نمونہ ٔ سلف حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری کی یادمیں- احمد سجاد ساجدؔ قاسمی

رنج وغم سے ہے عبارت ہر بشر کی زندگی
روزِ روشن سی حقیقت ہے یہ شب کی تیرگی
کچھ دنوں تک نوحۂ حضرت زبیر احمد کیا
کردیا تقدیر نے پھر تازہ غم میں مبتلا
چھپ گیا آنکھوں سے اک نجم سحر ماہ مبیں
ذوقِ سجدہ سے منور جس کی تھی لوحِ جبیں
حضرت قاسم کہیں یا قاضی شرعِ متیں
ہم کہیں گے ترکشِ مارا خدنگِ آخریں
وہ وسیع العلم عالم صاحب فضل وکمال
قاضی دینِ شریعت فقہ میں تھا بے مثال
ماہرِ علم حدیث وعاشقِ قرآن تھا
نازشِ بزمِ امارت نازِ ہندوستان تھا
پیکرِ علم وعمل تھا وہ سراپا آگہی
اپنے خرد وں کی سدا کرتا رہا جو دل دہی
وہ سراپا عقل ودانش علم وفن کا تاجدار
جس کی ذات پاک سے دانش کدوں میںتھی بہار
وہ اکابر کی جماعت کا تھا نقشِ آخریں
جس کی باتیں معتبر تھیں جس کی باتیں دلنشیں
قابلِ تقلید جس کی ہر اداے دلنشیں
باعثِ تسکین جس کی گفتگو شیریں تریں
سادگی تھی جس کی فطرت ،جس کی فطر ت انکسار
حسنِ اخلاق ومروت کا وہ دُرِ شاہوار
وہ تکلف سے معرااور شہرت سے نفور
ہر عمل میں سنتِ سرکار عالم کا سرور
ان کی تربت پر خدایا رحمتوں کا ہو نزول

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*