نیا پارلیمنٹ ہاؤس وزیر اعظم کے لیے نیا ہوائی جہاز:یہ ہے نیا انڈیا-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس ، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
کسانوں کی تحریک اور رفتہ رفتہ بڑھ رہی سرد لہر ملک کے ہوش مند طبقے اور عالمی سطح پر کمزوراور ترقی پذیر ممالک کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے لوگ ہندستانی حکومت کی لاتعلقی سے بے چین اور پریشان ہیں۔ جب مرکزی حکومت عوام کے حقیقی مسئلوں سے گریز کا راستہ اپنائے اور وزیرِ اعظم کو بے پر کی کہنے کی عادت ہوجائے تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہا ملک و قوم کے لیے یہ مشکل زمانہ ہے اور عام انسانوں کو آنے والے وقت میں اور بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کورونا وبا سے جس طرح مقابلے کی حکمتِ عملی بنانی تھی، حکومتِ ہند نے اپنی عاقبت نااندیشی سے سب کچھ بگاڑ دیا اور آج تک عوامی سطح پر جو مشکلات پیشِ نظر ہیں، اس کی بنیادیں حکومتِ ہند کی نااہلی میں کہیں نہ کہیں پوشیدہ ہیں۔کہنے کو تو حکومت نے اربوں روپے جمع کیے ۔ عوام اور نوکری پیشہ لوگوں کی تنخواہوں سے پیسے کاٹے، صنعت کاروں سے چندے لیے اور کئی طرح کے فنڈ قائم کیے مگر ان کے خرچ میں غیر شفافیت کی وجہ سے ہمیشہ شبہات قائم ہوتے رہے اور حکومتِ ہند کا حقیقی کام کبھی زمین پر اترتا ہوا نہیں نظر آیا۔ یہ الگ بات کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائد سے لے کر آخری آدمی تک وزیر اعظم کی آواز میں آواز ملا کر اپنی کارکردگی کا اعلان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ ان کے کھوکھلے دعووں پر عوامی سطح پر مذاق اڑایا جاتا ہے مگر صاحبِ اقتدار کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا غرض۔
ریزرو بینک ، نیتی آیوگ اور وزارتِ مالیات کے ترجمان وضاحت سے بار بار یہ بات بتا چکے ہیں کہ ہندستان کی مالی حالت خستہ ہے اور وبا کے زمانے میں یہ بہت ہی نیچے چلی گئی ہے۔ جی ڈی پی کا منفی اسکیل ہماری کہانی خود بیان کررہا ہے۔ عالمی سطح پر کساد بازاری یہ بات سب کے سامنے ظاہر کررہی ہے کہ مالیات کے مسئلوں میں سمجھ بوجھ کر فیصلے لینے کا وقت ہے۔ دنیا کے ایک سے ایک فضول خرچی میںماہر ممالک بھی اپنی مٹھی داب کر خرچ کررہے ہیں۔ خود حکومتِ ہند اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے باربار طرح طرح کے بہانے سے کٹوتی کررہی ہے مگر اس ماحول میں صرف ایک جماعت یا ایک طبقہ ہے جس کے یہاں اس کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہر طرح کی کساد بازاری سے مبرّا نظر آتی ہے۔ جب نوٹ بندی ہوئی تھی اور ایک ایک آدمی اپنے پیسوں کو خرچ کرنے میں بھی محتاجی کی زندگی جینے لگا تھا، اس زمانے میں ملک کے ہر صوبے اور اس کے اضلاع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر کے لیے زمینیں خرید لی گئیں اور ان کی مہتم بالشان عمارتیں تیار ہوگئیں۔ کالا دھن کو واپس لانے کا یہ عجیب و غریب فارمولا تھا۔ ساری رقم بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر تیار کرنے میں کام آگئی۔ یہ مشکل حالات میں مصیبت کو موقع بنانے کا پہلا آزمایا ہوا بھارتیہ جنتا پارٹی یا وزیر اعظم کا ہنر تھا جسے زیادہ لوگ سمجھ بھی نہیں پائے اور ایک عوام مخالف فیصلے کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پارٹی کے فائدے کے لیے بدل کر انجام تک پہنچا لیا۔
ایک طرف کورونا کی وبا کی افرا تفری اور حالات کی مشکل کیفیت تھی ، دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی طرح طرح کے فیصلوں میں تیزی بھی آنکھ کے سامنے نظر آرہی تھی۔ کہاں سڑکوں پر بھوکے ننگے پریشان مزدور اور عام انسانی چہرے بے حال دکھائی دے رہے تھے اور سرکار وبا کے بہانے بڑی بڑی پسندیدہ کمپنیوں کے قرض جو ہزاروں کروڑ کے تھے، انھیں معاف کررہی تھی۔ ایک طرف نوکری پیشہ لوگوں سے سرکار چندے جبراً چندے وصول رہی تھی، وہیں دوسری طرف اپنے پسندیدہ لوگوں کو سرکاری بخششیں طشت میں سجا کر پیش کررہی تھی۔ کبھی کسی موقعے سے ان دونوں کیفیتوں میں سرکار کے فیصلوں میں کوئی مطابقت نظر نہیں آئی۔ یہ بات بھی سمجھ سے پرے تھی کہ آخر جب ملک میں مالیت کی تنگی ہے، اس وقت بڑے بڑے صنعت کار گھرانوں کو ایسی معافی کیوں دی جارہی ہے؟ اگر یہ ضروری بھی تھا تو اس کے لیے حالات کے معمول پر آنے کا حکومت کو انتظار کرنا چاہیے تھا۔
وبا کے اسی ماحول میں کچھ خبریں تیرنے لگی تھیں۔ دو ہزار کروڑ سے زیادہ رقم کا وزیر اعظم کے لیے مخصوص جدید سہولیات کے اعتبار سے لیس طیارہ خریدا جارہا ہے۔ اسی طرح ایک روز اچانک یہ خبر آئی کہ حکومت نے اسی افراتفری کے بیچ میں یہ فیصلہ کیا کہ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پارلیامنٹ ہائوس کے بنانے کا سلسلہ شروع کررہی ہے۔ ان بڑے بجٹ کے فیصلوں میں بھی ایسے سوالات سامنے آئے کہ کیا حکومت کو اس مشکل کام کے موقعے سے یوں ہی اور اسی وقت فیصلہ لینا چاہیے تھا جب وزیر اعظم کفایت شعاری کا اعلان کررہے ہوں۔ ہر محکمۂ حکومت میں یہ کھلا اعلان ہے کہ کسی بھی نئے منصوبے پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرنا ہے۔ کسی کی تنخواہ نہیں بڑھے گی اور جو کام شروع ہوچکے ہیں، انھیں بھی فوری طور پر روک کر ان پیسوں کو حکومت کے مرکزی کھاتے میں واپس کیا جائے تاکہ وبا سے پیدا شدہ ماحول سے نپٹا جاسکے۔
لوگ یہ سوال قائم کررہے ہیں کہ ٹھوس اور مضبوط اور تاریخی عمارت جس سے عظمت کے نشان پھوٹتے ہوں، اس کے رہتے ہوئے حکومت کو کسی نئی عمارت کی ضرورت کیوں پڑی۔ پارلیامنٹ کے ممبروں کی تعداد وہی اور انجینئرنگ کے ماہرین کی ایسی کوئی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی کہ یہ عمارت مخدوش ہے اور دو چار دس برس میں ڈھہہ کر پارلیامنٹ کے ممبروں کے اوپر گر جائے گی جس کے پیشِ نظر وزیر اعظم نے نئی عمارت کا اقدام کیا ہو۔ ابھی ایک ہزار کروڑ کے قریب بجٹ ہے مگر سرکاری کام کاج کا انداز اس بات کو پکار پکار کر بتا رہا ہے کہ آنے والے دور میں اس کی لاگت کم از کم دو ہزار کروڑ ہوجائے گی اور اس سے آگے بھی بڑھ جائے تو کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ مطلب صاف ہے کہ اس میں اتنی رقم خرچ ہوگی جس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں ہے۔ یہی نہیں اب اس کے بعد نیا راشٹرپتی بھون بنے گا اور پھر پورا لوٹین زون بدلا جائے گا۔ ایودھیا میں سلسلے وار تعمیرات کا کام شروع ہوچکا ہے، وہاں بھی اربوں روپے ٹرسٹ میں دان کے طور پر جمع ہورہے ہیں اور جتنی ضرورت ہے، اس سے زیادہ رقم آچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ عوامی سطح پر کساد بازاری، بری معیشت اور مشکل حالات کا تذکرہ کرتے رہیے مگر رقم لٹانے کے نام پر مندر بھی بنے گا، پورا پورا شہر سجے گا، پارلیامنٹ ہائوس کی نئی تعمیر ہوگی اور اربوں روپے مفت میں صنعت کاروں کو بہ طورِ بخشش عنایت کیے جائیںگے۔
مغل حکمرانوں میں شاہ جہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے فنِ تعمیرات سے خصوصی شوق تھا اور قلعہ، مسجد اور مقبرے بنانے کے مواقع ہاتھ آئے۔ بے شک اس دور کے حساب سے بھی لاکھوں خرچ ہوئے اور آج وہ تمام عمارتیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اسی عمارت سے نریندر مودی آج بھی ترنگا لہراتے ہیں۔ کل یہ بھی ممکن ہے کہ مغلوں کی اس بنائی ہوئی جگہ بھی انھیں کھٹکے اور یہاں بھی کوئی نئی عمارت تیار کی جائے جہاں غیر قوم کی پرچھائیں بھی نہ ملے۔ حکومت کے نوکر شاہ اور انجینئرنگ کے ماہرین بھی یہ جانتے ہیں کہ عمارت سازی، لین دین اور رشوت خوری کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔ چار کے خرچ پہ چالیس کے بل تو مقامی انجینئر ہی بنادیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے جب دہلی پہنچے گا تو نو کی لکڑی اور نوے خرچ کی کہاوت اپنے آپ روشن ہوجائے گی۔ کسی بھی حکومت کا بڑی بڑی عمارتوں کے بنانے اور اس کے نام پر دولت لٹانے کے پیچھے اصل میں یہی مقاصد ہوتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں بھی رشوت خوروں کا کانگریس کے زمانے سے کم دور دورہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھیں صرف بابری مسجد سے چڑ نہیں ہے ، انھیں دوسروں کی بنائی ہوئی عمارتوں سے خوف آتا ہے ۔ انگریزوں کی بنائی ہوئی عمارت سے ویسے تو انھیں کوئی بغض نہیں مگر مغل اور مسلمان بادشاہوں کے کاموں کو ملیامیٹ کرنے کے راستے میں توازن پیدا کرنے کے لیے انگریزی قوم کو بھی حسبِ ضرورت نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی میں رشوت خوری اور آثارِ قدیمہ کی یادگار کو مسمار کرنے کا مقصد دونوں ایک پارلیامنٹ ہائوس سے سادھا جاسکتا ہے اور جب مرکز سے ریاستوں تک کورونا کے نام پر ایک ہی قانون چل رہا ہو تو کسے پریشانی ہونی ہے۔ عوام کی پریشانی کو یاد بھی نہیں کرنا ہے، اس لیے ایسے فیصلے بھی ہوںگے اور عوام کے خون پسینے کی رقم کی بندر بانٹ بھی ہوگی۔ کسان اور مزدور کی کون سنے گا؟ سڑکوں پر مرتے رہیے، انھیں تو اپنی پارٹی کے کارندوں کو مالی اعتبار سے اس طرح مضبوط کردینا ہے کہ کل وہ گاڑھے وقت میں پارٹی کے کام آسکیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر کام کے پیچھے ایک خفیہ ایجنڈا رکھتی ہے اور ایسی تعمیرات کے پیچھے بھی اسی انداز کے مقاصد کارفرماں ہیں۔