نام میں کیا رکھا ہے؟ محترم اویسی صاحب کی خدمت میں

مسعود جاوید
نام میں کیا رکھا ہے؟ شیکسپیئر نے کس سیاق و سباق میں یہ کہا یا اپنی مشہور زمانہ کتاب میں لکھا،اس سے قطع نظر اس کے اس معنی خیز جملے کو موقع بہ موقع مختلف زبانوں میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے؛لیکن میں سمجھتا ہوں اور میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ نام میں بہت کچھ رکھا ہے۔
آپ کی بعض خدمات کا اعتراف اور آپ خصوصاً آپ کے برادر عزیز اکبر الدین اویسی کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے شدید اختلاف کے ساتھ بعض ملاحظات :
١-آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے بارے میں یہی تاثر لیا جاسکتا ہے کہ ہندو مہاسبھا کی طرح خالص اسلامی یا مسلم نظریات پر مبنی ایک سیاسی جماعت ہے اور جب مسلم نظریات کو فروغ دینا ہی اس کا دائرۂ عمل اور بنیادی منشور ہے،تو غیر مسلموں کا اس میں کیا کام ؟
٢- گرچہ پچھلے کئی سالوں سے آپ دلتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑنے کی بات کرتے رہےہیں؛ لیکن کیا آپ کی پارٹی کے اغراض ومقاصد میں یہ مسائل شامل ہیں؟ کیا آپ کی پارٹی کے ہیکلِ تنظیمی میں غیر مسلموں کو شریک کرنے کی وسعت ہے؟
٣- آپ کی پارٹی شروع سے ہی "آل انڈیا” ہے ۔ کیا پہلے پورے آندھرا پردیش اور اب تلنگانہ میں "آل آندھرا یا آل تلنگانہ” تک اس کی توسیع ہوئی؟ وہاں سے پارلیمنٹ تک کتنے ارکان پہنچے؟
اتر پردیش، بہار،جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں قسمت آزمائی سے پہلے کیا آپ کی پارٹی نے وہاں زمینی کام کیا،افراد سازی کی؟ عین انتخابات کے وقت شعلہ بیانی سے آپ کا کون سا ہدف پورا ہوگا ؟ اسی روش کی وجہ سے آپ کی پارٹی کو بعض لوگ بی جے پی کی بی ٹیم کہتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے آپ کی نیت ایسی نہ ہو؛ لیکن بالآخر ultimately فائدہ بی جے پی کوہی ہوتا ہے۔ یہ باتیں کچھ تو وہ نام نہاد سیکولر لوگ کہتے ہیں، جنہوں نے مسلم قیادت کو ابھرنے نہیں دیا سوائے چند ہاتھی کے دانت کےاور جھنڈا برداروں کی ایک بھیڑ کے؛ لیکن یہ باتیں بعض وہ لوگ بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو آپ کے خیر خواہ ہیں، جو ایک حقیقی full fledged سیکولر پارٹی، جس میں مخلص ہم خیال سیکولر برادران وطن کی شرکت ہو، دیکھنے کے متمنی ہیں۔ زمینی کام کیے بغیر آپ مسلم ووٹ کے متحد ہونے کی راہ میں حائل ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ مسلم مسائل پر پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر آپ کے بیانات بہر صورت قابل ستائش ہیں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آپ کی گرویدہ ہیں۔ جس طرح مرحوم سید شہاب الدین صاحب کی تحریروں اور تقریروں کے مداحوں کی ہر طبقۂ فکر میں ایک بڑی تعداد تھی،مگر مسلمانان ہند ایسا کوئی میکانزم تشکیل دینے میں ناکام رہے،جس کے توسط سے کوئی مؤثر باوقعت مسلم سیاست وجود میں آتی۔
جہاں تک نام کی بات ہے، تو اسلام یا مسلمان جس پارٹی یا اخبار،چینل کے نام کا حصہ ہوگا،غیر مسلم اس سے قریب کیوں ہوں گے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*