نئے امیر شریعت کے انتخاب میں امارت شرعیہ کی اقدار وروایات کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے،محبانِ امارت شرعیہ کمیٹی کی اپیل

 

نئی دہلی:(پریس ریلیز) امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھاڑکھنڈ کی خدمات اورملت کی فلاح وبہبود کے حوالے سے اس کے غیر معمولی کارناموں کی تاریخ رہی ہے، اپنے یومِ تاسیس سے ہی اس ادارے نے ملت کی شرعی اور سماجی رہبری کا اہم فریضہ انجام دیا ہے اورانفرادی و اجتماعی سطح پر اپنی گوناگوں خدمات کی وجہ سے اس فعال تنظیم نے دوسری تنظیموں کے لیے نمونہ پیش کیا ہے۔ اس نے امیر شریعت کی امارت میں مسلمانوں کے عائلی مسائل کے حل اور امت کی شیرازہ بندی کی ایک بہترین عملی شکل پیش کی ہے۔ مگر امیر شریعت سابع کے انتقال کے بعد نئے امیر شریعت کے انتخاب کے حوالے سے مختلف قسم کی بحثیں جاری ہیں،جس پر محبان امارت شریعہ کمیٹی (بہار، اڑیسہ، جھاڑکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ)نے قومی راجدھانی دہلی میں ایک اہم نشست کے دوران اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میٹنگ میں کمیٹی کے سربراہ مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے امارت شرعیہ کی خدمات اور عائلی مسائل کے حل میں اس ادارہ کی اہمیت وضرورت کو ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی قرار دیا، نئے امیر شریعت کے انتخاب کے حوالے سے ذاتی مفاد اور شخصی خوشنودی سے اوپر اٹھ کر ملت کے مفاد کو سامنے رکھنے کی اپیل کی اور کسی بھی غلط فیصلے کو ملت کے لیے بڑے خسارے کاسبب قرار دیا۔ کمیٹی کے سیکریٹری اور ولی اللہی دارالافتاء وآن لائن فتوی کے صدر مفتی عبد الواحد قاسمی نے امیر شریعت کے انتخاب کے حوالے سے گروپ بازی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرد کی قابلیت وفراست،بیدار مغزی اور ملت دوستی جیسے اوصاف کو امیر کے انتخاب کے بنیادی پیمانے کو برتنے کی اپیل کی،انہوں نے امارت کی تحریک کو سبوتاژ کرنے والے گروپ کو بے نقاب کیے جانے کی بھی اپیل کی ۔میٹنگ میں شریک ڈاکٹرمفتی آصف اقبال قاسمی نے کہا کہ امیر کا انتخاب امارت شرعیہ کے مستقبل کے لیے ایک اہم فیصلہ ہے، لہذا اس اہم فیصلہ کے وقت امارت کی اقدار وروایات کی پاسداری اس ادارہ کے بہتر کل کا ضامن ہوگی۔کمیٹی کے رکن اور سماجی کارکن حاجی یوسف سیٹھ جی نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علما سے فکر وتدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی اور امیر کے امیدوار افراد کو اس کی ماضی کی کارکردگی پر پرکھنے کی اپیل کی۔میٹنگ میں قاری شعیب،مولوی شاہد،قاری خلیل احمد مجددی،قاری افتخار نعمانی، مولانا ضیاء الرحمن اور صدر عالم انجینئر وغیرہ نے شرکت کی اور محبان امارت شریعہ کمیٹی کی اپیل کی تائید کی۔