"نولکھی کوٹھی” اور ایک رندِ بلا نوش ـ اشعر نجمی

کچھ دنوں قبل ‘بک کارنرجہلم’ نے علی اکبر ناطق کا ناول ‘نولکھی کوٹھی’ جسے میں پہلے پڑھ چکا تھا، اس کا نیا ایڈیشن بھی دوسری کتابوں کے ساتھ بھیجا۔ میں ان دنوں اپنے کاموں میں رات دن مصروف ہوں، چنانچہ موقع دیکھ کر ایک رند بلا نوش دوست نے ناول مجھ سے اُچک لیا۔ یہ مجھ سے زیادہ مصروف بندہ ہے لیکن انھوں نے شام کے چار گھنٹے مخصوص رکھے ہیں جب نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے دامن تر کرنے میں محو رہتے ہیں۔ کبھی قضا کے مرتکب نہیں ہوئے، خواہ آسمان سے بجلی گرے یا سرکار کا عتاب (ڈرائی ڈے)۔ کتابوں کے رسیا ہیں اور اسے بقدر ‘اسٹارٹر’ (چکھنا) استعمال کرتے ہیں۔اس کا نہایت ہی معقول اور مدلل جواز پیش کرتے ہوئے آپ یوں فرماتے ہیں کہ خراب کتابوں کی بدمزگی شراب زائل کردیتی ہے۔ واللہ اعلم
خیر، حسب توقع دوسرے دن انھوں نے وہاٹس ایپ پر ایک تصویر بھیجی اور مجھے اطمینان دلایا کہ وہ نولکھی کوٹھی کو ‘اسٹارٹر’ کا مقام عطا کرچکے ہیں اور فی الحال یہ شغل جاری ہے۔ لیکن تیسری شام ان کا فون آیا اور وہ مصنف کو گالیوں سے نوازنے لگے کہ کمبخت نے ایسا ناول لکھا کہ پہلی بار شراب بدمزہ لگنے لگی، زیادہ پینی پڑی، زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑے لیکن ناول کا نشہ ہے کہ سالا چڑھتا چلا جارہا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ علی اکبر ناطق نے ایک اور غریب کو پھانس لیا۔ یہ بھی گیا کام سے۔
چوتھی شام میں عیادت کی خاطر ان کے پاس پہنچا کہ یہ ہماری تہذیب کا تقاضہ ہے کہ مریضوں کی عیادت کے لیے ساتھ پھل فروٹ لے کر جایا جاتا ہے، سو میں ‘فروٹ بیئر’ لے کر گیا جسے دیکھ کر مریض تلملا گیا۔ ایک عدد گالی سے نوازا جسے میں نے ان کے ‘کوکا کولا مکس’ کے ساتھ غٹک لیا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے؟ انھوں نے پہلے اپنا چشمہ اتارا اور ناول اٹھا کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا، "ایک بار اور پڑھوں گا۔ ابھی نہیں دوں گا۔”
"کیوں؟ یار اب تم مبالغہ آمیزی پر اُتر آئے۔ایسی کیا بات ہے اس ناول میں؟” میں نے انھیں چھیڑا۔
"مبالغہ کی ماں کی…” خالی جگہ خود بھرلیں۔ کہنے لگا، "یار ناطق ویسے اتنا ذہین نظر نہیں آتا جتنا اس ناول کا مصنف نظر آ رہا ہے۔دوسری بات یہ کہ ناطق بہت بدزبان آدمی ہے لیکن اس ناول میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، وہ معجزہ سے کم نہیں۔ آئے ہائے، زبان بھی کیسی؟ قلعۂ معلیٰ والی زبان نہیں بلکہ مٹی کی سوندھی خوشبو جس سے اٹھتی ہے، مقامیت ایسی کہ پڑھنے والا اس مٹی میں رُل جاتا ہے۔”
میں نے ان کی بات کاٹی،”فہمیدہ ریاض تو کہتی ہیں کہ ولیم کی زبان مصنوعی ہے، وہ یہ زبان نہیں بول سکتا جو مثلاً غلام حیدر بول سکتا ہے۔ انھوں نے من وعن ایسا تو نہیں کہا لیکن ان کا یہی مفہوم ہے۔”
رند بلا نوش نے ایک لمبی گھونٹ ماری اور ٹیشو پیپر سے منھ صاف کیا، شاید وہ اس وقفہ میں خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے تھے، پھر گویا ہوئے، "مرحومہ کو اللہ جنت نصیب کرے لیکن معاف کرنا یار، انھوں نے پورا ناول شاید پڑھا ہی نہیں، شاید تبصرے کی جلدی رہی ہو جیسا کہ اردو میں ہی کتاب بغیر پڑھے تبصرہ کرنے کا کرشمہ انجام دیا جا سکتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تبصرہ کرتے ہوئے آپ کے سامنے کردار کا پورا کوائف نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو اسی مٹی میں جنما، وہیں پلا بڑھا، وہیں اس کے زندگی کے اچھے برے دن گزرے، مجھے تو حیرت ہوتی اگر ولیم کوئی دوسری زبان بول رہا ہوتا۔ میں اتر پردیش کا باشندہ ہوں، مہاراشٹر میں رہتا ہوں اور روانی سے مراٹھی بولتا ہوں، پڑھتا اور لکھتا ہوں چونکہ میری پرورش و پرداخت اسی مٹی میں ہوئی۔بھلا کوئی اپنے گردو پیش سے اس قدر بیگانہ کیوں کر رہ سکتا ہے؟ ناطق کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے ناول کے ساتھ مبصرین کی رائے بھی چھاپ دی جب کہ ناول کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے تھا، لیکن ہوا یہ کہ قاری پہلے اس ناول پر بھاری بھرکم لوگوں کے تبصرے پڑھتا ہے اور اسی عینک سے پورے ناول کو دیکھنا شروع کردیتا ہے۔اور…”
میں نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا، "اچھا آپ کی عینک نے ناول میں سب سے اچھی بات کیا دیکھی؟”
بے ساختہ فرمایا، "زبان اور جزئیات نگاری۔ ناطق جزئیات نگاری کا بادشاہ لگا اس ناول میں۔وہ ایک اچھا راج مستری ہے، وہ سرخ اینٹوں سے اپنا لال قلعہ بھی بنا سکتا ہے اور لفظوں کا تاج محل بھی تعمیر کرسکتا ہے۔ اچھا، راج مستری کہا تو ایک بات یاد آگئی، اس کے ناول میں ہر جگہ آپ کو دو چار دس صفحات کے بعد فن تعمیر کی اصطلاحات مل جائیں گی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فن سے اخراج بشریت بہت مشکل کام ہے اور تصنیف بلا مصنف کا نظریہ بیکار محض ہے۔ ناول کے ہر صفحے پر علی اکبر ناطق کی چھاپ موجود ہے۔”
"اچھا، اس ناول میں کچھ خامیاں یا کمیاں بھی ہیں؟” میں نے جل کر پوچھا۔
"ہاں ہیں ناں، بہت ہیں۔مثلاً اس کا بیشتر کردار شیعہ مسلک کا ہے۔ خیر، میں اسے بھی ناطق کے نجی مشاہدے اور تجربے سے وابستہ کرتا ہوں۔ لیکن اس ناول میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ اکھری، وہ یہ تھی کہ ناول کے آخری چالیس پچاس صفحات مصنف نے ناول ختم کرنے کے لیے تیزی سے سمیٹے۔ کہاں آپ سینکڑوں صفحات پر ایک ایک چیز کو سنبھل سنبھل کر نہایت اہتمام کے ساتھ پیش کررہے ہیں اور کہاں آخری پچاس صفحوں میں ناول نگار نے دھڑا دھڑ کرداروں کا قتل عام کرنا شروع کردیا اور ایسا لگتا ہے کہ رولر کوسٹر اچانک تیز ہوگیا اور آپ خود کو سنبھال نہیں پا رہے ہیں، دھچکے لگ رہے ہیں، یہ اور بات ہے کہ جھولے سے آپ نیچے نہیں گرتے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ناول نگار کی فنکاری ہے کہ وہ جلد بازی میں بھی سرعت انزال کا شکار نہیں ہوتا۔”
انھوں نے پھر اپنا گلاس بھرا۔ وہ اور بھی بہت کچھ بولتے رہے لیکن اب ان کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی اور آواز قدرے اونچی ہوگئی تھی۔ میں نے جلدی سے ان سے اجازت لی، دروازے پر پہنچ کر مڑ کر ان کی طرف دیکھا، انھوں نے ایک بار پھر ‘نولکھی کوٹھی’ کھول لی تھی ۔ان کے سامنے فروٹ بیئر ویسی ہی باکرہ پڑی تھی۔