تھا، سنتے ہیں کہ امارت کی جانب سے غریبوں اور بیواؤں کے لیے وظائف کا بھی نظم ہے، مگر یا تو مذکورہ اضلاع کے لوگوں کو اس کی خبر ہی نہیں اور یا امارت کی طرف سے انھیں آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں، سو مجھے نہیں لگتا کہ ان علاقوں میں غریبوں، بیواؤں کو امارت کی طرف سے وظیفے دینے کا کوئی قابلِ ذکر انتظام ہےـ اسی طرح تعلیمی محاذ پر بھی امارت شرعیہ نے اچھا کام کیا ہے اور مولانا ولی رحمانی نے کئی نئے اقدامات پٹنہ اور پٹنہ سے باہر کیے تھے، مگر ہمارے ضلع اور آس پاس کے اضلاع میں ایسے کسی اقدام کی کوئی خبر نہیں ـ
نئے امیر شریعت کو دیگر داخلی و خارجی امور کی اصلاح کرنے کے ساتھ اس طرف بھی خاص طور پر توجہ دینا چاہیےـ اگر آپ پورے صوبے کی نمایندگی؛ بلکہ تین تین صوبوں کی نمایندگی کا دعوی کرتے ہیں تو ان تمام صوبوں میں آپ کی فلاحی، تعلیمی، سماجی و ترقیاتی اسکیمز اور منصوبوں کے فائدے یکساں طور پر پہنچنے چاہئیں ـ جن اضلاع میں آپ کے نمایندے متحرک نہیں، انھیں متحرک کیجیے، ان سے کام لیجیے اور پتا چلنا چاہیے کہ امارت شرعیہ محض اخباری بیانات، جلسے بازیوں،چاند کی خبروں اور مخصوص علاقوں میں ریلیف فنڈ پہنچانے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ تینوں صوبوں کے تمام اضلاع اور گاؤوں تک اس کی یکساں رسائی ہے اور ہر خطے کے مسلمانوں کی وہ واقعی اور حقیقی معنوں میں نمایندگی کرتی ہےـ امارت شرعیہ کے جتنے تعلیمی، فلاحی و ملی ترقی کے منصوبے ہیں، ان سے بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے تمام اضلاع؛ بلکہ تمام گاؤوں کے مسلمانوں کو واقف کرایا جانا چاہیے، ناگہانی سانحات کے موقعوں پر سلیکٹیو رویہ اختیار کرنے کی بجاے تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچنا اور مستحقین کی ضروری مدد کرنا چاہیے، تینوں صوبوں کے مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں کارگر خاکہ بناتے ہوئے خاص طورپر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے ہر ضلع میں کوچنگ سینٹر اور کم سے کم ایک اسکول؍کالج کے قیام کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور سب سے اہم یہ کہ جلسے جلوس پر قوم کا قیمتی سرمایہ بہانے کی بجاے قوم کی حقیقی ترقی کے لیے منصوبہ بندی، عمل، اقدام اور پیش رفت پر زور دینا چاہیےـ امید ہے کہ نئے امیر شریعت امارت کے دائرۂ عمل کو محدودیت سے نکال کر وسعت پذیر بنانے کی کوشش کریں گے اور اس کی افادیت کو تینوں کے صوبوں کے تمام مسلمانوں کے لیے یقینی بنانے کی سمت میں سنجیدہ و کارگر قدم اٹھائیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*