نوجوانوں کی رہائی پر اسد الدین اویسی نے کانگریس کوبھی گھیرا

نئی دہلی: دہلی تشدد کیس میں ایک سال کے بعد تین سماجی کارکنوں کی جیل سے رہائی پانے والے پراسد الدین اویسی نے بی جے پی کے ساتھ کانگریس کو نشانہ بنایاہے۔دہلی ہائی کورٹ نے ان تینوں کارکنوں کو ضمانت دینے کے حکم کے ساتھ کہا ہے کہ انسدادغیرقانونی سرگرمی ایکٹ (یو اے پی اے) اس معاملے میں لاگو نہیں ہوتا ہے۔ اویسی نے سابق وزیر داخلہ اور کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم کو براہ راست اس معاملے میں گھیر ا۔پی چدمبرم نے نتاشا نارووال ، دیونگانہ کالیتا اور آصف اقبال تانہا کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے آپ کوطاقت ملتی ہے۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا تھا ، آپ بے حسی اور بے عملی کے صحرا میں امید اور حوصلہ افزائی کی طرح ہیں۔ اویسی نے اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا۔ آپ نے یہ تینوں کھوکھلی ٹویٹس کی ہیں ، لیکن کون اس کا جوابدہ اور ذمہ دار ہے ، اس پر کچھ بھی نہیں لکھاگیاہے۔ آپ نے یو اے پی اے کا یہ ظالمانہ قانون لایا اور ان گنت مسلمانوں اور آدی واسیوں کی زندگیوں کو برباد کردیا۔ جب بی جے پی اس قانون کو مزید خراب کرتے ہوئے اس میں ترمیم لائی توکانگریس نے جوش وجذبے سے اس کی حمایت کی۔بی جے پی اور کانگریس کو ان تینوں نوجوانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ ایسی سطحی باتیں ہندوستانیوں پر ظلم اور ناجائز نظربند ہونے کے ذمہ داروں کی طرف سے نہیں کی جانی چاہئیں۔ پی چدمبرم نے کہا تھا کہ عدالت پولیس کو جتنی ملامت کرتی ہے ، اتنا ہی ان کے سیاسی آقاؤں پر تنقید ہوتی جاتی ہے۔ لیکن بالآخر حق اور انصاف غالب ہوتا ہے۔ میں ان ڈی جی پیز اور پولیس کمشنرزکے لیے دعاگو ہوں جواپنے حکمرانوں کے سامنے بات نہ کرنے کی جرأت کر سکے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*