ناموسِ رسالتﷺاورناموسِ حرمین شریفین:کچھ ضروری سوالات ـ سمیع اللہ خان

اس وقت پوری دنیا کے مسلمان مضطرب ہیں کیونکہ دنیائے کفر حرمتِ رسولﷺ پر حملہ آور ہے، یاد رہنا چاہیے کہ ناموسِ رسالتﷺ پر جب ایسے حملے ہوں تب دنیائے اسلام پر ملعون گستاخوں کے خلاف اقدام فرض ہوجاتاہے، ورنہ انہیں اللہ کی پکڑ ذلت اور رسوائی سے کوئی نہیں بچا سکتا، فرانس کی جانب سے گستاخئ رسالت والے معاملے میں جو پہلو بہت وضاحت کے ساتھ سامنے آرہا ہے وہ الله کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے پیغام ہے کہ جس طرح دنیا میں ناموسِ رسالتﷺ باطل دشمنوں کے نشانے پر ہے ویسے ہی ناموسِ حرمین شریفین بھی خطرے میں ہے، دیکھیے کہ پوری دنیا کے عام مسلمان اس وقت سرتاسر ناموس رسالت کی خاطر ہنگامۂ عشق برپا کیے ہوئے ہیں، لیکن ترکی، قطر، کویت اور پاکستان کے علاوہ دیگر پچاسوں مسلم ممالک، خلیجی عربی ممالک، اور عالم اسلام کے کعبہ و قبلہ سے کوئی بھی قابلِ ذکر عملی اقدام حرمتِ رسولﷺ کے تحفظ میں نہیں ہوا ہے، جبکہ رسول اللہﷺ کی ناموس کے لیے سب سے سخت یلغار مرکزِ اسلام و مسلمین جزیرۃ العرب سے ہی ہونی چاہیے تھی تاکہ دنیائے اسلام کا حوصلہ بلند ہوتا اور دنیائے کفر سہم جاتی، لیکن ایسے نازک ترین ایمانی قضیے میں بھی سعودیہ، مصر اور امارات و دیگر مسلم ممالک کے حکمرانوں کی صہیونیت نواز اسلام دشمنی میں کوئی فرق نہیں آیا اور جب ایسے موقع پر بھی یہ لوگ اپنی کٹھ پتلی اسرائیلی پالیسیوں کی غلامی سے باہر نہیں آسکتے ہیں تو آپ کیسے یقین کرسکتےہیں کہ جزیرۃ العرب، دیارِ رسولﷺ اور ارضِ حرم صحیح ہاتھوں میں ہے؟ اور آئندہ کم از کم ان دونوں مقدس مقامات کے ناموس کو سبوتاژ نہیں کیاجائے گا؟ سوچنا بہت ضروری ہے، اسلامی مسائل کو اور عالمی اسلامی دنیا کے امور کو جزیرۃ العرب کی سچویشن کے تناظرمیں سمجھنا لازمی ہے !
اگر سرحد بندیوں نے اور طرح طرح کے سیکولرائزیشن نے ہمیں امت پنے کے عالمی اجتماعی خمیر سے بھی منقطع کردیاہے تو یہ تسلیم کرلیجیے کہ ہم بحیثیت امت مر چکے ہیں، ہماری عالمی رسوائی کے لیے یہی کافی ہے!
جنہیں اس فتنے اور عذاب سے باہر ہونا ہے، ضروری ہے کہ کھل کر براءت کریں، تلبیس زدہ چمک کی تاریکی سے واشگاف الفاظ میں مومنوں کو واقف کرائیں، اب کوئی رعایت کوئی مصلحت جائز نہیں ہے ۔
ہم برصغیر کے علما مفتیان اور پورے عالم اسلام کے بیدار و باشعور جوانوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ جزیرۃ العرب میں سیکولر (لادینی) حکومت قائم رہے٬ لادینی نظام چلے؟ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ معذب قوموں کے مقامات کو عریاں سیاحتی ریزارٹ کے لیے منتخب کیا جائے؟ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ امریکہ اور آل سعود مل کر نصاب کی اسلامی عناصر سے تطہیر کریں؟
کیا آپ اس کو درست سمجھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے جید سربرآوردہ اور خاموش اصلاحی کام کرنے والے علماء سلمان العودہ، عوض القرنی، اور دیگر حضرات کو جیل کے حوالے کیا جائے؟ کیا آپ کے نزدیک قطر کی ناکہ بندی، اس پر فوجی حملہ کی منصوبہ بندی، اور وہاں کے لوگوں کو بھوکا پیاسا مارنے کی ناکام کوشش جائز ہے؟ عربی ممالک کا قبلہء اول فلسطین کےخلاف اسرائیل کو تسلیم کرنا جائز ہے؟ کیا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ڈاکٹر قرضاوی کے ساتھ ہیں، اور پوری دنیا کی تنظیم علما کے ساتھ ہیں، مرسی اور مرشد اخوان کے ساتھ ہیں، سعودی جیلوں میں قید علما کے ساتھ ہیں !!! کیا آپ کے کانوں تک سعودی جیلوں میں قید ہزاروں نوجوانوں کی تکلیفیں، اذیتیں، ان کی ماؤں بہنوں اور بھائیوں کی چیخیں نہیں پہنچتیں؟
کیا آپ کی ظلم پر خاموشی ظالم حکمرانوں کے لیے سند نہیں بن رہی ہے؟ کیا عوام کو اس سے مغالطہ نہیں ہو رہا ہے؟ کیا منبر رسولﷺ کی توہین آپ کو نظر نہیں آتیں؟ کیا رابطہ عالم اسلامی کے پلیٹ فارم سے شریعت میں صریح مداخلت اور تحریف آپ کے سامنے نہیں؟ کیا کوئی حکمت و مصلحت حرمین شریفین کے استحصال سے بڑھ کر ہوسکتی ہے؟ حرمِ مکی اور عظمتِ مسندِ رسولﷺ کا استعمال اسرائیل نوازی کے لیے ہورہاہے کیا آپ کو یہ سب نظر نہیں آتا؟ کیا خانۂ کعبہ سے فواحش پر سکوتی تائید اور ظالموں منافقوں کی علانیہ تائید اور ان کے حق میں کلمات رسولﷺ کی تطبیق کے بعد آپکو چین و سکون کی نیند آجاتی ہے؟ آل سعود، اماراتی اور مصری حکمران ناموس رسالتﷺ کے مسئلے میں بھی بدترین نفاق کا مظاہرہ کررہےہیں کیا ابھی آپ ان جیسے طاغوتی آلہ کاروں کے خلاف سچائی کا اظہار نہیں کریں گے؟ کیا ہماری خاموشی ہماری ایمانی موت پر مہر نہیں لگا رہی؟
یہ سوالات دنیائے اسلام کے قدآور رہنماﺅں سے ہیں اور ہندوستان کے ان تمام علما سے یہ سوالات ہیں جو مذہبی، روحانی اور ملی رہنما ہیں وہ تعریف کے موقعوں پر سعودیہ کی تعریف کرنے سے بالکل نہیں چوکتے لیکن ان کی مذکورہ صہیونی پالیسیوں پر حق بات نہیں کہتے وہ لندن اور فرانس میں دہشت گردی کےخلاف تو بھارت میں احتجاج کررہےتھے لیکن وہ اب فرانس میں رسول اللہﷺ کے کارٹون لٹکائے جانے پر فرانسیسی سفارتخانے کے باہر احتجاج نہیں کرپا رہےہیں، ایسا کیوں ہے ؟ ہندوستان میں ہندوتوا دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف متحد ہوچکی ہے،ملک میں بدترین صورتحال ہورہی ہے،آئینی ادارے پوری طرح بھگوائی ہورہےہیں لیکن اس ملک میں بھی مسلمانوں کے تحفظ کا نا کوئی اقدام آپ کرتےہیں نا ہی کوئی منصوبہ ہے آپکا؟ سعودیہ کی دہشت گردی سے لےکر سَنگھی دہشت گردی تک اور اب ناموسِ رسالتﷺ پر آپ کے انتہائی مداہنت پر مبنی رویے کو کس خانے میں رکھا جائے؟.یہ رویہ کئی سالوں سے ہے پہلے پہل مریدین تاویل کرلیتے تھے لیکن صریح اور تباہ کن غلط پالیسیاں تاویلات کی آڑ میں زیادہ دیر چھپ نہیں سکتیں یہ آپ بھی جانتے ہیں، اب ان حقائق کو دو دو چار کی طرح شدت سے محسوس کیا جارہاہے آپ ان کا جواب دیجیے جواب دینے سے آپکے تقدس اور احترام میں کمی نہیں آئےگی ۔
یہ سوالات صرف میرے نہیں ہیں، ہر مسلمان نوجوان کے سینہ میں مچل رہے ہیں، اور وہ بے تابی سے ان کا جواب چاہتا ہے، تاکہ اس کا ضمیر مطمئن ہو سکے اور وہ عنداللہ بری ہوسکے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*