نام نہاد لو جہاد کا دوسرا پہلو-سہیل انجم

جب سے اترپردیش کی حکومت نے جبریہ تبدیلی مذہب مخالف قانون یا بہ الفاظ دیگر لو جہاد مخالف قانون منظور کیا ہے ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے والے مسلم لڑکوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ اگر ہندوتووادی تنظیموں کے کارکن تھانے میں جا کر جھوٹی رپورٹ ہی لکھوا دیں کہ فلاں مسلمان ہندو لڑکی سے شادی کر رہا ہے یا لو جہاد کرتے ہوئے اس کا مذہب تبدیل کروا رہا ہے تو پولیس فوری طور پر ایکشن میں آجاتی ہے اور بغیر کسی جانچ کے اس مسلمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اسے گرفتار کر لیتی ہے۔ والدین کی شکایت پر بھی اس قسم کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات کی روشنی میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کو اپنے دام محبت میں پھانسنے، ان سے شادی کرنے اور ان کا مذہب تبدیل کرانے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ یہ بات تو سچ ہے کہ کچھ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلوب یہ نہیں کہ ہر مسلمان ایسا کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے والے مسلم لڑکوں میں سے کسی نے اپنی شناخت چھپائی اور کسی نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ صرف ہندو لڑکیوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں نے بھی اپنا مذہب تبدیل کیا ہے۔ لیکن پروپیگنڈہ اس طرح کیا جا رہا ہے کہ صرف ہندو لڑکیاں ہی مذہب بدل رہی ہیں اور اس کے لیے ان پر دباو ¿ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس پورے معاملے کی گہرائی میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ لو جہاد تو ہندو لڑکیاں اور لڑکے کر رہے ہیں مگر بدنام مسلمانوں کو کیا جا رہا ہے۔
اس بارے میں قنوج کی مثال تازہ بہ تازہ ہے۔ قنوج کے گرو سہائے گنج کی 29 سالہ ٹیچر اور آئی اے ایس کی تیاری کرنے والی پریا ورما نے یہی کیا ہے۔ اس نے دسمبر میں 32سالہ توفیق سے جو کہ ا س کا بوائے فرینڈ تھا اور وہ بھی سول سروس کی تیاری کر رہا تھا، شادی کر لی۔ اس نے توفیق کی شناخت چھپائی اور اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ وہ ہندو ہے۔ ہندو رسوم و رواج کے مطابق شادی ہوئی۔ حالانکہ پریا کو سب کچھ معلوم تھا۔ لیکن اس نے اپنے والدین کو اس کا نام راہل ورما بتایا۔ اس کا کہنا ہے کہ توفیق نے اسے کبھی تبدیلی مذہب کے لیے نہیں کہا۔ بلکہ وہ خود اپنا مذہب بدل کر ہندو بننے کو تیار تھا۔ لیکن کیا ہوا؟ جب پریا کے والدین کو سچائی کا علم ہوا تو انھوں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور آج توفیق جیل میں ہے۔ یہ ہندو لڑکی کی جانب سے سراسر لو جہاد کا معاملہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لو جہاد مخالف قانون کا اطلاق اس کے اوپر ہوتا۔ لیکن ہوا توفیق کے اوپر۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ مسلمان ہے۔ یکم دسمبر 2020 کی ایک خبر کے مطابق ہریانہ کے یمنا نگر ضلع میں ایک 21 سالہ مسلم نوجوان نے ایک 19 سالہ ہندو لڑکی سے 9 نومبر 2020 کو شادی کر لی اور وہ اپنا مذہب بدل کر ہندو ہو گیا۔ دونوں کو والدین کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا اور انھوں نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں اپنے تحفظ کی دہائی دی۔ عدالت کے حکم پر دونوں کو پولیس تحفظ فراہم کر دیا گیا۔ کیا اس میں لو جہاد کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ کیا اس معاملے میں لڑکی کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ جب ایک ہندو لڑکی کے تبدیلی مذہب پر مسلم لڑکے کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو ایک مسلم لڑکے کے تبدیلی مذہب پر ہندو لڑکی کے حلاف کارروائی کیوں نہیں ہونی چاہیے۔ 26دسمبر 2020 کی ایک خبر کے مطابق اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک جوڑے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس کیس میں لڑکا ہندو ہے اور لڑکی مسلم۔ لڑکی نے اپنا مذہب تبدیل کیا اور ہندو ہو گئی۔ اترا کھنڈ میں بھی جبریہ تبدیلی مذہب مخالف قانون ہے اور سپریم کورٹ میں اسے بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ لیکن اس کیس میں یہ قانون لاگو نہیں ہوا۔ آٹھ دسمبر 2019 کی ایک خبر کے مطابق میرٹھ ضلع کے دورالہ قصبے کی ایک مسلم لڑکی نے اپنے ہندو بوائے فرینڈ سے شادی کر لی اور اس نے بھی اپنا مذہب تبدیل کر لیا اور وہ ہندو ہو گئی۔ اس معاملے میں بھی ہندو لڑکے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئی۔
یہ محض چند مثالیں ہیں ورنہ ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں ہے جن میں لو جہاد ہندو لڑکیوں یا ہندو لڑکوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان کی زیادہ رپورٹنگ نہیں ہوتی۔ جب تک کہ ایسے معاملات عدالتوں میں یا پولیس میں نہ پہنچ جائیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ نہ ہی ایسے واقعات میں ہندو لڑکوں یا لڑکیو ںکے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔ گویا وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان واقعات میں پہل صرف مسلم لڑکوں کی طرف سے ہی ہوتی ہو اور وہی ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھانستے ہوں۔ ایسے واقعات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کے نشانے پر رہتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہوں یا سول سروس میں جن کا انتخاب ہو گیا ہو۔ وہ ایسے لڑکوں کو محبت کے جال میں پھانس کر ان سے شادی کر لیتی ہیں۔ پر تعیش زندگی گزارتی ہیں۔ جائیداد اور بینک بیلنس کی مالک بن جاتی ہیں۔ جبکہ وہی لڑکیاں اگر اپنے ہم مذہب میں اور والدین کی مرضی سے شادی کریں تو بیسیوں لاکھ روپے خرچ ہو جائیں۔ گویا ہرّے لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا والا معاملہ ہے۔ ایسی شادیوں کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور مسلم لڑکیاں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ انھیں کوئی سول سروینٹ نہیں پوچھتا۔ انھیں اچھے رشتے نہیں ملتے۔ حالانکہ آئین ہند ایسی شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی کو بھی اپنی پسند کے شخص سے خواہ وہ کسی بھی مذہب یا ذات برادری کا ہو، شادی کرنے اور اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ لیکن آئین کو جانے دیجیے۔ اس کو آجکل کا حکمراں طبقہ کہاں مان رہا ہے۔ اگر مانتا ہی تو وہ سب کچھ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔ بہر حال ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور دوسری طرف مشرقی ریاستوں میں خاموشی کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو ہندو بنایا جا رہا ہے۔ 2015 میں انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں ایک رپورٹ چھپی تھی جس کے مطابق ”بہو لاو ¿ بیٹی بچاو ¿“ مہم کے تحت مغربی بنگال میں تقریباً پانچ سو مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو اس وقت تک ہندو بنایا جا چکا تھا۔ یہ کام خاص طور پر ساوتھ 24پرگنہ، نارتھ 24پرگنہ، مرشد آباد، ہاوڑہ اور بیر بھومی کے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔
لیکن بہر حال اگر ہم اس سے قطع نظر صرف اترپردیش کی بات کریں تو ممکن ہے کہ بہت سے مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کے عشوہ ¿ و انداز و ادا کے دیوانے ہو رہے ہوں۔ کیونکہ ایسی شادیاں تو ہو رہی ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان واقعات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بعض ہندو خاندان اپنی بیٹیوں کو ایسا سنسکار نہیں دے پا رہے ہیں جو انھیں مسلم لڑکو ںکی طرف مائل ہونے سے روکے۔ دوسری بات یہ کہ بعض مسلم خاندان بھی اپنے بیٹوں کو کنٹرول میں رکھنے میں ناکام ہیں۔ وہ بھی بچوں کو اسلامی ڈھنگ کی تربیت نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کے بہکاوے میں اور مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کے بہکاوے میں آرہی ہیں۔ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری جہاں مسلم والدین پر عاید ہوتی ہے وہیں مسلم تنظیموں پر بھی عاید ہوتی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کبھی کبھار اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی جاتی ہے۔ کیا اس سلسلے میں کوئی تحریک چلانے اور مسلم نوجوانو ںکو غیر مذہب کی لڑکیوں سے شادی سے باز رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلم نوجوانوں کو ایسی شادیوں کے حرام ہونے کے بارے میں بھی بتایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ ایسی شادیاں سماج کے لیے اور مسلم معاشرے کے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ مساجد کے ائمہ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے خطبوں میں نوجوانوں کو بتائیں کہ یا تو ہم مذہب سے شادی جائز ہے یا اہل کتاب سے۔ ہندو نہ ہم مذہب ہیں اور نہ ہی اہل کتاب۔ ان کی لڑکیوں یا لڑکوں سے شادی شریعت کی رو سے درست نہیں ہے۔ جو لوگ ایسی شادیاں کرکے زندگی گزار رہے ہیں وہ حرام کاری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انھیں اس سے بہرحال بچنا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)