نقشِ مختار: پروفیسر مختارالدین احمد آرزو کے وقیع علمی ، تحقیقی اور تبصراتی مضامین – شکیل رشید

پروفیسر مختارالدین احمد آرزو (۱۴ ، نومبر۱۹۲۴-۳۰، جون ۲۰۱۰) عربی ، فارسی اور اردو ، تینوں زبانوں کے جید عالم تھے ۔ تینوں ہی زبانوں میں ، پروفیسر صاحب کے ، تحقیق و تدوین کےکاموں کا ، ساری دنیا میں اعتراف کیا گیا ہے ۔ پروفیسر صاحب کے علمی اور تحقیقی مضامین کی بہت بڑی تعداد ہے ، جنہیں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر طارق مختار نے ، کتابی شکل دینے کا عزم کیا ہے ۔ زیرِ تعارف و تبصرہ کتاب ’’ نقشِ مختار ‘‘ اسی عزم کا نتیجہ ہے ۔ اس سے قبل ’’ نقشِ دوام ‘‘کے نام سے ایک کتاب ۲۰۱۹ء میں منظرِ عام پر آئی تھی جس میں مضامین کے ساتھ خاکے بھی شامل تھے ۔ اِس نئے مجموعہء مضامین میں عربی ادبیات پر ۱۶ اور اردو ادبیات پر ۷ تحقیقی و تبصراتی مضامین شامل ہیں ۔ اِن مضامین پر بات کرنے سے قبل ، اس کتاب میں ، پروفیسر مختارالدین احمد کے بارے میں ، جن تین بڑی علمی شخصیات کی آراء شامل ہیں ، ان کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے علمی مرتبے کا ایک اندازہ کر لیا جائے ۔ مرحوم پروفیسر نذیر احمدکی ایک مختصر سی تحریر ، کتاب کے ٹائٹل کور کے فلیپ پر دی گئی ہے ، جس میں انہوں نے لکھا ہے ’’ انھوں ( پروفیسر مختارالدین احمد) نے عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں کے ادب سے متعلق اتنا قیمتی سرمایہ فراہم کر دیا ہے کہ آئندہ کا مورخ اس کی قدر و قیمت متعین کرے گا ۔‘‘ اس تحریر میں بتایا گیا ہے کہ پروفیسر صاحب نے یورپ میں مستشرقین سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران یورپ کے شرق شناسوں سےاور وہاں کے کتب خانوں سے بھرپور استفادہ کیا ، اور وہاں اُن سب جامعات میں بھی گیے جہاں عربی ، اردو ، فارسی کے نوادرات و مخطوطات محفوظ تھے ۔ پروفیسرصاحب کا ایک بڑا کارنامہ ان نوادرات و مخطوطات کا تعارف ہے ۔ تعارف کرانے کے ساتھ اکثر و بیشتر کی نایابی اور ندرت کا تعین بھی کرایا اور بعض کو مرتب کرکے شائع کیا ۔ پروفیسر نذیر احمد لکھتے ہیں ’’ ان کی یادداشت کی کتاب میں سینکڑوں مخطوطات کا ذکر محفوظ ہے ، جو اہم اور اشاعت کے قابل ہیں ۔‘‘ مرحوم پروفیسر اسلوب احمد انصاری کی رائے کتاب کے بیک کور پر دی گئی ہے ، وہ لکھتے ہیں ’’ پروفسر مختارالدین احمد آرزو تحقیق کے مردِ میدان ہیں ۔ ہر طرح کی کتابیں اور نوادر جمع کرنے اور ان کے مطالعے کا انہیں ضرورت سے زیادہ شوق ہے ۔ مخطوطات کو پرکھنے کا خاص ذوق انہیں ودیعت کیا گیا ہے ۔ ‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’ عربی زبان و ادب کے میدان میں ان کا اپنا امتیازی مقام ہے اور دنیا کے جس گوشے میں بھی اس کے عالم موجود ہیں ، وہ ان سے رابطہ رکھتے ہیں اور وہ لوگ بھی ان کے قدر شناس اور ثناخواں ہیں ۔‘‘بیک کور کے فلیپ پردہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ عربی پروفیسر محمد نعمان خاں کی رائے دی گئی ہے ، وہ لکھتے ہیں ’’ پہلے علماء مختلف علوم و فنون کے ماہر ہوا کرتے تھے ، انہی کے طریقہ پر پروفیسر مختارالدین احمد آرزو عربی ، فارسی اور اردو تینوں موضوعات پر کام کرتے تھے اور تینوں زبانوں میں آپ کی تدوین وتحقیق کا علمی دنیا میں اعتراف کیا گیا ہے ۔‘‘

 

 

مذکورہ آراء سے جہاں پروفیسر صاحب کے اعلیٰ علمی مقام کا تعین ہوتا ہے ، وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پروفیسر مختارالدین احمدعربی ، فارسی اور اردو ادبیات میں ، ساری دنیا میں ہونے والے کاموں سے بھی واقفیت رکھتے تھے اور دنیا بھر کے علماء سے رابطے میں بھی تھے نیز مخطوطات اور علمی نوادرات پر ان کی گہری نظر تھی ، لہٰذا انہوں نے جو بھی علمی کام کیے ، چاہے وہ قدیم مخطوطات پرہی کیوں نہ ہوں ، ان میں ایک تازگی تھی ، ایسی تازگی جو ہنوز برقرار ہے ۔ ’’ عرضِ مرتب ‘‘ میں ، ڈاکٹر طارق مختار نے کتاب کے مضامین کا بڑی حد تک تعارف کرا دیا ہے ۔ انھوں نے مضامین کے حصول میں پیش آنے والی دقتوں کا بھی ذکر کر دیا ہے ، وہ لکھتے ہیں ’’ اس وقت ابو کے تمام مضامین میرے پاس نہیں ہیں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ہیں ، تلاش بسیار کے بعد جو مل سکے ہیں ان میں انتخاب کا مسٔلہ درپیش ہوا چنانچہ کچھ عربی و اردو کے مضامین منتخب کرکے یہ مجموعہ قارئین کے سامنے پیش خدمت ہے ۔‘‘ یہ جملے پڑھ کر اردو دنیا میں علم و علماء کی قدر ناشناسی کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے ۔ پروفیسر صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ رہے ، کیا یہ یونیورسٹی کے ذمےداران کا فریضہ نہیں تھا ، یا نہیں ہے کہ اپنے علماء و دانشوروں کی علمی کاوشوں کوجمع کرکے دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ اردو زبان والوں کے ایسے ادارے بھی نہیں ہیں جو اس طرح کے کاموں کو دنیا کے سامنے لانے کی سعی کریں ۔ ہوتا یہ ہے کہ پروفیسر حضرات ، ادباء اور دانشوروں کی علمی خدمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری ان کے اہلِ خانہ کو مجبوراً اٹھانا پڑتی ہے ، اور بسا اوقات یہ بھی نہیں ہوتا ، نتیجتاً اعلیٰ درجے کے علمی کام گمنامی میں پڑے رہ جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر طارق مختار نے ، اپنے والد مرحوم کے علمی کاموں کو ، کسی کونے کھدرے میں پڑا رہ جانے کی بجائے ، سامنے لانے کا کام کیا ، اس کے لیے وہ واقعتاً ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں ۔
اب کتاب کے چند مضامین کا ذکرہو جائے ۔ عربی ادبیات پر جو ۱۶ مضامین میں سے ، ۱۲ مضامین مخطوطات ، قدیم نسخوں ، اور کتابوں پر ہیں ، اور ۴ مضامین شخصیات پر ہیں ۔ شخصیات میں بھی تین مضامین قدیم دور کی شخصیات پر ، اور ایک مضمون ماضیٔ قریب کی شخصیت پر ہے ۔ پہلا مضمون ’’ ایک قدیم تاریخی وثیقہ ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ پروفیسر صاحب ۱۹۷۹ء میں سوریا کی ایک علمی نمائش میں شریک ہوئے تھے ، وہاں انھوں نے ’ کتاب الورع ‘ کے نام سے ایک نادر قلمی نسخہ دیکھا ، نسخہ ۸۴۵ھ کا تھا ۔ اس نسخے کی اہمیت کا اندازہ ، اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ، کہ اس میں ایک ایسے عینی شاہد کی تحریر شامل تھی جو ’’ شہر بغداد میں منگولوں کے حملے اور داخلےکے وقت خود بغداد میں موجود تھا اور اس وقت تاتاریوں نے جو جرائم شنیعہ ، قتل وغارت ، آتش زنی اور خوں ریزی کیے ان کا وہ شاہد تھا اور عباسیوں کے پایۂ تخت بغداد جیسے خوب صورت ہرے بھرے آباد شہر کی تباہی و بربادی ان کے ہاتھوں ہورہی تھی ، کسی محفوظ مقام پر چھپا ہوا بچشمِ سر دیکھ رہا تھا ۔‘‘ یہ وثیقہ چونکہ منگولوں کے مظالم کا آنکھوں دیکھا حال دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ، اس لیے اس کی ایک زبردست تاریخی اہمیت ہے ۔ دوسرا مضمون ’’ کتب خانۂ ابن العلقمی کا ایک مخطوطہ ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ اس مضمون میں یوں تو مذکورہ کتب خانہ کے ایک مخطوطے ’ کتاب الموشح ‘ کی بات کی گئی ہے ، اور بتایا گیا ہے کہ یہ مخطوطہ کیوں اہمیت رکھتا ہے ، لیکن اس مضمون سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلامی دنیا میں کیسے کیسے عالیشان کتب خانے ہوا کرتے تھے ، جو اب نہیں رہے ! ایک اقتباس ملاحظہ کریں ’’ ابن العلقمی کو کتابیں جمع کرنے کا بڑاشوق تھا ۔ اس کے ذاتی کتب خانے میں ہزاروں کتابیں جمع تھیں اور ان میں بیشتر نوادر و نفائس تھے ۔ ۶۴۴ہجری میں اس نے افادۂ عام کے خیال سے یہ بیش بہا ذخیرہ اپنے محل سے دارالوزارت میں منتقل کر دیا ۔ اس کتب خانے میں کتابوں کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے ، آج اس کتب خانے کی دس کتابوں کا بھی پتہ نہیں ۔ ‘‘ کیا یہ افسوس ناک بات نہیں ہے ؟ ہم نے اسی ناقدر شناسی کے سبب اُس علمی مقام کو کھو دیا ہے ، جس پر کبھی فائز تھے ۔ کتاب کے کئی مضامین میں اسلامی دنیا کے اہم اور بڑے کتب خانوں کا ذکر آیا ہے ،جن کے ذخائر اب یورپ کی لائبریریوں میں منتقل ہو گئے ہیں ۔ ایک مضمون ’’ مجمل اللغتہ لابن فارس کا ایک قیمتی نسخہ ‘‘ میں قیمتی نسخے کے ایک جگہ سے دوسری جگہ ’ سفر ‘ کی روداد سناتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ یہ نسخہ امین الحلوانی المدنی کے پاس پہنچتا ہے ، اور ۱۳۰۲ھ میں اس کا پورا ذخیرہ کتب جو نفیس ، قیمتی اور نادر کتابوں پر مشتمل تھا ہولینڈ پہنچتا ہے ۔ پہلے ای جے برل کے پاس رہتا ہے پھر یہ سارا ذخیرہ کتب خانہ لائیڈن کے لیے خرید لیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ تمام ہی مضامین اسلامی دنیا کی علمی تاریخ کو بڑی ہی تحقیق کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیسے یورپ نے علمی ذخائر سے استفادہ کیا ۔ ایک مضمون ’’ ڈاکٹر معظم حسین ‘‘ کے عنوان سے ہے ، جو ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ ٔ عربی کے سابق صدر اور وہاں کے سابق وائس چانسلر تھے ۔ یہ ایک عظیم اسکالر کی زندگی کے علمی کاموں پر لکھا گیا ایک وقیع مضمون ہے ۔

 

 

اردو ادبیات میں ۷ مضامین ہیں ، ایک مضمون کا عنوان ہے ’’ اردو کا ایک قدیم رقعہ ‘‘۔ اس مضمون میں مرزا محمد ظہیر الدین علی بخت اظفری دہلوی نام کے ایک ایسے عالم کی کتاب ’’ واقعات اظفری ‘‘ کا دلچسپ تعارف کرایا گیا ہے ، جو قلعہ دہلی میں پیدا ہوئے ، سلاطین کے درمیان کوئی تیس سال قلعے کے اندر ہی رہے ، اور ایک رات قلعے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تو سارا ملک گھومتے ہوئے مدراس پہنچے ، وہیں رہ گئے ، وہیں انتقال فرمایا ۔ کتاب ’’ واقعات اظفری ‘‘ میں اظفری نے اپنی زندگی کے واقعات خصوصاً قلعۂ دہلی چھوڑنے کی مہم اور مختلف مقامات کے قیام اور تجربوں کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ۔ ایک مضمون سید یوسف الدین احمد بلخی باطنؔ پر ہے ، جو پٹنہ کے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں انگریزی کے استاد تھے ۔ یہ خاکہ نما مضمون ہے ، اس میں باطنؔ صاحب کی شعر گوئی کا اور اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ سے محبت کا بڑا خوب صورت ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک دلچسپ مضمون ’’نقش سلیمانی ‘‘ کے نام سے ہے ۔ یہ مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب ’’ نقوش سلیمانی ‘‘ پر ۵۰ سے زائد شبہات و اعتراضات کے جواب کا جواب ہے ، اور بڑا ہی دلچسپ ہے ۔ بعد کے مضامین ہیں ’’ جنمئے جئے متر ارمان‘‘، ’’ قاضی عبدالودود ‘‘ ،’’ مالک رام اور ذکرغالب‘‘ ،’’ سید انشاء کی ایک نادر تصنیف‘‘ اور ’’ جان گلکرسٹ کے عہد کی ایک گمنام بہاری کتاب ‘‘ کے عنوان سے ہیں ، یہ سب مضامین وقیع اور اعلیٰ ہیں ۔ کتاب کی ایک خوبی اس کے حواشی ہیں ۔ کتاب کا انتساب پروفیسر اسلوب احمد انصاری کے نام ہے ۔ ۳۱۲ صفحات کی اس کتاب کی قیمت ۴۰۰ روپیے ہے ۔ موبائل نمبر9319788457 پر کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا جا سکتاہے ۔