نیا سال آیا نیا سال آیا

محمد عادل ؔفراز
’’نیا سال آیا نیا سال آیا‘‘

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

خدا کی عنایت ہو اس انجمن میں
اداسی نہ آئے ہمارے وطن میں
یوں ہی پھول مہکیں سدا اس چمن میں

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

وبائوں کے مارے بلائوں کے مارے
دعا کر رہے ہیں یہ انسان سارے
لگا دے ہماری بھی کشتی کنارے

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

پڑے اپنی حالت پہ ہم کو نہ رونا
دوبارہ نہ آئے گھروں میں کرونا
مرے دیس کی خاک بن جائے سونا

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

نگاہوں میں پھر جائے خوشیوں کا منظر
رہیں رقص کرتی بہاریں برابر
کوئی غم زدہ نہ رہے اب یہاں پر

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

سدا گیت خوشیوں کے بلبل سنائے
میرا دیس پھر سے ترقی پہ آئے
کبھی مفلسی ہم کو چھونے نہ پائے

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

زمانے میں چمکیں وفا کے نگینے
عطا کر دے مالک ترقی کے زینے
مصیبت سے ابھریں ہمارے سفینے

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

زمانے کے کتنے ستائے ہوئے ہیں
بہت درد دل میں چھپائے ہوئے ہیں
ہم عادل ؔہیں صدمے اٹھائے ہوئے ہیں

خدا دور کر دے غموں کا یہ سایا
نیا سال آیا نیا سال آیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*