نام نہاد دانشوری اور فیسبکی خرافات ـ مجتبی فاروق

تنقیدو تجزیہ فکر و عمل کے لئے نہایت ضروری ہے اس کے ذریعے خرابیاں بروقت سامنے آجاتی ہیں اور ان کی اصلاح کی کوشش اور سعی کی جاسکتی ہے ۔تنقید فکر و عمل کو توانا کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے ۔البتہ تنقید کرنے میں ہر وقت یہ بات ملحوظ نظر رہے کہ اخلاص کے ساتھ اور اصلاح کی نیت سے ہو اوراس میں عیب چینی کی غرض و غایت بالکل بھی نہ ہو۔ یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ تنقید کرنے والے کو تنقید کرنے کا سلیقہ آتا ہو اور اگر کسی کو تنقید کرنے کے آداب اور سلیقہ نہ آتا ہو تو اس کو حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ کسی پر تنقید کرے ۔تنقید میں سنجیدگی، شائستگی اور اخلاص کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے ۔بے موقع ومحل اور بھونڈی تنقید سے بھی گریز کرنا چاہیےکیوں کہ یہ فکر و فن کے لیے بے حد مضر ہے اور اس سے دینی و سماجی تعلقات بھی خراب ہوجاتے ہیں ۔
الخرَّاصُوْنَ ایک قرآنی اصطلاح ہے اوراس کے مفہوم میں کافی وسعت ہے ۔یہ خرص سے ماخوز ہےاور خرص بغیر تحقیق کے اور محض ظن و تخمین اور قیاس وگمان سے بات کہہ دینے کو کہتے ہیں ۔اس کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے پھیلانا اور کسی کے معاملے کو تحقیق کے بغیر پرچار کرنا۔نیز قیاس و ظن کی بنیاد پر حکم صادر کرنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔اس کی وجہ سے ایک شخص کی نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اس کی اجتماعی زندگی بھی درہم برہم ہوجاتی ہے ۔نیز سماج میں انتشار پھیل جاتا ہے اور یہ انتشار محض قیاس آرائی کی بنیاد پر پھیلایا جاتا ہے۔سماج میں ایسے بے شمار نام نہاد دانشوران ( Pesidou Intellectuals )،علما اور فیسبکی مبلغین پائے جاتے ہیں جو محسوسات ، قیاس آرائیوں ،اٹکل پچیوں ، ظن و تخمین اور بغض و حسدسے کام لے کر سماج کو فساد زدہ بنانے میں مصروف عمل ہیں ۔ان نام نہاد مبلغوں اور مولویوں نے اسلام پر جان نچھاور کرنے والوں کی نیتوں پر بھی فیصلہ کرنا شروع کیا ہے۔ نیتوں کا مالک رب ذوالجلال ہے؛ لیکن انسان کی نیت میں کیا ہے اس کےبھی یہ بے وقوف مبلغین خود مالک بن بیٹھے ہیں ۔ظن وگمان اور اٹکل بازیوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سخت موقف اختیار کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے:
قُتِلَ الخَرّاصُوْنَ (الذاریات:۱۰)
یعنی وہم و قیاس کرنے والوں کا ستیا ناس ہو۔
اگر کسی تحریک یا کسی فرد کے خیالات سے اختلاف ہو تو ادب و احترام اور دلائل کی بنیاد پرکھل کے اظہار کرے کہ مجھے ان باتوں پر اعتراض ہے ۔ان نام نہاد مبلغوں کو یہ کس نے حق دے رکھا ہے کہ وہ مخلص داعیوں اور تحریکات اسلامی کی فکری بنیادوں اور ان کی خدمات و قربانیوں یا کارناموں کو غیر اسلامی قرار دیں ۔کون کہلوا رہا ہے ان سے یہ سب اناپ شناپ اور بکواس؟ ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی فرد یا تحریک کو جانے اور سمجھے بغیر ہی فیصلہ سنا دیتےہیں ، یہ بھی ایک بڑا المیہ ہے ۔ہم امت کی کیا رہنمائی کر رہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حید آباد کی ایک مسجد میں جمعہ کے خطبے کا عنوان ہی”فتنۂ اخوان المسلمین” رکھا گیا تھا ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جب کسی فرد یا کسی مفکر کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں تو اس فرد یا مفکر کو گہرائی میں جا کر دیکھیں کہ حقیقت کیا ہے،نہ کہ ثانوی مصادر یا مغربی پروپگنڈے میں آکر اناپ شناپ کی تبلیغ کریں ۔قیاس آرائی یا ظن کی بنیاد پر الٹی سیدھی منطق بگھارنے سے از حد پر ہیز کیا جائے ۔یہ امت پہلے ہی سے اغیار کی سازشوں کی شکار ہے، اس کو مزید آزمائشوں میں نہ ڈالیں ۔
آج مقبولیت اور شہرت حاصل کرنے کےکئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر اسلامی مفکر یا دینی شخصیت کو علمی گہرائیوں کے بغیر ہی تنقید کی زد میں لایا جاتا ہے ۔تنقیدکرنا یا ناقد بننا ہر ایک کا کام نہیں ہے ۔اب اگر تنقید کرنے کا بھوت سوار ہو ہی گیا ہے، تو اسے علمی اور تحقیقی مجلسوں اور اہل علم تک تک ہی محدود رکھا جائے ۔بعض لوگ کسی مفکر یا دینی شخصیت سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیے بہت بڑا کام کیا ہے۔جب ان مفکرین یا دینی شخصیات پر ایسے تنقید کرتے ہیں کہ جس میں تنقید سے زیادہ ان کی فکر اور ان کی شخصیت پر حملہ کیا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ان کے عقیدت مند بھی میدان میں آجاتے ہیں اور ان کو الٹا سیدھا بول دیتے ہیں،یہاں تک کہ کہ گالیوں اور بد زبانی کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے ۔اسی لیے جب تنقید کرنی ہو تو اخلاص کا دامن ہرگز بھی نہ چھوڑیے اور اپنے اندر علمی گہرائی پیدا کیجیے ۔سماج کو آپ تب ہی کچھ دی سکتے ہیں جب آپ علم و فکر سے لیس ہوں اور کام کرنے کے لیے آپ مخلص ہوں ۔
لوگوں کو معروف باتوں کا حکم اور منکرات سے دور رہنے کی تلقین کیاکریں ۔لوگوں کو علما کے اختلافات اور ان کے بعض غیر ضروری تفردات میں نہ الجھائیں ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*