ناممکن کو ممکن بنانے والی افغان قوم ـ فتح محمد ندوی

 

دنیا میں وہی قومیں باعزت زندگی بسر کرتی ہیں جو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ اور ہمت رکھتی ہیں۔ تاہم جو قومیں ایسی چاہت۔ مزاج اور ارادہ رکھتی ہیں انہیں ہر وقت اورہر آن آگ اور خون کے دریا عبور کرنے پڑتے ہیں۔پتھروں سےپانی نچوڑنا پہاڑیوں اور پرخطر وادیوں میں راستے بنانا ٹھوکریں لگنا۔ زخمی جسم اور آبلہ پا بدن کے ساتھ زخمی شیر کی طرح چٹانوں سے پھر ٹکراجانا ان کی عادت اور شوق میں شامل ہو تا ہے۔ غرض منزلوں کو سر کر نے کا سودا ہر وقت ان کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ اسلامی دنیا کے عظیم مجاہد اور دلیر سپاہی حضرت خالد بن ولید رضی تعالیٰ اللہ عنہ۔ طارق بن زیاد۔ محمد بن قاسم۔ صلاح الدین ایوبی۔ان کے علاوہ دنیائے اسلام میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے جانباز اسلام کےمجاہد گزرے ہیں جن ہوں نے اپنی منشاء اور امیدوں کے مطابق تاریخ کے دھاروں کو موڑ کر رکھ دیا بلکہ ناممکن حالات کو امکانی حالات میں تبدیل کر کے دنیا کی تاریخ میں مثالوں کے اوراق سیاہ کرکے رکھ دیے۔ حال ہی میں اس ناممکن کو ممکن بنانے کی تازہ مثال افغانستان کے ان بہادر جوانوں کی ہے۔ جن ہوں نے امن و شانتی۔ملی غیرت و حمیت اور وطن کی آزادی کی خاطر امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ذلت ناک شکست دے کر اس ناممکن مرحلے کو ممکن بنا دیا۔

اب سے بیس سال پہلے کسی کے خیال اور گمان میں بھی یہ بات امکانی طور پر نہیں تھی کہ نہتے افغانی سپر طاقت امریکہ کی پیشانی پر ذلت و رسوائی کا نشان ثبت کردیں گے۔

قوموں کی تقدیریں یوں ہی نہیں بدلتیں، بلکہ قومیں اپنے فکرو عمل اور جدوجہد کی قوت سے اپنی تقدیریں بدلتی اور بناتی ہیں۔ جو قومیں جدوجہد اور تحریکی جذبہ سے جان بچاتی اور جی چراتی ہیں وہ کبھی بھی اپنی حالت اور تقدیر کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی۔بلکہ ان کی قسمت اور ارادوں کا فیصلہ دوسری معاصر قوموں کے ہاتھوں میں کھلونے کی مانند ہوجاتاہے۔

اپنے دین اور تہذیب کی حفاظت وہی قوم کرسکتی ہے جو بیدار، فعال،متحرک اور خطروں کا مقابلہ کرتی ہے۔ تاہم جو قومیں تعیش پسند اور کام سے جی چراتی ہیں حلال اور حرام میں اپنی سستی اور غفلت کے سبب تمیز کرنا بند کردیتی ہے۔مفاد پر ستی اور مفت خوری ان کی عادت کا حصہ بن جاتی ہے تو وہ قوم نہ خود زندہ رہ سکتی ہے اور نہ وہ اپنے قیمتی سرمایہ حیات کا تحفظ اور دفاع کرسکتی ہے۔بلکہ وقت اور حالات ان کے نام و نشاں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں آج یونان۔ روم اور خود مسلم حکومتیں اسی طرح تہذیب و تمدن کے بڑے بڑے مراکز اور مینار قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔

اقبال نے قوموں کی جدوجہد، سعی و طلب کا معیار ؛بلکہ قوموں کے عروج و زوال، فتح و شکست کا نقشہ اس شعر میں بڑی ہنر مندی سے کھینچا ہے۔اقبال کہتے ہیں:

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سنا اول طاؤس و رباب آخر

میرا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں تشدد اور خونریزی کی دعوت دوں، بلکہ میرا مقصد اور منشا یہ ہے کہ ہمارے اندر جفاکشی، محنت، ہمت اور حوصلہ پیدا ہو۔ مضبوط اعصاب اور ارادے پہاڑ کی چٹان کے مانند ہوں۔کم سے کم اتنا حوصلہ تو ناگزیر ہے کہ کسی مظلوم کی مدد کر سکیں۔ اس کو کچھ سہارا دے سکیں۔

میں نے اوپر افغان قوم کی دینی حمیت اور ملی غیر ت کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ قوم ناممکن کو ممکن بنانے میں ید طولیٰ رکھتی ہے۔اس نے بارہا تاریخ میں ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو ہمارے دعویٰ کے ثبوت کے لیے سند اور حجت ہیں۔ در اصل اس قوم کی ایک خاصیت ہم نے یہ محسوس کی ہے کہ یہ قوم بڑے سے بڑے طاقت ور دشمن کو خاطر میں نہیں لاتی۔اسی طرح وہ تابع مہمل ہو کر ایک لمحہ کے لیے کسی کے ساتھ ایک قدم بھی چلنے کو تیار نہیں۔بیس سال کی اس طویل جنگ میں امریکہ نے اپنی تمام تر جدید ایٹمی ہتھیار سے لیس ہونے کے باوجود افغان قوم کے اعصاب پر سوار نہیں سکا۔

اس کے برعکس یہ فاقہ مست افغان قوم کسی حال میں اور کسی وقت امریکہ کو خاطر میں نہیں لائی اور نہ ہی کسی مسئلے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا۔ غرض جو قوم حق کی خاطر میدان کار زار میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہو اس قوم کے لیے سب کچھ آسان ہے۔