نصب العین ـ کرن نعمان

کل برصغیر پاک وہند کے ایک بڑے سکالر کی تحریر نگاہ سے گزری ۔جس میں انہوں نے ایک صاحب کا ذکر کیا تھا۔ جو ہمیشہ دوران سفر قرآن کے انگریزی ترجمے کی کچھ کا بیاں ضرور ساتھ رکھا کرتے تھے ۔ 20 نومبر 2016 کو وہ صاحب دہلی ایئرپورٹ پر اترے ۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ ماڈرن قسم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف ہیں وہ ان کے قریب گئے اور ایک لڑکے سے سلام دعا کے بعد قرآن کا ترجمہ اسے یہ کہہ کر پیش کیا ” کہ یہ آپ کے لیے ایک تحفہ ہے ” ۔ اس لڑکے نے وہ کاپی ہاتھ میں لے کر بے ساختہ کہا "واؤ ” تبھی اس کے دوسرے ساتھی بھی متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ” سر ہمیں بھی واؤ کہنے کا موقع دیجیے اور ہمیں بھی وہ چیز دیجیے جو آپ نے ہمارے ساتھی کو دی ہے ". اس پر ان صاحب نے خوشی خوشی تمام لڑکے لڑکیوں میں وہ انگریزی قرآن کی کاپیاں تقسیم کردیں ۔
یہ بات پڑھ کر میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ان صاحب نے اپنا کام کر دیا آگے جو بھی ہدایت پا گیا تو اس شخص کی اصل کامیابی میں ان صاحب کا حصہ لازمی ہوگا۔ یقیناً وہ صاحب اللہ کے چُنے ہوئے بندے تھے جو خدا کی توفیق سے انسانوں کو ہدایت کا تحفہ بانٹ رہے تھے ۔
اس دنیا میں اب تک اربوں کھربوں لوگ اچکے ہیں۔ جن میں بلا شبہ افضل ترین انبیاے کرام ہیں اور ان کے بعد وہ لوگ جنہوں نے عام انسانوں کی خدا کی ذات تک رسائی آسان بنائی ۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں ہر انسان کو اپنی زندگی میں مقصد حیات نہیں ملتا اور نہ ہی وہ مخلوق سے اشرف المخلوقات تک کا سفر طے کرپاتا ہے ۔ ضروریات زندگی سے لے کر تعیشات زندگی کے حصول کی تگ و دو میں ہی لگا رہتا ہے اور جب ایک طویل زندگی گزار کر اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں کچھ اس سے ہٹ کر بھی کرنا چاہیے تھا تو اس وقت عمر رفتہ کے گزر جانے کے افسوس میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن جو لوگ مقصد حیات پا لیتے ہیں ان کی زندگی کا دھارا ایک اور ہی رخ میں بہہ نکلتا ہے اور وہ مقصد ہر روز انہیں ان کی منزل سے قریب کرتا ہے۔
چھ سال قبل میں ایک خاتون سے ملی جو اپنا مقصد حیات پا گئی تھیں ۔پچھلے سال لگ بھگ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ وہ جماعت اسلامی کی ایک سرگرم رکن تھیں اور پچیس تیس سال کی عمر سے ہی درس و تدریس سے وابستہ تھیں ۔ دنیاوی تعلیم واجبی تھی مگر قرآن پڑھتی تھیں، سمجھتی تھیں ، اس پر عمل بھی کرنے کی کوشش کرتی تھیں اور اس تعلیم کو آگے بھی پہنچاتی تھیں ہفتے کا ایک دن وہ ہماری سوسائٹی میں درس دیا کرتی تھیں اور تین چار دن اس پاس کے گاؤں گوٹھوں میں جا کر درس دیا کرتی تھیں۔
ایک دن مجھ سے کہنے لگیں ” میں یہاں درس دینے آتی ہوں تو یہاں مجھے دس بارہ عورتوں کے اکٹھا ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب میں غریبوں فقیروں کی بستیوں میں جاتی ہوں تو وہاں پچاس ساٹھ عورتیں پہلے سے بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہوتی ہیں ۔ اللہ کے کلام سے ان کے دل بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس پر عمل کا بیج کسی کسی میں پھوٹتا ہے۔ ” انھوں نے اپنی ساری عمر لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانے میں صرف کی ۔ لوگوں سے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے اعانت طلب کیا کرتی تھیں۔ بچوں کے مدرسوں کے لئے قرآن، کتابیں ،یونی فارم ، صفیں،دریاں اور سٹیشنری مانگا کرتی تھیں۔ رمضان کے پہلے بیس دن دورہ قرآن کروایا کرتی تھیں اور باقی دس دن اعتکاف میں بیٹھتی تھیں ۔ بیٹی کی شادی عید کے تیسرے دن تھی اور اس سے پہلے دس دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھ گئی تھیں۔ میں نے سنا تو مجھے شاک لگا۔ بیٹی کی شادی پر سو کام ہوتے ہیں اور ماں اعتکاف میں بیٹھ جائے ہم میں کون عورت ایسا کر سکتی ہے ہمہارا تو ایک قدم گھر میں اور ایک بازار میں ہوتا ہے ۔پر اللہ نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا ان کی بچی بھی دوسری بچیوں کی طرح رخصت ہوئی، شادی کے تمام کام ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ شوگر میں ایک گردہ ختم ہو گیا تھا اور دوسرا بھی ستر فیصد رہ گیا تھا پر دین کی تعلیم اورجماعت کی سرگرمیاں نہیں چھوڑیں میں نے پوچھا ” اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر جماعت کے لیے کام کرتی ہیں تو جماعت کیا دیتی ہے آپ کو ” ۔تو ہنس کر کہنے لگیں ” کچھ بھی نہیں .الٹا میں اپنی جیب سے جماعت کو اعانت دیتی ہوں”. یعنی ان کا ہر کام فی سبیل اللہ تھا مرنے سے پہلے بھی سوسائٹی کی ایک بوڑھی خاتون کو ان کے گھر قرآن پڑھانے جاتی تھیں۔
مجھے جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو ایک جذب کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے بظاہر وہ ایک عام عورت تھیں۔ شادی ہوئی ،بچے ہوئے میکہ سسرال نبھایا ،روپیہ پیسہ جوڑ جوڑ کر گھر بھی بنایا، بچوں کی شادیاں بھی کیں غرض کون سا دنیا کا کام نہیں کیا ۔پر نہیں ۔وہ اور ان جیسے پظاہر عام دکھائی دینے والے لوگ بہت ہی خاص ہوتے ہیں۔دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے ذرا ہٹ کر رہتے ہیں ۔ وہ چلتے زمین پر ہیں پر ان کی منزل کے نشان کہیں آسمانوں میں ہوتے ہیں۔ ان کی صورتیں تو معمولی ہوتی ہیں پر ان کا نور الو ہی ہوتا ہے ۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسے لوگوں کی سوچ صرف اور صرف اللہ ہو جاتی ہے۔
آج دنیاکی نفسا نفسی دیکھ کرسوچتی ہوں ہم میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنا نصب العین پانے کی جدوجہد میں ہیں اور وہ کیا ہے جسے ہم اپنا نصب العین سمجھتے ہیں؟. یہاں یہ بات واضح کرتی چلوں کہ مقصد اور نصب العین میں تھوڑا فرق ہے مقصد عام بھی ہو سکتا ہے پر نصب العین اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔اگراسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کا نصب العینن صرف اطاعت الہی ہے اب یہ ہماری اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ ہم کس چیز کو اپنا مقصد حیات بناتے ہیں ۔ ہم اللہ کی مرضی سے دنیا میں آتے ہیں اور اللہ کی مرضی سے ہی چلے جاتے ہیں پر بیچ کا وقت ہم اپنی مرضی سےگزارتے ہیں۔پر کبھی ہم نے سوچا کہ ہماری مرضی میں کتنی اللہ کی مرضی شامل ہے ؟ کہیں ہم اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کو شامل کرتے ہیں ؟ ہم تو شاید یہ سوچنا ہی نہیں چاہتے کہ اللہ کی رضا کیا ہے۔خالق کا ہمیں خلق کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ ۔ آج یہ سوال میرے سامنے ہے ممکن ہے آپ میں سے بہت سے لوگوں کے سامنے بھی ہو۔اب اسکا جواب ہمیں خود ہی تلاش کرنا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے ” کہ جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس میں اور اضافہ کریں گے لیکن پھر اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ".میری دعا ہے خدا ہمیں بھی زندگی کا نصب العین پانے والوں میں سے کردے مخلوق سے اشرف المخلوق ہوجانے کا شرف عطاء فرمادے ،ہمیں اور ہماری اولادوں اور آنے والی تمام نسلوں کو اعمال صالح اور افضل البشر کے نقش پا پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے ۔ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*