نوجوان قلم کار عارف اقبال کی نئی کتاب ’’مولانا سیدابو اختر قاسمی:حیات و خدمات‘‘کااجرا

قاری شبیر احمد،ڈاکٹرشکیل،ڈاکٹر تنویر حسن ،مولانا انیس الرحمن قاسمی و دیگر شخصیات کی شرکت

دربھنگہ:بہارکی عظیم علمی،دینی،اصلاحی اور دعوتی شخصیت، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سیدابواخترقاسمی کی حیات و خدمات پر مشتمل جواں سال صحافی و مصنف محمد عارف اقبال کی کتاب”حضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی: حیات و خدمات“ کا اجرا آج دربھنگہ شہر کے مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا میں منعقد ہوا، پروگرام میں قرب و جوار سے بڑی تعداد میں علماے کرام نے شرکت کی اور اس تاریخی لمحے کے گواہ بنے۔ تقریب اجرا کی صدارت قاری شبیر احمد ناظم مدرسہ اسلامیہ شکر پور،بھروارہ دربھنگہ اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالودود قاسمی (اسسٹنٹ پروفیسر)نے انجام دیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی و کانگریس کے قدآور لیڈرڈاکٹر شکیل احمد (سابق مرکزی وزیر برائے امور داخلہ)نے کہاکہ جدید دور میں بھی کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے، اگر اپنی علمی وراثت کو باقی رکھنا چاہتے ہیں تو آج بھی کتابوں سے قریب ہونا ہوگا،مستند کتاب آج بھی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل بھی عزیزم عارف اقبال کی کئی کتابیں منظر عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں، مجھے یقین ہے کہ حضرت مولانا ابو اختر صاحب کی سوانح کے تعلق سے یہ نئی کتاب بھی عوامی سطح پر مقبول ہوگی۔ حضرت مولانا ابو اختر قاسمی محتاج تعارف نہیں ہیں، ان کی نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط خدمات نئی نسل کے لئے ایک سبق اور ہم لوگوں کے لئے قابل رشک ہیں۔راجد کے سینئر لیڈر ڈاکٹر تنویر حسن (سابق ایم ایل سی بیگوسرائے)نے کہاکہ حضرت مولانا ابواخترقاسمی نے اپنی علمی زندگی کو جس طرح سے پڑھنے اور پڑھانے میں لگایا اور کئی نسلوں کی علمی و اصلاحی تربیت کی یہی ان کی اصل شناخت اور پہچان ہے، مجھے فخر ہے کہ جس دیار سے حضرت کاخاندانی تعلق ہے اسی جگہ کا میں بھی رہنے والا ہوں، اہل دربھنگہ تو حضرت سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں مگر ہم لوگوں کو کم وقت ملا۔ نوجوان صحافی عارف اقبال کی اس کتاب کے ذریعے اب حضرت کی دیگر خدمات سے بھی ہم لوگ متعارف ہو سکیں گے۔ آل انڈیا ملی کونسل بہار کے صدرحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہاکہ مولانا سید ابواختر قاسمی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں،اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود انہوں نے کبھی بھی موقع کا فائدہ نہیں اٹھایا، مولانا نے متھلانچل میں مسلکی اتحاد اور تعلیمی و اصلاحی شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں، انہوں نے کتاب کے مرتب عارف اقبال کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جس محنت اور لگن کے ساتھ وہ اپنی تصنیفی و صحافتی خدمات کو جاری رکھئے ہوئے ہیں وہ ان کے روشن مستقبل کی علامت ہے اور آج کی نسل کے لئے ایک سبق بھی ہے۔ کتاب کے مرتب عارف اقبال نے کہا کہ آج کا دن میری زندگی کا سب سے خوشگوار اوریادگار دن ہے۔ کیونکہ حضرت مولانا ابو اختر صاحب پر ناچیز کی مرتبہ کتاب کا اجرا عمل میں آ رہا ہے۔ یہ مرحلہ طے کرنا آسان نہیں تھا، کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود کتاب کی اشاعت کی فکر ہمہ وقت رہی، یہ کتاب حضرت کی چھ دہائیوں پر مشتمل علمی اور تدریسی خدمات کی دستاویز ہے۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت قاری شبیر احمد نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ عارف اقبال نے اس روایتی جمود کو توڑنے کا کام کیا ہے کہ مرنے کے بعد ہی خدمات کا اعتراف کیا جائے یہ ایک اچھی شروعات ہے، ہم اس کتاب کی اشاعت پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں،حضرت مولانا ابو اختر صاحب کی خدمات جلیلہ کا اعتراف نہ صرف متھلانچل بلکہ ریاستی سطح پربھی کئے جانے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر بہار مدرسہ بورڈ کے سابق چیرمین مولانا اعجازاحمد، وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر شاہنوازبدرقاسمی، احتشام الحق، پروفیسر زاہد رضا، مولانا جمیل اختر، ماسٹر شفیع اللہ، نیر حسنین، عادل اختر عادل وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا-کلمات تشکر مدرسہ کے صدر مدرس قاری نسیم اختر قاسمی نے ادا کیے۔