ننگے بادشاہ سے بیوقوف عوام تک-ثروت فروغ

ہر دور کا انسان اس بات سے متفق ہے کہ بسااوقات کہانیاں اپنے آپ کو دہراتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ کہانی کے کردار اور مناظر بدلتے رہتے ہیں – موجودہ نظامِ حکومت کو دیکھ کر مجھے ١٨٣٧ ء میں ڈنمارک کے ادیب "کرسچن اینڈرسن ” کی لکھی ہوئی ایک پرانی کہانی” The Emperor’s new clothes ” جو اصل کہانی ڈینش زبان میں "Kejserens nye Klaeder” سے ماخوذ ہے یاد آگئی- کہانی کچھ اس طرح ہے-
"صدیوں پہلے کسی ملک میں ایک بادشاہ کی حکومت قائم تھی جو حکومت کے کاموں کو اپنے فہم وفراست سے انجام نا دے کر اپنے درباریوں، خوشامدیوں اور حواریوں کی مرضی سے انجام دیتا تھا اس کے مصاحب دن رات اس کے دربار میں بیٹھے اس کی تعریف میں قصیدے پڑھا کرتے اور اس کی خامیوں کو بھی خوبیوں کے زمرے میں شامل کرتے تھے یہاں تک بادشاہ اپنے مصاحبوں کی باتوں کو آنکھ بند کر کے یقین کرنے لگا- اگر درباریوں نے رات کو دن کہا تو دن، دن کو رات کہا تو رات اس طرح وہ بادشاہ ظالم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی باتوں میں آکر بیوقوف بھی بنتا چلا گیا اور آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن اس کے چند چالباز مصاحبوں نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت! آپ اپنے اس شاہی کپڑے کو اتار دیجئے آپ کا یہ لباس آپ کی شاہانہ عظمت پر زیب نہیں دیتا جو اور دوسرے ممالک کے جھوٹے بادشاہ پہنتے ہیں بلکہ آپ وہ شاہانہ لباس زیب تن کرئیے جو صرف سچّے اور نیک صفت شخص کو ہی نظر آۓگا دوہرے چہرے والوں کو نہیں جس کو تیّار کرنے والا اس دنیا میں ایک ہی ہے – بادشاہ ان کی باتوں سے بہت خوش ہوا کپڑا تیّار ہوا- درزی کو بلایا گیا درزی نے دھیرے دھیرے بادشاہ کے پورے کپڑے اتار دئیے اور بادشاہ ننگا ہوگیا،بادشاہ کو وہم ہوا کہ وہ ننگا ہے لیکن وہ اپنی کمی چھپانے کی خاطر خاموش رہا اور عوام خود کو بیوقوف ثابت نہیں کرنا چاہتی اس کے منہ میں خوف و دہشت کا تالا لگا ہوا تھا وہ منہ کھولنا چاہے بھی تو نہیں کھول سکتی تھی- درزی نے عوام کو داد بھری نظروں سے دیکھا اور واہ واہ کی صدا بلند ہوگئی بادشاہ نے درزی کو انعام واکرام سے نواز دیا اور اس دن سے بادشاہ اپنے محل اور دربار میں ننگا گھومنے لگا عوام کو بھی اس کو ننگا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی ایک دن بادشاہ سیر و تفریح کے ارادے سے باہر نکلا تو ایک بچہ اس کو دیکھ کر شور مچانے اور چلّا کر کہنے لگا "بادشاہ ننگا ہے”، "بادشاہ ننگا ہے” بادشاہ نے اس معصوم بچّے کا سر قلم کروا دیا اور بادشاہ کی بیوقوفی نے سچّائی کا خاتمہ کردیا”۔
اس کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ اکثریت سچ سمجھتے ہوئے بھی جھوٹ پر یقین کر سکتی ہے اور نیز جمہوریت ایک دھوکا ہے –
لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ ١٨٣٧ء میں کرسچن اینڈرسن کی لکھی گئی یہ کہانی اس کے مرنے کے کئی سو برس بعد ہمارے ملک میں ایک نئے تناظر کے ساتھ دوہرائی جائے گی۔ ١٨٣٧ء کی کہانی اور آج کی کہانی میں فرق صرف کرداروں کے بدلتے حرکت و عمل کا ہے اس وقت بادشاہت تھی اور عوام نے بادشاہ کو بیوقوف بنایا تھا آج جمہوری نظامِ حکومت ہے اس لئیے حکمراں عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں عوام کو ننگا کر رہے ہیں اور کوئی اس معصوم بچے کی طرح یہ کہنے والا نہیں ہے کہ "ہماری عوام ننگی ہے” "ہماری عوام بھوکی ہے”، "ہماری عوام بے قصور ہے” اور کسی نے ہمت کر کے سچ بات کا اعلان کر بھی دیا تو ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ریاضی میں تفریق و تقسیم کے قاعدہ میں اوّل اور جمع کے قاعدے میں صفر ہیں تو سچ کا ساتھ دینے سے بھی محروم ٹھہرے –
١٨٣٧ء میں مصاحبوں نے اپنے بادشاہ کو شیخ چلّی بنا کر اڑایا آج ہمارے حکمراں عوام کو شیخ چلّی بنا کر اڑا رہے ہیں – الیکشن کا وقت آیا اور حکمرانوں کی لفّاظی سے بھری جوشیلی تقاریر، آرام وآسائش، اخراجات و سہولیات فراہم کرنے کے بڑے بڑے وعدوں سے عوام کو بہلانا شروع کردیا اور بیوقوف عوام پر ان کی جوشیلی تقاریر اور لفّاظی کا ایسا سحر طاری ہوتا ہے کہ وہ خوشی کے مارے حکمرانوں کو بیوقوف بنانا تو دور خود ہی بیوقوف بن جاتے – جتنا شور حکمرانوں کا انتخابات کی پیالی میں چمچ چلانے سے ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کے چمچے شور مچانے لگتے ہیں- آخر کار نتیجہ ان کے فعل کے عین مطابق ہی ہوتا ہے اور وہ چممچ کے بجائے بیوقوفوں کی طرح خالی تھالی بجانے کے لائق ہی رہ جاتے ہیں –
آج کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی ہمارا ملک ترقّی کرنے کے بجائے ١٨٣٧ء سے بھی بدتر حالت میں پہنچ گیا ہے – کہانیاں پڑھ کر نصیحت حاصل کرنے کے لیے لکھی جاتی ہیں -اس میں نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)