ناصرؔ کاظمی: حیات اور ادبی خدمات

مصنف: ڈاکٹر ناصر پرویز
صفحات: ۳۸۴
قیمت: ۴۲۵ روپے
مطبع: اسلامک ونڈرس بیورو،کوچہ چیلان ،دریا گنج، نئی دہلی
سن طباعت: ۲۰۱۶ء
تبصرہ: ڈاکٹر ثنا کوثر

’’ناصر ؔ کاظمی: حیات اور ادبی خدمات‘‘ڈاکٹر ناصر پرویز کا تحقیقی مقالہ ہے۔جو ۲۰۱۶ ء کے نصف آخر میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا۔اس کتاب کے مطالعے سے ڈاکٹر ناصر پرویز کے تحقیقی و تنقیدی رجحانات اور ان کے نظریات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔اگر چہ ناصر ؔکاظمی کی ادبی خدمات پر بہت سے مقالات شائع ہو چکے ہیں اور ان کی حیات کو بھی کافی حد تک اہل قلم حضرات نے اپنے اپنے مطالعات کے زیر اثر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن ان کی حیات و خدمات پر جس نوع کاتحقیقی و تنقیدی کام تا حال ہونا چاہیے تھا ،اس کی تشنگی کا احساس اب تک باقی تھا۔اس کام کو ڈاکٹر ناصر پرویز نے اپنے ادبی ذہن اورتحقیقی و تنقیدی رویے سے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل کیا ہے ، جسے ہمیشہ ادبی دنیا میں قدر و منزلت حاصل رہے گی۔یہ مقالہ اس نوعیت سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ناصر ؔ کاظمی کے نام سے مماثلت ہونے کے ساتھ ساتھ ناصر پرویز شعری صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔انھوں نے شاعری میں خاص طور پر غزل کو ہر اعتبار سے برتنے کی کوشش کی ہے۔اس طرح انھوں نے ناصر ؔکاظمی کی شاعری اور دیگر خدمات کو ایک شاعر، محقق اور نقاد کی نظر سے پڑھا اور سمجھا، جس کا خوبصورت جواز ہمارے سامنے موجود ہے۔
زیر تبصرہ مقالہ ناصر ؔ کاظمی کی تقریباً تمام خدمات کا احاطہ کرتا ہے۔یہ ۳۸۰ صفحات اور ابتدائیہ کے علاوہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔علاوہ از یں کتابیات، تصانیف ناصرؔ کاظمی اور مصنف کا تعارفی اورادبی خاکہ بھی شامل ہے۔
باب اول میں سوانحی و ادبی تعارف کے تین ذیلی عنوان ہیں:سوانح اور شخصیت، شاعری کا آغاز و ارتقا اور اہم معاصرین شعرا۔جس میں ناصر ؔ کاظمی کی شخصیت کے تمام پہلوؤں پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے لیے ناصر پرویز نے ناصرؔ کاظمی کی ڈائری کو بنیاد بنایا ہے اور دوسرے ادبی مقالات سے بھی مدد لی ہے۔ اس کے علاوہ شاعری کے آغاز و ارتقا پر مفصل گفتگو کی ہے۔جس میں ان کا مقصد صاف نظر آتا ہے کہ ناصرؔ کی غزلیہ شاعری یا دوسری اصناف پر تفصیلی بحث کرنے سے قبل ان کے شعری رجحانات کا مختصر خاکہ پیش کیا جا سکے۔اس باب میں ناصرؔ کاظمی کے معاصرین میں فراقؔ گورکھپوری، منیرؔ نیازی اور احمد فرازؔ کی شعری و ادبی خدمات کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس حد تک ان شاعروں نے ناصرؔ کو متاثر کیا اور انھوں نے کس حد تک ان شعرا حضرات کا اثر قبول کیا۔
باب دوم ’’ ناصر ؔ کی غزل گوئی ‘‘پر محیط ہے۔جس میں ان کی غزل گوئی کے فکری مطالعے ،فنی مطالعے اور اردو غزل گوئی میں ناصرؔ کے مرتبہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔موصوف نے ناصرؔ کے فکری و فنی تجربات کی بنا پر ان کا مقام متعین کیا ہے جو قابل داد ہے۔ انھوں نے ان کی غزلوں کا تجزیہ اور تنقیدی جائزہ لیا ہے۔حتیٰ کہ فن کے اعتبار سے محض خوبیوں کا تذکرہ نہیں کیا ہے بلکہ ان خامیوں کی بھی نشان دہی کی ہے جو اعلیٰ شاعری اور معتبر شاعر کے لیے ناگزیں ہیں۔اس طرح کی بہت سی مثالیں کتاب میں موجود ہیں۔مثلاً:
’’ کلام میں ایسے الفاظ لاناجو عورتوں اور مردوں کے لیے خاص ہوں یا ان کے لوازمات میں سے ہوں ،معیوب ہیں۔کلام میں ایسا طرز بیان اختیار کرنا چاہیے کہ محبوب مبہم رہے اور اس کا مذکر یا مونث ہونا معلوم نہ دے۔بطور مثال:
آنچ آتی ہے تیرے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
اس کے علاوہ انھوں نے ناصرؔ کی شاعری میں حشو اور نامانوس الفاظ کی بھی نشان دہی کی ہے، جو شاعری میں معیوب تصور کیے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں انھوں نے ناصر ؔ کی شاعری میں داخلیت کے عنصر کو بہت گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی اور ان سوالات پر توجہ مرکوز کی ہے کہ کیوں نا صرؔ کی شاعری میں نازکی اور ہجر کی کیفیت موجود ہے۔موصوف نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ ’’ ان کی شاعری میں صرف حسن و عشق اور دیوانگی و فریفتگی ہی نہیں بلکہ انسانی زندگی کی الجھنوں ، محرومیوں اور مجبوریوں کا نوحہ بھی ہے۔‘‘اس طرح ڈاکٹر ناصر پرویز نے اپنے محققانہ اور ناقدانہ صلاحیت کا بین ثبوت پیش کیا ہے۔
باب سوم کا عنوان ’’ ناصرؔ کاظمی اور دیگر اصناف سخن ‘‘ ہے۔جس میں نظم نگاری ،منظوم ڈرامہ نگاری، نعت، سلام، رباعیات و قطعات وغیرہ پر بہت معلوماتی گفتگو کی گئی ہے۔جس وجہ سے ناصر ؔ کاظمی کو محض غزل گو تصور کرنے کے بجائے دوسری اصناف سخن کا بھی شہ سوار تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ان کی تمام نظمیں ،نعت، سلام اور رباعیات ان کے مجموعہ کلام ’’ نشاط خواب‘‘ میں شامل ہیں۔مقالے کا باب چہارم ’’ ناصر کی نثری و علمی خدمات ‘‘ پر مشتمل ہے۔جس کے دو ذیلی عنوان نثر اور ترجمہ نگاری ہیں۔ان کے مضامین کا مجموعہ بعنوان ’’خشک چشمے کے کنارے‘‘ ہے۔جس میں ۲۶ مضامین شامل ہیں۔موصوف نے ان مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔جس سے ناصر ؔ کاظمی کی تنقیدی بصیرت کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔موضوف نے اس باب میں اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ ’’ ناصر کے اکثر مضامین ادبی اور علمی نوعیت کے ہیں۔ جو ادب ، شاعری، سماج اور قدیم و جدید روایات پر بڑی قیمتی معلومات مہیا کراتے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ ڈاکٹر ناصر پرویز نے ان کے تراجم کو بھی مقالے میں شامل کیا ہے۔جو ان کے مجموعہ کلام ’’ نشاط خواب‘‘ میں شامل ہیں۔یہ ملکی اور غیر ملکی شعرا کی نظموں کے تراجم ہیں۔مثلاً گیت، جاڑے کی رات، پی۔فو۔جن اور انہد مرلی شور مچایا ہیں۔اس حصہ میں موصوف نے ترجمہ کی تعریف اور اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان نظموں پر بہت کار آمد گفتگو کی ہے۔
بام پنجم مقالے کا ماحصل ہے ۔اس میں ڈاکٹر ناصر پرویز نے تمام ابواب اور ذیلی عنوان پر فرداً فرداً گفتگو کی ہے۔اس طرح انھوں نے بہت ہی سادگی اور خوبصورتی کے ساتھ پورے مقالے کا نچوڑ پیش کیا ہے۔آخر میں ڈاکٹر صاحب نے علاّمہ اقبال ؔ کے اس شعر سے اپنی بات مکمل کی ،جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ کوئی بھی کام حرف آخر نہیں ہوتا بلکہ آئندہ کے لیے نئی راہیں کھول دیتا ہے۔شعر ملاحظہ ہو:
فروزا ں ہیں سینے میں شمع نفس
مگر تاب گفتار کہتی ہے بس!
’’ ناصر ؔ کاظمی:حیات اور ادبی خدمات‘‘ کے مطالعہ کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر ناصرپرویز نے اولین مواد سے مراجعت کرکے بہت جانفشانی سے اس کام کو مکمل کیااور ناصرؔ سے متعلق بنیادی اور نئی باتوں کو منظر عام پر لائے ،جو قابل داد اور لائق تحسین ہے۔قوی امید ہے کہ موصوف کی یہ محنت رائگاں نہیں جائے گی اور انشاء ا ﷲ ناصرؔ کاظمی کے مطالعے میں سنگ بنیاد ثابت ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*