نسیمِ سحر

ناشر: قلم فاونڈیشن انٹر نیشنل ،لاہور
تبصرہ: ڈاکٹر غلا م شبیررانا
راول پنڈی میں مقیم ممتازادیب نسیم سحر ( محمد نسیم ملک )کے تیرہ شعری مجموعوںپر مشتمل کلیات دو برس قبل شائع ہواہے ۔اس کے آغاز میں مصنف کے اسلو ب اور شخصیت کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ،جبار مرزا،محمد فاروق عزمی اور عبدالستا ر عزمی کی وقیع آ را شامل ہیں ۔مشاہیر ادب کی ان تحریروں کے بعد’’ عرضِ مصنف ‘‘ کے عنوان سے نسیم سحر نے اس کلیات کی اشاعت کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی ہے ۔یہ ضخیم کلیات سترہ سو بیس صفحات پر محیط ہے اور اس میں چوبیس صفحات پر مصنف کی زندگی سے متعلق رنگین تصاویر شائع کی گئی ہیں ۔کلیات کی اشاعت بڑے اہتما م سے کی گئی ہے ۔ خاص طور پر کاغذ نہایت عمدہ استعمال کیا گیا ہے ۔محتاط کمپیوٹر کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ سے کتاب کے صوری و معنوی حُسن کوچارچاندلگ گئے ہیں۔ کلیات کی قیمت چھے ہزار روپے مقر کی گئی ہے ۔ آئیے دھنک پر نگاہ ڈالیں اوراس کلیات میں شامل شعری مجموعوں کا مختصر جائزہ لیں :
۱۔ یہ جو سلسلے ہیں کلام کے ( صفحہ 25-112) : اس شعری مجموعے کا انتساب عشقِ رسول ﷺ سے مہکتی سانسوں کے نام کیا گیاہے ۔شعری مجموعے کے آغاز میںپروفیسر شوکت واسطی ،ایوب محسن اور پروفیسر محسن احسان کے تعارفی کلمات شامل ہیں ۔اس شعری مجموعہ میں نو (9) حمد ،اکاون (51) نعتیں ،دو (2) پنجابی اشعار ،دو (2) نعتیہ ماہیے ،دو (2) نعتیہ ہائیکو اور ایک (1) دعا ئیہ شامل ہیں ۔یہ کلام سال 1996ء تک کے عرصے پر مشتمل ہے ۔
یہ جو سلسلے ہیں کلام کے یہ سخن درود و سلام کے
جو نسیم ؔ ہوں میرے ترجماں مجھے اور کچھ نہیں چاہیے
۲۔نعت نگینے ( صفحہ113-274) : اس شعری مجموعے کا انتساب تما م عشاق رسول ﷺ کے نام کیا گیاہے ۔اس کے بعد یہ شعر درج ہے :
اپنی شب کی سحر کریں آؤ
مدح ِ خیر البشر ﷺ کریں آؤ
اس شعری مجموعے کے فلیپ لکھنے والوں میں نکہت بریلوی ،ایوب محسن اور پروفیسر محسن احسان شامل ہیں ۔اس شعری مجموعے کے آغاز میں عزیز احسن،پروفیسر احسان اکبر ،قمر وارثی اور حافظ نور احمدقادری کے تعارفی وتجزیاتی مضامین شامل ہیں ۔شعری مجموعے میں سات حمداور ایک سو نعتیں شامل ہیں ۔ نعت گوئی میں اپنے اسلوب کے بارے میں نسیم سحر نے لکھا ہے :
عطا ہوئے ہیں قرینے تو نعت لکھی ہے
بنے ہیں لفظ نگینے تو نعت لکھی ہے
۳۔ پہلی اُڑان ( صفحہ 275-368) : غزلیات ( 1977ء) کے اس شعری مجموعے کے آغا زمیں ’ ’ حر کت ‘‘ کے عنوان سے مظہر الاسلام کامضمون شامل ہے ۔اس شعری مجموعے میں شامل غزلیات کی تعداد تراسی ( 83)ہے۔کتاب کے پہلے صفحہ پر یہ شعر درج ہے :
چُھونے لگے ہیں آج تو ہفت آسمان پر
حیران ہو رہا ہوں میں اپنی اُڑان پر
۴۔ہر بُوند سمندر ( صفحہ 369-474) : اس شعری مجموعے کا ’’آغازیہ‘‘ خود نسیم سحرنے لکھاہے اِس کے بعد ڈاکٹر یٰسین رضوی کے تعارفی کلمات میں شامل کیے گئے ہیں ۔اس شعری مجموعے میں سال 1982 ء تک کی پچاسی غزلیات شامل ہیں۔
ہجر نے جب سے دیکھ لیا گھر
آنسو کی ہر بُو ند سمندر
اِس بُوڑھی اُجڑی دھرتی پر
جینا مرنا ، ایک برابر
۵۔دریچۂ شب ( صفحہ 475-572) : یہ نسیم سحر کی نظموں کا پہلامجموعہ ہے جس میں سال 1985ء تک کی پینسٹھ (65) نظمیں شامل ہیں ۔
انتساب
’’ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ‘‘
اپنی نظموں میں نسیم سحر نے معاشرتی زندگی سے وابستہ متعدد حقائق کو اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ نسیم سحر کی شاعری بالخصوص نظموں کو جن ادیبوں نے بہت سراہا ان میں پروفیسر ڈاکٹر بشیر سیفی ،پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد قریشی ،پروفیسر ڈاکٹررحیم بخش شاہین،نظیر صدیقی،پروفیسر گوہر صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض شامل ہیں ۔دریچۂ شب میں شامل نظمیں موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہیں ۔خاص طور پر ادراک ،نجات کا عذاب،کشف،عکس،مسافر کا غم ،تسلسل ،خدشہ ،کل ،مقصد اور خواب نگر گہری معنویت کی حامل نظمیں ہیں ۔شاعر کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ پس نوآبادیاتی دور میں معاشرتی زندگی کے معمولات بدل رہے ہیں یہاں تک کہ عادات و اطوار پر بھی اس کے مسموم اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اپنی نظم ’’ عادت میں نسیم سحر نے معاشرتی زندگی میں روز افزوں بے حسی ، فرد کی بے چہرگی اور عدم شناخت کے مسئلے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے لکھاہے :
عادت
ہم اِک عمر سے ہیں
مسلسل سفر میں
مسلسل بھنور میں
ہمیں اب نئے ساحلوں کی ضرورت نہیں ہے !
۶۔ روشن دان میں چڑیا( صفحہ 573-668) : یہ شعری مجموعہ میںسال 1991ء تک کے ہائیکو پر مشتمل ہے جس کا انتساب ہائیکو شعراکے نام کیا گیاہے ۔اس شعری مجموعے کے آغاز میں ڈاکٹر انور سدید،محسن بھوپالی اور خاور اعجاز کے مضامین شامل ہیں ۔
روشن دان میں بیٹھی چڑیا
دلچسپی سے دیکھ رہی ہے
آنگن کا اک خالی پنجرہ
——————-
بارش کے ڈر سے
آتش دان میں جا بیٹھی
ننھی سی چڑیا
۷۔جگنو دیے ستارے ( صفحہ 669-812) : غزلیات کے اس مجموعے میں سال 1990ء تک کی ایک سو انتیس ( 129) غزلیات شامل کی گئی ہیں ۔
بانٹے ہیں جس نے سارے ،جگنو ،دئیے ستارے
ہم پر نہیں اُتارے ، جگنو ،دئیے ستارے
خوش فہمیوں میں رہ کر کرتے ہیں زندگی ہم
ہوتے ہیں کب ہمارے ،جگنو ،دئیے ستارے
۸۔اک لطیف سر گوشی ( صفحہ 813-880) : اس شعری مجموعے میں سال 1990ء تک کے ہائیکو شامل کیے گئے ہیں ۔ابتدا میں ڈاکٹر بشیر سیفی کا ایک مختصر مضمون شامل ہے ۔
اک لطیف سرگوشی
سُن کے اُس کے ہونٹوں سے
چُپ سا ہو گیا ہوں میں
۹۔اِتنے اچھے موسم میں( صفحہ 881-1022) : اس شعری مجموعے میں چو ہتر (74) غزلیات شامل ہیں ۔اس شعری مجموعے میں سال 1998ء تک کے عرصے کا کلام شامل ہے ۔
میں نے ہر موسم میںنسیمؔ ہمیشہ اُس کو یادکیا
جس کو میری یاد نہ آ ئی اِتنے اچھے موسم میں
جس روز بھی میں نے کبھی سوچا کہ میں ہوں
آواز یہ آ ئی کہ دھوکا ہے کہ میںہوں
۱۰۔پس انداز (صفحہ 1023-1224) :اس شعری مجموعے کی ابتدا حمد و نعت کے اِس شعر سے ہوتی ہے :
ثنائے ربّ ِ جلیل ہے اورروشنی ہے
نبی ﷺ کاذِکرِ جمیل ہے اورروشنی ہے
اس شعری مجموعے میں ایک سو چھتیس غزلیات شامل ہیں اور ’’ ریزہ ریزہ ‘‘کے عنوان سے اشعار بھی شامل کیے گئے ہیں جو گیارہ صفحات پر محیط ہیں ۔مادی دور کی لعنتوں کے باعث زندگی مشینوں میں ڈھل گئی ہے اور فرصت عنقا ہونے لگی ہے ۔مفرد اشعار سے شاعر نے قارئین کو جہد و عمل کا پیغام دیاہے ۔ یہ کلام سال2002ء تک کے عرصے کی یادگارہے ۔
بن کے ہونٹوں پہ اک داستاں سو گئیں
جُھوٹ جاگے تو سچائیاں سوگئیں
۱۱۔چہرہ ٔ خوا ب ( صفحہ 1225-1368 ) : شعری مجموعہ جو سال 2003ء کے عرصے کی تخلیقات پر مشتمل ہے چوراسی ( 84) غزلیات پر مشتمل ہے ۔اس کے آغاز میں ماہ نامہ دنیائے ادب کے مدیر اوج ِ کمال کا مضمون ’’ رو میں ہے رخشِ عمر ‘‘ شامل ہے ۔ اس شعری مجموعے کاانتساب شہرِ سخن کے تمام سخن فہموں کے نام کیا گیاہے۔احساس کی نزاکت اور اسلوب کی نفاست و انفرادیت کا جادو سر چڑھ کر بولتاہے ۔
اُس کا لہجہ ہے کہ ہے لہجۂ گُل
اُس کا چہرہ ہے کہ ہے چہرۂ خواب
سطح ِ ادراک سے نہیں اُٹھا
میں ابھی خاک سے نہیں اُٹھا
۱۲۔خواب سب سے الگ ( صفحہ 1369-1540):ایک سو تین غزلیات پر مشتمل اس شعری مجموعہ کا انتساب منفرد ہے :
اُسی کے نام ہے یہ جس کا نام لے نہ سکوں
مری کتاب کا ہے انتساب سب سے الگ
اس شعری مجموعے کے آغاز میں پروفیسر حسین سحر ؔ کا وقیع مضمون اور خالد شریف اورسعید قیس ( بحرین ) کی تقریظ شامل ہے۔
کمالِ حرفِ ہنر کی کہانی ختم ہوئی
مگر نہ دیدہ ٔ تر کی کہانی ختم ہوئی
ِ ۱۳۔مجھے ٹُوٹنے نہ دینا( صفحہ1541-1712 ) : اس شعری مجموعے کا انتساب قابل توجہ ہے : شعری مجموعے کے آغاز میں خاور اعجاز اور سعداللہ شاہ کے مضامین شامل ہیں ۔یہ شعری مجموعہ حمد ،نعت ،سلام ،ہائیکو،ماہیا ،مفرد اشعار ،غزلیات اور نظموں پر مشتمل ہے ۔
’’ میری اِس کتاب کا ہر شعراُس کے نام جو اپنا عکسِ زندگی دیکھناچاہے ۔‘‘
نسیم سحر کی شاعری میں عصر ی آ گہی کا عنصر بہت اہم ہے ۔ نسیم سحر کی شاعری کے تخلیقی محرکات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتاہے کہ شاعر نے اِس حقیقت کی جانب متوجہ کیا ہے کہ زندگی جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے اور زندگی میںکامیابی کا راز ستیز میں پنہاں ہے ۔ تخلیق فن کے لمحوں میں اپنے اشہب قلم کی جولانیاں دکھاتے وقت نسیم سحر نے بالعموم معاشرتی زندگی کے مسائل کو زادِ راہ بنایاہے ۔یہ اس کے ارفع خیالات ہی ہیں جن کی اساس پر اُس نے اپنے افکار کا قصر عالی شان تعمیر کیاہے ۔ اُس کی شاعری سائنسی علوم کے فروغ اور تکمیل میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے ۔ کلیات میں شامل شاعری کی ہمہ گیر اثر آفرینی اور افادیت کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر قوی ہو جاتاہے کہ شاعر نے مذہب،تاریخ ،علم بشریات اور فلسفہ کے عمیق مطالعہ کیا ہے ۔ شاعر کے تخلیقی سفر میں تنقید نے خضر ِ راہ کا فریضہ انجا م دیا ہے اور منضبط انداز میں خیالات کو اظہار و ابلاغ کے مواقع سے آ شنا کیا ہے ۔ نسیم سحر نے پامال راہوں سے بچتے ہوئے غیر مانوس ،ناقابل فہم ،دقیانوسی اور ناقابل عمل خیالات کو بارہ پتھر کرکے افکارِ تازہ کی مشعل فروزاں کر کے سفاک ظلمتو ںکوکافور کر کے جہانِ تازہ کی جانب روشنی کے سفر کا آغاز کیاہے ۔ اس شاعری میں روح اور قلب کی گہرائیوں میں اُتر جانے والے ایسے زندگی آموز اور زندگی آ میز خیالات کی فراوانی ہے جو اذہان کی تطہیر و تنویر کا موثر وسیلہ ثابت ہوتے ہیں۔ زندگی کی حرکت و حرارت کی مظہر ایسی شاعری دلوں کو ایک ولوۂ تازہ عطا کر کے فکر و نظر کو مہمیز کرتی ہے۔ایسی شاعری سنگلاخ چٹانوں ،جامد و ساکت پتھروںاور بتوں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوا لیتی ہے ۔
میں اُسے یہ کہہ رہاتھا،مجھے ٹوٹنے نہ دینا
کہ بکھر گئیں اچانک میر ی کِرچیاں زمیں پر
وہ ختم قید کی میعاد بھی نہیں کرتا
مگر میں زحمت ِفریاد بھی نہیں کرتا
ہر دم اُس کودھیان میں رکھنا
اپنے کو نقصان میں رکھنا
موسمِ گُل بھی آ سکتا ہے
پَت جھڑ بھی اِمکان میں رکھنا
اپنے ذاتی حوالے سے عشق میں رنج و غم اور تعجب کا یہ انوکھا انداز قاری کو چونکا دیتاہے ۔جذبات و احساسات کی یہ شدت تخلیق کار کی بے ساختگی کی مظہر ہے ۔بروٹس قماش محسن کُش جب پیمان ِ وفا کی دھجیاں اُڑا دیتے ہیں تو دِل خون کے آ نسو روتاہے ۔ہجوم یاس میں گھر ے انسان کی زندگی کا سفر تو افتاں و خیزاں کٹ جاتاہے مگر اُس الم نصیب جگر فگار کا پورا وجود کر چیوں میں بٹ جاتاہے ۔
مصنف کا اپناتعارف( صفحہ 1713-1720) : ان صفحات میں مصنف نے اپنی زندگی کے حالات درج کیے ہیں ۔مستقبل کا محقق ان کو زادراہ بنا کر روشنی کاسفر جاری رکھ سکے گا۔
نسیم سحر کی تخلیقی فعالیت کے سوتے ارض ِ وطن اور اپنے عہد سے پُھوٹتے ہیں ۔یہ شاعری اس اعتبار سے ساحری کا درجہ حاصل کر لیتی ہے کہ اس کی عطر بیزی کا سلسلہ زمان و مکان کی قیودسے بالا تر ہے۔یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ہر عہد کے ادب میں اس رجحان ساز ادیب کے اثرات ملیں گے ۔اس کلیات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ایک زیرک ،فعال اور مستعد تخلیق کار کی حیثیت سے نسیم سحر نے تخلیق فن کے لمحات میں خون بن کر رگِ سنگ میں اُترنے کی جو سعی کی ہے وہ ثمر بار ثابت ہوئی ہے ۔ مضمون آفرینی اور معنی آفرینی کے منفرد آ ہنگ سے متمتع یہ شاعری جامد و ساکت پتھروں اور سنگلاخ چٹانوں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منو الیتی ہے ۔اس شاعری کا مسحور کن پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو اپنے من کی غواصی کر کے سراغ ِ زندگی پانے کی جستجو پر مائل کرتی ہے ۔ اس شاعری کوتخلیق کار کی زندگی کے تجربات ،مشاہدات اور تجزیات کو اپنے دل و جگر اور ذہن و ذکاوت کی لا محدود وسعتوں سے ہم آ ہنگ کر کے قاری کو منتقل کرنے کی سعی سے تعبیر کیا جا سکتاہے ۔ اپنی حقیقت اور اہمیت کو تسلیم کرانے والی شاعری کے اس کلیات کی اشاعت سے اُردو ادب میں اضافہ ہوا ہے ۔معاشرتی زندگی کے وہ تلخ حقائق جو کسی مصلحت کے تحت پوشیدہ رہ جاتے ہیں نسیم سحر نے اُن سے پردہ اُٹھایا ہے ۔یہ شاعری پڑھنے کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ وہ تو پہلے ہی ان تجربات کا حصہ رہاہے ۔اظہار و ابلاغ کے وسیع امکانات سے متمتع یہ شاعری روح اورقلب کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر جاتی ہے ۔
جذبۂ ا نسانیت نوازی نسیم سحرکے مزاج کا اہم وصف ہے ۔ اس کے نزدیک انسانیت نوازی کاارفع معیار یہ تھا کہ جبر و استبداد کے خلاف بھر پور مزاحمت کی جائے اور مرگ آفریں استحصالی قوتوں کے مذموم ہتھکنڈوں اور بے رحمانہ انتقامی کارروائیوںکو ناکام بنانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ دُکھی انسانیت پر کوہ ِستم توڑنے والے ہر ظالم سے نسیم سحر کو شدید نفرت ہے اُس کی دلی تمنا ہے کہ معاشرتی زندگی سے ان تمام شقاوت آمیز ناانصافیوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے جن کے مسموم اثرات سے تاریخ ِ انسانی کا سارا منظر نامہ ہی گہنا گیا ہے ۔تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل پر نسیم سحر کا پختہ یقین ہے لیکن اس بات پر وہ ملول اور آزردہ ہے کہ تاریخ کے اس پیہم رواں عمل کو فاتح ،غالب،غاصب اور جارحیت کی مرتکب طاقتوں نے من مانے انداز میں مسخ کر کے اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے اور اس کے متعدد واقعات محض پشتارۂ اغلاط بن کر رہ گئے ہیں۔نسیم سحر نے ذوقِ سلیم سے متمتع اپنے قارئین کی ذہنی بیداری کااس طرح اہتمام کیا کہ وہ اپنے حقو ق کے حصول کے لیے جہد و عمل پر مائل ہوگئے ۔ اس نے واضح کر دیا ہے کہ قارئین کے دلوں کی بیداری اور فکر و نظر کو مہمیز کرنا وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔ سفاک ظلمتوں میں ستارۂ سحر دیکھنے کی تمنا کرنے والے اس رجائیت پسند ادیب نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ یاس و ہراس کا شکار ہونے والے دراصل شکست خوردہ ذہنیت کے مالک ہیں۔ سعیٔ پیہم ، عزم صمیم اور امید کا دامن تھام کر نا ممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے وہم و گمان کو صداقت میں بدلا جاسکتا ہے اور خواب کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے ۔ خوف اور دہشت کی فضا میں نسیم سحر نے ہمیشہ حوصلے اور اُمید کی مشعل فروزاں رکھنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ۔
بہ نامِ امن و اماں کون مارا جائے گا
نہ جانے آج یہاں کون ماراجائے گا
بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتاہے
اور بادل ہے کہ دریا پہ برس جاتاہے
قبائے جاں پرانی ہو گئی کیا
حقیقت بھی کہانی ہو گئی کیا
دیے اب شہر میں روشن نہیں ہیں
ہوا کی حکمرانی ہو گئی کیا
آوازوں کی بِھیڑ میں اِتنے شور شرابے میں
اپنی بھی اِک رائے رکھنا کتنا مشکل ہے
جو بات کی تھی ہوا میں بِکھرنے والی تھی
جو خط لکھا تھاوہ پرزوں میں بٹنے والا تھا
پس نو آبادیاتی دور میں اس خطے کی علمی و ادبی میراث کے تحفظ پر نسیم سحر نے بہت توجہ دی ۔ نو آبادیاتی دور میں اس خطے کے ادیبوں نے آثارمصیبت کا جس طرح احساس کیا نسیم سحرنے اُس کے بارے میں مثبت شعور و آ گہی پروان چڑھانے کی سعی کی ۔اس کلیات کے مطالعہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ شاعر نے عملی زندگی میں جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے حریت فکر کا علم تھام کر حریتِ ضمیر سے جینے کا تہیہ کر ر کھا ہے ۔ مذہب ،مشرقی تہذیب وثقافت ، وطن ،اہلِ وطن اور اُردو زبان سے نسیم سحر کی والہانہ محبت اور قلبی وابستگی کا ایک عالم معترف ہے ۔تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل پر یقین رکھنے والے اس جری تخلیق کار نے اپنی شاعری میں زندگی کے متعدد اہم حقائق کی جانب متوجہ کیا ہے ۔اپنے بحر ِ خیالات کی غواصی کرتے وقت نسیم سحر اپنے جذبات ،احساسات اور تجربات کے جو گوہر بر آمد کرتاہے وہ قاری کے لیے مسرت کا منبع بن جاتے ہیں ۔ کلیات میں شامل سدا بہار تخلیقات قاری کو اِس زیرک ،فعال اور مستعد شاعرکے احساس و ادراک کے بارے میں متعدد نئے حقائق سے روشاس کراتی ہیں ۔ تخلیق ادب میں جذبات کی تجسیم کے حوالے سے نسیم سحر نے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں ۔تخلیق اور اس کے پس پردہ کارفرما لا شعوری محرکات کے سلسلے میں شاعر نے جن اہم مراحل کو پیشِ نظر رکھا ہے ہے ان میں حقیقی نوعیت کے تجربات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان خاص تجربات میںتخلیق کار کا طرزِ عمل اور آفاقی نقطۂ نظر جوروح ِ عصر کا ترجمان بن کر تخلیق میں سرایت کر جاتاہے شامل ہیں ۔ تخلیق ِ ادب میں نسیم سحر کی فعالیت قاری کے فکر و نظر کو مہمیز کرنے وسیلہ ثابت ہوتی ہے ۔