Home نقدوتبصرہ نقش بر سنگ:سہیل انجم کے خاکوں کا لاجواب مجموعہ – شکیل رشید

نقش بر سنگ:سہیل انجم کے خاکوں کا لاجواب مجموعہ – شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )
بات کچھ پرانی ہے۔ عروس البلاد ممبئی میں اُردو کتابوں کی تاریخی دکان مکتبہ جامعہ میں، جو شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور صحافیوں کے مل بیٹھنے کا ایک اڈہ بھی ہے، ایک روز ایک کتاب پر نظر پڑی۔ نام تھا ’’میڈیا روپ اور بہروپ‘‘ سہیل انجم کے مضامین کا مجموعہ… سہیل انجم کا نام اَن سنا تو نہیں تھا مگر ان سے علیک سلیک نہیں تھی… کتاب کے صفحات الٹ پلٹ کر دیکھے۔ مضامین کے عنوانات دل کو لگے۔ چونکہ میڈیا ہی میرا اوڑھنا بچھونا تھا (اور آج بھی ہے) اس لیے کتاب خرید لی۔ پڑھی اور سہیل انجم سے ہمیشہ کے لیے دوستی کرلی۔ گویا کہ یہ کتاب میرے اور مصنف کے درمیان رابطے کے لیے ایک پُل بن گئی۔ دوستی عرصے تک یکطرفہ ہی رہی۔ جب میرا روزنامہ ’’اردو ٹائمز‘‘ ممبئی میں آنا ہوا تب ان سے دعا سلام ہوئی۔ روزنامہ ’’ممبئی اردو نیوز‘ ‘ سے وابستہ ہونے کے بعد تعلقات مزید پختہ ہوگئے۔ بلکہ سچ کہیں تو تعلقات کی پختگی میں ان کی کتابوں نے ہی اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص دو کتابوں ’’بازدیدِ حرم‘‘ اور ’’دینی رسائل کی صحافتی خدمات‘‘ نے۔ اپنے اخبار اور محمد عارف اقبال کے پرچے’’اردو بک ریویو‘‘ کے لیے میں نے ان دونوں ہی کتابوں کا مختصر تعارف و تبصرہ تحریر کیا تھا۔ ’’بازدیدِ حرم‘‘ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے سفرِ حج کی روداد ہے اور دوسری کتاب اردو زبان میں دینی اور مذہبی صحافت کی ایک تاریخ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد تحقیقی کام ہے۔ مجھے یہ دونوں ہی کتابیں اسلوب کے لحاظ سے بھی اور معلومات کے لحاظ سے بھی پسند آئیں۔ بلکہ اس قدر پسند آئیں کہ میں نے سہیل انجم کو فون کرکے مبارک باد بھی دی۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک کتاب نے سہیل انجم تک پہنچایا، ان سے یکطرفہ دوستی کروائی، پھر ان کی دوسری کتابیں رابطے کا ذریعہ بنیں اور آج بھی رابطے کا ذریعہ ہیں۔
سہیل انجم بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں۔ مشہور و معروف صحافی۔ عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ جہاں جہاں اردو زبان کے اخبارات پڑھے جاتے ہیں، نیٹ پر ہی سہی، وہاں وہاں لوگ سہیل انجم کے نام سے واقف ہیں۔ ریڈیو وائس آف امریکہ واشنگٹن (اُردو سروس) کے سننے اور پڑھنے والوں کے لیے ان کا نام نامعلوم نہیں ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے کئی اخباروں اور رسالوں میں ان کے کالم، تجزیے،تبصرے،خبریں اور معروف شخصیات سے لیے گئے انٹرویوز شائع ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن سہیل انجم صرف صحافی ہی نہیں ایک اچھے ادیب بھی ہیں۔ وہ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں اس کا حق ادا کردیتے ہیں۔ میں نے اوپر کی سطروں میں ان کی تین کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جبکہ ان کی دو درجن کے قریب کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں اور مقبول بھی۔ مثلاً ’’میڈیا روپ اور بہروپ‘‘ ہی کی طرح میڈیا سے متعلق ان کی کتابیں ’’میڈیا اردو اور جدید رجحانات‘‘، ’’اردو صحافت اور علماء‘‘، ’’مغربی میڈیا اور اسلام‘‘، ’’احوالِ صحافت‘‘، ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘، ’’مولانا محمد عثمان فارقلیط: حیات وخدمات‘‘، ’’مولانا محمد عثمان فارقلیط کے منتخب اداریے‘‘ اور ’’دینی رسائل کی صحافتی خدمات‘‘۔ کہنے کو تو یہ تمام ہی کتابیں میڈیا یا با الفاظ دیگر صحافت کے ہی موضوع پر ہیں لیکن سہیل انجم کے قلم کی روانی، جملو ں کی سلاست اور ادائیگی اور اپنی بات کہنے کے لیے مناسب لفظوں کے انتخاب نے ان کی تحریروں کو ادبی رنگ دے دیا ہے۔ میڈیا کے موضوع سے ہٹ کر جو کتابیں ہیں ان میں ادبی رنگ مزید ابھر کر سامنے آتا ہے۔ مثال سفرِ حج کی کتاب کی لے لیں۔ اسے اس موضوع پر لکھی گئی دنیا کی بہترین کتابوں میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں اس کتاب پر نہیں ان کی نئی کتاب ’’نقش بر سنگ‘‘ پر بات کرنی ہے۔
یہ سہیل انجم کے تحریر کردہ خاکوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ ’’نقش بر آب‘‘ کے نام سے 2015 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں بارہ مرحومین کے خاکے شامل تھے۔ ’’نقش بر آب‘‘ لوگوں کو چونکا گئی۔ خصوصاً ان ادیبوں کو، جو یہ طے کیے بیٹھے ہیں کہ ان سے بہتر نہ کوئی لکھنے والا ہے اور نہ ہو گا۔ وہ، جو سوائے اپنی تحریروں کے دوسروں کی تحریروں پر نظر تک نہیں ڈالتے اور صحافیوں کی تحریریں تو ان کی نظر میں ’’خبروں‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی ہیں۔ اس مجموعے کے چار خاکے بہترین خاکوں کی فہرست میں جگہ پاسکتے ہیں۔ ایک خاکہ ان کے والد مرحوم مولانا حامدالانصاری انجم پر ہے جو نابغۂ روزگار تھے۔ ایک اچھے شاعر تو تھے ہی خطیب، طبیب، ادیب، صحافی اور سیاست داں بھی تھے۔ یقینا سہیل انجم کی زندگی پر اپنے والد مرحوم کے کمالات کی چھاپ بھی پڑی ہوگی اور ان کی بہت ساری خوبیاں بھی اِن کے حصے میں آئی ہوں گی۔ یہ خاکہ ایک بیٹے کی اپنے مرحوم باپ کی یاد میں لکھی گئی ایک بہترین تحریر ہے۔ ایک خاکہ اپنے دادا پر، ایک مرحوم بڑے بھائی اور ایک خاکہ معروف صحافی محفوظ الرحمن پر ہے۔ یہ خاکے پراثر بھی ہیں اور لاجواب بھی۔ سہیل انجم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ خاکہ نگاری کے فن سے نابلد ہیں اور مشہور فلم رائٹر جاوید صدیقی کے خاکوں کی کتاب ’’روشن دان‘‘ کے مطالعے نے انہیں خاکے لکھنے کی جانب مائل کیا۔ لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اپنے پیاروں کی جو محبت ان کے دل میں بھری ہوئی تھی وہ اظہار کی راہ دیکھ رہی تھی اور خاکوں سے بہتر اظہار کا طریقہ کوئی اور کیا ہو سکتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے پیاروں اور عزیزوں کو یاد کرنے کے لیے قلم کاغذ سنبھالا اور تحریریں خاکوں میں ڈھلتی گئیں۔
خاکوں کا یہ نیا مجموعہ ’’نقش بر سنگ‘‘ 26خاکوں پر مشتمل ہے۔ خاکوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلا حصہ’’خراجِ تحسین‘‘کے تحت ہے۔اس حصے میں تیرہ ’’موجودین‘‘ کے خاکے ہیں اور دوسرا حصہ ’’خراجِ عقیدت‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں تیرہ ’’مرحومین‘‘ کے خاکے ہیں۔ سہیل انجم نے یہ مضامین مختلف کیفیات میں تحریر کیے ہیں۔ مثلاًکوئی خاکہ یا خاکہ نما کسی کی شخصیت سے متاثر ہو کر لکھا۔ کوئی کسی کے تقاضے پر اور کچھ اس لیے کہ بقول ان کے’’کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کی موت مضمون لکھوا لیتی ہے‘‘۔ میں اوپر یہ ذکر کر آیا ہوں کہ سہیل انجم کا اسلوب مجھے اچھا لگا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دونوں ہی عنوانات کے تحت اپنے حقیقی اسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں ایسی تبدیلیاں بھی کی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان خاکوں کو لکھنے والا ایک کہنہ مشق قلمکار اور صحافی ہے۔ مختلف طرز اور انداز میں لکھنا ایک صحافی کے لیے ہی ممکن ہے کیونکہ یہ اس کے پیشے اور فن کا بنیادی تقاضہ ہے۔ ان تحریروں کو پڑھنے والے مختلف کیفیات سے گزرتے ہیں۔ پہلے حصے میں جن شخصیات کے خاکے ہیں بلا شک و شبہ سب کی سب تحسین کی مستحق ہیں۔ جیسے کہ م افضل، مودود صدیقی، مولانا عزیز عمر سلفی، پروفیسر شہپر رسول وغیرہ۔ سہیل انجم نے ان کی تحسین تو کی ہے لیکن تحسین کو کہیں بھی چاپلوسی میں بدلنے نہیں دیا ہے جیسا کہ کچھ لوگ کرتے ہیں۔ ان شخصیات کے خاکے پڑھتے ہوئے جہاں ان کی شخصیت عیاں ہوکر سامنے آ جاتی ہے وہیں ان کے کارنامے اور ان کی خدمات سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔ خاکہ نگار نے ان شخصیات کے بیان میں سادگی برتی ہے۔ نہ کسی کے تعلق سے آسمان پر چڑھانے والے الفاظ استعمال کیے ہیں اور نہ ہی کسی کی شخصیت کو گھٹا کر پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ م افضل پرلکھی تحریر کی یہ چند سطریں ملاحظہ کریں:
’’افضل صاحب بعد میں سیاست داں اور سفارت کار بن گیے لیکن حقیقتاًوہ صحافی ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی صحافت سے ان کا رشتہ منقطع نہیں ہوا ہے۔ اب بھی وہ اخباروں کے لیے مضامین لکھتے ہیں‘‘۔
ان سطروں میں سہیل انجم نے سچ کو سچ ہی کی طرح پیش کردیا۔ بالکل سادہ انداز میں۔ مبالغہ آرائی سے بچتے ہوئے۔
دوسرے حصے میں مرحومین کے خاکے ہیں۔ ان خاکوں کا اسلوب اور انداز الگ ہے۔ یہ سب اپنے وقت کی اہم شخصیات تھیں۔ مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری ، مولانا عبد الوہاب خلجی، حفیظ نعمانی، ڈاکٹر حنیف ترین اور دیگر۔ ان خاکوں میں جانے والوں کے احترام کے ساتھ دنیا کی بے ثباتی کی کیفیت بھی شامل ہے۔ حنیف ترین کے خاکے کی یہ سطریں پڑھنے والوں کو یقیناً بے چین کر دیں گی:
’’ہندوستان آنے کے بعد انہوں نے بہت کوشش کی کہ انہیں کل ہند سطح کے مشاعروں میں پڑھوایا جائے۔ وہ لال قلعہ کے مشاعرے میں بھی پڑھنے کے مشتاق تھے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ اگر انسان کو کسی کی موت کی تاریخ پیشگی معلوم ہو جائے تو وہ چاہے گا کہ اس کی وہ خواہشیں پوری کر دی جائیں جن کی تکمیل کے لیے وہ تڑپ رہا ہے۔ لیکن قدرت نے اس کا انتظام ہی نہیں کیا ہے‘‘۔
سہیل انجم نے ان تحریروں کے بارے میں قارئین کی رائے مانگی ہے۔ میں ایک قاری کی حیثیت سے انہیں اس کتاب کے لیے مبارکباد دوں گا۔ اور یقین ہے کہ خاکوں کی اس بہترین کتاب کے لیے قارئین بھی انہیں مبارکباد پیش کریں گے۔

( یہ تحریر مذکورہ کتاب میں مقدمہ کے طور پر شامل ہے )

You may also like

Leave a Comment