ناموسِ رسالت کی توہین: ہم کیا کریں؟ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کل شب بصیرت آن لائن کے ہفتہ وار پروگرام ‘روبرو’ میں ‘موجودہ حالات میں ناموسِ رسالت کا تحفّظ اور مسلمانوں کی ذمے داریاں’ کے عنوان پر ایک آن لائن ڈسکشن ہوا ، جس میں راقم کے علاوہ مولانا مفتی حذیفہ قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃ العلماء مہاراشٹر ، مولانا ثناء اللہ صادق ساگر تیمی مترجم حرمِ مکی اور مولانا عباس رضوی ترجمان رضا اکیڈمی ممبئی نے شرکت کی ـ مولانا غفران ساجد قاسمی اینکر تھےـ

یوں تو اپنے ملک میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ عرصۂ دراز سے جاری ہے ، لیکن گزشتہ چند دنوں سے اس میں شدّت آگئی ہےـ بعض نام نہاد مذہبی مہنت اپنی بدباطنی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اب اس میں ایک ایسا ناہنجار شخص بھی جڑ گیا ہے جو مسلمانوں جیسا نام رکھتا ہے ، لیکن وہ مسلسل بہت بڑھ چڑھ کر اپنی خباثت کا اظہار کررہا ہے ـ اس صورت میں مسلمانوں کا بے چین ہونا فطری ہےـ

ڈسکشن میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو اپنے ردِّ عمل کا اظہار کرنا چاہیے ، لیکن ضروری ہے کہ وہ حکمت اور دانش مندی کو ملحوظ رکھیں ، تاکہ ایسا نہ ہو کہ دشمن ان کے خلاف سازشوں کا جو جال بچھا رہے ہیں اس میں پھنس جائیں ـ

پورے ڈسکشن کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے :
(1) اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کیے بغیر کسی شخص کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتاـ ضروری ہے کہ مسلمان آپ سے محبت کریں اور اس کا اظہار بھی کریں ـ
(2) رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں اور زندگی کے تمام معاملات میں آپ کا اسوہ اختیار کریں ـ
(3) آپ کی سیرتِ طیبہ اور پاکیزہ تعلیمات کا مثبت انداز میں تعارف کرائیں ـ
(4) مختلف سطحوں پر جا بجا سیرتِ طیبہ کے پروگرام منعقد کریں اور ان میں برادرانِ وطن کو بھی مدعو کریں ـ
(5) سیرتِ نبوی کا عمومی تعارف کرانے کے لیے سوشل میڈیا کے تمام ذرائع کا استعمال کریں ـ مختلف زبانوں میں تعلیماتِ نبوی پر مشتمل مختصر ویڈیو کلپس تیار کرکے انہیں زیادہ سے زیادہ پھیلائیں ـ
(6) رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دیگر مذاہب کی سنجیدہ اور مؤقّر شخصیات کے اچھے تاثرات کو عام کریں ـ
(7) رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیّبہ کے بارے میں جو غلط باتیں کہی جارہی ہیں ان کا مثبت انداز میں اور سنجیدگی کے ساتھ جواب دیں ـ
(8) ذاتِ نبوی کی توہین کی جائے تو اس پر بے چین ہوں اور مناسب اور شائستہ انداز میں اپنے ردِّ عمل کا اظہار کریں ـ
(9) جو لوگ رسالت مآب ﷺ کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے خلاف مقامی انتظامیہ کے یہاں میمورنڈم دیں ـ
(10) ماہر وکلا سے مشاورت کرکے اگر ضرورت ہو تو ایسے بدباطن لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ـ
(11) یہ گھناؤنی حرکتیں کرنے والے ایسا کرکے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا چاہتے ہیں ـ انہیں ان کے مذموم مقاصد میں کام یاب نہ ہونے دیں ـ
(12) نفرت کا جواب نفرت سے ہرگز نہ دیں ـ مذموم پروپیگنڈہ کا رد کرتے ہوئے اشتعال انگیز زبان ہرگز استعمال نہ کریں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*