نوشاد بیتی اور نوشاد عادل – ذوالفقار علی بخاری

zulfiqarali.bukhari@gmail.com

’’نوشا دبیتی‘‘پاکستان کے ادب اطفال کے ایک ایسے ادیب کی خود نوشت ہے جو اپنے آپ کو ’’ سمجھ سے بالا تر‘‘ قرار دیتا ہے۔
راقم السطور کے نزدیک اُن کایہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ اُن کی آپ بیتی ’’ نوشاد بیتی‘‘ میں بیان کردہ کئی ایسے واقعات ہیںجو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن کی سوچ کو لوگ ٹھیک طور پر نہیں جان سکے اور انہوں نے ’’ ہیرے جیسے انسان‘‘ کو خود سے دور کرلیا۔
نوشاد عادل بچوں کے لئے معاشرتی ، جاسوسی، سائنس فکشن کہانیاں لکھتے ہیں اور خوب ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نوشاد عادل کی کہانیاں اپنے موضوع کے اعتبار سے بھی منفر د ہوتی ہیں اور پیش کش کے لحاظ سے بھی، جب مزاح لکھتے ہیں تو ہنساتے ہیں اور جب اصلاحی کہانی لکھتے ہیں تو انسان دم بخود ہو جاتا ہے کہ یہ کہاں سے قاری کو کہاں لے آئے ہیں۔اُن کی ایک کہانی ’’ عبادت ‘‘کچھ ایسے ہی دل چسپ انداز میں بیان ہوئی ہے۔’’ سرد جہنم‘‘، ’’ ڈربہ کالونی‘‘،’’کینی بل‘‘، ’’ جان لیوا‘‘،’’جزیرے کے قیدی‘‘،’’ واحد بھائی کی کہانیاں‘‘ اور ’ جادو کی چھڑی‘‘ ، ’’ سمندر‘‘ جیسی تصانیف پڑھتے وقت قاری کو تفریح کے ساتھ سوچنے پر بھی مائل کرتی ہیں۔
حیدرا ٓباد سے تعلق رکھنے والے نوشاد عادل کی زندگی میں بے شمار کردار آئے اور گئے ،اُن کی کہانیاں بھی اکثر اُن کے اردگرد رہنے والوں کی زندگیوں سے ہی متاثر ہو کر کرداروں کی صورت میں ڈھلی ہیں۔
نوشاد عادل سے میرا گہرا تعلق تب بنا جب میں نے ’’نوشادبیتی ‘‘ کو پڑھا۔اگرچہ بھارت کے مشہور ترین اداکار دلیپ کمار ،شاہ رخ خان ، پرویز مشرف ، عمران خان اورملالہ یوسفزئی ،قدرت اللہ شہاب اپنی زندگی کے واقعات لکھ چکے ہیں ۔مگر وہ اس قدر کڑوی اور سچ بیتی نہ لکھ سکے جتنا کہ نوشاد عادل نے لکھ دی ہے۔اگر آپ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کس قدرتلخ ہے،ہمارے ہاں سچ بولنے کا رواج کم ہے، مگر کھرے اور دل کے صاف نوشاد عادل نے اپنی زندگی کی کتاب کو جب لکھنا شروع کیا تو اُس کے ذہن میں یہی تھا کہ اُس نے ایک نئے انداز کو اپنانا ہے، یہی دیکھ لیں کہ’’ نوشاد بیتی‘‘ میں پہلے جہاں نوشی کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو وہ نوشی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیتا ہے اور جب نوشاد عادل سامنے آتا ہے تو مزید شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے،یعنی ‘‘نوشاد بیتی‘‘ نوشاد عادل کو سمجھنے میں مدددیتی ہے۔
’’نوشاد بیتی‘‘ میں ایک جگہ نوشا د عادل ایک قصہ لکھتے ہیں جو کہ ایک معروف لکھاری کی تحریر کو ناقابل اشاعت قرار دینے کے حوالے ہے،یہ پڑھ کر آپ بھی داد دیں گے کہ انہوں نے تمام ترخطرات کو مول لیتے ہوئے یہ جرات دکھائی تھی جو کہ آج کے مدیران کے لئے بھی ایک مثال ہے کہ اگر آپ کے نزدیک کچھ ایسا ہے جو ناقابل اشاعت ہے تو پھر آپ کو اُس کہانی کو روک لینا چاہیے مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ کہانی پھر بھی شائع ہو گئی تھی۔یہ واقعہ بھی نوشاد عادل کی شخصیت کو کھل کر سامنے لے آٹا ہے کہ و ہ جو بولتا ہے ،دل سے بولتا ہے اور پھر نتائج کو بھی قبول کرتا ہے۔یہ ہمارے نئے لکھاریوں کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کے لئے بھی مثال ہے کہ اگر آپ زندگی میں کچھ ایسا کرنا چاہ رہے ہیں جو کہ آپ کے نزدیک ٹھیک تو پھر آپ کو نتائج کی پروا کئے بنا کرلینا چاہیے کہ آپ جب ضمیر کی نہیں سنتے ہیں تو پھر ضمیر کی عدالت میں آپ کو کھڑا ہونا پڑے گا اور شاید تب آپ اپنا سامنا نہ کر سکیں۔نوشاد عادل اپنی ضمیر کی عدالت میں فخر سے کھڑا ہو سکتا ہے کہ اُس نے ’’ نوشاد بیتی‘‘ کی صورت میں ایک ایسی مثال چھوڑی ہے جس کی تقلید کرنا بہت مشکل ہے۔
اگر پاکستان میں آپ بیتی کے رحجان کے حوالے سے بات کریں تو نوشاد عادل نے پہلا پتھر پھینکا تھا جس کے بعد پروفیسر ظریف خان، مسعود احمد برکاتی، ڈاکٹر ظفر احمد خان، غلام حسین میمن،مشتا ق احمد قادری، رضوان بھٹی ، ببرک کارمل، خلیل جبار، محبوب الہی مخمور (مدیرماہ نامہ انوکھی کہانیاں،کراچی)،سید صفدر رضا رضوی، پروفیسر مجیب ظفر انوار حمید ی، یاسمین حفیظ ، عبدالرشید فاروقی، طاہر عمیر،حنیف سحر، ڈاکٹر طارق ریاض خان ، رانا محمد شاہد،ندیم اختر، صالحہ صدیقی، حکیم محمد سعید شہید، عبداللہ نظامی، آصف جاوید نقوی، احمد عدنان طارق، نذیر انبالوی، عبدالصمد مظفر پھول بھائی، رابعہ حسن، عبد اللہ ادیب، نور محمد جمالی، علی اکمل تصور، اختر عباس،افق دہلوی، شیخ فرید، ضرغام محمود، ارشد سلیم، غلام محی الدین ترک، رابنس سیموئل گل، حاجی محمد لطیف کھوکھر، امجد جاوید، رضیہ خاتم ، شابانہ جمال، عاطر شاہین، عمران یوسف زئی،خادم حسین مجاہد، ظہور الدین بٹ، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی، شہریار بھروانہ،غلام رضا جعفری، نعیم ادیب، جاوید بسام، جدون ادیب، راحت عائشہ، علی عمران ممتاز، حافظ نعیم احمد سیال، شہباز اکبر الفت، مظہرمشتاق، محمود شام،محمد ناصر زیدی، نشید آفاقی، امان اللہ نیرشوکت، ساجد کمبوہ ،یاسین صدیق،خواجہ مظہر نواز صدیقی، نسیم حجازی، فرخ شہباز وڑائچ، محمد شعیب خان ،ظفر محمد خان ظفر اور محمد توصیف ملک کی سرگزشت کو ماہ نامہ نٹ کھٹ ،حیدرآباد اور ماہ نامہ انوکھی کہانیاں، کراچی نے نوشاد عادل کے ترغیب دینے پر شائع کیاہے۔
اگر آپ حوصلہ چاہتے ہیں، کامیابی چاہتے ہیں،اگر آپ مسائل سے نمٹنا چاہتے ہیںتو پھر ’’ نوشاد بیتی‘‘ کا مطالعہ کرنا آپ کی زندگی میں رنگ بھر سکتا ہے،آپ کو اپنی زندگی نوشاد عادل سی محسوس ہوگی،پھر آپ بھی وہی کریں گے جو کہ نوشاد عادل نے کامیابی کے لئے کیا ،جہدوجہد ،ہار سے نفرت۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*